(آیت 66) {قَدْكَانَتْاٰيٰتِيْتُتْلٰىعَلَيْكُمْ …: ”نَكَصَ“} (ض، ن) عموماً کسی خیر کے کام سے پیچھے ہٹنے کو کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے {”تَنْكِصُوْنَ“} کا معنی {”تُدْبِرُوْنَ“} (پلٹتے تھے) بیان فرمایا ہے۔ (طبری) یعنی یہ عذاب تمھارے اپنے اعمالِ بد ہی کا نتیجہ ہے کہ میری آیات جب تمھارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم ایڑیوں کے بل پھر جاتے تھے، تمھیں سننا تک گوارا نہ تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
66-1یعنی قرآن مجید یا کلام الٰہی، جن میں پیغمبر کے فرمودات بھی شامل ہیں۔ 66-2یعنی آیا احکام الٰہی سن کر تم منہ پھیر لیتے تھے اور ان سے بھا گتے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
66۔ جب میری آیات تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں [66] پھر جاتے تھے۔
[66] یہ عذاب در اصل ان کے اپنے ہی اعمال کی شامت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ انھیں جب اللہ کی آیات سے نصیحت کی جاتی تھی اور برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا تب تو وہ ایسی باتوں کو سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے اور اب جب سر سے پانی چڑھ گیا تو پھر چیخنے چلانے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔