(آیت 43){ مَاتَسْبِقُمِنْاُمَّةٍاَجَلَهَا …:} یعنی کسی امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے زندگی کی جو مدت مقرر کر دی ہے وہ دنیا میں نہ اس سے کم ٹھہرتی ہے نہ زیادہ۔ طبری نے فرمایا: ”یہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے مشرکوں کے لیے وعید ہے اور انھیں آگاہ کرنا ہے کہ ان کے کفر و شرک اور رسول کو جھٹلانے کے باوجود انھیں جو مہلت دی جا رہی ہے وہ اس لیے ہے کہ وہ اپنی مقرر کر دہ مدت کو پہنچ جائیں، پھر ان پر اس کی گرفت آئے گی، جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ ہوا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
43-1یعنی سب امتیں بھی قوم نوح اور عاد کی طرح، جب ان کی ہلاکت کا وقت آیا تو تباہ اور برباد ہوگئیں، ایک لمحہ آگے پیچھے نہ ہوئیں۔ جیسے فرمایا (ۭاِذَاجَاۗءَاَجَلُھُمْفَلَايَسْتَاْخِرُوْنَسَاعَةًوَّلَايَسْتَقْدِمُوْنَ) 10۔ یونس:49)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ کوئی بھی قوم نہ اپنے وقف سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس وقت کے بعد ٹھہر سکی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی ٭٭
ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے در پے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آ گئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آ گیا۔
تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا آیت «يٰحَسْرَةًعَلَيالْعِبَادِ ڱ مَايَاْتِيْهِمْمِّنْرَّسُوْلٍاِلَّاكَانُوْابِهٖيَسْتَهْزِءُوْنَ»[36- يس: 30] افسوس ہے بندوں پر۔۔
ان کے پاس جو رسول آیا انہوں نے اسے مذاق میں اڑایا۔ ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو غارت اور فناکر دیا «وَكَمْاَهْلَكْنَامِنَالْقُرُوْنِمِنْبَعْدِنُوْحٍوَكَفٰىبِرَبِّكَبِذُنُوْبِعِبَادِهٖخَبِيْرًابَصِيْرًا»[17- الإسراء: 17] نوح علیہ السلام کے بعد بھی ہم نے کئی ایک بستیاں تباہ کر دیں۔ انہیں ہم نے پرانے افسانے بنا دیا وہ نیست و نابود ہو گئے اور قصے ان کے باقی رہ گئے۔ بے ایمانوں کے لیے رحمت سے دوری ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔