ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 10

وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ وَ اَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾
اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، کمال حکمت والا ہے ( تو جھوٹوں کو دنیا ہی میں سزا مل جاتی)۔ En
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں۔ مگر وہ صاحب کرم ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا حکیم ہے
En
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا (تو تم پر مشقت اترتی) اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے واﻻ باحکمت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10){ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ …:} اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی… اس اگر کا جواب محذوف ہے، یعنی تو پھر تمھارا وہ حال ہوتا جو بیان میں آنا مشکل ہے اس لیے یہ جواب محذوف کر دیا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لعان کا حکم نازل نہ کرتا تو خاوند اگر بیوی کو زنا کی حالت میں دیکھتا تو اس کا معاملہ دوسرے لوگوں کی طرح نہیں تھا، جن کے متعلق حکم ہے کہ اگر وہ کسی کو زنا کرتے ہوئے دیکھیں اور وہ چار گواہ نہ لا سکتے ہوں تو خاموش رہیں، کیونکہ اس میں ان کا ذاتی دخل نہیں اور وہ اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں، بخلاف خاوند کے کہ وہ اگر خاموش رہے تو ساری عمر دل کی جلن کے ساتھ خاموش رہے اور دوسروں کی اولاد کو اپنی اولاد تسلیم کرے، طلاق دے تو اس کا نقصان ہے اور اگر الزام لگائے تو چار گواہ لائے، اگر نہ لا سکے، جو بظاہر لانے ممکن نہیں تو بہتان کی حد جھیلے۔ دوسری طرف اگر محض خاوند کے الزام یا قسمیں کھانے سے بیوی کے زنا کا ثبوت ہو جاتا تو عورت کے لیے سخت مصیبت تھی، کیونکہ ممکن ہے وہ سچی ہو۔ اسی طرح اگر عورت کو قسمیں کھانے کی وجہ سے بری سمجھ لیا جاتا تو مرد پر حد قذف واجب ہو جاتی، حالانکہ ممکن ہے وہی سچا ہو۔ اس لیے لعان کا حکم اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور اس کی رحمت ہے اور اس نے یہ حکم اپنے { تَوَّابٌ } اور { حَكِيْمٌ } ہونے کی وجہ سے دیا ہے، تاکہ میاں بیوی میں سے جو فریق سچا ہو بلاسبب سزا سے بچ جائے اور جو جھوٹا ہو دنیا میں اس پر پردہ رہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی توّابیت کی صفت کی بدولت توبہ کر لے اور اسے توبہ قبول ہونے کی سعادت حاصل ہو جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10-1تو تم میں سے جھوٹے پر فوراً اللہ کا عذاب نازل ہوجاتا۔ لیکن چونکہ وہ تو رب ہے اور حکیم بھی، اس لئے ایک تو اس نے ستر پوشی کردی، تاکہ اس کے بعد اگر کوئی سچے دل سے توبہ کرلے تو وہ اسے اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے گا اور حکیم بھی ہے کہ اس نے لعان جیسا مسئلہ بیان کر کے غیور مردوں کے لئے ایک نہایت معقول اور آسان تجویز مہیا کردی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ اور اگر تم پر (اے مسلمانو)! اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو ایسا معاملہ تم پر سخت پیچیدہ بن جاتا) اور اللہ تعالیٰ بڑا التفات فرمانے والا [11] اور حکیم ہے (جس نے معافی کا یہ قاعدہ مقرر کر دیا۔
لعان بہت سے پیچیدہ مسائل کا حل ہے:۔
یعنی اگر اللہ تعالیٰ لعان کا حکم نازل نہ فرماتے تو تم پر کئی قسم کی مشکلات پڑ سکتی تھیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص خود اپنی بیوی کو بدکاری میں مبتلا دیکھ لے تو کیا کرے؟ گواہ ڈھونڈنے جائے تو گواہوں کے آنے تک معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور اگر گواہوں کے بغیر بات کرے تو اس پر حد قذف پڑتی ہے۔ اگر خاموش ہو رہے تو خاموشی دوسروں کے حق میں تو اختیار کی جا سکتی ہے مگر اپنی بیوی کے حق میں یہ کڑوا گھونٹ کیسے پی سکتا ہے؟ اگر بیوی کو غصہ میں آکر قتل کر دے تو خود قصاص میں مارا جاتا ہے۔ اور اگر طلاق دے دے تو اس میں اس کا اپنا نقصان بھی ہے اور بیوی کو یا اس کے آشنا کو کوئی بدنی یا اخلاقی سزا بھی نہیں ملتی۔ بلکہ یہ طلاق شائد ان دونوں زانی اور زانیہ کے حق میں خوشی کا باعث ثابت ہو۔ اور اگر بالفرض محال کڑوا گھونٹ پی کر صبر کر ہی جاتا ہے تو ایک ناجائز بچے کی پرورش کا بار اس کے گلے میں آپڑتا ہے۔ جو بعد اس کا وارث بھی ہو گا۔ یہ اور ایسی ہی اور کئی مشکلات تھیں جن کا تمہارے پاس کوئی حل نہ تھا۔ اللہ نے لعان کا حکم نازل فرما کر ان تمام پیچیدگیوں کو حل کر دیا۔ پھر لعان کے اس قانون میں فریقین کو یکساں سطح پر رکھا گیا ہے۔ اس لئے یہ حقیقت ہے کہ قسمیں کھانے کے باوجود ان دونوں میں سے ایک نہ ایک ضرور سچا اور دوسرا جھوٹا ہوتا ہے۔ اور یہی باتیں اللہ تعالیٰ کے حکیم ہونے کی زبردست دلیل ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔