(آیت 42){ ثُمَّاَنْشَاْنَامِنْۢبَعْدِهِمْقُرُوْنًااٰخَرِيْنَ:} یعنی قوم ثمود کے بعد ہم نے کئی اور دور پیدا کیے۔ (طبری)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
42-1اس سے مراد حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کی قومیں ہیں، کیونکہ سورة اعراف اور سورة ہود میں اسی ترتیب سے ان کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ بعض کے نزدیک بنو اسرائیل مراد ہیں۔ قرون، قرن کی جمع ہے اور یہاں بمعنی امت استعمال ہوا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
42۔ پھر ان کے بعد ہم نے کئی اور قومیں پیدا کیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی ٭٭
ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے در پے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آ گئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آ گیا۔
تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا آیت «يٰحَسْرَةًعَلَيالْعِبَادِ ڱ مَايَاْتِيْهِمْمِّنْرَّسُوْلٍاِلَّاكَانُوْابِهٖيَسْتَهْزِءُوْنَ»[36- يس: 30] افسوس ہے بندوں پر۔۔
ان کے پاس جو رسول آیا انہوں نے اسے مذاق میں اڑایا۔ ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو غارت اور فناکر دیا «وَكَمْاَهْلَكْنَامِنَالْقُرُوْنِمِنْبَعْدِنُوْحٍوَكَفٰىبِرَبِّكَبِذُنُوْبِعِبَادِهٖخَبِيْرًابَصِيْرًا»[17- الإسراء: 17] نوح علیہ السلام کے بعد بھی ہم نے کئی ایک بستیاں تباہ کر دیں۔ انہیں ہم نے پرانے افسانے بنا دیا وہ نیست و نابود ہو گئے اور قصے ان کے باقی رہ گئے۔ بے ایمانوں کے لیے رحمت سے دوری ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔