اَلزَّانِیۡ لَا یَنۡکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوۡ مُشۡرِکَۃً ۫ وَّ الزَّانِیَۃُ لَا یَنۡکِحُہَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوۡ مُشۡرِکٌ ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳﴾
زانی مرد نکاح نہیں کرے گا مگر کسی زانیہ عورت سے، یا کسی مشرکہ عورت سے، اور زانیہ عورت، اس سے نکاح نہیں کرے گا مگر کوئی زانی یا مشرک۔ اور یہ کام ایمان والوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔
En
بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے
En
زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے اور سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کر دیا گیا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 3) ➊ { اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً:} یہاں ایک سوال ہے کہ کئی زانی مرد عفیف اور پاک دامن عورتوں سے نکاح کرتے ہیں اور کئی زانیہ عورتوں سے عفیف اور پاک دامن مرد نکاح کر لیتے ہیں، تو اس آیت کا مطلب کیا ہے؟ اس سوال کا جواب بعض مفسرین نے یہ دیا ہے کہ یہاں نکاح سے مراد معروف نکاح نہیں ہے، بلکہ یہ جماع کے معنی میں ہے اور مقصد زنا کی قباحت اور شناعت بیان کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زانی مرد اپنی ناجائز ہوس کسی زانیہ ہی سے پوری کرے گا جو اس جیسی بدکار ہے، یا کسی مشرکہ سے جو زنا کو حرام نہیں سمجھتی، اسی طرح زانیہ عورت کی ناجائز ہوس وہی مرد پوری کرے گا جو اس جیسا بدکار ہے، یا کوئی مشرک جو زنا کو حرام نہیں سمجھتا اور ایسا کرنا یعنی زنا کرنا مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔ طبری نے حسن سند کے ساتھ یہ تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے اور اسے راجح قرار دیا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق آیت سے مراد زنا کی حرمت ہے، نکاح کی حرمت نہیں۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ فاسق و فاجر آدمی، جس کی عادت زنا اور فسق ہے، اسے صالح عورتوں سے نکاح کی رغبت نہیں ہوتی، اسے اپنے جیسی کسی خبیث، فاسق اور بدکار عورت یا اس جیسی مشرکہ عورت ہی سے نکاح کی رغبت ہوتی ہے، اسی طرح علانیہ بدکار اور فاسق عورت سے نکاح کی رغبت صالح مردوں کو نہیں ہوتی بلکہ اس جیسے بدکار مردوں ہی کو ہوتی ہے۔ ان مفسرین کے مطابق یہ حکم اکثر لوگوں کا بیان ہوا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے نیکی کوئی پرہیز گار آدمی ہی کرتا ہے، حالانکہ بعض اوقات وہ آدمی بھی نیکی کر لیتا ہے جو پرہیز گار نہیں ہوتا۔ اسی طرح زانی بعض اوقات عفیفہ و مومنہ عورت سے نکاح کر لیتا ہے اور زانیہ عورت سے بعض اوقات عفیف و مومن مرد نکاح کر لیتا ہے۔ مشرک مرد اور مشرکہ عورت کی زانی مرد اور زانیہ عورت کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ جس طرح مشرک مرد اور مشرکہ عورت اپنے مالک کو چھوڑ کر دوسروں کے در پر جھکتے ہیں اسی طرح زانی مرد اپنی بیوی کو چھوڑ کر اور زانیہ عورت اپنے شوہر کو چھوڑ کر غیروں سے منہ کالا کرتے ہیں۔
➋ { وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ:” ذٰلِكَ “} کا اشارہ بعض نے زنا کی طرف قرار دیا ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، مگر زیادہ درست یہی ہے کہ یہ اشارہ عقد نکاح کی طرف ہے۔ یعنی یہ جانتے ہوئے کہ فلاں عورت بدکار اور غیر تائب ہے، اس سے نکاح کرنا مومن مردوں کے لیے حرام ہے، اسی طرح اپنی پاک دامن بیٹی کو کسی بدکار شخص کے نکاح میں دینا جو تائب نہ ہو، مومنوں کے لیے حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ۠ وَ الْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ وَ الطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَ الطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ» [النور: ۲۶] ”گندی عورتیں گندے مردوں کے لیے ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر بھی مردوں اور عورتوں کے نکاح کے لیے دونوں کے پاک دامن ہونے کی اور بدکار نہ ہونے کی شرط لگائی ہے، چنانچہ فرمایا: «اَلْيَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ وَ طَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَ لَا مُتَّخِذِيْۤ اَخْدَانٍ» [المائدۃ: ۵] ”آج تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے جنھیں کتاب دی گئی اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور مومن عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم انھیں ان کے مہر دے دو، اس حال میں کہ تم قید نکاح میں لانے والے ہو، بدکاری کرنے والے نہیں اور نہ چھپی آشنائیں بنانے والے۔“ {” وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ “} کی شان نزول میں مروی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ بدکار عورتوں یا بدکار مردوں سے، جو تائب نہ ہوں، نکاح حرام ہے۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی جسے مرثد بن ابی مرثد (رضی اللہ عنھما) کہا جاتا تھا، وہ مکہ سے قیدی اٹھا کر مدینہ لایا کرتا تھا اور مکہ میں ایک بدکار عورت تھی، جسے عناق کہا جاتا تھا، وہ اس کی دوست تھی۔ مرثد بن ابی مرثد نے مکہ میں قید ایک آدمی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے اٹھا لے جائے گا۔ اس کا بیان ہے کہ میں مکہ میں آیا اور میں چاندنی رات میں مکہ کی ایک دیوار کے سائے میں تھا کہ عناق آئی، اس نے دیوار کے ساتھ میرے سائے کا ہیولا دیکھا۔ جب وہ میرے پاس پہنچی تو اس نے مجھے پہچان لیا۔ کہنے لگی: ”مرثد ہو؟“ میں نے کہا: ”مرثد ہوں۔“ کہنے لگی: ”مرحباً و اھلاً، آؤ ہمارے پاس رات گزارو۔“ میں نے کہا: ”عناق! اللہ نے زنا حرام کر دیا ہے۔“ اس نے آواز دی، خیموں والو! یہ وہ آدمی ہے جو تمھارے آدمی اٹھا لے جاتا ہے۔ چنانچہ آٹھ آدمی میرے پیچھے لگ گئے اور میں (مکہ کے ایک پہاڑ) خندمہ پر چلنے لگا، حتیٰ کہ اس کی ایک غار تک پہنچ کر اس میں داخل ہو گیا۔ وہ لوگ آئے، حتیٰ کہ میرے سر پر آ کھڑے ہوئے اور انھوں نے پیشاب کیا، تو ان کا پیشاب میرے سر پر گرا، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں مجھ سے اندھا کر دیا۔ پھر وہ واپس چلے گئے، میں بھی دوبارہ اپنے ساتھی کے پاس آیا اور اسے اٹھایا، وہ آدمی بھاری تھا، یہاں تک کہ میں اسے ”اذخر“ تک لے آیا (یعنی مکہ سے باہر جہاں اذخر گھاس تھی)، اس کی بھاری بیڑی کھولی اور اسے اس طرح لے کر چلا کہ میں اسے اٹھاتا تھا اور وہ مجھے تھکا دیتا تھا، حتیٰ کہ میں مدینہ پہنچ گیا۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”یا رسول اللہ! میں عناق سے نکاح کر لوں؟“ میں نے دو مرتبہ یہ بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: «اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً وَّ الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ» [النور: ۳] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرثد! زانی نکاح نہیں کرتا مگر کسی زانیہ یا مشرکہ سے اور جو زانیہ یا مشرکہ ہے اس سے نکاح نہیں کرتا مگر جو زانی ہے یا مشرک ہے، اس لیے تو اس (عناق) سے نکاح مت کر۔“ [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ النور: ۳۱۷۷۔ نسائي: ۳۲۳۰۔ أبوداوٗد: ۲۰۵۱۔ مستدرک حاکم: 166/2، ح: ۲۷۰۱، و قال الألباني حسن الأسناد]
ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”زانیہ عورت سے نکاح کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں تصریح فرمائی ہے کہ وہ حرام ہے اور فرمایا کہ جو اس سے نکاح کرے وہ زانی ہے یا مشرک، کیونکہ یا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی قبول کرے گا اور اس کے وجوب کا عقیدہ رکھے گا یا نہیں۔ اگر وہ اس کے وجوب کا عقیدہ ہی نہ رکھتا ہو تو وہ مشرک ہے اور اگر اس کی پابندی قبول کرتا ہو اور اس کے وجوب کا عقیدہ رکھتا ہو، پھر اس کی خلاف ورزی کرے تو وہ زانی ہے۔ پھر اس کے حرام ہونے کی تصریح فرمائی کہ زانی یا مشرک سے نکاح مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔“ اس آیت کے مطابق امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ پاک دامن مرد کا نکاح زانی غیر تائب عورت سے اور پاک دامن عورت کا نکاح زانی غیر تائب مرد سے حرام قرار دیتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تفسیر سورۂ نور میں اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے ان لوگوں کی پُر زور تردید کی جو اس نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں۔
➌ اگر کسی مرد سے زنا سرزد ہو جائے، پھر وہ توبہ کر لے تو اس کا نکاح پاک دامن عورت سے جائز ہے، اسی طرح زانیہ عورت توبہ کر لے تو اس سے عفیف مومن کا نکاح جائز ہے، جیسا کہ کوئی مشرک مرد یا عورت شرک سے توبہ کرکے مسلمان ہو جائیں تو ان کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ اس کی دلیل سورۂ فرقان کی آیت (۷۰) اور دوسری بہت سی آیات ہیں۔ ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے پوچھا کہ میں ایک عورت کے پاس جاتا تھا اور اس کے ساتھ اس کام کا ارتکاب کرتا تھا جو اللہ نے مجھ پر حرام کیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ اب میرا ارادہ ہے کہ اس سے نکاح کروں تو کچھ لوگوں نے کہا ہے: {” إِنَّ الزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً “} ”زانی نہیں نکاح کرے گا مگر زانیہ سے یا مشرکہ سے۔“ توابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”یہ آیت اس کے متعلق نہیں، تم اس سے نکاح کر لو، جو گناہ ہو گا وہ میرے ذمے رہنے دو۔“ (ابن کثیر، دکتور حکمت بن بشیر نے اس کی سند کو حسن کہا ہے)
بعض مفسرین نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ فاسق و فاجر آدمی، جس کی عادت زنا اور فسق ہے، اسے صالح عورتوں سے نکاح کی رغبت نہیں ہوتی، اسے اپنے جیسی کسی خبیث، فاسق اور بدکار عورت یا اس جیسی مشرکہ عورت ہی سے نکاح کی رغبت ہوتی ہے، اسی طرح علانیہ بدکار اور فاسق عورت سے نکاح کی رغبت صالح مردوں کو نہیں ہوتی بلکہ اس جیسے بدکار مردوں ہی کو ہوتی ہے۔ ان مفسرین کے مطابق یہ حکم اکثر لوگوں کا بیان ہوا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے نیکی کوئی پرہیز گار آدمی ہی کرتا ہے، حالانکہ بعض اوقات وہ آدمی بھی نیکی کر لیتا ہے جو پرہیز گار نہیں ہوتا۔ اسی طرح زانی بعض اوقات عفیفہ و مومنہ عورت سے نکاح کر لیتا ہے اور زانیہ عورت سے بعض اوقات عفیف و مومن مرد نکاح کر لیتا ہے۔ مشرک مرد اور مشرکہ عورت کی زانی مرد اور زانیہ عورت کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ جس طرح مشرک مرد اور مشرکہ عورت اپنے مالک کو چھوڑ کر دوسروں کے در پر جھکتے ہیں اسی طرح زانی مرد اپنی بیوی کو چھوڑ کر اور زانیہ عورت اپنے شوہر کو چھوڑ کر غیروں سے منہ کالا کرتے ہیں۔
➋ { وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ:” ذٰلِكَ “} کا اشارہ بعض نے زنا کی طرف قرار دیا ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، مگر زیادہ درست یہی ہے کہ یہ اشارہ عقد نکاح کی طرف ہے۔ یعنی یہ جانتے ہوئے کہ فلاں عورت بدکار اور غیر تائب ہے، اس سے نکاح کرنا مومن مردوں کے لیے حرام ہے، اسی طرح اپنی پاک دامن بیٹی کو کسی بدکار شخص کے نکاح میں دینا جو تائب نہ ہو، مومنوں کے لیے حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ۠ وَ الْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ وَ الطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَ الطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ» [النور: ۲۶] ”گندی عورتیں گندے مردوں کے لیے ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر بھی مردوں اور عورتوں کے نکاح کے لیے دونوں کے پاک دامن ہونے کی اور بدکار نہ ہونے کی شرط لگائی ہے، چنانچہ فرمایا: «اَلْيَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ وَ طَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَ لَا مُتَّخِذِيْۤ اَخْدَانٍ» [المائدۃ: ۵] ”آج تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے جنھیں کتاب دی گئی اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور مومن عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم انھیں ان کے مہر دے دو، اس حال میں کہ تم قید نکاح میں لانے والے ہو، بدکاری کرنے والے نہیں اور نہ چھپی آشنائیں بنانے والے۔“ {” وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ “} کی شان نزول میں مروی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ بدکار عورتوں یا بدکار مردوں سے، جو تائب نہ ہوں، نکاح حرام ہے۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی جسے مرثد بن ابی مرثد (رضی اللہ عنھما) کہا جاتا تھا، وہ مکہ سے قیدی اٹھا کر مدینہ لایا کرتا تھا اور مکہ میں ایک بدکار عورت تھی، جسے عناق کہا جاتا تھا، وہ اس کی دوست تھی۔ مرثد بن ابی مرثد نے مکہ میں قید ایک آدمی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے اٹھا لے جائے گا۔ اس کا بیان ہے کہ میں مکہ میں آیا اور میں چاندنی رات میں مکہ کی ایک دیوار کے سائے میں تھا کہ عناق آئی، اس نے دیوار کے ساتھ میرے سائے کا ہیولا دیکھا۔ جب وہ میرے پاس پہنچی تو اس نے مجھے پہچان لیا۔ کہنے لگی: ”مرثد ہو؟“ میں نے کہا: ”مرثد ہوں۔“ کہنے لگی: ”مرحباً و اھلاً، آؤ ہمارے پاس رات گزارو۔“ میں نے کہا: ”عناق! اللہ نے زنا حرام کر دیا ہے۔“ اس نے آواز دی، خیموں والو! یہ وہ آدمی ہے جو تمھارے آدمی اٹھا لے جاتا ہے۔ چنانچہ آٹھ آدمی میرے پیچھے لگ گئے اور میں (مکہ کے ایک پہاڑ) خندمہ پر چلنے لگا، حتیٰ کہ اس کی ایک غار تک پہنچ کر اس میں داخل ہو گیا۔ وہ لوگ آئے، حتیٰ کہ میرے سر پر آ کھڑے ہوئے اور انھوں نے پیشاب کیا، تو ان کا پیشاب میرے سر پر گرا، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں مجھ سے اندھا کر دیا۔ پھر وہ واپس چلے گئے، میں بھی دوبارہ اپنے ساتھی کے پاس آیا اور اسے اٹھایا، وہ آدمی بھاری تھا، یہاں تک کہ میں اسے ”اذخر“ تک لے آیا (یعنی مکہ سے باہر جہاں اذخر گھاس تھی)، اس کی بھاری بیڑی کھولی اور اسے اس طرح لے کر چلا کہ میں اسے اٹھاتا تھا اور وہ مجھے تھکا دیتا تھا، حتیٰ کہ میں مدینہ پہنچ گیا۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”یا رسول اللہ! میں عناق سے نکاح کر لوں؟“ میں نے دو مرتبہ یہ بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: «اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً وَّ الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ» [النور: ۳] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرثد! زانی نکاح نہیں کرتا مگر کسی زانیہ یا مشرکہ سے اور جو زانیہ یا مشرکہ ہے اس سے نکاح نہیں کرتا مگر جو زانی ہے یا مشرک ہے، اس لیے تو اس (عناق) سے نکاح مت کر۔“ [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ النور: ۳۱۷۷۔ نسائي: ۳۲۳۰۔ أبوداوٗد: ۲۰۵۱۔ مستدرک حاکم: 166/2، ح: ۲۷۰۱، و قال الألباني حسن الأسناد]
ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”زانیہ عورت سے نکاح کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں تصریح فرمائی ہے کہ وہ حرام ہے اور فرمایا کہ جو اس سے نکاح کرے وہ زانی ہے یا مشرک، کیونکہ یا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی قبول کرے گا اور اس کے وجوب کا عقیدہ رکھے گا یا نہیں۔ اگر وہ اس کے وجوب کا عقیدہ ہی نہ رکھتا ہو تو وہ مشرک ہے اور اگر اس کی پابندی قبول کرتا ہو اور اس کے وجوب کا عقیدہ رکھتا ہو، پھر اس کی خلاف ورزی کرے تو وہ زانی ہے۔ پھر اس کے حرام ہونے کی تصریح فرمائی کہ زانی یا مشرک سے نکاح مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔“ اس آیت کے مطابق امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ پاک دامن مرد کا نکاح زانی غیر تائب عورت سے اور پاک دامن عورت کا نکاح زانی غیر تائب مرد سے حرام قرار دیتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تفسیر سورۂ نور میں اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے ان لوگوں کی پُر زور تردید کی جو اس نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں۔
➌ اگر کسی مرد سے زنا سرزد ہو جائے، پھر وہ توبہ کر لے تو اس کا نکاح پاک دامن عورت سے جائز ہے، اسی طرح زانیہ عورت توبہ کر لے تو اس سے عفیف مومن کا نکاح جائز ہے، جیسا کہ کوئی مشرک مرد یا عورت شرک سے توبہ کرکے مسلمان ہو جائیں تو ان کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ اس کی دلیل سورۂ فرقان کی آیت (۷۰) اور دوسری بہت سی آیات ہیں۔ ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے پوچھا کہ میں ایک عورت کے پاس جاتا تھا اور اس کے ساتھ اس کام کا ارتکاب کرتا تھا جو اللہ نے مجھ پر حرام کیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ اب میرا ارادہ ہے کہ اس سے نکاح کروں تو کچھ لوگوں نے کہا ہے: {” إِنَّ الزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً “} ”زانی نہیں نکاح کرے گا مگر زانیہ سے یا مشرکہ سے۔“ توابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”یہ آیت اس کے متعلق نہیں، تم اس سے نکاح کر لو، جو گناہ ہو گا وہ میرے ذمے رہنے دو۔“ (ابن کثیر، دکتور حکمت بن بشیر نے اس کی سند کو حسن کہا ہے)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3-1اس کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ یا مشرکہ عورت کے ساتھ، اور زانیہ کے ساتھ وہی نکاح کرے جو خود زانی یا مشرک ہو۔ اور اہل ایمان پر یہ کام [6] حرام کر دیا گیا ہے۔
[6] اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ سو کوڑے کی سزا صرف کنوارے مرد اور عورت کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے اس سورۃ کے حاشیہ نمبر 3 کے ابتدا میں اس کی وضاحت کی جا چکی ہے اسی آیت کی تشریح میں درج ذیل حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔ فحاشی میں مشہور مرد یا عورت سے نکاح کرنا حرام ہے:۔
عمرو بن شعیب کے دادا نے کہا کہ مرثد بن ابی مرثد (غنوی) نامی ایک شخص قیدیوں کو مکہ سے مدینہ لے جایا کرتا تھا۔ مکہ میں ایک فاحشہ عورت تھی جس کا نام عناق تھا اور وہ مرثد کی (اسلام لانے سے پہلے) دوست تھی۔ مرثد نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے (مدینہ) لے جائے گا۔ مرثد کہتے ہیں کہ میں ایک چاندنی رات دیواروں کے سایہ میں چھپتے چھپاتے مکہ آیا۔ عناق آئی اور اس نے میرے سایہ کو دیوار کے ساتھ کی طرف سرکتے دیکھا۔ جب میرے قریب آگئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور پوچھا ”مرثد ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں! مرثد ہوں“ وہ کہنے لگی: ”خوش آمدید! آؤ اور ہمارے ہاں یہ رات گزارو“ میں نے کہا: ”عناق! اللہ نے زنا حرام قرار دیا ہے“ وہ بول اٹھی: اے خیمہ والو! یہ شخص ہے جو تمہارے قیدی اٹھا لے جاتا۔ چنانچہ آٹھ آدمی میرے پیچھے لگ گئے میں خندمہ کی راہ پر چلنے لگا اور ایک غار میں جا گھسا۔ وہ آئے اور میرے سر پر کھڑے تھے۔ انہوں نے پیشاب کیا جو میرے سر پر پڑا۔ تاہم اللہ نے انھیں مجھے دیکھنے سے اندھا کر دیا۔ پھر وہ چلے گئے اور میں پھر (مکہ میں) اپنے رفیق کے پاس آیا اور اسے اٹھا لیا وہ ایک بھاری بھر کم آدمی تھا۔ میں اسے اٹھا کر ادخر (کے مقام) تک پہنچا۔ پھر میں نے اس کی مشکیں کھول دیں اور پھر اسے اپنی پشت پر لاد لیا وہ مجھے تھکا تھکا دیتا تھا حتیٰ کہ میں مدینہ پہنچ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں عناق سے نکاح کر لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ ”اس عورت سے نکاح نہ کر“ [ترمذي۔ كتاب التفسير]
ہاں اگر کوئی زانیہ عورت یا زانی مرد اللہ کے حضور توبہ کر کے آئندہ کلیتاً اپنا طرز حیات بدل لے تو پھر ایسے لوگوں سے نکاح کی اجازت ہے۔ اس آیت میں عام مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ فحاشی میں مشہور ہوں ان سے رشتہ داری قائم نہ کی جائے۔ نہ انھیں لڑکی کا رشتہ دیا جائے نہ ان سے لیا جائے۔ ﴿حُرِّمَ ذٰلِكَ﴾ کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ فعل زنا مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب اثم الزناه]
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پاکباز اور عفیف مسلمانوں کے لئے بد کاروں سے رشتہ نکاح کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔
ہاں اگر کوئی زانیہ عورت یا زانی مرد اللہ کے حضور توبہ کر کے آئندہ کلیتاً اپنا طرز حیات بدل لے تو پھر ایسے لوگوں سے نکاح کی اجازت ہے۔ اس آیت میں عام مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ فحاشی میں مشہور ہوں ان سے رشتہ داری قائم نہ کی جائے۔ نہ انھیں لڑکی کا رشتہ دیا جائے نہ ان سے لیا جائے۔ ﴿حُرِّمَ ذٰلِكَ﴾ کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ فعل زنا مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب اثم الزناه]
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پاکباز اور عفیف مسلمانوں کے لئے بد کاروں سے رشتہ نکاح کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
زانی اور زانیہ اور اخلاقی مجرم ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ زانی سے زناکاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو بدکار ہو یا مشرکہ ہو کہ وہ اس برے کام کو عیب ہی نہیں سمجھتی۔ ایسی بدکار عورت سے وہی مرد ملتا ہے جو اسی جیسا بدچلن ہو یا مشرک ہو جو اس کی حرمت کا قائل ہی نہ ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ ”یہاں نکاح سے مراد جماع ہے یعنی زانیہ عورت سے زنا کار یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے۔“ یہی قول مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، عروہ بن زبر، ضحاک، مکحول، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے۔ مومنوں پر یہ حرام ہے یعنی زناکاری کرنا اور زانیہ عورتوں سے نکاح کرنا یا عفیفہ اور پاک دامن عورتوں کو ایسے زانیوں کے نکاح میں دینا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”بدکار عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں پر حرام ہے“ جیسے اور آیت میں ہے «مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ» ۱؎ [4-النساء:25] یعنی ’ مسلمانوں کو جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہیئے ان میں یہ تینوں اوصاف ہونے چاہئیں وہ پاک دامن ہوں، وہ بدکار نہ ہوں، نہ چوری چھپے برے لوگوں سے میل ملاپ کرنے والی ہوں ‘۔ یہی تینوں وصف مردوں میں بھی ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔
اسی لیے امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ ”نیک اور پاک دامن مسلمان کا نکاح بدکار عورت سے صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے ہاں بعد از توبہ عقد نکاح درست ہے۔ اسی طرح بھولی بھالی، پاک دامن، عفیفہ عورتوں کا نکاح زانی اور بدکار لوگوں سے منعقد ہی نہیں ہوتا، جب تک وہ سچے دل سے اپنے اس ناپاک فعل سے توبہ نہ کر لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ ’ یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے ‘۔
{ ایک شخض نے ام مھزول نامی ایک بدکار عورت سے نکاح کر لینے کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ کر سنائی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/2:حسن] ایک اور روایت میں ہے کہ اس کی طلب اجازت پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [مسند احمد:225/2:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ ”یہاں نکاح سے مراد جماع ہے یعنی زانیہ عورت سے زنا کار یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے۔“ یہی قول مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، عروہ بن زبر، ضحاک، مکحول، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے۔ مومنوں پر یہ حرام ہے یعنی زناکاری کرنا اور زانیہ عورتوں سے نکاح کرنا یا عفیفہ اور پاک دامن عورتوں کو ایسے زانیوں کے نکاح میں دینا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”بدکار عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں پر حرام ہے“ جیسے اور آیت میں ہے «مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ» ۱؎ [4-النساء:25] یعنی ’ مسلمانوں کو جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہیئے ان میں یہ تینوں اوصاف ہونے چاہئیں وہ پاک دامن ہوں، وہ بدکار نہ ہوں، نہ چوری چھپے برے لوگوں سے میل ملاپ کرنے والی ہوں ‘۔ یہی تینوں وصف مردوں میں بھی ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔
اسی لیے امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ ”نیک اور پاک دامن مسلمان کا نکاح بدکار عورت سے صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے ہاں بعد از توبہ عقد نکاح درست ہے۔ اسی طرح بھولی بھالی، پاک دامن، عفیفہ عورتوں کا نکاح زانی اور بدکار لوگوں سے منعقد ہی نہیں ہوتا، جب تک وہ سچے دل سے اپنے اس ناپاک فعل سے توبہ نہ کر لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ ’ یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے ‘۔
{ ایک شخض نے ام مھزول نامی ایک بدکار عورت سے نکاح کر لینے کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ کر سنائی }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/2:حسن] ایک اور روایت میں ہے کہ اس کی طلب اجازت پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [مسند احمد:225/2:صحیح]
ترمذی شریف میں ہے کہ { ایک صحابی جن کا نام سیدنا مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ تھا، یہ مکہ سے مسلمان قیدیوں کو اٹھالایا کرتے تھے اور مدینے پہنچا دیا کرتے تھے۔ عناق نامی ایک بدکار عورت مکے میں رہا کرتی تھی۔ جاہلیت کے زمانے میں ان کا اس عورت سے تعلق تھا۔ سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں ایک قیدی کو لانے کیلئے مکہ شریف گیا، میں ایک باغ کی دیوار کے نیچے پہنچا رات کا وقت تھا چاندنی چٹکی ہوئی تھی۔ اتفاق سے عناق آ پہنچی اور مجھے دیکھ لیا بلکہ پہچان بھی لیا اور آواز دے کر کہا کیا مرثد ہے؟ میں نے کہا ہاں مرثد ہوں۔ اس نے بڑی خوشی ظاہر کی اور مجھ سے کہنے لگی چلو رات میرے ہاں گزارنا۔ میں نے کہا عناق اللہ تعالیٰ نے زناکاری حرام کردی ہے۔ جب وہ مایوس ہوگئی تو اس نے مجھے پکڑوانے کیلئے غل مچانا شروع کیا کہ اے خیمے والو ہوشیار ہو جاؤ دیکھو چور آ گیا ہے۔ یہی ہے جو تمہارے قیدیوں کو چرا کر لے جایا کرتا ہے۔ لوگ جاگ اٹھے اور آٹھ آدمی مجھے پکڑنے کیلئے میرے پیچھے دوڑے۔ میں مٹھیاں بند کر کے خندق کے راستے بھاگا اور ایک غار میں جا چھپا۔
یہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے غار پر آ پہنچے لیکن میں انہیں نہ ملا۔ یہ وہیں پیشاب کرنے کو بیٹھے واللہ ان کا پیشاب میرے سر پر آ رہا تھا لیکن اللہ نے انہیں اندھا کردیا۔ ان کی نگاہیں مجھ پر نہ پڑیں، ادھر ادھر ڈھونڈ بھال کر واپس چلے گئے۔ میں نے کچھ دیر گزار کر جب یہ یقین کرلیا کہ وہ پھر سوگئے ہوں گے تو یہاں سے نکلا، پھر مکے کی راہ لی اور وہیں پہنچ کر اس مسلمان قیدی کو اپنی کمر پر چڑھایا اور وہاں سے لے بھاگا، چونکہ وہ بھاری بدن کے تھے، میں جب اذخر میں پہنچا تو تھک گیا میں نے انہیں کمر سے اتارا ان کے بندھن کھول دیئے اور آزاد کر دیا۔ }
{ اب اٹھاتا چلاتا مدینے پہنچ گیا، چونکہ عناق کی محبت میرے دل میں تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اس سے نکاح کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ میں نے دوبارہ یہی سوال کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور یہ آیت اتری، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے مرثد زانیہ سے نکاح زانی یا مشرک ہی کرتا ہے تو اس سے نکاح کا ارادہ چھوڑ دے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3177،قال الشيخ الألباني:حسن] امام ابوداؤد اور نسائی بھی اسے اپنی سنن کی کتاب النکاح میں لائے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2051،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد وغیرہ میں ہے { زانی جس پر کوڑے لگ چکے ہوں وہ اپنے جیسے سے ہی نکاح کر سکتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2052،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے غار پر آ پہنچے لیکن میں انہیں نہ ملا۔ یہ وہیں پیشاب کرنے کو بیٹھے واللہ ان کا پیشاب میرے سر پر آ رہا تھا لیکن اللہ نے انہیں اندھا کردیا۔ ان کی نگاہیں مجھ پر نہ پڑیں، ادھر ادھر ڈھونڈ بھال کر واپس چلے گئے۔ میں نے کچھ دیر گزار کر جب یہ یقین کرلیا کہ وہ پھر سوگئے ہوں گے تو یہاں سے نکلا، پھر مکے کی راہ لی اور وہیں پہنچ کر اس مسلمان قیدی کو اپنی کمر پر چڑھایا اور وہاں سے لے بھاگا، چونکہ وہ بھاری بدن کے تھے، میں جب اذخر میں پہنچا تو تھک گیا میں نے انہیں کمر سے اتارا ان کے بندھن کھول دیئے اور آزاد کر دیا۔ }
{ اب اٹھاتا چلاتا مدینے پہنچ گیا، چونکہ عناق کی محبت میرے دل میں تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اس سے نکاح کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ میں نے دوبارہ یہی سوال کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور یہ آیت اتری، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے مرثد زانیہ سے نکاح زانی یا مشرک ہی کرتا ہے تو اس سے نکاح کا ارادہ چھوڑ دے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3177،قال الشيخ الألباني:حسن] امام ابوداؤد اور نسائی بھی اسے اپنی سنن کی کتاب النکاح میں لائے ہیں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2051،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد وغیرہ میں ہے { زانی جس پر کوڑے لگ چکے ہوں وہ اپنے جیسے سے ہی نکاح کر سکتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2052،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند امام احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تین قسم کے لوگ ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے اور جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا۔ (١) ماں باپ کا نافرمان۔ (٢) وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت کریں۔ (٣) اور دیوث۔
اور تین قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، (١) ماں باپ کا نافرمان (٢) ہمیشہ کا نشے کا عادی (٣) اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتانے والا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:134/2:حسن]
مسند میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے (١) ہمیشہ کا شرابی، (٢) ماں باپ کا نافرمان۔ (٣) اور اپنے گھر والوں میں خباثت کو برقرار رکھنے والا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/2:صحیح بالشواهد]
ابوداؤد طیالسی میں ہے { جنت میں کوئی دیوث نہیں جائے گا }۔ ۱؎ [مسند طیالسی:642:ضعیف]
ابن ماجہ میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنا چاہتا ہے، اسے چاہیئے کہ پاکدامن عورتوں سے نکاح کرے جو لونڈیاں نہ ہوں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:1862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ دیوث کہتے ہیں بے غیرت شخص کو۔
نسائی میں ہے کہ { ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے اپنی بیوی سے بہت ہی محبت ہے لیکن اس میں یہ عادت ہے کہ کسی ہاتھ کو واپس نہیں لوٹاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { طلاق دیدے }۔ اس نے کہا مجھے تو صبر نہیں آنے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر جا اس سے فائدہ اٹھا } }۔ [سنن نسائی:3231،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ حدیث ثابت نہیں اس کا راوی عبدالکریم قوی نہیں۔ دوسرا راوی اس کا ہارون ہے جو اس سے قوی ہے مگر ان کی روایت مرسل ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ یہی روایت مسند میں مروی ہے لیکن امام نسائی رحمتہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ مسند کرنا خطا ہے اور صواب یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔ یہ حدیث کی اور کتابوں میں ہے اور سندوں سے بھی مروی ہے۔
اور تین قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، (١) ماں باپ کا نافرمان (٢) ہمیشہ کا نشے کا عادی (٣) اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتانے والا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:134/2:حسن]
مسند میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے (١) ہمیشہ کا شرابی، (٢) ماں باپ کا نافرمان۔ (٣) اور اپنے گھر والوں میں خباثت کو برقرار رکھنے والا }۔ ۱؎ [مسند احمد:29/2:صحیح بالشواهد]
ابوداؤد طیالسی میں ہے { جنت میں کوئی دیوث نہیں جائے گا }۔ ۱؎ [مسند طیالسی:642:ضعیف]
ابن ماجہ میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنا چاہتا ہے، اسے چاہیئے کہ پاکدامن عورتوں سے نکاح کرے جو لونڈیاں نہ ہوں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:1862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ دیوث کہتے ہیں بے غیرت شخص کو۔
نسائی میں ہے کہ { ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے اپنی بیوی سے بہت ہی محبت ہے لیکن اس میں یہ عادت ہے کہ کسی ہاتھ کو واپس نہیں لوٹاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { طلاق دیدے }۔ اس نے کہا مجھے تو صبر نہیں آنے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر جا اس سے فائدہ اٹھا } }۔ [سنن نسائی:3231،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ حدیث ثابت نہیں اس کا راوی عبدالکریم قوی نہیں۔ دوسرا راوی اس کا ہارون ہے جو اس سے قوی ہے مگر ان کی روایت مرسل ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ یہی روایت مسند میں مروی ہے لیکن امام نسائی رحمتہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ مسند کرنا خطا ہے اور صواب یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔ یہ حدیث کی اور کتابوں میں ہے اور سندوں سے بھی مروی ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ تو اسے منکر کہتے ہیں۔ امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ یہ جو کہا ہے کہ وہ کسی چھونے والے کے ہاتھ کو لوٹاتی نہیں اس سے مراد بے حد سخاوت ہے کہ وہ کسی سائل سے انکار ہی نہیں کرتی۔ لیکن اگر یہی مطلب ہوتا تو حدیث میں بجائے «لَامِسٍ» کے لفظ کے «مُلْتَمِسٍ» کا لفظ ہونا چاہیئے تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی خصلت ایسی معلوم ہوتی تھی نہ یہ کہ وہ برائی کرتی تھی کیونکہ اگر یہی عیب اس میں ہوتا تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی رضی اللہ کو اس کے رکھنے کی اجازت نہ دیتے کیونکہ یہ تو دیوثی ہے۔ جس پر سخت وعید آئی ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ خاوند کو اس کی عادت ایسی لگی ہو اور اس کا اندیشہ ظاہر کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ دیا کہ پھر طلاق دیدو لیکن جب اس نے کہا کہ مجھے اس سے بہت ہی محبت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسانے کی اجازت دیدی کیونکہ محبت تو موجود ہے۔ اسے ایک خطرے کے صرف وہم پر توڑ دینا ممکن ہے کوئی برائی پیدا کر دے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
الغرض زانیہ عورتوں سے پاک دامن مسلمانوں کو نکاح کرنا منع ہے ہاں جب وہ توبہ کر لیں تو نکاح حلال ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ ایک ایسی ہی واہی عورت سے میرا برا تعلق تھا، لیکن اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں توبہ کی توفیق دی تو میں چاہتا ہوں کہ اس سے نکاح کرلوں لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ زانی ہی زانیہ اور مشرکہ سے نکاح کرتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس آیت کا یہ مطلب نہیں تم اس سے اب نکاح کرسکتے ہو، جاؤ اگر کوئی گناہ ہو تو میرے ذمے۔“ حضرت یحییٰ رحمہ اللہ سے جب یہ ذکر آیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”یہ آیت منسوخ ہے اس کے بعد کی آیت «وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاىِٕكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ۱؎ [24-النور:32] سے۔“ امام ابو ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
الغرض زانیہ عورتوں سے پاک دامن مسلمانوں کو نکاح کرنا منع ہے ہاں جب وہ توبہ کر لیں تو نکاح حلال ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ ایک ایسی ہی واہی عورت سے میرا برا تعلق تھا، لیکن اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں توبہ کی توفیق دی تو میں چاہتا ہوں کہ اس سے نکاح کرلوں لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ زانی ہی زانیہ اور مشرکہ سے نکاح کرتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس آیت کا یہ مطلب نہیں تم اس سے اب نکاح کرسکتے ہو، جاؤ اگر کوئی گناہ ہو تو میرے ذمے۔“ حضرت یحییٰ رحمہ اللہ سے جب یہ ذکر آیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”یہ آیت منسوخ ہے اس کے بعد کی آیت «وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاىِٕكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ۱؎ [24-النور:32] سے۔“ امام ابو ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔