ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 79

وَ ہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۷۹﴾
اور وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع ہو کر جاؤ گے
En
اور وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کرکے زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 79){ وَ هُوَ الَّذِيْ ذَرَاَكُمْ …:} یہ اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک لہ ہونے کی دوسری دلیل ہے اور قیامت کی بھی کہ جس اکیلے نے تمھیں وجود کی نعمت عطا کرکے ساری دنیا میں پھیلا دیا، وہ تمھیں سمیٹنے پر بھی قادر ہے اور یاد رکھو کہ اس اکیلے ہی کی طرف تمھیں دوبارہ اکٹھا کیا جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

۔-1اس میں اللہ کی قدرت عظیمہ کا بیان ہے کہ جس طرح اس نے تمہیں پیدا کر کے مختلف اطراف میں پھیلا دیا ہے۔ تمہارے رنگ بھی ایک دوسرے سے مختلف، زبانیں بھی مختلف اور عادات و رسومات بھی مختلف۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ تم سب کو زندہ کر کے وہ اپنی بارگاہ میں جمع فرمائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ اور وہی ذات ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف تم اکٹھے کئے [80] جاؤ گے۔
[80] یعنی تمہیں ایک نفس سے پیدا کر کے تمام روئے زمین پر پھیلا دیا اور یہ پھیلاؤ کا عمل تا قیامت جاری رہے گا۔ اب جو ذات تمہیں پھیلا سکتی ہے، وہ تمہیں سمیٹ کر اپنے ہاں اکٹھا بھی کر سکتی ہے اور جو کچھ تم اس دنیا میں کرتے رہے اس پر مواخذہ بھی کر سکتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔