تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ: ”تَذَكُّرٌ“} (تفعّل) کا اصل معنی یاد کرنا ہے۔{” تَذَكَّرُوْنَ “} اصل میں {” تَتَذَكَّرُوْنَ “} ہے، یعنی تو پھر تم اپنی فطرت میں رکھی ہوئی اس بات کو یاد کیوں نہیں کرتے جو غفلت میں پڑ کر بھلا چکے ہو اور اس سے نصیحت حاصل کیوں نہیں کرتے کہ جب زمین کا اور اس میں موجود ہر چیز کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر مالک کو چھوڑ کر مملوک کی پوجا کیوں؟ اور جب تم میں سے معمولی شخص بھی اس بات پر تیار نہیں کہ وہ اپنے غلاموں سے پوچھ گچھ نہ کرے، یا انھیں ان کی کارکردگی کا صلہ نہ دے، یا ان کے درمیان عدل نہ کرے، تو تم نے اس قادرِ مطلق اور حکیمِ کامل کے متعلق کیسے سوچ لیا کہ وہ تمھیں دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا، یا نہیں کرے گا اور اس کے بندے جو بھی کرتے رہیں نہ ان سے باز پرس کرے گا، نہ انھیں ان کے کیے کی جزا سزا دے گا اور نہ ان کے درمیان عدل فرمائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس حکم ہوتا ہے کہ زمین اور زمین کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے؟ اس کی بابت ان مشرکوں سے سوال کرو۔ ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ اب تم پھر ان سے کہو کہ کیا اب بھی اس اقرار کے بعد بھی تم اتنا نہیں سمجھتے کہ عبادت کے لائق بھی وہی ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر پوچھو کہ اس بلند و بالا آسمان کا اس کی مخلوق کا خالق کون ہے؟ جو عرش جیسی زبردست چیز کا رب ہے؟ جو مخلوق کی چھت جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کی شان بہت بڑی ہے اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے قبہ کی طرح بنا کر بتایا“ [سنن ابوداود:4726،قال الشيخ الألباني:ضعیف]۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں عرش کی قدرت و عظمت کا کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے اندازہ نہیں کر سکتا بعض سلف کا قول ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے اس آیت میں عرش عظیم کہا گیا ہے اور اس سورت کے آخر میں عرش کریم کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا اور بہت حسن وخوبی والا۔ پس لمبائی، چوڑائی، وسعت و عظمت، حسن وخوبی میں وہ بہت ہی اعلیٰ و بالا ہے اسی لیے لوگوں نے اسے یاقوت سرخ کہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ تمہارے رب کے پاس رات دن کچھ نہیں اس کے عرش کا نور اس کے چہرے کے نور سے ہے۔ الغرض اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ آسمان اور عرش کا رب اللہ ہے تو تم کہو کہ پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کر رہے ہو؟
عرب میں دستور تھا کہ سردار قبیلہ اگر کسی کو پناہ دیدے تو سارا قبیلہ اس کا پابند تھا لیکن قبیلے میں سے کوئی کسی کو پناہ میں لے لے تو سردار پر اس کی پابندی نہیں۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی سلطنت و عظمت بیان ہو رہی ہے کہ وہ قادر مطلق حاکم کل ہے اس کا ارادہ کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ سب سے باز پرس کر لے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے کوئی سوال کر سکے۔ اس کی عظمت، اس کی کبریائی، اس کا غلبہ، اس کا دباؤ، اس کی قدرت، اس کی عزت، اس کی حکمت، اس کا عدل بےپایاں اور بے مثل ہے۔ سب مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لاچار ہے۔ اب ساری مخلوق کی بعض پرس کرنے والا ہے اس سوال کا جواب بھی ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ وہ اقرار کریں کہ اتنا بڑا بادشاہ ایسا خود مختار اللہ واحد ہی ہے کہہ دے کہ پھر تم پر کیا ٹپکی پڑی ہے؟ ایسا کون سا جادو تم پر ہو گیا ہے؟ باوجود اس اقرار کے پھر بھی دوسروں کی پرستش کرتے ہو؟
ہم تو ان کے سامنے حق واضع کر چکے توحید ربوبیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت بیان کر دی صحیح دلیلیں اور صاف باتیں پہنچا دیں اور ان کا غلط گو ہونا ظاہر کر دیا کہ یہ شریک بنانے میں جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹ خود ان کے اقرار سے ظاہر و باہر ہے جیسے کہ سورت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کے پکارنے کی کوئی سند نہیں۔ صرف باپ دادا کی تقلید پر ضد ہے اور وہ یہی کہتے بھی تھے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی پر پایا اور ہم ان کی تقلید نہیں چھوڑیں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قُلْ لهؤلاء المكذِّبين بالبعث، العادلين بالله غيرَهُ؛ محتجًّا عليهم بما أثبتوه وأقرُّوا به من توحيد الرُّبوبيَّة وانفرادِ اللهّ بها على ما أنكروه من توحيد الإلهيَّة والعبادة، وبما أثبتوه من خَلْق المخلوقات العظيمة على ما أنكروه من إعادةِ الموتى الذي هو أسهل من ذلك: {لِمَنِ الأرضُ ومَن فيها}؛ أي: مَنْ هو الخالقُ للأرض ومَنْ عليها من حيوان ونباتٍ وجمادٍ وبحارٍ وأنهارٍ وجبال، المالك لذلك، المدبِّر له؛ فإنَّك إذا سألتَهم عن ذلك؛ لا بدَّ أن يقولوا: اللهُ وحدَه. فقل لهم إذا أقرُّوا بذلك: {أفلا تَذَكَّرونَ}؛ أي: أفلا ترجعون إلى ما ذكَّركم الله به مما هو معلومٌ عندكم مستقرٌّ في فِطَرِكُم قد يُغيبه الإعراضُ في بعض الأوقات، والحقيقة أنَّكم إن رجعتم إلى ذاكِرَتِكُم بمجرَّد التأمُّل؛ علمتُم أنَّ مالك ذلك هو المعبود وحده، وأن إلهيَّة من هو مملوكٌ أبطلُ الباطل.