اِنَّ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡکِ عُصۡبَۃٌ مِّنۡکُمۡ ؕ لَا تَحۡسَبُوۡہُ شَرًّا لَّکُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ؕ لِکُلِّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ مَّا اکۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ۚ وَ الَّذِیۡ تَوَلّٰی کِبۡرَہٗ مِنۡہُمۡ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۱﴾
بے شک وہ لوگ جو یہ بہتان لائے ہیں وہ تمھی سے ایک گروہ ہیں، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے گناہ میں سے وہ ہے جو اس نے گناہ کمایا اور ان میں سے جو اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار بنا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
En
جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا
En
جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ ﻻئے ہیں یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروه ہے۔ تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناه ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 11) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ: ”اَلْإِفْكُ“} کا لفظی معنی الٹا کرنا ہوتا ہے، مراد ایسا بہتان ہے جو حقیقت کے بالکل خلاف ہو۔ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو منافقین نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا پر لگایا تھا، دو تین مخلص مسلمان بھی سادہ دلی کی وجہ سے ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس کی تفصیل خود عائشہ رضی اللہ عنھا سے سنیے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ آپ جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے، جس بیوی کے نام قرعہ نکلتا اسے آپ اپنے ساتھ لے جاتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ (بنو المصطلق) میں قرعہ ڈالا جو میرے نام نکلا، تو میں آپ کے ساتھ روانہ ہو گئی۔ یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ میں ایک ہودے میں سوار رہتی اور جب اترتی تو ہودے سمیت اتاری جاتی۔ ہم اسی طرح سفر کرتے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور سفر سے لوٹے تو ہم لوگ مدینہ کے نزدیک آ پہنچے، آپ نے ایک رات کوچ کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سن کر میں اٹھی اور پیدل چل کر لشکر سے پار نکل گئی، جب حاجت سے فارغ ہوئی اور لشکر کی طرف آنے لگی تو مجھے معلوم ہوا کہ ”اظفار“ کے نگینوں کا ہار (جو میرے گلے میں تھا) ٹوٹ کر گر گیا ہے۔ میں اسے ڈھونڈنے لگی اور اسے ڈھونڈنے میں دیر لگ گئی۔ اتنے میں وہ لوگ جو میرا ہودہ اٹھا کر اونٹ پر لادا کرتے تھے، انھوں نے ہودہ اٹھایا اور میرے اونٹ پر لاد دیا۔ وہ یہ سمجھتے رہے کہ میں ہودہ میں موجود ہوں، کیونکہ اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، پُر گوشت اور بھاری بھر کم نہ ہوتی تھیں اور تھوڑا سا کھانا کھایا کرتی تھیں۔ لہٰذا ان لوگوں نے جب ہودہ اٹھایا تو انھیں اس کے ہلکے پن کا کوئی خیال نہ آیا، علاوہ ازیں میں ان دنوں ایک کم سن لڑکی تھی۔ خیر وہ ہودہ اونٹ پر لاد کر چل دیے۔ لشکر کے روانہ ہونے کے بعد میرا ہار مجھے مل گیا اور میں اسی ٹھکانے کی طرف چلی گئی جہاں رات کو اترے تھے، دیکھا تو وہاں نہ کوئی پکارنے والا ہے اور نہ جواب دینے والا (مطلب سب جا چکے تھے)، میں نے ارادہ کیا کہ اپنے ٹھکانے پر چلی جاؤں، کیونکہ میرا خیال تھا کہ جب وہ لوگ مجھے نہ پائیں گے تو اسی جگہ تلاش کرنے آئیں گے۔ میں وہاں بیٹھی رہی، نیند نے غلبہ کیا اور میں سو گئی۔ لشکر کے پیچھے پیچھے (گرے پڑے سامان کی خبر رکھنے کے لیے) صفوان بن معطل السلمی الذکوانی مقرر تھے۔ وہ رات چلے اور صبح میرے ٹھکانے کے قریب پہنچے اور دور سے کسی انسان کو سوتے ہوئے دیکھا، پھر میرے قریب آئے تو مجھے پہچان لیا، کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے انھوں نے مجھے دیکھا تھا، جب انھوں نے مجھے پہچان کر {”إِنَّا لِلّٰهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“} پڑھا تو میں بیدار ہو گئی اور اپنی چادر سے چہرہ ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم! انھوں نے نہ مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے {”إِنَّا لِلّٰهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“} کے سوا کوئی بات سنی۔ انھوں نے اپنی سواری بٹھائی اور اس کے اگلے پاؤں کو پاؤں سے دبائے رکھا تو میں اس پر سوار ہو گئی۔ وہ آگے سے اونٹنی کی مہار پکڑ کر پیدل چلتے رہے، یہاں تک کہ ہم لشکر سے اس وقت جا ملے جب وہ عین دوپہر کو گرمی کی شدت کی وجہ سے پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ تو جن کی قسمت میں تباہی لکھی تھی وہ تباہ ہوئے۔ اس تہمت کا ذمہ دار عبد اللہ بن ابی ابن سلول تھا۔ خیر ہم لوگ مدینہ پہنچے، وہاں پہنچ کر میں بیمار ہو گئی اور مہینا بھر بیمار رہی۔ لوگ تہمت لگانے والوں کی باتوں کا چرچا کرتے رہے اور مجھے خبر تک نہ ہوئی، البتہ ایک بات سے مجھے شک سا پڑتا تھا، وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مہربانی جو بیماری کی حالت میں مجھ پر ہوا کرتی تھی وہ اس بیماری میں مجھے نظر نہیں آئی۔ بس یہ تھا کہ آپ میرے پاس آتے تو سلام کہتے، پھر فرماتے: ”کیا حال ہے؟“ اور چلے جاتے، اس سے مجھے شک پڑتا، مگر مجھے کسی بات کی خبر نہ تھی۔ بیماری سے کچھ افاقہ ہوا تو میں کمزور ہو گئی، ابھی کمزور ہی تھی کہ ”مناصع“ کی طرف گئی۔ مسطح کی ماں (عاتکہ) میرے ساتھ تھی۔ ہم لوگ ہر رات کو وہاں رفع حاجت کے لیے جایا کرتے تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہم اپنے گھروں کے نزدیک بیت الخلا نہیں بناتے تھے، بلکہ اگلے زمانہ کے عربوں کی طرح رفع حاجت کے لیے باہر جایا کرتے تھے۔ کیونکہ گھروں کے قریب بیت الخلا بنانے سے اس کی بدبو ہمیں تکلیف دیتی۔ خیر میں اور مسطح کی ماں جو ابو رہم بن عبد مناف کی بیٹی تھی اور اس کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی اور ابوبکر صدیق کی خالہ تھی، اس کا بیٹا مسطح تھا، رفع حاجت سے فراغت کے بعد ہم دونوں گھر کو آ رہی تھیں کہ مسطح کی ماں کا پاؤں چادر میں الجھ کر پھسلا تو وہ کہنے لگی: ”مسطح ہلاک ہو۔“ میں نے اسے کہا: ”تم نے بہت بری بات کہی، کیا تم اس شخص کو کوستی ہو جو بدر میں شریک تھا؟“ وہ کہنے لگی: ”اے بھولی لڑکی! کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا ہے؟“ میں نے کہا: ”اس نے کیا کہا ہے؟“ تب اس نے تہمت لگانے والوں کی باتیں مجھ سے بیان کیں تو میری بیماری میں مزید اضافہ ہو گیا۔ جب میں گھر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے اور سلام کرکے پوچھا: ”اب کیسی ہو؟“ میں نے کہا: ”کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں والدین کے پاس جاؤں؟“ میرا ارادہ اس وقت یہ تھا کہ ان سے خبر کی تحقیق کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں اپنے والدین کے پاس آ گئی تو میں نے اپنی ماں سے کہا: ”امی! لوگ (میرے بارے میں) کیا باتیں کر رہے ہیں؟“ اس نے کہا: ”بیٹی! اتنا رنج نہ کرو، اللہ کی قسم! اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی مرد کے پاس کوئی خوبصورت عورت ہوتی ہے اور وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوں تو وہ بہت کچھ کرتی رہتی ہیں۔“ میں نے کہا: ”سبحان اللہ! لوگوں نے اس کا چرچا بھی کر دیا۔“ چنانچہ میں وہ ساری رات روتی رہی، صبح ہو گئی مگر میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے، نہ آنکھوں میں نیند کا سرمہ تک آتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید(رضی اللہ عنھما) کو بلایا، کیونکہ وحی اترنے میں دیر ہو رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اپنی اہلیہ سے علیحدگی کے متعلق مشورہ چاہتے تھے۔ چنانچہ اسامہ بن زید نے تو آپ کو اس کے مطابق مشورہ دیا جو وہ جانتے تھے کہ عائشہ ایسی ناپاک باتوں سے پاک ہے اور اس کے مطابق کہا جو ان کے دل میں آپ کے گھر والوں کی محبت تھی۔ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہ آپ کی اہلیہ ہے اور ہم خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔“ علی(رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی اور عورتیں اس کے علاوہ بھی بہت ہیں اور اگر آپ بریرہ سے پوچھیں تو وہ آپ کو ٹھیک ٹھیک بتا دے گی۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ(رضی اللہ عنھا) کو بلایا اور اس سے پوچھا: ”کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے کہ عائشہ کے متعلق تمھیں کچھ شک ہو؟“ بریرہ(رضی اللہ عنھا) کہنے لگیں: ”اللہ کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس میں کوئی بات نہیں دیکھی جسے میں اس کا عیب سمجھوں، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ وہ نو عمر لڑکی ہے، گھر والوں کا گندھا ہوا آٹا رکھ کر سو جاتی ہے اور بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے۔‘ ‘(اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور اس دن عبد اللہ بن ابی کے خلاف مدد مانگی، فرمایا: [يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! مَنْ يَعْذِرُنِيْ مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِيْ أَذَاهُ فِيْ أَهْلِ بَيْتِيْ؟ فَوَ اللّٰهِ! مَا عَلِمْتُ عَلٰی أَهْلِيْ إِلَّا خَيْرًا، وَ لَقَدْ ذَكَرُوْا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلٰی أَهْلِيْ إِلَّا مَعِيَ] ”مسلمانو! اس آدمی کے خلاف کون میری حمایت کرتا ہے جس کی تکلیف مجھے میرے گھر والوں کے متعلق پہنچی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اپنے اہل خانہ میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا اور ان لوگوں نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا ہے جس میں خیر کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا اور وہ میرے گھر کبھی اکیلا نہیں بلکہ میرے ساتھ ہی آتا ہے۔“ یہ سن کر سعد بن معاذ انصاری (اوس قبیلے کے سردار) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ”میں اس کے مقابل آپ کی مدد کرتا ہوں، اگر وہ اوس قبیلے سے ہے تو میں اس کی گردن اڑاتا ہوں اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج قبیلے سے ہے تو آپ جو حکم دیں گے ہم بجا لائیں گے۔“ یہ بات سن کر سعد بن عبادہ، جو خزرج قبیلے کے سردار تھے، کھڑے ہوئے، وہ اس سے پہلے نیک آدمی تھے، مگر قومی حمیّت نے انھیں بھڑ کا دیا، انھوں نے سعد بن معاذ سے کہا: ”اللہ کی قسم! تم نے جھوٹ کہا، اللہ کی قسم! نہ تم اسے قتل کرو گے اور نہ ہی قتل کر سکتے ہو۔“ اتنے میں اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچا کے بیٹے تھے، کھڑے ہوئے اور انھوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: ”تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم! ہم اسے ضرور قتل کریں گے، کیونکہ تم منافق ہو، منافقوں کی طرف داری کرتے ہوئے، ان کی طرف سے جھگڑتے ہو۔“ اس پر اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور قریب تھا کہ آپس میں لڑ پڑیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر ہی پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں سمجھاتے اور ٹھنڈا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو گئے۔عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں وہ سارا دن روتی رہی، نہ میرے آنسو تھمتے تھے نہ آنکھوں میں نیند کا سرمہ تک پڑتا تھا۔ (والد نے مجھے گھر واپس جانے کا حکم دیا اور میں گھر چلی گئی) میرے والدین صبح میرے پاس ا ٓ گئے، میں دو رات اور ایک دن سے مسلسل رو رہی تھی، اس عرصہ میں مجھے نہ نیند آئی تھی اور نہ آنسو تھمتے تھے، والدین کو گمان ہوتا تھا کہ رو رو کر میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ پھر ایسا ہوا کہ میرے والدین میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے اجازت دے دی تو وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی۔ ہم اس حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے سلام کہا اور بیٹھ گئے۔ اس سے پہلے جب سے مجھ پر تہمت لگی تھی آپ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے۔ آپ ایک مہینا انتظار کرتے رہے، مگر وحی نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ پڑھا، پھر فرمایا: [أَمَّا بَعْدُ، يَا عَائِشَةُ! فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِيْ عَنْكِ كَذَا وَ كَذَا، فَإِنْ كُنْتِ بَرِيْئَةً فَسَيُبَرِّئْكِ اللّٰهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللّٰهَ وَتُوبِيْ إِلَيْهِ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبِهِ ثُمَّ تَابَ إِلَي اللّٰهِ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ] ”اما بعد! عائشہ! مجھے تمھارے بارے میں یہ بات پہنچی ہے، اگر تو بے گناہ ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ضرور بری کر دے گا اور اگر تو کسی گناہ سے آلودہ ہوئی ہے تو اللہ سے معافی مانگ اور توبہ کر، کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرکے توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات ختم کی تو میرے آنسو سوکھ گئے، حتیٰ کہ مجھے ان کا ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا، میں نے اپنے والد سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا ہے اس کا جواب دیں۔“ انھوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں میں کیا کہوں۔“ پھر میں نے اپنی ماں سے کہا: ”آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیں۔“ انھوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں میں کیا کہوں۔“ آخر میں خود ہی جواب دینے لگی، میں نو عمر لڑکی تھی، قرآن میں نے زیادہ نہیں پڑھا تھا، میں نے کہا: [إِنِّيْ وَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ هٰذَا الْحَدِيْثَ حَتَّی اسْتَقَرَّ فِيْ أَنْفُسِكُمْ وَ صَدَّقْتُمْ بِهِ، فَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ: إِنِّيْ بَرِيْئَةٌ، وَاللّٰهُ يَعْلَمُ أَنّيْ بَرِيْئَةٌ، لَا تُصَدِّقُوْنَنِيْ بِذٰلِكَ، وَلَئِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ أَنِّيْ مِنْهُ بَرِيْئَةٌ لَتُصَدِّقُنِّيْ، وَاللّٰهِ مَا أَجِدُ لَكُمْ مَثَلًا إِلَّا قَوْلَ أَبِيْ يُوْسُفَ قَالَ: «{ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ }» [يوسف: ۱۸]] ”اللہ کی قسم! میں جانتی ہوں کہ آپ لوگوں نے یہ بات سنی ہے، حتیٰ کہ آپ کے دل میں جم گئی ہے اور آپ نے اسے سچا سمجھ لیا ہے، اب اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بے گناہ ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں، تو تم مجھے اس میں سچا نہیں سمجھو گے اور اگر میں کسی بات کا اعتراف کر لوں، جب کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ مجھے سچا سمجھیں گے۔ اللہ کی قسم! میں اپنی اور تمھاری مثال ایسی ہی سمجھتی ہوں جیسے یوسف کے باپ نے کہا تھا: ”سو (میرا کام) اچھا صبر ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس پر مدد مانگی جاتی ہے، جو تم بیان کرتے ہو۔“ پھر میں نے کروٹ بدل لی اور بستر پر لیٹ گئی۔ میں اس وقت جانتی تھی کہ میں بے گناہ ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میری بے گناہی کی وجہ سے مجھے بری کر دے گا، لیکن اللہ کی قسم! مجھے یہ گمان تک نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی وحی نازل کرنے والا ہے جس کی تلاوت کی جائے گی اور میرے دل میں میری شان اس سے کہیں کم تر تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی بات فرمائے گا جس کی تلاوت کی جایا کرے گی۔ مجھے تو یہ امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں خواب دیکھیں گے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ مجھے پاک قرار دے گا۔ تو اللہ کی قسم! ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے نہ تھے، نہ ہی گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ پر وہ سختی ہونے لگی جو اس موقع پر ہوا کرتی تھی، یہاں تک کہ آپ سے موتیوں کی طرح پسینا ٹپکنے لگا، حالانکہ وہ سردی کا دن تھا۔ ایسا اس کلام کے بوجھ کی وجہ سے ہوتا تھا جو آپ پر نازل ہوتا تھا۔ جب وہ حالت ختم ہوئی تو آپ خوش تھے اور ہنس رہے تھے۔ پھر پہلی بات جو آپ نے کہی یہ تھی: [يَا عَائِشَةُ! أَمَّا اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ فَقَدْ بَرَّأَكِ] ”عائشہ! اللہ عز و جل نے تمھیں بری کر دیا۔“ میری والدہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھو (اور شکریہ ادا کرو)۔“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں آپ کی طرف نہیں اٹھوں گی اور اللہ کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ … وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [النور: ۱۱ تا ۲۰] جب اللہ تعالیٰ نے میری براء ت میں یہ آیات نازل فرمائیں تو ابوبکر صدیق(رضی اللہ عنہ) نے، جو محتاجی اور قرابت کی وجہ سے مسطح پر خرچ کیا کرتے تھے، کہا: ”اللہ کی قسم! میں مسطح پر کبھی کچھ خرچ نہیں کروں گا، کیونکہ اس نے عائشہ کے متعلق ایسی باتیں کی ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْۤا اُولِي الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِيْنَ وَ الْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [النور: ۲۲] ”اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھا لیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ یہ آیت سن کر ابوبکر نے کہا: ”کیوں نہیں؟ اللہ کی قسم! مجھے پسند ہے کہ اللہ مجھے بخش دے۔“ اور وہ مسطح پر جو خرچ کیا کرتے تھے دوبارہ کرنے لگے اور کہا: ”اللہ کی قسم! میں کبھی یہ معمول بند نہیں کروں گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس تہمت کے زمانہ میں) زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا سے میرے بارے میں پوچھا کرتے تھے کہ زینب تمھیں کیا معلوم ہے، یا تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو وہ یہی کہتی کہ میں اپنے کان اور آنکھ کی خوب احتیاط رکھتی ہوں، مجھے تو اس کے اچھا ہونے کے سوا کچھ معلوم نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے زینب ہی میرا مقابلہ کرتی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کی پرہیز گاری کی وجہ سے اسے بچا لیا اور اس کی بہن حمنہ اس کی خاطر لڑنے لگی۔ تو جس طرح دوسرے تہمت لگانے والے تباہ ہوئے وہ بھی تباہ ہوئی۔“ [بخاري، التفسیر، باب: «لو لا إذ سمعتموہ ظن المؤمنون…» : ۴۷۵۰]
➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ …:} ایک ذہن کے لوگوں کے گروہ اور جماعت کو {”عُصْبَةٌ“} اور {” عِصَابَةٌ“} کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہوتے ہیں اور {” عَصَبَ يَعْصِبُ “} (ض) کا معنی باندھنا اور مضبوط کرنا ہے، یعنی جو لوگ یہ عظیم بہتان اپنے پاس سے بنا کر لائے ہیں ان کا شمار مسلمانوں میں ہوتا ہے، اس لیے ان سے معاملہ کرتے وقت ان کے ساتھ غیر مسلموں والا سلوک نہ کرو، کیونکہ یہ تمھی میں سے ہیں، ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں اور بات باہمی فساد تک جا پہنچے۔ جیسا کہ تجربے سے یہ بات ثابت بھی ہو گئی ہے کہ جب آپ نے عبد اللہ بن ابی کے مقابلے میں مدد کے لیے کہا تو قریب تھا کہ لوگ لڑ پڑتے، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ٹھنڈا نہ کرتے۔ اس لیے اللہ سبحانہ نے یہ کہہ کر کہ ”جو لوگ یہ بہتان لائے ہیں تمھی میں سے ایک گروہ ہیں“ ان کا بہتان اور جھوٹ بھی واضح فرمایا اور زیادہ تعاقب سے بھی منع فرما دیا۔
➌ { لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ:} یہ بات مخلص مسلمانوں کے اطمینان کے لیے فرمائی، جنھیں اس بہتان سے صدمہ پہنچا تھا، خصوصاً جن کا اس واقعہ سے براہ راست تعلق تھا، مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر صدیق، عائشہ، ان کی والدہ اور صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم۔ فرمایا، تم اس واقعہ کو اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے کئی لحاظ سے بہتر ہے:
(1) اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عائشہ، ان کے والدین اور صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم کو جو رنج و غم پہنچا اور مسلسل ایک ماہ تک وہ شدید کرب میں مبتلا رہے، اس کرب پر صبر اور بہتان لگانے والوں سے درگزر کا یقینا اللہ کے ہاں بہت اجر ہے، فرمایا: «اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ» [الزمر: ۱۰] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے سے تمام بہتان لگانے والوں کی گردنیں تن سے جدا ہو سکتی تھیں۔ اس اجر کے علاوہ براء ت کی آیات نازل ہونے پر ان تمام حضرات کو اتنی ہی خوشی ہوئی جتنا صدمہ پہنچا تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیات اترنے پر ہنس رہے تھے، اسی طرح عائشہ، ان کے والدین، صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم اور تمام مسلمانوں کو درجہ بدرجہ خوشی ہوئی۔
(2) ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کو اس واقعہ سے جو عزت ملی امت مسلمہ میں سے کسی کو حاصل نہ ہو سکی کہ ان کی بریت کے لیے قرآن مجید اترا، جو قیامت تک تمام دنیا میں پڑھا جاتا رہے گا اور قرآن نے ان کی جو براء ت بیان فرمائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کی پاکیزہ زندگی اس کی سچی شہادت ہے کہ وہ ہر بہتان سے پاک ہیں۔ اس سے قرآن کا اعجاز بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کوئی پیش گوئی غلط ثابت نہ ہوئی ہے، نہ ہو گی۔
(3) اس واقعہ میں یہ بھی خیر ہے کہ بہتان لگانے والے مخلص مسلمانوں پر حد لگنے سے وہ گناہ سے پاک ہو گئے اور منافقین کا نفاق ظاہر ہو گیا، جس سے آئندہ ان کے نقصانات سے بچنا آسان ہو گیا۔
(4) اس واقعہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی نیک نفسی اور پاک طینتی بھی ثابت ہوتی ہے کہ مسلسل ایک ماہ کے پروپیگنڈے کے باوجود مخلص مسلمانوں میں سے صرف تین آدمی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنھم اس پروپیگنڈے کا شکار ہوئے، باقی تمام صحابہ اس بدگمانی سے پوری طرح محفوظ رہے۔ ازواج مطہرات میں سے کسی نے عائشہ رضی اللہ عنھا کی بدنامی میں حصہ نہیں لیا، حتیٰ کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا نے، جو عائشہ رضی اللہ عنھا کی برابر کی چوٹ تھیں، سوکن ہونے کے باوجود قسم کھا کر عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاک ہونے کی شہادت دی۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کا واقعہ بھی، جو آگے آ رہا ہے، صحابہ کے کریم النفس اور پاک طینت ہونے کا زبردست ثبوت ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بہتان لگانے کے باوجود مسطح سے حسن سلوک ان کی خشیتِ الٰہی اور صبر کا بہترین نمونہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا کا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بہتان کے باوجود حسن سلوک اور ان کی عزت افزائی کرنا ان کے عالی نفس ہونے کی دلیل ہے۔
(5) اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ آپ ایک ماہ تک مسلسل کرب میں مبتلا نہ رہتے۔ اس سے اس غلو کی جڑ کٹ گئی جس میں اس سے پہلے یہود و نصاریٰ مبتلا ہوئے اور جس میں بعض نادان مسلمان بھی مبتلا ہیں۔
(6) اس واقعہ کے نتیجہ میں زنا اور قذف کی حد نازل ہوئی اور قیامت تک کے لیے مسلمان مردوں اور عورتوں کی عصمت و عفت بہتان طرازوں سے محفوظ کر دی گئی اور مسلم معاشرے میں بے حیائی کی اشاعت کا پوری طرح سد باب کر دیا گیا۔
➍ { لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ:} یعنی جس شخص نے اس فتنے میں جتنا حصہ لیا اسی قدر گناہ گار ہوا اور سزا کا مستحق ہوا۔ کسی نے اپنے پاس سے بہتان باندھ کر طوفان اٹھایا، کسی نے بہتان باندھنے والے کی زبانی موافقت کی، کوئی سن کر ہنس دیا، کسی نے خاموشی سے سن لیا، حالانکہ اسے انکار کرنا چاہیے تھا اور کسی نے سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یہ بات کہنے والوں کو اللہ نے پسند فرمایا، باقی سب کو تھوڑا بہت الزام دیا۔
➎ { وَ الَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ:} اس سے مراد رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ہے، جیسا کہ خود عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اسی کے متعلق فرمایا کہ اس کی تکلیف مجھے میرے گھر والوں کے متعلق پہنچی ہے، دیکھیے زیر تفسیر آیت کا پہلا فائدہ۔ بعض روایات میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، مگر صحیح بات یہی ہے کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قصور صرف اتنا تھا کہ انھوں نے سن کر یہ بات آگے کر دی، ورنہ یہ بہتان گھڑنے والا عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ یہی ظالم لوگوں کو جمع کرتا اور نہایت چالاکی سے خود دامن بچا کر دوسروں کے منہ سے کہلوایا کرتا تھا۔ اس کے لیے عذاب عظیم اس لیے کہ دوسرے تمام لوگوں کا گناہ اس کے سرپر بھی تھا، کیونکہ اس نے اس کی ابتدا کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَنَّ فِي الإِْسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ] [مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ…: ۱۰۱۷] ”جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے اس پر اس کا اپنا گناہ بھی ہو گا اور ان کا گناہ بھی جو اس پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“ عذاب عظیم کا مطلب یہ ہے کہ اسے توبہ کی توفیق نہیں ہو گی، وہ کفر پر فوت ہو گا اور آخرت کے عذاب میں مبتلا ہو گا، جو {”اَلدَّرْكُ الْأَسْفَلُ مِنَ النَّارِ“} ہے۔ [أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ] اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس جماعت کے دوسرے لوگوں کو توبہ کی توفیق عطا ہو گی۔
➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ …:} ایک ذہن کے لوگوں کے گروہ اور جماعت کو {”عُصْبَةٌ“} اور {” عِصَابَةٌ“} کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہوتے ہیں اور {” عَصَبَ يَعْصِبُ “} (ض) کا معنی باندھنا اور مضبوط کرنا ہے، یعنی جو لوگ یہ عظیم بہتان اپنے پاس سے بنا کر لائے ہیں ان کا شمار مسلمانوں میں ہوتا ہے، اس لیے ان سے معاملہ کرتے وقت ان کے ساتھ غیر مسلموں والا سلوک نہ کرو، کیونکہ یہ تمھی میں سے ہیں، ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں اور بات باہمی فساد تک جا پہنچے۔ جیسا کہ تجربے سے یہ بات ثابت بھی ہو گئی ہے کہ جب آپ نے عبد اللہ بن ابی کے مقابلے میں مدد کے لیے کہا تو قریب تھا کہ لوگ لڑ پڑتے، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ٹھنڈا نہ کرتے۔ اس لیے اللہ سبحانہ نے یہ کہہ کر کہ ”جو لوگ یہ بہتان لائے ہیں تمھی میں سے ایک گروہ ہیں“ ان کا بہتان اور جھوٹ بھی واضح فرمایا اور زیادہ تعاقب سے بھی منع فرما دیا۔
➌ { لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ:} یہ بات مخلص مسلمانوں کے اطمینان کے لیے فرمائی، جنھیں اس بہتان سے صدمہ پہنچا تھا، خصوصاً جن کا اس واقعہ سے براہ راست تعلق تھا، مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر صدیق، عائشہ، ان کی والدہ اور صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم۔ فرمایا، تم اس واقعہ کو اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے کئی لحاظ سے بہتر ہے:
(1) اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عائشہ، ان کے والدین اور صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم کو جو رنج و غم پہنچا اور مسلسل ایک ماہ تک وہ شدید کرب میں مبتلا رہے، اس کرب پر صبر اور بہتان لگانے والوں سے درگزر کا یقینا اللہ کے ہاں بہت اجر ہے، فرمایا: «اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ» [الزمر: ۱۰] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے سے تمام بہتان لگانے والوں کی گردنیں تن سے جدا ہو سکتی تھیں۔ اس اجر کے علاوہ براء ت کی آیات نازل ہونے پر ان تمام حضرات کو اتنی ہی خوشی ہوئی جتنا صدمہ پہنچا تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیات اترنے پر ہنس رہے تھے، اسی طرح عائشہ، ان کے والدین، صفوان بن معطل رضی اللہ عنھم اور تمام مسلمانوں کو درجہ بدرجہ خوشی ہوئی۔
(2) ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کو اس واقعہ سے جو عزت ملی امت مسلمہ میں سے کسی کو حاصل نہ ہو سکی کہ ان کی بریت کے لیے قرآن مجید اترا، جو قیامت تک تمام دنیا میں پڑھا جاتا رہے گا اور قرآن نے ان کی جو براء ت بیان فرمائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کی پاکیزہ زندگی اس کی سچی شہادت ہے کہ وہ ہر بہتان سے پاک ہیں۔ اس سے قرآن کا اعجاز بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کوئی پیش گوئی غلط ثابت نہ ہوئی ہے، نہ ہو گی۔
(3) اس واقعہ میں یہ بھی خیر ہے کہ بہتان لگانے والے مخلص مسلمانوں پر حد لگنے سے وہ گناہ سے پاک ہو گئے اور منافقین کا نفاق ظاہر ہو گیا، جس سے آئندہ ان کے نقصانات سے بچنا آسان ہو گیا۔
(4) اس واقعہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی نیک نفسی اور پاک طینتی بھی ثابت ہوتی ہے کہ مسلسل ایک ماہ کے پروپیگنڈے کے باوجود مخلص مسلمانوں میں سے صرف تین آدمی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنھم اس پروپیگنڈے کا شکار ہوئے، باقی تمام صحابہ اس بدگمانی سے پوری طرح محفوظ رہے۔ ازواج مطہرات میں سے کسی نے عائشہ رضی اللہ عنھا کی بدنامی میں حصہ نہیں لیا، حتیٰ کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا نے، جو عائشہ رضی اللہ عنھا کی برابر کی چوٹ تھیں، سوکن ہونے کے باوجود قسم کھا کر عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاک ہونے کی شہادت دی۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کا واقعہ بھی، جو آگے آ رہا ہے، صحابہ کے کریم النفس اور پاک طینت ہونے کا زبردست ثبوت ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بہتان لگانے کے باوجود مسطح سے حسن سلوک ان کی خشیتِ الٰہی اور صبر کا بہترین نمونہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا کا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بہتان کے باوجود حسن سلوک اور ان کی عزت افزائی کرنا ان کے عالی نفس ہونے کی دلیل ہے۔
(5) اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ آپ ایک ماہ تک مسلسل کرب میں مبتلا نہ رہتے۔ اس سے اس غلو کی جڑ کٹ گئی جس میں اس سے پہلے یہود و نصاریٰ مبتلا ہوئے اور جس میں بعض نادان مسلمان بھی مبتلا ہیں۔
(6) اس واقعہ کے نتیجہ میں زنا اور قذف کی حد نازل ہوئی اور قیامت تک کے لیے مسلمان مردوں اور عورتوں کی عصمت و عفت بہتان طرازوں سے محفوظ کر دی گئی اور مسلم معاشرے میں بے حیائی کی اشاعت کا پوری طرح سد باب کر دیا گیا۔
➍ { لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ:} یعنی جس شخص نے اس فتنے میں جتنا حصہ لیا اسی قدر گناہ گار ہوا اور سزا کا مستحق ہوا۔ کسی نے اپنے پاس سے بہتان باندھ کر طوفان اٹھایا، کسی نے بہتان باندھنے والے کی زبانی موافقت کی، کوئی سن کر ہنس دیا، کسی نے خاموشی سے سن لیا، حالانکہ اسے انکار کرنا چاہیے تھا اور کسی نے سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یہ بات کہنے والوں کو اللہ نے پسند فرمایا، باقی سب کو تھوڑا بہت الزام دیا۔
➎ { وَ الَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ:} اس سے مراد رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ہے، جیسا کہ خود عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اسی کے متعلق فرمایا کہ اس کی تکلیف مجھے میرے گھر والوں کے متعلق پہنچی ہے، دیکھیے زیر تفسیر آیت کا پہلا فائدہ۔ بعض روایات میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، مگر صحیح بات یہی ہے کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قصور صرف اتنا تھا کہ انھوں نے سن کر یہ بات آگے کر دی، ورنہ یہ بہتان گھڑنے والا عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ یہی ظالم لوگوں کو جمع کرتا اور نہایت چالاکی سے خود دامن بچا کر دوسروں کے منہ سے کہلوایا کرتا تھا۔ اس کے لیے عذاب عظیم اس لیے کہ دوسرے تمام لوگوں کا گناہ اس کے سرپر بھی تھا، کیونکہ اس نے اس کی ابتدا کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ سَنَّ فِي الإِْسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ] [مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ…: ۱۰۱۷] ”جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے اس پر اس کا اپنا گناہ بھی ہو گا اور ان کا گناہ بھی جو اس پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“ عذاب عظیم کا مطلب یہ ہے کہ اسے توبہ کی توفیق نہیں ہو گی، وہ کفر پر فوت ہو گا اور آخرت کے عذاب میں مبتلا ہو گا، جو {”اَلدَّرْكُ الْأَسْفَلُ مِنَ النَّارِ“} ہے۔ [أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ] اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس جماعت کے دوسرے لوگوں کو توبہ کی توفیق عطا ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11-1اِ فَک سے مراد وہ واقع افک ہے جس میں منافقین نے حضرت عائشہ ؓ کے دامن عفت و عزت کو داغ دار کرنا چاہا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت عائشہ کی حرمت میں آیت نازل فرما کر ان کی پاک دامنی اور عفت کو واضح تر کردیا۔ اِفْک کے معنی ہیں کسی چیز کو الٹا دینا۔ اس واقع میں بھی چونکہ منافقین نے معاملے کو الٹا کردیا تھا یعنی حضرت عائشہ تو ثنا تعریف کی مستحق تھیں، عالی نسب اور رفعت کردار کی مالک تھیں نہ کہ قذف کی۔ لیکن ظالموں نے اس پیکر عفت کو اس کے برعکس طعن اور بہتان تراشی کا ہدف بنا لیا۔ 11-2ایک گروہ اور جماعت کو عَصْبَۃ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت اور عصیبت کا باعث ہوتے ہیں۔ 11-3کیونکہ اس سے ایک تو تمہیں کرب اور صدمے کے سبب ثواب عظیم ملے گا، دوسرے آسمانوں سے حضرت عائشہ کی حرمت میں ان کی عظمت شان اور ان کے خاندان کا شرف و فضل نمایاں تر ہوگیا، علاوہ ازیں اہل ایمان کے لئے اس میں عبرت و نصیحت کے اور کئی پہلو ہیں۔ 11-4اس سے مراد عبد اللہ بن ابی منافق ہے جو اس سازش کا سرغنہ تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ جن لوگوں نے تہمت [12] کی باتیں کیں وہ تم میں سے ایک ٹولہ ہے۔ اسے تم اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ جس نے اس میں جتنا حصہ لیا [13] اتنا ہی گناہ کمایا اور ان میں سے جو شخص اس تہمت کے بڑے حصہ کا [14] ذمہ دار بنا اس کے لئے عذاب عظیم ہے۔
[12] یہاں آیت نمبر 11 سے لے کر آیت نمبر 20 تک افک کے واقعہ سے متعلق دس آیات مذکور ہیں۔ جو اس سورت کا شان نزول بنیں۔ ابتدا میں تہمت، قذف زنا کے احکام اور سزا بتانے کے بعد اس واقعہ کا آغاز اور اس پر تبصرہ ہے۔ اس کی ابتداء ہی ان الفاظ سے کی گئی: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ جَاءُوْ بالْاِفْكِ﴾ یعنی یہ جو کچھ افواہیں پھیلیں اور قصے گھڑے گئے۔ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے جس میں حقیقت کا شائبہ تک نہیں۔ [13] واقعہ افک میں ملوث ہونے والے مسلمان اور ان پر حد قذف :۔
یہ کون لوگ تھے۔ یہ حضرت عائشہؓ ہی کی زبانی سنئے: سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس آیت میں: ﴿وَالَّذِيْ تَوَلّٰي كِبْرَهٗ﴾ سے مراد عبد اللہ بن ابی ابن سلول ہے (رئیس المنافقین) ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس طوفان کا چرچا (مسلمانوں میں سے) دو مرد کرنے والے تھے۔ مسطح بن اثاثہ، اور حسان بن ثابت اور تیسرا عبد اللہ بن ابی بن سلول منافق تھا جو کرید کرید کر پوچھتا۔ پھر اس پر حاشیے چڑھاتا۔ وہا اس طوفان کا بانی مبانی تھا اور ﴿وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ﴾ سے وہ اور حمنہ بنت جحش مراد ہیں۔ (عبد اللہ بن ابی منافق کے علاوہ تینوں پر حد قذف لگی تھی) [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ مسروق سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت (مشہور شاعر) حضرت عائشہؓ کے ہاں گئے اور یہ شعر سنایا حصان رزان ماتزن بریبہ۔۔ و نصبح غرثی من لحوم الغوافل (حضرت عائشہ) پاکدامن، عقلمند اور ہر شک و شبہ سے بالا ہیں۔ وہ بھولی بھالی معصوم عورتوں کا گوشت کھانے (ان پر تہمت لگانے یا ان کا گلہ کرنے) سے بھوکی ہی رہتی ہیں۔ یہ شعر سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: مگر (حسان) تم تو ایسے نہیں۔ میں (مسروق) نے حضرت عائشہؓ سے کہا۔ ”آپ ایسے شخص کو کیوں آنے دیتی ہیں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَالَّذِيْ تَوَلّٰي كِبْرَه﴾ الآیہ حضرت عائشہؓ نے کہا: اسے اندھے پن سے زیادہ اور کیا عذاب ہو گا (حضرت حسان آخری عمر میں اندھے ہو گئے تھے) پھر یہ بھی کہا: کہ حسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کافروں کو ان کی ہجو کا) جواب دیتے تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
نیز عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت سیدنا ابوہریرہؓ سے گواہی چاہتے تھے۔ کہتے تھے: ابوہریرہ! تمہیں اللہ کی قسم! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: حسان! تو اللہ کے رسول کی طرف سے کافروں کو جواب دے۔ یا اللہ! روح القدس سے حسان کی مدد کر۔ ابوہریرہؓ نے کہا: ”ہاں“ [بخاري۔ كتاب الصلوة باب الشعر فى المسجد]
[14] مندرجہ بالا حضرت عائشہؓ سے منقول مندرجہ بالا احادیث سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اس فتنہ کا بانی مبانی عبد اللہ بن ابی منافق تھا۔ اتفاق کی بات کہ اس غزوہ بن مصطلق میں جتنے زیادہ منافق شامل ہوئے تھے دوسرے کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے تھے۔ انہی لوگوں نے ہی اس بہتان کا بھرپور پروپیگنڈہ کیا تھا۔ جس سے کئی سادہ لوح مخلص مسلمان بھی متاثر ہو گئے تھے۔ متاثر ہونے والے مسلمانوں کے نام جو کتب احادیث و سیر میں ملتے ہیں اور وہ تھے سیدنا حسان بن ثابتؓ، مسطح بن اثاثہؓ اور ام المومنین زینب بنت جحشؓ کی بہن حمنہ بنت جحشؓ یعنی روایت کے مطابق ان تینوں کو قذف کی حد بھی لگی تھی۔ لیکن منافقوں میں سے عبد اللہ بن ابی کے سوا کسی کا نام کتب تاریخ و سیر میں نہیں ملتا۔ نہ ہی منافقوں میں سے کسی کو حد لگی تھی۔ ان کا معاملہ بس اللہ کے سپرد تھا۔
2۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس طوفان کا چرچا (مسلمانوں میں سے) دو مرد کرنے والے تھے۔ مسطح بن اثاثہ، اور حسان بن ثابت اور تیسرا عبد اللہ بن ابی بن سلول منافق تھا جو کرید کرید کر پوچھتا۔ پھر اس پر حاشیے چڑھاتا۔ وہا اس طوفان کا بانی مبانی تھا اور ﴿وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ﴾ سے وہ اور حمنہ بنت جحش مراد ہیں۔ (عبد اللہ بن ابی منافق کے علاوہ تینوں پر حد قذف لگی تھی) [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ مسروق سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت (مشہور شاعر) حضرت عائشہؓ کے ہاں گئے اور یہ شعر سنایا حصان رزان ماتزن بریبہ۔۔ و نصبح غرثی من لحوم الغوافل (حضرت عائشہ) پاکدامن، عقلمند اور ہر شک و شبہ سے بالا ہیں۔ وہ بھولی بھالی معصوم عورتوں کا گوشت کھانے (ان پر تہمت لگانے یا ان کا گلہ کرنے) سے بھوکی ہی رہتی ہیں۔ یہ شعر سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: مگر (حسان) تم تو ایسے نہیں۔ میں (مسروق) نے حضرت عائشہؓ سے کہا۔ ”آپ ایسے شخص کو کیوں آنے دیتی ہیں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَالَّذِيْ تَوَلّٰي كِبْرَه﴾ الآیہ حضرت عائشہؓ نے کہا: اسے اندھے پن سے زیادہ اور کیا عذاب ہو گا (حضرت حسان آخری عمر میں اندھے ہو گئے تھے) پھر یہ بھی کہا: کہ حسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کافروں کو ان کی ہجو کا) جواب دیتے تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
نیز عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت سیدنا ابوہریرہؓ سے گواہی چاہتے تھے۔ کہتے تھے: ابوہریرہ! تمہیں اللہ کی قسم! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: حسان! تو اللہ کے رسول کی طرف سے کافروں کو جواب دے۔ یا اللہ! روح القدس سے حسان کی مدد کر۔ ابوہریرہؓ نے کہا: ”ہاں“ [بخاري۔ كتاب الصلوة باب الشعر فى المسجد]
[14] مندرجہ بالا حضرت عائشہؓ سے منقول مندرجہ بالا احادیث سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اس فتنہ کا بانی مبانی عبد اللہ بن ابی منافق تھا۔ اتفاق کی بات کہ اس غزوہ بن مصطلق میں جتنے زیادہ منافق شامل ہوئے تھے دوسرے کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے تھے۔ انہی لوگوں نے ہی اس بہتان کا بھرپور پروپیگنڈہ کیا تھا۔ جس سے کئی سادہ لوح مخلص مسلمان بھی متاثر ہو گئے تھے۔ متاثر ہونے والے مسلمانوں کے نام جو کتب احادیث و سیر میں ملتے ہیں اور وہ تھے سیدنا حسان بن ثابتؓ، مسطح بن اثاثہؓ اور ام المومنین زینب بنت جحشؓ کی بہن حمنہ بنت جحشؓ یعنی روایت کے مطابق ان تینوں کو قذف کی حد بھی لگی تھی۔ لیکن منافقوں میں سے عبد اللہ بن ابی کے سوا کسی کا نام کتب تاریخ و سیر میں نہیں ملتا۔ نہ ہی منافقوں میں سے کسی کو حد لگی تھی۔ ان کا معاملہ بس اللہ کے سپرد تھا۔
واقعہ افک میں عبد اللہ بن ابی کردار:۔
جب یہ فتنہ گھڑ گیا تو منافق خوش ہو کر اور خوب مزے لے کر ان واہیات باتوں کا تذکرہ کرتے تھے بعض اظہار افسوس کے طور پر، بعض بات چھیڑ دیتے اور خود چپکے سے سنا کرتے، اور مسلمان یہ باتیں سن کر بعض تردد میں پڑ جاتے، بعض خاموش رہتے اور بہت سے یہ باتیں سن کر جھٹلا دیتے۔ اور اس قصہ کا بڑا بوجھ اٹھانے والے اور بانی عبد اللہ کا یہ حال تھا کہ لوگوں کو جمع کرتا اور ابھارتا اور نہایت چالاکی سے اپنا دامن بچا کر دوسروں سے اس کی اشاعت کرایا کرتا تھا۔ اس آیت میں بتلایا یہ جا رہا ہے کہ اس قصہ میں کسی نے جتنا حصہ لیا اسی کے مطابق اسے عذاب عظیم ہو گا۔ ان حالات میں عام انسانی سوچ کے مطابق چاہئے تو تھا کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو اس اخلاقی گراوٹ پر غضب ناک گرفت فرماتے یا مسلمانوں کو جوابی حملے سے اکساتے مگر اللہ تعالیٰ جو سب سے بڑھ کر علیم اور حکیم ہیں نے یہ انداز اختیار فرمایا کہ تمام تر توجہ مسلمانوں کو یہ تعلیم دینے پر صرف فرمائی کہ تمہارے اخلاقی محاذ میں جہاں رخنے موجود ہیں ان کو بھر کر اس اخلاقی محاذ کو اور بھی زیادہ مضبوط بنانا چاہئے۔ اسی لئے اس سورۃ میں بہت سے ستر و حجاب کے احکام نازل ہوئے جو آگے آرہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی کی شہادت ٭٭
اس آیت سے لے کر دسویں آیت تک ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جب کہ منافقین نے آپ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھا تھا جس پر اللہ کو بہ سبب قرابت داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیرت آئی اور یہ آیتیں نازل فرمائیں تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو پر حرف نہ آئے۔ ان بہتان بازوں کی ایک پارٹی تھی۔ اس لعنتی کام میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی بن سلول تھا جو تمام منافقوں کا گرو گھنٹال تھا۔ اس بے ایمان نے ایک ایک کان میں بنا بنا کر اور مصالحہ چڑھ چڑھا کر یہ باتیں خوب گھڑ گھڑ کر پہنچائی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض مسلمانوں کی زبان بھی کھلنے لگی تھی اور یہ چہ میگوئیاں قریب قریب مہینے بھر تک چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس واقعے کا پورا بیان صحیح احادیث میں موجود ہے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ سفر میں جانے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے نام کا قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ چنانچہ ایک غزوے کے موقعہ پر میرا نام نکلا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلی، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ میں اپنے ھودج میں بیٹھی رہتی اور جب قافلہ کہیں اترتا تو میرا ھودج اتار لیا جاتا۔ میں اسی میں بیٹھی رہتی جب قافلہ چلتا یونہی ھودج رکھ دیا جاتا۔ ہم گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوے سے فارغ ہوئے، واپس لوٹے، مدینے کے قریب آ گئے رات کو چلنے کی آواز لگائی گئی میں قضائے حاجت کیلئے نکلی اور لشکر کے پڑاؤ سے دور جا کر میں نے قضائے حاجت کی۔ پھر واپس لوٹی، لشکر گاہ کے قریب آ کر میں نے اپنے گلے کو ٹٹولا تو ہار نہ پایا۔ میں واپس اس کے ڈھونڈنے کیلئے چلی اور تلاش کرتی رہی۔ یہاں یہ ہوا کہ لشکر نے کوچ کردیا جو لوگ میرا ھودج اٹھاتے تھے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ میں حسب عادت اندر ہی ہوں۔ ھودج اٹھا کر اوپر رکھ دیا اور چل پڑے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک عورتیں نہ کچھ ایسا کھاتی پیتی تھیں نہ وہ بھاری بدن کی بوجھل تھیں۔ تو میرے ھودج کے اٹھانے والوں کو میرے ہونے نہ ہونے کا مطلق پتہ نہ چلا، اور میں اس وقت اوائل عمر کی تو تھی ہی }۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ سفر میں جانے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے نام کا قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ چنانچہ ایک غزوے کے موقعہ پر میرا نام نکلا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلی، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ میں اپنے ھودج میں بیٹھی رہتی اور جب قافلہ کہیں اترتا تو میرا ھودج اتار لیا جاتا۔ میں اسی میں بیٹھی رہتی جب قافلہ چلتا یونہی ھودج رکھ دیا جاتا۔ ہم گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوے سے فارغ ہوئے، واپس لوٹے، مدینے کے قریب آ گئے رات کو چلنے کی آواز لگائی گئی میں قضائے حاجت کیلئے نکلی اور لشکر کے پڑاؤ سے دور جا کر میں نے قضائے حاجت کی۔ پھر واپس لوٹی، لشکر گاہ کے قریب آ کر میں نے اپنے گلے کو ٹٹولا تو ہار نہ پایا۔ میں واپس اس کے ڈھونڈنے کیلئے چلی اور تلاش کرتی رہی۔ یہاں یہ ہوا کہ لشکر نے کوچ کردیا جو لوگ میرا ھودج اٹھاتے تھے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ میں حسب عادت اندر ہی ہوں۔ ھودج اٹھا کر اوپر رکھ دیا اور چل پڑے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک عورتیں نہ کچھ ایسا کھاتی پیتی تھیں نہ وہ بھاری بدن کی بوجھل تھیں۔ تو میرے ھودج کے اٹھانے والوں کو میرے ہونے نہ ہونے کا مطلق پتہ نہ چلا، اور میں اس وقت اوائل عمر کی تو تھی ہی }۔
{ الغرض بہت دیر کے بعد مجھے میرا ہار ملا جب میں یہاں پہنچی تو کسی آدمی کا نام و نشان بھی نہ تھا نہ کوئی پکارنے والا، نہ جواب دینے والا، میں اپنے نشان کے مطابق وہیں پہنچی، جہاں ہمارا اونٹ بٹھایا گیا تھا اور وہیں انتظار میں بیٹھ گئی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب آگے چل کر میرے نہ ہونے کی خبر پائیں گے تو مجھے تلاش کرنے کیلئے یہیں آئیں گے، مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آ گئی۔ اتفاق سے صفوان بن معطل سلمی ذکوانی رضی اللہ عنہ جو لشکر کے پیچھے رہے تھے اور پچھلی رات کو چلے تھے، صبح کی روشنی میں یہاں پہنچ گئے۔ ایک سوتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر خیال آنا ہی تھا، غور سے دیکھا تو چونکہ پردے کے حکم سے پہلے مجھے انہوں نے دیکھا ہوا تھا۔ دیکھتے ہی پہچان گئے اور باآواز بلند ان کی زبان سے «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۱؎ [2-البقرۃ:157] نکلا ان کی آواز سنتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور میں اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ کر سنبھل بیٹھی۔ انہوں نے جھٹ اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے ہاتھ پر اپنا پاؤں رکھا میں اٹھی اور اونٹ پر سوار ہوگئی۔ انہوں نے اونٹ کو کھڑا کردیا اور بھگاتے ہوئے لے چلے۔ قسم اللہ کی نہ وہ مجھ سے کچھ بولے، نہ میں نے ان سے کوئی کلام کیا نہ سوائے اناللہ کے میں نے ان کے منہ سے کوئی کلمہ سنا۔ دوپہر کے قریب ہم اپنے قافلے سے مل گئے۔ پس اتنی سی بات کا ہلاک ہونے والوں نے بتنگڑ بنا لیا۔ ان کا سب سے بڑا اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والا عبداللہ بن ابی بن سلول تھا }۔
{ مدینے آتے ہی میں بیمار پڑگئی اور مہینے بھر تک بیماری میں گھر ہی میں رہی، نہ میں نے کچھ سنا، نہ کسی نے مجھ سے کہا جو کچھ غل غپاڑہ لوگوں میں ہو رہا تھا، میں اس سے محض بے خبر تھی۔ البتہ میرے جی میں یہ خیال بسا اوقات گزرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرو محبت میں کمی کی کیا وجہ ہے؟ بیماری میں عام طور پر جو شفقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ساتھ ہوتی تھی اس بیماری میں وہ بات نہ پاتی تھی۔ مجھے رنج تو بہت تھا مگر کوئی وجہ معلوم نہ تھی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے سلام کرتے اور دریافت فرماتے { طبیعت کیسی ہے! } اور کوئی بات نہ کرتے اس سے مجھے بڑا صدمہ ہوتا مگر بہتان بازوں کی تہمت سے میں بالکل غافل تھی }۔
{ اب سنئے اس وقت تک گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے تھے اور عرب کی قدیم عادت کے مطابق ہم لوگ میدان میں قضائے حاجت کیلئے جایا کرتے تھے۔ عورتیں عموماً رات کو جایا کرتی تھیں۔ گھروں میں بیت الخلاء بنانے سے عام طور پر نفرت تھی، حسب عادت میں، ام مسطح بنت ابی رہم بن عبدالمطلب بن عبدالمناف رضی اللہ عنہا کے ساتھ قضائے حاجت کیلئے چلی۔ اس وقت میں بہت ہی کمزور ہو رہی تھی یہ ام مسطح رضی اللہ عنہا میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں ان کی والدہ صخر بن عامر کی لڑکی تھیں، ان کے لڑکے کا نام مسطح بن اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب تھا۔ جب ہم واپس آنے لگے تو ام مسطح رضی اللہ عنہا کا پاؤں چادر کے دامن میں الجھا اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ مسطح غارت ہو۔ مجھے بہت برا لگا اور میں نے کہا کہ تم نے بہت برا کلمہ بولا، توبہ کرو، تم اسے گالی دیتی ہو، جس نے جنگ بدر میں شرکت کی۔
اس وقت ام مسطح رضی اللہ عنہا نے کہا بھولی بیوی آپ کو کیا معلوم؟ میں نے کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو آپ رضی اللہ عنہا کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی میں ان کے سر ہوگئی کہ کم از کم مجھ سے سارا واقعہ تو کہو۔ اب انہوں نے بہتان باز لوگوں کی تمام کارستانیاں مجھے سنائیں۔ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، رنج و غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا، مارے صدمے کے میں تو اور بیمار ہو گئی۔ بیمار تو پہلے سے ہی تھی، اس خبر نے تو نڈھال کر دیا، جوں توں کر کے گھر پہنچی۔ اب صرف یہ خیال تھا میں اپنے میکے جا کر اور اچھی طرح معلوم تو کر لوں کہ کیا واقعی میری نسبت ایسی افواہ پھیلائی گئی ہے؟ اور کیا کیا مشہور کیا جا رہا ہے؟ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ { کیا حال ہے؟ } میں نے کہا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو اپنے والد صاحب کے ہاں ہو آؤں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی، میں یہاں آئی، اپنی والدہ سے پوچھا کہ اماں جان لوگوں میں کیا باتیں پھیل رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا بیٹی یہ تو نہایت معمولی بات ہے تم اتنا اپنا دل بھاری نہ کرو، کسی شخص کی اچھی بیوی جو اسے محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں وہاں ایسی باتوں کا کھڑا ہونا تو لازمی امر ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ کیا واقعی لوگ میری نسبت ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں؟ اب تو مجھے غم و رنج نے اس قدر گھیرا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت سے جو رونا شروع ہوا واللہ ایک دم بھر کیلئے میرے آنسو نہیں تھمے، میں سر ڈال کر روتی رہتی۔ کس کا کھانا پینا، کس کا سونا بیٹھنا، کہاں کی بات چیت، غم و رنج اور رونا ہے اور میں ہوں۔ ساری رات اسی حالت میں گزری کہ آنسو کی لڑی نہ تھمی دن کو بھی یہی حال رہا }۔
اس وقت ام مسطح رضی اللہ عنہا نے کہا بھولی بیوی آپ کو کیا معلوم؟ میں نے کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو آپ رضی اللہ عنہا کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی میں ان کے سر ہوگئی کہ کم از کم مجھ سے سارا واقعہ تو کہو۔ اب انہوں نے بہتان باز لوگوں کی تمام کارستانیاں مجھے سنائیں۔ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، رنج و غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا، مارے صدمے کے میں تو اور بیمار ہو گئی۔ بیمار تو پہلے سے ہی تھی، اس خبر نے تو نڈھال کر دیا، جوں توں کر کے گھر پہنچی۔ اب صرف یہ خیال تھا میں اپنے میکے جا کر اور اچھی طرح معلوم تو کر لوں کہ کیا واقعی میری نسبت ایسی افواہ پھیلائی گئی ہے؟ اور کیا کیا مشہور کیا جا رہا ہے؟ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ { کیا حال ہے؟ } میں نے کہا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو اپنے والد صاحب کے ہاں ہو آؤں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی، میں یہاں آئی، اپنی والدہ سے پوچھا کہ اماں جان لوگوں میں کیا باتیں پھیل رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا بیٹی یہ تو نہایت معمولی بات ہے تم اتنا اپنا دل بھاری نہ کرو، کسی شخص کی اچھی بیوی جو اسے محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں وہاں ایسی باتوں کا کھڑا ہونا تو لازمی امر ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ کیا واقعی لوگ میری نسبت ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں؟ اب تو مجھے غم و رنج نے اس قدر گھیرا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت سے جو رونا شروع ہوا واللہ ایک دم بھر کیلئے میرے آنسو نہیں تھمے، میں سر ڈال کر روتی رہتی۔ کس کا کھانا پینا، کس کا سونا بیٹھنا، کہاں کی بات چیت، غم و رنج اور رونا ہے اور میں ہوں۔ ساری رات اسی حالت میں گزری کہ آنسو کی لڑی نہ تھمی دن کو بھی یہی حال رہا }۔
{ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلوایا، وحی میں دیر ہوئی، اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات معلوم نہ ہوئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات سے مشورہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے الگ کر دیں یا کیا؟ اسامہ رضی اللہ عنہ نے تو صاف کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی اہل پر کوئی برائی نہیں جانتے۔ ہمارے دل ان کی عفت، عزت اور شرافت کی گواہی دینے کیلئے حاضر ہیں۔
ہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تنگی نہیں، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی خادمہ سے پوچھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح واقعہ معلوم ہوسکتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت گھر کی خادمہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ { عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی بات شک و شبہ والی کبھی بھی دیکھی ہو تو بتاؤ }۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ معبوث فرمایا ہے میں نے ان سے کوئی بات کبھی اس قسم کی نہیں دیکھی۔ ہاں صرف یہ بات ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے کہ کبھی کبھی گندھا ہوا آٹا یونہی رکھا رہتا ہے اور سوجاتی ہیں تو بکری آکر کھاجاتی ہے، اس کے سوا میں نے ان کا کوئی قصور کبھی نہیں دیکھا۔
چونکہ کوئی ثبوت اس واقعہ کا نہ ملا اس لیے اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا: { کون ہے؟ جو مجھے اس شخص کی ایذاؤں سے بچائے جس نے مجھے ایذائیں پہنچاتے پہنچاتے اب تو میری گھر والیوں میں بھی ایذائیں پہنچانا شروع کردی ہیں۔ واللہ میں جہاں تک جانتا ہوں مجھے اپنی گھر والیوں میں سوائے بھلائی کے کوئی چیز معلوم نہیں، جس شخص کا نام یہ لوگ لے رہے ہیں، میری دانست تو اس کے متعلق بھی سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں وہ میرے ساتھ ہی گھر میں آتا تھا }۔
ہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تنگی نہیں، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی خادمہ سے پوچھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح واقعہ معلوم ہوسکتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت گھر کی خادمہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ { عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی بات شک و شبہ والی کبھی بھی دیکھی ہو تو بتاؤ }۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ معبوث فرمایا ہے میں نے ان سے کوئی بات کبھی اس قسم کی نہیں دیکھی۔ ہاں صرف یہ بات ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے کہ کبھی کبھی گندھا ہوا آٹا یونہی رکھا رہتا ہے اور سوجاتی ہیں تو بکری آکر کھاجاتی ہے، اس کے سوا میں نے ان کا کوئی قصور کبھی نہیں دیکھا۔
چونکہ کوئی ثبوت اس واقعہ کا نہ ملا اس لیے اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا: { کون ہے؟ جو مجھے اس شخص کی ایذاؤں سے بچائے جس نے مجھے ایذائیں پہنچاتے پہنچاتے اب تو میری گھر والیوں میں بھی ایذائیں پہنچانا شروع کردی ہیں۔ واللہ میں جہاں تک جانتا ہوں مجھے اپنی گھر والیوں میں سوائے بھلائی کے کوئی چیز معلوم نہیں، جس شخص کا نام یہ لوگ لے رہے ہیں، میری دانست تو اس کے متعلق بھی سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں وہ میرے ساتھ ہی گھر میں آتا تھا }۔
{ یہ سنتے ہی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہوں اگر وہ قبیلہ اوس کا شخض ہے تو ابھی ہم اس کی گردن تن سے الگ کرتے ہیں اور اگر وہ ہمارے خزرج بھائیوں سے ہے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم دیں ہمیں اس کی تعمیل میں کوئی عذر نہ ہوگا۔
یہ سن کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے یہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ تھے تو یہ بڑے نیک بخت مگر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے نہ تو تو اسے قتل کرے گا نہ اس کے قتل پر تو قادر ہے اگر وہ تیرے قبیلے کا ہوتا تو تو اس کا قتل کیا جانا کبھی پسند نہ کرتا۔ یہ سن کر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہوتے تھے کہنے لگے اے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تم جھوٹ کہتے ہو، ہم اسے ضرور مار ڈالیں گے آپ منافق آدمی ہیں کہ منافقوں کی طرف داری کر رہے ہیں۔ اب ان کی طرف سے ان کا قبیلہ اور ان کی طرف سے ان کا قبیلہ ایک دوسرے کے مقابلے پر آ گیا اور قریب تھا کہ اوس و خزرج کے یہ دونوں قبیلے آپس میں لڑ پڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر سے ہی انہیں سمجھانا اور چپ کرانا شروع کیا یہاں تک کہ دونوں طرف خاموشی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی چپکے ہو رہے یہ تو تھا وہاں کا واقعہ۔
میرا حال یہ تھا کہ یہ سارا دن بھی رونے میں ہی گزرا۔ میرے اس رونے نے میرے ماں باپ کے بھی ہوش گم کر دیئے تھے، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ رونا میرا کلیجہ پھاڑ دے گا۔ دونوں حیرت زدہ مغموم بیٹھے ہوئے تھے اور مجھے رونے کے سوا اور کوئی کام ہی نہ تھا اتنے میں انصار کی ایک عورت آئیں اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی ہم یونہی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشیرف لائے اور سلام کر کے میرے پاس بیٹھ گئے۔ قسم اللہ کی جب سے یہ بہتان بازی ہوئی تھی آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کبھی نہیں بیٹھے تھے۔ مہینہ بھر گزر گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حالت تھی۔ کوئی وحی نہیں آئی تھی کہ فیصلہ ہو سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے ہی اول تو تشہد پڑھا پھر امابعد فرما کر فرمایا کہ { اے عائشہ! تیری نسبت مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاکیزگی ظاہر فرما دے گا اور اگر فی الحقیقت تو کسی گناہ میں آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور توبہ کر، بندہ جب گناہ کر کے اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا فرما کر خاموش ہوگئے یہ سنتے ہی میرا رونا دھونا سب جاتا رہا۔ آنسو تھم گئے یہاں تک کہ میری آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔
یہ سن کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے یہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ تھے تو یہ بڑے نیک بخت مگر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے نہ تو تو اسے قتل کرے گا نہ اس کے قتل پر تو قادر ہے اگر وہ تیرے قبیلے کا ہوتا تو تو اس کا قتل کیا جانا کبھی پسند نہ کرتا۔ یہ سن کر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہوتے تھے کہنے لگے اے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تم جھوٹ کہتے ہو، ہم اسے ضرور مار ڈالیں گے آپ منافق آدمی ہیں کہ منافقوں کی طرف داری کر رہے ہیں۔ اب ان کی طرف سے ان کا قبیلہ اور ان کی طرف سے ان کا قبیلہ ایک دوسرے کے مقابلے پر آ گیا اور قریب تھا کہ اوس و خزرج کے یہ دونوں قبیلے آپس میں لڑ پڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر سے ہی انہیں سمجھانا اور چپ کرانا شروع کیا یہاں تک کہ دونوں طرف خاموشی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی چپکے ہو رہے یہ تو تھا وہاں کا واقعہ۔
میرا حال یہ تھا کہ یہ سارا دن بھی رونے میں ہی گزرا۔ میرے اس رونے نے میرے ماں باپ کے بھی ہوش گم کر دیئے تھے، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ رونا میرا کلیجہ پھاڑ دے گا۔ دونوں حیرت زدہ مغموم بیٹھے ہوئے تھے اور مجھے رونے کے سوا اور کوئی کام ہی نہ تھا اتنے میں انصار کی ایک عورت آئیں اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی ہم یونہی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشیرف لائے اور سلام کر کے میرے پاس بیٹھ گئے۔ قسم اللہ کی جب سے یہ بہتان بازی ہوئی تھی آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کبھی نہیں بیٹھے تھے۔ مہینہ بھر گزر گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حالت تھی۔ کوئی وحی نہیں آئی تھی کہ فیصلہ ہو سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے ہی اول تو تشہد پڑھا پھر امابعد فرما کر فرمایا کہ { اے عائشہ! تیری نسبت مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاکیزگی ظاہر فرما دے گا اور اگر فی الحقیقت تو کسی گناہ میں آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور توبہ کر، بندہ جب گناہ کر کے اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا فرما کر خاموش ہوگئے یہ سنتے ہی میرا رونا دھونا سب جاتا رہا۔ آنسو تھم گئے یہاں تک کہ میری آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔
{ میں نے اول تو اپنے والد سے درخواست کی کہ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ رضی اللہ عنہ ہی جواب دیجئیے لیکن انہوں نے فرمایا کہ واللہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دوں؟ اب میں نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا اور ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیجئیے لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں نہیں سمجھ سکتی کہ میں کیا جواب دوں؟ آخر میں نے خود ہی جواب دینا شروع کیا۔
میری عمر کچھ ایسی بڑی تو نہ تھی اور نہ مجھے زیادہ قرآن حفظ تھا۔ میں نے کہا، آپ سب نے ایک بات سنی، اسے آپ نے دل میں بٹھا لیا اور گویا سچ سمجھ لیا۔ اب اگر میں کہوں گی کہ میں اس سے بالکل بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بالکل بے گناہ ہوں تو تم ابھی مان لو گے۔ میری اور تمہاری مثال تو بالکل ابو یوسف علیہ السلام کا یہ قول ہے آیت «فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّـهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ» ۱؎ [12-يوسف:18] پس صبر ہی اچھا ہے جس میں شکایت کا نام ہی نہ ہو اور تم جو باتیں بناتے ہو ان میں اللہ ہی میری مدد کرے، اتنا کہہ کر میں نے کروٹ پھیر لی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔
اللہ کی قسم مجھے یقین تھا کہ چونکہ میں پاک ہوں اللہ تعالیٰ میری برأت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور معلوم کرا دے گا لیکن یہ تو میرے شان و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم تر جانتی تھی کہ میرے بارے میں کلام اللہ کی آیتیں اتریں۔ ہاں مجھے زیادہ سے زیادہ یہ خیال ہوتا تھا کہ ممکن ہے خواب میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری برأت دکھا دے۔ واللہ ابھی تو نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے ہٹے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی گھر سے باہر نکلا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونی شروع ہوگئی۔ اور چہرہ پر وہی آثار ظاہر ہوئے جو وحی کے وقت ہوتے تھے اور پیشانی سے پسینے کی پاک بوندیں ٹپکنے لگیں۔ سخت جاڑوں میں بھی وحی کے نزول کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی، جب وحی اتر چکی تو ہم نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ہنسی سے شگفتہ ہو رہا ہے۔
سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: { عائشہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت نازل فرما دی }۔ اسی وقت میری والدہ نے فرمایا بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو جاؤ۔ میں نے جواب دیا کہ واللہ نہ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہوں گی اور نہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی تعریف کروں گی اسی نے میری برأت اور پاکیزگی نازل فرمائی ہے۔ پس آیت «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ» ۱؎ [24-النور:11] سے لے کر دس آیتوں تک نازل ہوئیں۔
میری عمر کچھ ایسی بڑی تو نہ تھی اور نہ مجھے زیادہ قرآن حفظ تھا۔ میں نے کہا، آپ سب نے ایک بات سنی، اسے آپ نے دل میں بٹھا لیا اور گویا سچ سمجھ لیا۔ اب اگر میں کہوں گی کہ میں اس سے بالکل بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بالکل بے گناہ ہوں تو تم ابھی مان لو گے۔ میری اور تمہاری مثال تو بالکل ابو یوسف علیہ السلام کا یہ قول ہے آیت «فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّـهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ» ۱؎ [12-يوسف:18] پس صبر ہی اچھا ہے جس میں شکایت کا نام ہی نہ ہو اور تم جو باتیں بناتے ہو ان میں اللہ ہی میری مدد کرے، اتنا کہہ کر میں نے کروٹ پھیر لی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔
اللہ کی قسم مجھے یقین تھا کہ چونکہ میں پاک ہوں اللہ تعالیٰ میری برأت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور معلوم کرا دے گا لیکن یہ تو میرے شان و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم تر جانتی تھی کہ میرے بارے میں کلام اللہ کی آیتیں اتریں۔ ہاں مجھے زیادہ سے زیادہ یہ خیال ہوتا تھا کہ ممکن ہے خواب میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری برأت دکھا دے۔ واللہ ابھی تو نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے ہٹے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی گھر سے باہر نکلا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونی شروع ہوگئی۔ اور چہرہ پر وہی آثار ظاہر ہوئے جو وحی کے وقت ہوتے تھے اور پیشانی سے پسینے کی پاک بوندیں ٹپکنے لگیں۔ سخت جاڑوں میں بھی وحی کے نزول کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی، جب وحی اتر چکی تو ہم نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ہنسی سے شگفتہ ہو رہا ہے۔
سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: { عائشہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت نازل فرما دی }۔ اسی وقت میری والدہ نے فرمایا بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو جاؤ۔ میں نے جواب دیا کہ واللہ نہ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہوں گی اور نہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی تعریف کروں گی اسی نے میری برأت اور پاکیزگی نازل فرمائی ہے۔ پس آیت «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ» ۱؎ [24-النور:11] سے لے کر دس آیتوں تک نازل ہوئیں۔
{ ان آیتوں کے اترنے کے بعد اور میری پاک دامنی ثابت ہوچکنے کے بعد اس شر کے پھیلانے میں مسطح بن اثاثہ بھی شریک تھے اور انہیں میرے والد صاحب ان کی محتاجی اور ان کی قرابت داری کی وجہ سے ہمیشہ کچھ دیتے رہتے تھے۔ اب انہوں نے کہا جب اس شخص نے میری بیٹی پر تہمت باندھنے میں حصہ لیا تو اب میں اس کے ساتھ کچھ بھی سلوک نہ کروں گا۔ اس پر آیت «وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [24-النور:22]، نازل ہوئی یعنی ’ تم میں سے جو لوگ بزرگی اور وسعت والے ہیں، انہیں نہ چاہیئے کہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ کے مہاجروں سے سلوک نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ بخشش والا اور مہربانی والا اللہ تمہیں بخش دے؟ ‘ اسی وقت اس کے جواب میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہا نے فرمایا قسم اللہ کی میں تو اللہ کی بخشش کا خواہاں ہوں۔
چنانچہ اسی وقت مسطح رضی اللہ عنہ کا وظیفہ جاری کردیا اور فرما دیا کہ واللہ اب عمر بھر تک اس میں کمی یا کوتاہی نہ کروں گا۔ میرے اس واقعہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں دریافت فرمایا تھا۔ یہی بیوی صاحبہ تھیں جو حضور کی تمام بیویوں میں میرے مقابلے کی تھیں لیکن یہ اپنی پرہیزگاری اور دین داری کی وجہ سے صاف بچ گئیں اور جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو سوائے بہتری کے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔ میں اپنے کانوں کو اور اپنی نگاہ کو محفوظ رکھتی ہوں۔ گو انہیں ان کی بہن حمنہ بنت جحش نے بہت کچھ بہلاوے بھی دیئے بلکہ لڑ پڑیں لیکن انہوں نے اپنی زبان سے میری برائی کا کوئی کلمہ نہیں نکالا۔ ہاں ان کی بہن نے تو زبان کھول دی اور میرے بارے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2661] یہ روایت بخاری مسلم وغیرہ حدیث کی بہت سی کتابوں میں ہے۔
چنانچہ اسی وقت مسطح رضی اللہ عنہ کا وظیفہ جاری کردیا اور فرما دیا کہ واللہ اب عمر بھر تک اس میں کمی یا کوتاہی نہ کروں گا۔ میرے اس واقعہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں دریافت فرمایا تھا۔ یہی بیوی صاحبہ تھیں جو حضور کی تمام بیویوں میں میرے مقابلے کی تھیں لیکن یہ اپنی پرہیزگاری اور دین داری کی وجہ سے صاف بچ گئیں اور جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو سوائے بہتری کے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔ میں اپنے کانوں کو اور اپنی نگاہ کو محفوظ رکھتی ہوں۔ گو انہیں ان کی بہن حمنہ بنت جحش نے بہت کچھ بہلاوے بھی دیئے بلکہ لڑ پڑیں لیکن انہوں نے اپنی زبان سے میری برائی کا کوئی کلمہ نہیں نکالا۔ ہاں ان کی بہن نے تو زبان کھول دی اور میرے بارے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو گئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2661] یہ روایت بخاری مسلم وغیرہ حدیث کی بہت سی کتابوں میں ہے۔
ایک سند سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا تھا کہ { جس شخص کی طرف منسوب کرتے ہیں، وہ سفر حضر میں میرے ساتھ رہا میری عدم موجودگی میں کبھی میرے گھر نہیں آیا } اس میں ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں جو صاحب کھڑے ہوئے انہی کے قبیلے میں ام مسطح رضی اللہ عنہا تھیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اسی خطبہ کے دن کے بعد رات کو میں ام مسطح کے ساتھ نکلی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ یہ پھسلیں اور انہوں نے اپنے بیٹے مسطح رضی اللہ عنہ کو کوسا، میں نے منع کیا پھر پھسلیں، پھر کوسا، میں نے پھر روکا۔ پھر الجھیں، پھر کوسا تو میں نے انہیں ڈانٹنا شروع کیا۔ اس میں ہے کہ اسی وقت سے مجھے بخار چڑھ آیا۔ اس میں ہے کہ میری والدہ کے گھر پہنچانے کیلئے میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام کر دیا تھا۔ میں جب وہاں پہنچی تو میرے والد اوپر کے گھر میں تھے۔ تلاوت قرآن میں مشغول تھے اور والدہ نیچے کے مکان میں تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میری والدہ نے دریافت فرمایا! آج کیسے آنا ہوا؟ تو میں نے تمام بپتا کہہ سنائی لیکن میں نے دیکھا کہ انہیں یہ بات نہ کوئی انوکھی بات معلوم ہوئی نہ اتنا صدمہ اور رنج ہوا جس کی توقع مجھے تھی۔
اس میں ہے کہ میں نے والدہ سے پوچھا کیا میرے والد صاحب کو بھی اس کا علم ہے؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی یہ بات پہنچی ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اب تو مجھے پھوٹ پھوٹ کر رونا آنے لگا یہاں تک کہ میری آواز اوپر میرے والد صاحب کے کان میں بھی پہنچی وہ جلدی سے نیچے آئے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میری والدہ نے کہا کہ انہیں اس تہمت کا علم ہو گیا ہے جو ان پر لگائی گئی ہے، یہ سن کر اور میری حالت دیکھ کر میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے اور مجھ سے کہنے لگے بیٹی میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ابھی اپنے گھر لوٹ جاؤ۔ چنانچہ میں واپس چلی گئی۔
یہاں میرے پیچھے گھر کی خادمہ سے بھی میری بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور لوگوں کی موجودگی میں دریافت فرمایا۔ جس پر اس نے جواب دیا کہ میں عائشہ میں کوئی برائی نہیں دیکھتی بجز اس کے کہ وہ آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، بے خبری سے سو جاتی ہیں۔ بسا اوقات آٹا بکریاں کھا جاتی ہیں۔ بلکہ اسے بعض لوگوں نے بہت ڈانٹا ڈپٹا بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ سچ بات جو ہو بتا دے اس پر بہت سختی کی لیکن اس نے کہا واللہ ایک سنار خالص سونے میں جس طرح کوئی عیب کسی طرح تپا تپا کر بھی بتا نہیں سکتا۔ اسی طرح میں صدیقہ رضی اللہ عنہا پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ جب اس شخص کو یہ اطلاع پہنچی جنہیں بدنام کیا جا رہا تھا تو اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے تو آج تک کسی عورت کا بازو کبھی کھولا ہی نہیں۔ بالآخر یہ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے (رضی اللہ عنہ)۔
یہاں میرے پیچھے گھر کی خادمہ سے بھی میری بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور لوگوں کی موجودگی میں دریافت فرمایا۔ جس پر اس نے جواب دیا کہ میں عائشہ میں کوئی برائی نہیں دیکھتی بجز اس کے کہ وہ آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، بے خبری سے سو جاتی ہیں۔ بسا اوقات آٹا بکریاں کھا جاتی ہیں۔ بلکہ اسے بعض لوگوں نے بہت ڈانٹا ڈپٹا بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ سچ بات جو ہو بتا دے اس پر بہت سختی کی لیکن اس نے کہا واللہ ایک سنار خالص سونے میں جس طرح کوئی عیب کسی طرح تپا تپا کر بھی بتا نہیں سکتا۔ اسی طرح میں صدیقہ رضی اللہ عنہا پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ جب اس شخص کو یہ اطلاع پہنچی جنہیں بدنام کیا جا رہا تھا تو اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے تو آج تک کسی عورت کا بازو کبھی کھولا ہی نہیں۔ بالآخر یہ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے (رضی اللہ عنہ)۔
اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس عصر کی نماز کے بعد تشریف لائے تھے۔ اس وقت میری ماں اور میرے باپ میرے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ انصاریہ عورت جو آئی تھیں وہ دروازے پر بیٹھی ہوئی تھیں اس میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نصیحت شروع کی اور مجھ سے حقیقت حال دریافت کی تو میں نے کہا ہائے کیسی بے شرمی کی بات ہے؟ اس عورت کا بھی تو خیال نہیں؟ اس میں ہے کہ میں نے بھی اللہ کی حمد و ثناء کے بعد جواب دیا تھا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس وقت ہر چند یعقوب علیہ السلام کا نام تلاش کیا لیکن واللہ وہ زبان پر نہ چڑھا، اسلئے میں نے ابو یوسف کہہ دیا۔ اس میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے اترنے کے بعد مجھے خوشخبری سنائی واللہ اس وقت میرا غم بھرا غصہ بہت ہی بڑھ گیا تھا۔ میں نے اپنے ماں باپ سے بھی کہا تھا کہ میں اس معاملے میں تمہاری بھی شکر گزار نہیں۔ تم سب نے ایک بات سنی لیکن نہ تم نے انکار کیا نہ تمہیں ذرا غیرت آئی۔ اس میں ہے کہ اس قصے کو زبان پر لانے والے حمنہ بنت حجش، مسطح، حسان بن ثبات اور عبداللہ بن ابی منافق تھے۔ یہ سب کا سرغنہ تھا اور یہی زیادہ تر لگاتا بجھاتا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4757]
اور حدیث میں ہے کہ { میرے عذر کی یہ آیتیں اترنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کو تہمت کی حد لگائی یعنی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہم کو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4474،قال الشيخ الألباني:حسن]
ایک روایت میں ہے کہ { جب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اوپر تہمت لگنے کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ چلا کہ اس کا علم آپ رضی اللہ عنہا کے والد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو چکا ہے تو آپ رضی اللہ عنہا بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ جب ذرا ہوش میں آئیں تو سارا جسم تپ رہا تھا اور زور کا بخار چڑھا ہوا تھا اور کانپ رہی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ نے اسی وقت لحاف اوڑھا دیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے پوچھا { یہ کیا حال ہے؟ } میں نے کہا جاڑے سے بخار چڑھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید اس خبر کو سن کر یہ حال ہو گیا ہوگا؟} جب آپ رضی اللہ عنہا کے عذر کی آیتیں اتریں اور آپ رضی اللہ عنہا نے انہیں سن کر فرمایا کہ ”یہ اللہ کے فضل سے ہے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل سے۔“ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کہتی ہو؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ہاں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3388]
ایک روایت میں ہے کہ { جب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اوپر تہمت لگنے کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ چلا کہ اس کا علم آپ رضی اللہ عنہا کے والد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو چکا ہے تو آپ رضی اللہ عنہا بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ جب ذرا ہوش میں آئیں تو سارا جسم تپ رہا تھا اور زور کا بخار چڑھا ہوا تھا اور کانپ رہی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ نے اسی وقت لحاف اوڑھا دیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے پوچھا { یہ کیا حال ہے؟ } میں نے کہا جاڑے سے بخار چڑھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید اس خبر کو سن کر یہ حال ہو گیا ہوگا؟} جب آپ رضی اللہ عنہا کے عذر کی آیتیں اتریں اور آپ رضی اللہ عنہا نے انہیں سن کر فرمایا کہ ”یہ اللہ کے فضل سے ہے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل سے۔“ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کہتی ہو؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ہاں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3388]
اب آیتوں کا مطلب سنئے جو لوگ جھوٹ بہتان گھڑی ہوئی بات لے آئے اور وہ ہیں بھی زیادہ اسے تم اے آل ابی بکر رضی اللہ عنہ اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ انجام کے لحاظ سے دین و دنیا میں وہ تمہارے لیے بھلا ہے۔ دنیا میں تمہاری صداقت ثابت ہوگی، آخرت میں بلند مراتب ملیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت قرآن کریم میں نازل ہوگی، جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا۔
یہی وجہ تھی کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اماں صاحبہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے آخری وقت آئے تو فرمانے لگے ”ام المؤمنین رضی اللہ عنہا آپ خوش ہو جائیے کہ آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ رہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محبت سے پیش آتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کی برأت آسمان سے نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4753]
ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہم اپنے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرنے لگیں تو ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میرا نکاح آسمان سے اترا“، اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری پاکیزگی کی شہادت قرآن میں آسمان سے اتری جب کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر بٹھا لائے تھے۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے پوچھا ”یہ تو بتاؤ جب تم اس اونٹ پر سوار ہوئی تھیں تو تم نے کیا کلمات کہے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ۱؎ [3-آل عمران:173] اس پر وہ بول اٹھیں کہ ”تم نے مومنوں کا کلمہ کہا تھا۔“
یہی وجہ تھی کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اماں صاحبہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے آخری وقت آئے تو فرمانے لگے ”ام المؤمنین رضی اللہ عنہا آپ خوش ہو جائیے کہ آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ رہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محبت سے پیش آتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کی برأت آسمان سے نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4753]
ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہم اپنے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرنے لگیں تو ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میرا نکاح آسمان سے اترا“، اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری پاکیزگی کی شہادت قرآن میں آسمان سے اتری جب کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر بٹھا لائے تھے۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے پوچھا ”یہ تو بتاؤ جب تم اس اونٹ پر سوار ہوئی تھیں تو تم نے کیا کلمات کہے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ۱؎ [3-آل عمران:173] اس پر وہ بول اٹھیں کہ ”تم نے مومنوں کا کلمہ کہا تھا۔“
پھر فرمایا ’ جس جس نے پاک دامن صدیقہ پر تہمت لگائی ہے ہر ایک کو بڑا عذاب ہوگا، اور جس نے اس کی ابتداء اٹھائی ہے، جو اسے ادھر ادھر پھیلاتا رہا ہے اس کیلئے سخت تر عذاب ہیں ‘۔
اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ملعون ہے، ٹھیک قول یہی ہے گو کسی کسی نے کہا کہ مراد اس سے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ ہیں لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ چونکہ یہ قول بھی ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں بیان کر دیا ورنہ اس کے بیان میں بھی چنداں نفع نہیں کیونکہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ بڑے بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ ان کی بہت سی فضیلتیں اور بزرگیاں احادیث میں موجود ہیں۔
یہی تھے جو کافر شاعروں کی ہجو کے شعروں کا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے تھے۔ انہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ { تم کفار کی مذمت بیان کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213]
سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں عزت کے ساتھ بٹھایا۔ حکم دیا کہ ان کیلئے گدی بچھا دو، جب وہ واپس چلے گئے تو میں نے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہا انہیں کیوں آنے دیتی ہیں؟ ان کے آنے سے کیا فائدہ؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں سے جو تہمت کا والی ہے اس کیلئے بڑا عذاب ہے ‘ تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”اندھا ہونے سے بڑا عذاب اور کیا ہوگا“ یہ نابینا ہوگئے تھے، تو فرمایا ”شاید یہی عذاب عظیم ہو۔“ پھر فرمایا ”تمہیں نہیں خبر؟ یہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کے ہجو والے اشعار کا جواب دینے پر مقرر تھے۔“
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی مدح میں شعر پڑھا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہا پاکدامن، بھولی، تمام اوچھے کاموں سے، غیبت اور برائی سے پرہیز کرنے والی ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”تم تو ایسے نہ تھے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4755]
اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ملعون ہے، ٹھیک قول یہی ہے گو کسی کسی نے کہا کہ مراد اس سے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ ہیں لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ چونکہ یہ قول بھی ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں بیان کر دیا ورنہ اس کے بیان میں بھی چنداں نفع نہیں کیونکہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ بڑے بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ ان کی بہت سی فضیلتیں اور بزرگیاں احادیث میں موجود ہیں۔
یہی تھے جو کافر شاعروں کی ہجو کے شعروں کا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے تھے۔ انہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ { تم کفار کی مذمت بیان کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3213]
سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں عزت کے ساتھ بٹھایا۔ حکم دیا کہ ان کیلئے گدی بچھا دو، جب وہ واپس چلے گئے تو میں نے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہا انہیں کیوں آنے دیتی ہیں؟ ان کے آنے سے کیا فائدہ؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ’ ان میں سے جو تہمت کا والی ہے اس کیلئے بڑا عذاب ہے ‘ تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”اندھا ہونے سے بڑا عذاب اور کیا ہوگا“ یہ نابینا ہوگئے تھے، تو فرمایا ”شاید یہی عذاب عظیم ہو۔“ پھر فرمایا ”تمہیں نہیں خبر؟ یہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کے ہجو والے اشعار کا جواب دینے پر مقرر تھے۔“
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی مدح میں شعر پڑھا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہا پاکدامن، بھولی، تمام اوچھے کاموں سے، غیبت اور برائی سے پرہیز کرنے والی ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”تم تو ایسے نہ تھے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4755]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”مجھے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے شعروں سے زیادہ اچھے اشعار نظر نہیں آتے اور میں جب کبھی ان شعروں کو پڑھتی ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ جنتی ہیں۔ وہ ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب کو خطاب کرکے اپنے شعروں میں فرماتے ہیں تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ہے، جس کا میں جواب دیتا ہوں اور اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے پاؤں گا۔ میرے باپ دادا اور میری عزت آبرو سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہے، میں ان سب کو فنا کر کے بھی تمہاری بدزبانیوں کے مقابلے سے ہٹ نہیں سکتا۔ تجھ جیسا شخص جو میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کف پا کی ہمسری بھی نہیں کر سکتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرے؟ یاد رکھو کہ تم جیسے بد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے نیک پر فدا ہیں۔ جب تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ہے تو اب میری زبان سے جو تیز دھار اور بےعیب تلوار سے بھی تیز ہے۔ بچ کر تم کہاں جاؤ گے؟
ام المؤمنین سے پوچھا گیا کہ کیا یہ لغو کلام نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ہرگز نہیں لغو کلام تو شاعروں کی وہ بکواس ہے جو عورتوں وغیرہ کے بارے میں ہوتی ہے۔“
آپ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کیا قرآن میں نہیں کہ اس تہمت میں بڑا حصہ لینے والے کیلئے برا عذاب ہے؟ فرمایا ”ہاں لیکن کیا جو عذاب انہیں ہوا بڑا نہیں؟ آنکھیں ان کی جاتی رہیں، تلوار ان پر اٹھی، وہ تو کہئے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ رک گئے ورنہ عجب نہیں کہ ان کی نسبت یہ بات سن کر انہیں قتل ہی کر ڈالتے۔“
ام المؤمنین سے پوچھا گیا کہ کیا یہ لغو کلام نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ہرگز نہیں لغو کلام تو شاعروں کی وہ بکواس ہے جو عورتوں وغیرہ کے بارے میں ہوتی ہے۔“
آپ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کیا قرآن میں نہیں کہ اس تہمت میں بڑا حصہ لینے والے کیلئے برا عذاب ہے؟ فرمایا ”ہاں لیکن کیا جو عذاب انہیں ہوا بڑا نہیں؟ آنکھیں ان کی جاتی رہیں، تلوار ان پر اٹھی، وہ تو کہئے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ رک گئے ورنہ عجب نہیں کہ ان کی نسبت یہ بات سن کر انہیں قتل ہی کر ڈالتے۔“