(آیت 56،55) ➊ {اَيَحْسَبُوْنَاَنَّمَانُمِدُّهُمْبِهٖ …: ”اَنَّمَا“} یہاں اکٹھا لفظ نہیں بلکہ {”أَنَّ“} اور {”مَا“} (بمعنی {اَلَّذِيْ}) الگ الگ لفظ ہیں، قرآن کے رسم الخط میں انھیں اکٹھا لکھ دیا گیا ہے، معنی ہے ”کہ وہ چیزیں جو۔“ ➋ ہر گروہ کے اپنے حال پر بہت خوش رہنے کا سبب چونکہ انھیں لگنے والا دھوکا تھا کہ خوش حالی اور مال و اولاد کی کثرت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل ہے، چنانچہ کفار کہا کرتے تھے کہ ہم اموال و اولاد میں زیادہ ہیں اور ہمیں کسی صورت عذاب نہیں ہو گا۔ دیکھیے سورۂ سبا (۳۵) اور کہف (۳۴ تا ۳۶) اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کے لیے اس کا رد فرمایا۔ ➌ { بَلْلَّايَشْعُرُوْنَ:} یعنی ان کا یہ گمان درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں شعور ہی نہیں کہ مال و اولاد کی یہ فراوانی انھیں مہلت دینے کے لیے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ہے کہ جس قدر انھیں ڈھیل ملے اسی قدر ان کے گناہوں کا پیمانہ اور لبریز ہو اور پھر بھرپور طریقے سے ان پر گرفت کی جائے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں کمی محسوس نہ کرے وہ فکر کر لے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسی دراز کی جا رہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو انھیں مال اور اولاد دیئے جا رہے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔