تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{فَيَا عَجَبَا حَتّٰي كُلَيْبٌ تَسُبُّنِيْ
كَأَنَّ أَبَاهَا نَهْشَلٌ أَوْ مُجَاشِعُ }
({أَيْ يَسُبُّنِيَ النَّاسُ حَتّٰي كُلَيْبٌ}) ”یعنی تعجب ہے کہ مجھے سبھی لوگ گالی دیتے ہیں، حتیٰ کہ بنو کلیب بھی گالی دیتے ہیں، جیسے ان کا باپ نہشل یا مجاشع ہے، یعنی کسی نامور باپ کی اولاد نہ ہونے کے باوجود کلیب جیسے قبیلے کے بے وقعت لوگ بھی میرے جیسے اونچے نسب والے شخص کو گالی دیتے ہیں۔“
➋ { قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ: ”رَجَعَ يَرْجِعُ“} لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، اس کا معنی لوٹنا بھی ہے اور لوٹانا بھی، یہاں مراد لوٹانا ہے۔ یعنی کافر و مشرک اپنے کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے اور رسولوں کی بتائی ہوئی وہ تمام حقیقتیں آنکھوں کے سامنے آتی ہیں، جنھیں وہ اب تک جھٹلاتے رہے تھے، تو وہ مہلت دینے اور دنیا کی طرف واپس لوٹانے کی درخواست کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ منافقون (۱۰، ۱۱) اور ابراہیم (۴۴) یہ درخواست وہ موت کے وقت بھی کریں گے، قیامت کے دن بھی اور آگ کو دیکھ کر بھی، جیسا کہ دوسری آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۳)، سجدہ (۱۲)، انعام (۲۷)، شوریٰ (۴۴)، مؤمن (۱۱)، فاطر (۳۷) اور سبا (۵۱ تا ۵۳)۔
➌ { ” رَبِّ “} (اے میرے رب!) میں مخاطب واحد ہے، جبکہ {” ارْجِعُوْنِ “} (مجھے واپس بھیجو) میں مخاطب جمع ہے۔ مفسرین نے اس کی تین توجیہیں کی ہیں، ایک یہ کہ کافر نہایت عجز کے ساتھ درخواست کرتے ہوئے تعظیم کے لیے اللہ تعالیٰ کو جمع کے صیغے سے مخاطب کرے گا، جیسا کہ تمام زبانوں میں یہ انداز معروف ہے، عربی میں بھی ایسے ہی ہے۔ جیسا کہ فرشتوں نے سارہ علیھا السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: «اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ» [ھود: ۷۳] ”کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو!“ ابن عاشور لکھتے ہیں کہ مخاطب مذکر ہو یا مؤنث، تعظیم کے وقت اس کے لیے جمع مذکر کی ضمیر {”كُمْ“} ہی استعمال ہوتی ہے۔ کلام عرب میں واحد مخاطب کے لیے جمع کی ضمیر کی مثال حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
{أَلَا فَارْحَمُوْنِيْ يَا إِلٰهَ مُحَمَّدٍ
فَإِنْ لَمْ أَكُنْ أَهْلًا فَأَنْتَ لَهُ أَهْلٌ}
اس شعر میں شاعر نے {”فَارْحَمْنِيْ“} کے بجائے {”فَارْحَمُوْنِيْ“} کہا ہے اور حماسہ کے شاعر جعفر بن عُلبہ حارثی کا شعر ہے، جس میں وہ اپنی محبوبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:
{فَلاَ تَحْسَبِيْ أَنِّيْ تَخَشَّعْتُ بَعْدَكُمْ
لِشَيْءٍ وَ لَا أَنِّيْ مِنَ الْمَوْتِ أَفْرَقُ}
”پس تو یہ گمان نہ کر کہ میں تمھارے بعد کسی چیز کی وجہ سے عاجز ہو گیا ہوں اور نہ یہ کہ میں موت سے ڈرتا ہوں۔“
اس شعر میں شاعر نے {”بَعْدَكِ“} کے بجائے {”بَعْدَكُمْ“} کہا ہے۔ یہ توجیہ سب سے اچھی ہے۔ دوسری توجیہ طبری رحمہ اللہ نے فرمائی ہے کہ کافر کلام کی ابتدا {” رَبِّ “} سے کرے گا، جو استغاثہ کے لیے ہے، مگر وہ واپس بھیجنے کی درخواست ان فرشتوں سے کرے گا جو اس کی روح نکالنے کے لیے آئے ہوں گے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کچھ لوگ کسی کو پکڑ لیں اور وہ کہے ”ہائے اللہ! مجھے چھوڑ دو۔“ یہ توجیہ بھی بہت اچھی ہے۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ کافر اللہ تعالیٰ سے بار بار درخواست کرے گا: {”ارْجِعْنِيْ، ارْجِعْنِيْ، ارْجِعْنِيْ“} تو اس تکرار کے بیان کے لیے جمع کا صیغہ {” ارْجِعُوْنِ “} استعمال کیا گیا ہے۔ اس توجیہ کی معتبر نظیر مجھے نہیں ملی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ بھی مروی ہے کہ ان کی تمنا پر انہیں اللہ ڈانٹ دے گا اور فرمائے گا کہ یہ بھی تمہاری بات ہے عمل اب بھی نہیں کرو گے۔ حضرت علاء بن زیاد رحمتہ اللہ علیہ کیا ہی عمدہ بات فرماتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، تم یوں سمجھ لو کہ میری موت آ چکی تھی، لیکن میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے چند روز کی مہلت دے دی جائے تاکہ میں نیکیاں کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کافر کی اس امید کو یاد رکھو اور خود زندگی کی گھڑیاں اطاعت اللہ میں بسر کرو۔
من ورائہم کہ معنی کئے گے ہیں کہ ان کے آگے برزخ ایک حجاب اور آڑ ہے دنیا اور آخرت کے درمیان وہ نہ تو صحیح طور دنیا میں ہیں کہ کھائیں پیئں نہ آخرت میں ہیں کہ اعمال کے بدلے میں آ جائیں بلکہ بیچ ہی بیچ میں ہیں پس اس آیت میں ظالموں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ انہیں عالم برزخ میں بھی بڑے بھاری عذاب ہوں گے جیسے فرمان ہے «مِنْ وَّرَاىِٕهِمْ جَهَنَّمُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـــــًٔا وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاءَ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ» [45- الجاثية: 10] ان کے آگے جہنم ہے اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ» [14- ابراھیم: 17] ان کے آگے سخت عذاب ہے برزخ کا۔ قبر کا یہ عذاب ان پر قیامت کے قائم ہونے تک برابر جاری رہے گا۔ جیسے حدیث میں ہے کہ وہ اس میں برابر عذاب میں رہے گا یعنی زمین میں۔[سنن ترمذي:1071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبرُ تعالى عن حال مَنْ حَضَرَهُ الموت من المفرِّطين الظَّالمين: أنَّه يندمُ في تلك الحال إذا رأى مآله، وشاهَدَ قُبْحَ أعماله، فيطلبُ الرجعة إلى الدنيا، لا للتمتُّع بلذَّاتها واقتطاف شَهَواتها، وإنَّما ذلك يقول: {لعلِّي أعملُ صالحاً فيما تركتُ}: من العمل وفرَّطْتُ في جَنْب الله. {كلاَّ}؛ أي: لا رجعةَ له ولا إمهالَ، قد قضى اللهُ أنَّهم إليها لا يُرْجَعون، {إنَّها}؛ أي: مقالتُه التي تمنَّى فيها الرجوعَ إلى الدُّنيا {كلمةٌ هو قائلُها}؛ أي: مجرد قول باللسانِ، لا يفيدُ صاحبَه إلاَّ الحسرةَ والندم، وهو أيضاً غير صادقٍ في ذلك؛ فإنَّه لَوْ رُدَّ لَعادَ لما نُهِيَ عنه. {ومن ورائِهِم برزخٌ إلى يوم يُبْعَثونَ}؛ أي: من أمامهم وبين أيديهم برزخٌ، وهو الحاجز بين الشيئين؛ فهو هنا الحاجزُ بين الدُّنيا والآخرة، وفي هذا البرزخ يتنعَّم المطيعونَ، ويعذَّبُ العاصونَ من موتِهِم إلى يوم يبعثونَ؛ أي: فَلْيَعُدُّوا له عُدَّتَهُ، وليأخذوا له أُهْبَتَهُ.