(آیت 59){ وَالَّذِيْنَهُمْبِرَبِّهِمْلَايُشْرِكُوْنَ:} تیسری صفت یہ کہ وہ اپنے رب کے ساتھ نہ بڑا شرک کرتے ہیں، نہ چھوٹا، نہ جلی، نہ خفی، نہ کسی غیر کی پرستش کرتے ہیں اور نہ کوئی عمل ریا (دکھلاوے) کے لیے کرتے ہیں اور نہ سمعہ (شہرت) کے لیے، بلکہ ان کا ہر عمل اپنے رب کے لیے خالص ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ صفت ایمان میں شامل تھی مگر اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے الگ بھی ذکر فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ اور وہ اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّذِیْنَهُمْبِرَبِّهِمْلَایُشْ٘رِكُوْنَ﴾”اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔“ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين هم بربِّهم لا يُشْرِكونَ}؛ أي: لا شركاً جليًّا؛ كاتخاذ غير الله معبوداً يدعوه ويرجوه، ولا شركاً خفيًّا؛ كالرياء ونحوه، بل هم مخلصونَ لله في أقوالهم وأعمالهم وسائر أحوالهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔