اس آیت کی تفسیر آیت 86 میں تا آیت 88 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
87-1یعنی جب تمہیں تسلیم ہے کہ زمین کا اور اس میں موجود تمام اشیا کا خالق بھی ایک اللہ ہے آسمان اور عرش عظیم کا مالک بھی وہی ہے، تو پھر تمہیں یہ تسلیم کرنے میں تامل کیوں ہے کہ عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک اللہ ہے، پھر تم اس کی واحدانیت کو تسلیم کر کے اس کے عذاب سے بچنے کا اہتمام کیوں نہیں کرتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
87۔ وہ فوراً کہہ دیں گے کہ یہ (سب کچھ) اللہ ہی کا ہے۔ آپ کہئے پھر تم اللہ سے ڈرتے کیوں نہیں؟[84]
[84] پہلی آیت میں صرف زمین اور اس میں موجودات کی ملکیت کے متعلق سوال تھا۔ اس آیت میں پوری کائنات کی ملکیت کا سوال ہے۔ کفار مکہ کو یہ بھی اعتراف تھا کہ اس پوری کائنات کا مالک و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے معبودوں کے اس کائنات میں تصرف کے اختیار کہاں سے آگئے؟ انھیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ کے تصرف و اختیار میں ایسی چیزوں کو شریک بنا رہے ہیں۔ جو دوسروں کے تو کیا، اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ ایسے صریح ظلم اور اس کے انجام سے انھیں ڈر نہیں لگتا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔