اِنَّ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۪ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۲۳﴾
بے شک وہ لوگ جو پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کیے گئے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
En
جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بےخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت (دونوں) میں لعنت ہے۔ اور ان کو سخت عذاب ہوگا
En
جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 23) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ …: ” الْغٰفِلٰتِ “} (بے خبر) سے مراد وہ سیدھی سادی شریف عورتیں ہیں جن کے دل پاک ہیں اور ان کے دل میں بدچلنی کا بھولے سے بھی خیال نہیں آتا، ان میں سے کسی پر تہمت لگانا کبیرہ گناہ اور لعنت کا باعث ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ، قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمَا هُنَّ؟ قَالَ الشِّرْكُ بِاللّٰهِ وَالسِّحْرُ وَ قَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَ أَكْلُ الرِّبَا وَ أَكْلُ مَالِ الْيَتِيْمِ وَالتَّوَلِّيْ يَوْمَ الزَّحْفِ وَ قَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ] [بخاري، الحدود، باب رمي المحصنات: ۶۸۵۷] ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو۔“ صحابہ نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! وہ ہلاک کرنے والی چیزیں کیا ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک، جادو، اس جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن بھاگ جانا اور پاک دامن مومن و غافل عورتوں پر تہمت لگانا۔“ یہاں جب عام پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر تہمت لگانا لعنت کا باعث ہے تو امہات المومنین خصوصاً عائشہ رضی اللہ عنھا کے بارے میں بدزبانی کرنے والے کا کیا حال ہو گا، جن کی براء ت خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی۔ اب ان پر تہمت لگانے والا صرف تہمت کا مجرم نہیں بلکہ قرآن کو جھٹلانے کا بھی مجرم ہے اور قرآن کو جھٹلانے والا کافر ہے۔
➋ یہاں پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر بہتان کی جتنی شدید وعید آئی ہے وہ عموماً کفار ہی کے لیے ہے کہ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے، جو جہنم ہی ہو سکتا ہے اور قیامت کے دن ان کے اعضا ان کے خلاف گواہی دیں گے، جو کفار کے ساتھ کیا جانے والا معاملہ ہے، جیسا کہ سورۂ حٰم سجدہ (۱۹ تا ۲۳) میں ہے، اس لیے اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ {” اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ … “} سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی ہیں اور {” الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ “} سے مراد امہات المومنین خصوصاً عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھن ہیں۔ {” اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ “} سے لے کر تمام آیات کے تسلسل سے یہ معنی درست معلوم ہوتا ہے، مگر آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے (کہ جو لوگ بھی پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، وہ عورتیں جو بھی ہوں، ان کے لیے یہ وعید ہے) اگر مراد عام ہو کہ ہر تہمت لگانے والے کے لیے یہ وعید ہے تو اس سے مراد وہ تہمت لگانے والے ہوں گے جو تہمت لگانے کو حلال سمجھتے ہیں، یا جنھوں نے توبہ نہیں کی، کیونکہ اس سے پہلی آیات میں توبہ کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کا اور ان کی سابقہ نیکیاں پیشِ نظر رکھنے کا حکم ہے۔ اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ قذف سے توبہ نہ کرنے والوں کی موت کفر پر ہونے کا خطرہ ہے۔ اللہ سب مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔
➌ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ یہ ساری وعید پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر بہتان کی آئی ہے، مردوں پر بہتان کا ذکر کیوں نہیں فرمایا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ {” الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ “} پر بہتان عموماً کسی مومن مرد کے ساتھ ہی لگایا جائے گا، اس لیے اسے الگ سے ذکر نہیں کیا گیا۔
➋ یہاں پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر بہتان کی جتنی شدید وعید آئی ہے وہ عموماً کفار ہی کے لیے ہے کہ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے، جو جہنم ہی ہو سکتا ہے اور قیامت کے دن ان کے اعضا ان کے خلاف گواہی دیں گے، جو کفار کے ساتھ کیا جانے والا معاملہ ہے، جیسا کہ سورۂ حٰم سجدہ (۱۹ تا ۲۳) میں ہے، اس لیے اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ {” اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ … “} سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی ہیں اور {” الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ “} سے مراد امہات المومنین خصوصاً عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھن ہیں۔ {” اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ “} سے لے کر تمام آیات کے تسلسل سے یہ معنی درست معلوم ہوتا ہے، مگر آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے (کہ جو لوگ بھی پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، وہ عورتیں جو بھی ہوں، ان کے لیے یہ وعید ہے) اگر مراد عام ہو کہ ہر تہمت لگانے والے کے لیے یہ وعید ہے تو اس سے مراد وہ تہمت لگانے والے ہوں گے جو تہمت لگانے کو حلال سمجھتے ہیں، یا جنھوں نے توبہ نہیں کی، کیونکہ اس سے پہلی آیات میں توبہ کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کا اور ان کی سابقہ نیکیاں پیشِ نظر رکھنے کا حکم ہے۔ اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ قذف سے توبہ نہ کرنے والوں کی موت کفر پر ہونے کا خطرہ ہے۔ اللہ سب مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔
➌ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ یہ ساری وعید پاک دامن غافل و مومن عورتوں پر بہتان کی آئی ہے، مردوں پر بہتان کا ذکر کیوں نہیں فرمایا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ {” الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ “} پر بہتان عموماً کسی مومن مرد کے ساتھ ہی لگایا جائے گا، اس لیے اسے الگ سے ذکر نہیں کیا گیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23-1بعض مفسرین نے اس آیت کو حضرت عائشہ ؓ اور دیگر ازواج مطہرات ؓ عنہن کے ساتھ خاص قرار دیا ہے کہ اس آیت میں بطور خاص ان پر تہمت لگانے کی سزا بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ ان کے لئے توبہ نہیں ہے۔ اور بعض مفسرین نے اسے عام ہی رکھا ہے اور اس میں وہی حد قذف بیان کی گئی ہے، جو پہلے گزر چکی ہے۔ اگر تہمت لگانے والا مسلمان ہے تو لعنت کا مطلب ہوگا کہ وہ قابل حد ہے اور مسلمان کے لئے نفرت اور بعد کا مستحق اور اگر کافر ہے، تو مفہوم واضح ہی ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں ملعون یعنی رحمت الٰہی سے محروم ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ جو لوگ پاکدامن [28] اور بھولی بھالی [29] مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا میں بھی لعنت اور آخرت میں بھی اور انھیں بہت برا عذاب ہو گا۔
[28] یعنی جنہیں ایسی گندی باتوں کا خیال بھی نہ ہو۔ ان کا ذہن ہی ایسی باتوں کی طرف منتقل نہ ہوتا ہو کہ بد چلنی کیا چیز ہے اور یہ کیسے کی جاتی ہے یعنی وہ سیدھی سادی اور پاک فطرت عورت جو بد چلن عورتوں کے چلتروں اور ان کی باتوں تک سے ناواقف ہوتی ہے اور صحیحین کے مطابق ایسی بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگانا ان سات تباہ کن گناہوں میں سے ہے جو سابقہ کئے کرائے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ اور یہاں تو معاملہ اور بھی سخت ہے کیونکہ جس پر بہتان باندھا گیا ہے وہ کوئی عام مومنہ نہیں۔ بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اور مومنوں کی ماں ہے۔ لہٰذا ایسے تہمت لگانے والے منافقین پر دنیا میں بھی لعنت برستی رہے گی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ان منافقوں پر جو لعنت برستی رہی اور ہر دم ذلیل و خوار ہوتے رہے وہ سب نے دیکھ لیا اور آخرت میں یہ لوگ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ [29] اعضاء و جوارح کی شہادت :۔
اس دنیا میں انسان جو کچھ زبان سے بولتا یا کلام کرتا ہے۔ وہ دل کے ارادہ کے مطابق بولتا ہے۔ دل میں جھوٹ بولنے یا ہیرا پھیری کرنے کی نیت ہو تو انسان کی زبان وہی الفاظ ادا کرے گی جو انسان کے دل میں ہوتا ہے۔ گویا زبان دل کے ارادہ کے تابع ہوتی ہے اور دوسرے اعضا و جوارح بھی وہی کام کرتے ہیں۔ جسے انسان کا دل چاہتا ہو۔ مگر آخرت میں یہ اعضاء انسان کے ارادہ کے تابع نہیں ہوں گے بلکہ اس حقیقت کے تابع ہوں گے کہ انسان اس دنیا میں اپنے اعضاء و جوارح سے جو کام لے رہا ہے۔ تو ساتھ کے ساتھ ان اعمال و افعال و اقوال کے اثرات ان اعضا و جوارح پر بھی مترتب ہوتے جا رہے ہیں۔ آج انسان اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا۔ تاہم بعض موجودہ سائنسی ایجادات نے اس مسئلہ کو قرب الفہم ضرر بنا دیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان اعضا و جوارح کو زبان دے د یں گے۔ اور وہ وہی بات کہیں گے جو اثرات ان پر مترتب ہوئے تھے اور جو کچھ ان سے کام لیا گیا تھا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص قیامت کے دن اپنے کسی جرم کا اعتراف کرنے کی بجائے غلط سلط باتیں بنانے کی کوشش کرے گا تو اللہ تعالیٰ فوراً اس کی زبان اس کے ہاتھوں اور پاؤں کو قوت گویائی دے کر صحیح باتیں بتلانے کا حکم دے گا۔ تو سب اعضاء و جوارح کی گواہی ایسے مجرموں کے خلاف قائم ہو جائے گی اور انھیں جو سزا ملے گی وہ علیٰ رؤس الشہادات ملے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ پر اللہ کی لعنت ٭٭
جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء علیہم السلام کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں رضی اللہ عنہا۔
علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
فرماتا ہے کہ ’ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:57]، یعنی ’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسواکرنے والے عذاب تیار ہیں ‘۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
فرماتا ہے کہ ’ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:57]، یعنی ’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسواکرنے والے عذاب تیار ہیں ‘۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے، لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔
اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت «وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:5، 4]، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔
اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت «وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:5، 4]، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورۃ النور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ آیت توحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں اتری ہے، ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے، اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے“، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے، اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔
عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطور اولیٰ ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں }۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: { اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2766]
اور حدیث میں ہے { پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3023:ضعیف]
عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطور اولیٰ ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں }۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: { اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2766]
اور حدیث میں ہے { پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3023:ضعیف]
اعضاء کی گواہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چنانچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔“
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25888:ضعیف]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئے اور فرمانے لگے، { جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ } ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا؟ اللہ فرمائے گا ’ ہاں ‘۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، ’ اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ ‘، اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہو جاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2969]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25888:ضعیف]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئے اور فرمانے لگے، { جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ } ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا؟ اللہ فرمائے گا ’ ہاں ‘۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، ’ اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ ‘، اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہو جاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2969]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے تھے ”اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔“
یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے «الْحَقَّ» پڑھا ہے کہ یہ لغت ہے لفظ اللہ کی۔ ابی بن کعب کے مصحف میں «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ الْحَقُّ دِينَهُمْ» بعض سلف سے پڑھنا مروی ہے۔ ’ اس وقت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے ‘۔
یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے «الْحَقَّ» پڑھا ہے کہ یہ لغت ہے لفظ اللہ کی۔ ابی بن کعب کے مصحف میں «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ الْحَقُّ دِينَهُمْ» بعض سلف سے پڑھنا مروی ہے۔ ’ اس وقت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے ‘۔