حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَہُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِ ﴿ۙ۹۹﴾
یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب! مجھے واپس بھیجو۔
En
(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا کہ اے پروردگار! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے
En
یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 99) ➊ { حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ:} یہاں ایک سوال ہے کہ لفظ {” حَتّٰۤى “} (یہاں تک) کا تعلق کس سے ہے؟ مفسرین نے اس کی کئی توجیہیں فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کفار کی برائیوں کا جواب بہترین طریقے سے دیتے رہیں اور جو باتیں یہ بناتے ہیں انھیں ہمارے حوالے کرتے رہیں، یہاں تک کہ…الخ۔ دوسری توجیہ اس سے زیادہ واضح ہے کہ اس کا تعلق محذوف جملے سے ہے جو {” حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ “} سے خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔ {”أَيْ لَا يَزَالُوْنَ كَذٰلِكَ حَتّٰي إِذَا جَاءَ …“} یعنی وہ اسی طرح اپنے کفر و شرک پر قائم رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے…۔ اس طرح جملے کے حذف کی مثال فرزدق کا شعر ہے:
{فَيَا عَجَبَا حَتّٰي كُلَيْبٌ تَسُبُّنِيْ
كَأَنَّ أَبَاهَا نَهْشَلٌ أَوْ مُجَاشِعُ }
({أَيْ يَسُبُّنِيَ النَّاسُ حَتّٰي كُلَيْبٌ}) ”یعنی تعجب ہے کہ مجھے سبھی لوگ گالی دیتے ہیں، حتیٰ کہ بنو کلیب بھی گالی دیتے ہیں، جیسے ان کا باپ نہشل یا مجاشع ہے، یعنی کسی نامور باپ کی اولاد نہ ہونے کے باوجود کلیب جیسے قبیلے کے بے وقعت لوگ بھی میرے جیسے اونچے نسب والے شخص کو گالی دیتے ہیں۔“
➋ { قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ: ”رَجَعَ يَرْجِعُ“} لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، اس کا معنی لوٹنا بھی ہے اور لوٹانا بھی، یہاں مراد لوٹانا ہے۔ یعنی کافر و مشرک اپنے کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے اور رسولوں کی بتائی ہوئی وہ تمام حقیقتیں آنکھوں کے سامنے آتی ہیں، جنھیں وہ اب تک جھٹلاتے رہے تھے، تو وہ مہلت دینے اور دنیا کی طرف واپس لوٹانے کی درخواست کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ منافقون (۱۰، ۱۱) اور ابراہیم (۴۴) یہ درخواست وہ موت کے وقت بھی کریں گے، قیامت کے دن بھی اور آگ کو دیکھ کر بھی، جیسا کہ دوسری آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۳)، سجدہ (۱۲)، انعام (۲۷)، شوریٰ (۴۴)، مؤمن (۱۱)، فاطر (۳۷) اور سبا (۵۱ تا ۵۳)۔
➌ { ” رَبِّ “} (اے میرے رب!) میں مخاطب واحد ہے، جبکہ {” ارْجِعُوْنِ “} (مجھے واپس بھیجو) میں مخاطب جمع ہے۔ مفسرین نے اس کی تین توجیہیں کی ہیں، ایک یہ کہ کافر نہایت عجز کے ساتھ درخواست کرتے ہوئے تعظیم کے لیے اللہ تعالیٰ کو جمع کے صیغے سے مخاطب کرے گا، جیسا کہ تمام زبانوں میں یہ انداز معروف ہے، عربی میں بھی ایسے ہی ہے۔ جیسا کہ فرشتوں نے سارہ علیھا السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: «اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ» [ھود: ۷۳] ”کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو!“ ابن عاشور لکھتے ہیں کہ مخاطب مذکر ہو یا مؤنث، تعظیم کے وقت اس کے لیے جمع مذکر کی ضمیر {”كُمْ“} ہی استعمال ہوتی ہے۔ کلام عرب میں واحد مخاطب کے لیے جمع کی ضمیر کی مثال حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
{أَلَا فَارْحَمُوْنِيْ يَا إِلٰهَ مُحَمَّدٍ
فَإِنْ لَمْ أَكُنْ أَهْلًا فَأَنْتَ لَهُ أَهْلٌ}
اس شعر میں شاعر نے {”فَارْحَمْنِيْ“} کے بجائے {”فَارْحَمُوْنِيْ“} کہا ہے اور حماسہ کے شاعر جعفر بن عُلبہ حارثی کا شعر ہے، جس میں وہ اپنی محبوبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:
{فَلاَ تَحْسَبِيْ أَنِّيْ تَخَشَّعْتُ بَعْدَكُمْ
لِشَيْءٍ وَ لَا أَنِّيْ مِنَ الْمَوْتِ أَفْرَقُ}
”پس تو یہ گمان نہ کر کہ میں تمھارے بعد کسی چیز کی وجہ سے عاجز ہو گیا ہوں اور نہ یہ کہ میں موت سے ڈرتا ہوں۔“
اس شعر میں شاعر نے {”بَعْدَكِ“} کے بجائے {”بَعْدَكُمْ“} کہا ہے۔ یہ توجیہ سب سے اچھی ہے۔ دوسری توجیہ طبری رحمہ اللہ نے فرمائی ہے کہ کافر کلام کی ابتدا {” رَبِّ “} سے کرے گا، جو استغاثہ کے لیے ہے، مگر وہ واپس بھیجنے کی درخواست ان فرشتوں سے کرے گا جو اس کی روح نکالنے کے لیے آئے ہوں گے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کچھ لوگ کسی کو پکڑ لیں اور وہ کہے ”ہائے اللہ! مجھے چھوڑ دو۔“ یہ توجیہ بھی بہت اچھی ہے۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ کافر اللہ تعالیٰ سے بار بار درخواست کرے گا: {”ارْجِعْنِيْ، ارْجِعْنِيْ، ارْجِعْنِيْ“} تو اس تکرار کے بیان کے لیے جمع کا صیغہ {” ارْجِعُوْنِ “} استعمال کیا گیا ہے۔ اس توجیہ کی معتبر نظیر مجھے نہیں ملی۔
{فَيَا عَجَبَا حَتّٰي كُلَيْبٌ تَسُبُّنِيْ
كَأَنَّ أَبَاهَا نَهْشَلٌ أَوْ مُجَاشِعُ }
({أَيْ يَسُبُّنِيَ النَّاسُ حَتّٰي كُلَيْبٌ}) ”یعنی تعجب ہے کہ مجھے سبھی لوگ گالی دیتے ہیں، حتیٰ کہ بنو کلیب بھی گالی دیتے ہیں، جیسے ان کا باپ نہشل یا مجاشع ہے، یعنی کسی نامور باپ کی اولاد نہ ہونے کے باوجود کلیب جیسے قبیلے کے بے وقعت لوگ بھی میرے جیسے اونچے نسب والے شخص کو گالی دیتے ہیں۔“
➋ { قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ: ”رَجَعَ يَرْجِعُ“} لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، اس کا معنی لوٹنا بھی ہے اور لوٹانا بھی، یہاں مراد لوٹانا ہے۔ یعنی کافر و مشرک اپنے کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے اور رسولوں کی بتائی ہوئی وہ تمام حقیقتیں آنکھوں کے سامنے آتی ہیں، جنھیں وہ اب تک جھٹلاتے رہے تھے، تو وہ مہلت دینے اور دنیا کی طرف واپس لوٹانے کی درخواست کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ منافقون (۱۰، ۱۱) اور ابراہیم (۴۴) یہ درخواست وہ موت کے وقت بھی کریں گے، قیامت کے دن بھی اور آگ کو دیکھ کر بھی، جیسا کہ دوسری آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۳)، سجدہ (۱۲)، انعام (۲۷)، شوریٰ (۴۴)، مؤمن (۱۱)، فاطر (۳۷) اور سبا (۵۱ تا ۵۳)۔
➌ { ” رَبِّ “} (اے میرے رب!) میں مخاطب واحد ہے، جبکہ {” ارْجِعُوْنِ “} (مجھے واپس بھیجو) میں مخاطب جمع ہے۔ مفسرین نے اس کی تین توجیہیں کی ہیں، ایک یہ کہ کافر نہایت عجز کے ساتھ درخواست کرتے ہوئے تعظیم کے لیے اللہ تعالیٰ کو جمع کے صیغے سے مخاطب کرے گا، جیسا کہ تمام زبانوں میں یہ انداز معروف ہے، عربی میں بھی ایسے ہی ہے۔ جیسا کہ فرشتوں نے سارہ علیھا السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: «اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ» [ھود: ۷۳] ”کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو!“ ابن عاشور لکھتے ہیں کہ مخاطب مذکر ہو یا مؤنث، تعظیم کے وقت اس کے لیے جمع مذکر کی ضمیر {”كُمْ“} ہی استعمال ہوتی ہے۔ کلام عرب میں واحد مخاطب کے لیے جمع کی ضمیر کی مثال حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
{أَلَا فَارْحَمُوْنِيْ يَا إِلٰهَ مُحَمَّدٍ
فَإِنْ لَمْ أَكُنْ أَهْلًا فَأَنْتَ لَهُ أَهْلٌ}
اس شعر میں شاعر نے {”فَارْحَمْنِيْ“} کے بجائے {”فَارْحَمُوْنِيْ“} کہا ہے اور حماسہ کے شاعر جعفر بن عُلبہ حارثی کا شعر ہے، جس میں وہ اپنی محبوبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:
{فَلاَ تَحْسَبِيْ أَنِّيْ تَخَشَّعْتُ بَعْدَكُمْ
لِشَيْءٍ وَ لَا أَنِّيْ مِنَ الْمَوْتِ أَفْرَقُ}
”پس تو یہ گمان نہ کر کہ میں تمھارے بعد کسی چیز کی وجہ سے عاجز ہو گیا ہوں اور نہ یہ کہ میں موت سے ڈرتا ہوں۔“
اس شعر میں شاعر نے {”بَعْدَكِ“} کے بجائے {”بَعْدَكُمْ“} کہا ہے۔ یہ توجیہ سب سے اچھی ہے۔ دوسری توجیہ طبری رحمہ اللہ نے فرمائی ہے کہ کافر کلام کی ابتدا {” رَبِّ “} سے کرے گا، جو استغاثہ کے لیے ہے، مگر وہ واپس بھیجنے کی درخواست ان فرشتوں سے کرے گا جو اس کی روح نکالنے کے لیے آئے ہوں گے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کچھ لوگ کسی کو پکڑ لیں اور وہ کہے ”ہائے اللہ! مجھے چھوڑ دو۔“ یہ توجیہ بھی بہت اچھی ہے۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ کافر اللہ تعالیٰ سے بار بار درخواست کرے گا: {”ارْجِعْنِيْ، ارْجِعْنِيْ، ارْجِعْنِيْ“} تو اس تکرار کے بیان کے لیے جمع کا صیغہ {” ارْجِعُوْنِ “} استعمال کیا گیا ہے۔ اس توجیہ کی معتبر نظیر مجھے نہیں ملی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
99۔ (یہ لوگ اپنی کارستانیوں میں لگے رہیں گے) جہاں تک کہ ان میں سے کسی کو جب موت آئے گی تو کہے گا: پروردگار! مجھے دنیا میں [95] واپس بھیج دے
[95] ﴿رَبِّ ارْجِعُوْنَ﴾ میں اپنے پروردگار سے ندا کے بعد جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ ﴿رَبِّ ارْجِعِنِيْ﴾ نہیں استعمال کیا گیا۔ جس کا غالباً ترجمہ و مطلب یوں بنتا ہے کہ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ یہ فرشتے جو میری جان نکالنے آئے ہیں یہ مجھے دنیا میں واپس لوٹا دیں۔ اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بے شمار مقامات پر فرشتوں کے عمل کو اپنا ہی عمل قرار دیتے ہوئے اس کی نسبت اپنی طرف بھی کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ترجمہ بھی درست ہے کہ اے میرے پروردگار! مجھے دنیا میں واپس بھیج دے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعد از مرگ ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کفار اور بدترین گناہگار سخت نادم ہوتے ہیں اور حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کرتے ہیں کہ کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں۔ تاکہ ہم نیک اعمال کر لیں۔ لیکن اس وقت وہ امید فضول، یہ آرزو لا حاصل ہے چنانچہ سورۃ المنافقون میں فرمایا جو ہم نے دیا ہے ہماری راہ میں دیتے رہو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے اس وقت وہ کہے کہ اے اللہ ذرا سی مہلت دیدے تو میں صدقہ خیرات کر لوں اور نیک بندہ بن جاؤں لیکن اجل آ جانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ مثلا «وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ» [14- ابراهيم: 44] اور آیت «يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَآ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [7- الاعراف: 53] اور آیت «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [32- السجدة: 12] تک اور آیت «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [6-الأنعام: 27، 28] تک اور آیت «وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ يَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِيْلٍ» [42- الشورى: 44] تک اور آیت «قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ» [40- غافر: 11] اور اس کے بعد کی آیت «وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيْرُ فَذُوْقُوْا فَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ» [35- فاطر: 37]، وغیرہ۔
ان آیتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایسے بدکار لوگ موت کو دیکھ کر قیامت کے دن اللہ کے سامنے کی پیشی کے وقت جہنم کے سامنے کھڑے ہو کر دنیا میں واپس آنے کی تمنا کریں گے اور نیک اعمال کرنے کا وعدہ کریں گے۔ لیکن ان وقتوں میں ان کی طلب پوری نہ ہو گی۔ یہ تو وہ کلمہ ہے جو بہ مجبوری ایسے آڑے وقتوں میں ان کی زبان سے نکل ہی جاتا ہے اور یہ بھی کہ یہ کہتے ہیں مگر کرنے کے نہیں۔ اگر دنیا میں واپس لوٹائے بھی جائیں تو عمل صالح کر کے نہیں دینے کے بلکہ ویسے ہی رہیں گے جسے پہلے رہے تھے یہ تو جھوٹے اور لپاڑئیے ہیں کتنا مبارک وہ شخص ہے جو اس زندگی میں نیک عمل کر لے اور کیسے بدنصیب یہ لوگ ہیں کہ آج نہ انہیں مال و اولاد کی تمنا ہے۔ نہ دنیا اور زینت دنیا کی خواہش ہے صرف یہ چاہتے ہیں کہ دو روز کی زندگی اور ہو جائے تو کچھ نیک اعمال کر لیں لیکن تمنا بے کار، آرزو بےسود، خواہش بے جا۔
یہ بھی مروی ہے کہ ان کی تمنا پر انہیں اللہ ڈانٹ دے گا اور فرمائے گا کہ یہ بھی تمہاری بات ہے عمل اب بھی نہیں کرو گے۔ حضرت علاء بن زیاد رحمتہ اللہ علیہ کیا ہی عمدہ بات فرماتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، تم یوں سمجھ لو کہ میری موت آ چکی تھی، لیکن میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے چند روز کی مہلت دے دی جائے تاکہ میں نیکیاں کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کافر کی اس امید کو یاد رکھو اور خود زندگی کی گھڑیاں اطاعت اللہ میں بسر کرو۔
یہ بھی مروی ہے کہ ان کی تمنا پر انہیں اللہ ڈانٹ دے گا اور فرمائے گا کہ یہ بھی تمہاری بات ہے عمل اب بھی نہیں کرو گے۔ حضرت علاء بن زیاد رحمتہ اللہ علیہ کیا ہی عمدہ بات فرماتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، تم یوں سمجھ لو کہ میری موت آ چکی تھی، لیکن میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے چند روز کی مہلت دے دی جائے تاکہ میں نیکیاں کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کافر کی اس امید کو یاد رکھو اور خود زندگی کی گھڑیاں اطاعت اللہ میں بسر کرو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب کافر اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اپنا جہنم کا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے تو کہتا ہے میرے رب مجھے لوٹا دے میں توبہ کر لوں گا اور نیک اعمال کرتا رہوں گا جواب ملتا ہے کہ جتنی عمر تجھے دی گئی تھی تو ختم کر چکا پھر اس کی قبر اس پر سمٹ جاتی ہے اور تنگ ہو جاتی ہے اور سانپ بچھو چمٹ جاتے ہیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں گناہگاروں پر ان کی قبریں بڑی مصیبت کی جگہیں ہوتی ہیں ان کی قبروں میں انہیں کالے ناگ ڈستے رہتے ہیں جن میں سے ایک بہت بڑا اس کے سرہانے ہوتا ہے ایک اتنا ہی بڑا پاؤں کی طرف ہوتا ہے وہ سر کی طرف سے ڈسنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے اور یہ پیروں کی طرف سے کاٹنا اور اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ بیچ کی جگہ آ کر دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں پس یہ ہے وہ برزخ جہاں یہ قیامت تک رہیں گے۔
من ورائہم کہ معنی کئے گے ہیں کہ ان کے آگے برزخ ایک حجاب اور آڑ ہے دنیا اور آخرت کے درمیان وہ نہ تو صحیح طور دنیا میں ہیں کہ کھائیں پیئں نہ آخرت میں ہیں کہ اعمال کے بدلے میں آ جائیں بلکہ بیچ ہی بیچ میں ہیں پس اس آیت میں ظالموں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ انہیں عالم برزخ میں بھی بڑے بھاری عذاب ہوں گے جیسے فرمان ہے «مِنْ وَّرَاىِٕهِمْ جَهَنَّمُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـــــًٔا وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاءَ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ» [45- الجاثية: 10] ان کے آگے جہنم ہے اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ» [14- ابراھیم: 17] ان کے آگے سخت عذاب ہے برزخ کا۔ قبر کا یہ عذاب ان پر قیامت کے قائم ہونے تک برابر جاری رہے گا۔ جیسے حدیث میں ہے کہ وہ اس میں برابر عذاب میں رہے گا یعنی زمین میں۔[سنن ترمذي:1071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
من ورائہم کہ معنی کئے گے ہیں کہ ان کے آگے برزخ ایک حجاب اور آڑ ہے دنیا اور آخرت کے درمیان وہ نہ تو صحیح طور دنیا میں ہیں کہ کھائیں پیئں نہ آخرت میں ہیں کہ اعمال کے بدلے میں آ جائیں بلکہ بیچ ہی بیچ میں ہیں پس اس آیت میں ظالموں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ انہیں عالم برزخ میں بھی بڑے بھاری عذاب ہوں گے جیسے فرمان ہے «مِنْ وَّرَاىِٕهِمْ جَهَنَّمُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـــــًٔا وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاءَ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ» [45- الجاثية: 10] ان کے آگے جہنم ہے اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ» [14- ابراھیم: 17] ان کے آگے سخت عذاب ہے برزخ کا۔ قبر کا یہ عذاب ان پر قیامت کے قائم ہونے تک برابر جاری رہے گا۔ جیسے حدیث میں ہے کہ وہ اس میں برابر عذاب میں رہے گا یعنی زمین میں۔[سنن ترمذي:1071،قال الشيخ الألباني:صحیح]