اس آیت کی تفسیر آیت 81 میں تا آیت 83 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ کہ: ”جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو ہمیں [82] پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟“
[82] کفار مکہ سے جب بدوی لوگ پوچھتے کہ تم میں جو نبی پیدا ہوا ہے اس کی تعلیم کیا ہے؟ تو وہ کہہ دیتے کہ اس میں کوئی نئی بات تو ہے نہیں وہی پرانے لوگوں کی داستانیں اور قصے کہانیاں ہیں۔ جو ہم پہلے بھی سنتے آئے ہیں۔ اور یہ بات وہ اس لئے کہتے تھے کہ انبیاء کی بنیادی اور اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ خود بھی تو اپنے پیغمبر کو وہی بات کہہ رہے ہیں جو ان کے آباء و اجداد انبیاء کی مخالفت میں کہتے چلے آئے ہیں کہ ”جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا پھر ہمیں زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟“ یہ خود بھی تو وہی پرانی گھسی پٹی بات دہرا رہے ہیں۔ دلیل کے ساتھ انھیں کوئی نیا جواب میسر نہیں آرہا۔ پھر کیا ان کا یہ قول ہی پرانے افسانے پر نہیں؟ جو محض تقلید آباؤ کے طور پر کہی جاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔