ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 54

فَذَرۡہُمۡ فِیۡ غَمۡرَتِہِمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۵۴﴾
سو تو انھیں ایک وقت تک ان کی غفلت میں رہنے دے۔ En
تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت میں رہنے دو
En
پس آپ (بھی) انہیں ان کی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54){ فَذَرْهُمْ فِيْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِيْنٍ:} یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہِ راست کی طرف آنا پسند ہی نہیں کرتے اور اپنے حال ہی پر خوش ہیں، انھیں ان کے حال ہی پر رہنے دیجیے، ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہو جائے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54-1گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عمرۃ، حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور دھمکی ان کو چھوڑنے کا حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ لہٰذا ان کا قصہ چھوڑو کہ وہ ایک خاص وقت تک اپنی اس مد ہوشی میں [58] پڑے رہیں۔
[58] یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہ راست کی طرف آنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے حال میں مست اور مگن ہیں۔ انھیں ان کے حال پر ہی رہنے دیجئے ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہو جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔