وَ اَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسۡکَنّٰہُ فِی الۡاَرۡضِ ٭ۖ وَ اِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۭ بِہٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۸﴾
اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ کچھ پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور یقینا ہم اسے کسی بھی طرح لے جانے پر ضرور قادر ہیں۔
En
اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی نازل کیا۔ پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کے نابود کردینے پر بھی قادر ہیں
En
ہم ایک صحیح انداز سے آسمان سے پانی برساتے ہیں، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں، اور ہم اس کے لے جانے پر یقیناً قادر ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 18) ➊ {وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ:} آسمان کی پیدائش کے بعد اپنی مزید نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پانی بذات خود بہت بڑی نعمت ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ }» [الأنبیاء: ۳۰] ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی۔“ اس آیت میں پانی اتارنے کی عظیم نعمت کے ذکر کے بعد اس کے متعلق تین باتیں فرمائیں، چنانچہ فرمایا کہ ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ کچھ پانی اتارا، جس سے انسان، حیوان، کھیت اور درخت سیراب ہو سکیں۔ میدانوں، صحراؤں اور پہاڑوں میں زندگی باقی رہ سکے اور سمندروں اور ندی نالوں کی ضرورت پوری ہو سکے، کیونکہ اگر اس مخصوص مقدار سے زیادہ بارش برستی تو سمندر خشکی پر چڑھ کر زندگی کا سلسلہ نیست و نابود کر دیتے اور اگر کم برستی تو انسان، حیوان، درخت اور کھیت زندہ نہ رہ سکتے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ صرف پانی ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز مخصوص مقدار میں اتارتا ہے، نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآىِٕنُهٗ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ }» [الحجر: ۲۱] ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے سے۔“
مستدرک حاکم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: [مَا مِنْ عَامٍ أَمْطَرَ مِنْ عَامٍ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا }» الفرقان: ۵۰] [مستدرک حاکم: 403/2، ح: ۳۵۲۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 460/5، ح: ۲۴۶۱] ”کوئی سال ایسا نہیں جس میں دوسرے کسی سال کی نسبت بارش زیادہ ہوتی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے بارش میں کمی بیشی کرتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“
➋ { فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ:} دوسری بات یہ کہ آسمانوں سے برسنے والا پانی اللہ کے حکم سے مختلف صورتوں میں زمین پر ٹھہر جاتا ہے۔ اس میں سے کچھ چشموں کی صورت میں نمودار ہو جاتا ہے، کچھ زیر زمین محفوظ ہو جاتا ہے، جسے لوگ کنووں وغیرہ کی صورت میں نکال کر استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ }» [الزمر: ۲۱] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت زمین میں چلایا۔“ اور کچھ پانی ندی نالوں اور دریاؤں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جس سے لوگ اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، خود پیتے ہیں، غسل کرتے ہیں، کپڑے وغیرہ دھوتے ہیں، جانوروں کو پلاتے ہیں، کھیتیاں اور باغات سیراب کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا }» [الرعد: ۱۷] ”اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے۔“ اور بارش کا کچھ پانی سمندر کی صورت میں ذخیرہ ہو جاتا ہے، جو دوبارہ بارش کا اور انسان کے بے شمار منافع و فوائد کا ذریعہ بنتا ہے۔
➌ {وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ:} تیسری بات یہ کہ جس طرح ہم نے پانی اتارا ہے اسے لے جا بھی سکتے ہیں، پھر کون ہے جو اسے واپس لا سکے؟ {” ذَهَابٍ“} کی تنوین میں نکرہ کے عموم کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے کہ ”ہم اسے کسی بھی طرح لے جانے پر قادر ہیں۔“ مثلاً ہم بارش روک دیں، یا برسنے والا پانی گندا کر دیں جو پینے اور استعمال کے قابل ہی نہ رہے، یا جس طرح یہ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مرکب ہے تو {”كُنْ“} کہہ کر اسے پھر گیس میں بدل دیں، یا زمین میں اتنا گہرا لے جائیں کہ تم نکال ہی نہ سکو، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ» [الملک: ۳۰] ”کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے تو کون ہے جو تمھارے پاس بہتا ہوا پانی لائے گا؟“ یا اسے سخت نمکین بنا دیں جو پیا ہی نہ جا سکے، جیسا کہ فرمایا: «اَفَرَءَيْتُمُ الْمَآءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ (68) ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (69) لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ» [الواقعۃ: ۶۸ تا ۷۰] ”پھر کیا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو؟ کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے، یا ہم ہی اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے سخت نمکین بنادیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟“ یا اس میں سے وہ برکت نکال لیں جو ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے جنھیں ہم عطا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ آیت سورۂ ملک کی آیت (۳۰): «قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا» سے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ صاحب روح المعانی نے زیر تفسیر آیت کے سورۂ ملک کی آیت سے زیادہ بلیغ ہونے کی اٹھارہ وجہیں ”التقریب لتفسیر التحریر والتنویر للطاہر ابن عاشور“ سے نقل کرنے کے بعد مزید بارہ وجہیں ذکر کرکے انھیں تیس تک پہنچا دیا ہے۔ صاحب ذوق حضرات وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
مستدرک حاکم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: [مَا مِنْ عَامٍ أَمْطَرَ مِنْ عَامٍ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا }» الفرقان: ۵۰] [مستدرک حاکم: 403/2، ح: ۳۵۲۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 460/5، ح: ۲۴۶۱] ”کوئی سال ایسا نہیں جس میں دوسرے کسی سال کی نسبت بارش زیادہ ہوتی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے بارش میں کمی بیشی کرتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“
➋ { فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ:} دوسری بات یہ کہ آسمانوں سے برسنے والا پانی اللہ کے حکم سے مختلف صورتوں میں زمین پر ٹھہر جاتا ہے۔ اس میں سے کچھ چشموں کی صورت میں نمودار ہو جاتا ہے، کچھ زیر زمین محفوظ ہو جاتا ہے، جسے لوگ کنووں وغیرہ کی صورت میں نکال کر استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ }» [الزمر: ۲۱] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت زمین میں چلایا۔“ اور کچھ پانی ندی نالوں اور دریاؤں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جس سے لوگ اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، خود پیتے ہیں، غسل کرتے ہیں، کپڑے وغیرہ دھوتے ہیں، جانوروں کو پلاتے ہیں، کھیتیاں اور باغات سیراب کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا }» [الرعد: ۱۷] ”اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے۔“ اور بارش کا کچھ پانی سمندر کی صورت میں ذخیرہ ہو جاتا ہے، جو دوبارہ بارش کا اور انسان کے بے شمار منافع و فوائد کا ذریعہ بنتا ہے۔
➌ {وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ:} تیسری بات یہ کہ جس طرح ہم نے پانی اتارا ہے اسے لے جا بھی سکتے ہیں، پھر کون ہے جو اسے واپس لا سکے؟ {” ذَهَابٍ“} کی تنوین میں نکرہ کے عموم کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے کہ ”ہم اسے کسی بھی طرح لے جانے پر قادر ہیں۔“ مثلاً ہم بارش روک دیں، یا برسنے والا پانی گندا کر دیں جو پینے اور استعمال کے قابل ہی نہ رہے، یا جس طرح یہ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مرکب ہے تو {”كُنْ“} کہہ کر اسے پھر گیس میں بدل دیں، یا زمین میں اتنا گہرا لے جائیں کہ تم نکال ہی نہ سکو، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ» [الملک: ۳۰] ”کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے تو کون ہے جو تمھارے پاس بہتا ہوا پانی لائے گا؟“ یا اسے سخت نمکین بنا دیں جو پیا ہی نہ جا سکے، جیسا کہ فرمایا: «اَفَرَءَيْتُمُ الْمَآءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ (68) ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (69) لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ» [الواقعۃ: ۶۸ تا ۷۰] ”پھر کیا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو؟ کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے، یا ہم ہی اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے سخت نمکین بنادیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟“ یا اس میں سے وہ برکت نکال لیں جو ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے جنھیں ہم عطا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ آیت سورۂ ملک کی آیت (۳۰): «قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا» سے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ صاحب روح المعانی نے زیر تفسیر آیت کے سورۂ ملک کی آیت سے زیادہ بلیغ ہونے کی اٹھارہ وجہیں ”التقریب لتفسیر التحریر والتنویر للطاہر ابن عاشور“ سے نقل کرنے کے بعد مزید بارہ وجہیں ذکر کرکے انھیں تیس تک پہنچا دیا ہے۔ صاحب ذوق حضرات وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18-1یعنی نہ زیادہ کہ جس سے تباہی پھیل جائے اور نہ اتنا کم کہ پیداوار اور دیگر ضروریات کے لئے کافی نہ ہو۔ 18-2یعنی یہ انتطام بھی کیا کہ سارا پانی برس کر فوراً بہہ نہ جائے اور ختم نہ ہوجائے بلکہ ہم نے چشموں، نہروں، دریاؤں اور تالابوں اور کنوؤں کی شکل میں اسے محفوظ بھی کیا، تاکہ ان ایام میں جب بارشیں نہ ہوں، یا ایسے علاقے میں جہاں بارش کم ہوتی ہے اور پانی کی ضرورت زیادہ ہے، ان سے پانی حاصل کرلیا جائے۔ 18-3یعنی جس طرح ہم اپنے فضل و کرم سے پانی کا ایسا وسیع انتظام کیا ہے، وہیں ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ پانی کی سطح اتنی نیچی کردیں کہ تمہارے لئے پانی کا حصول ناممکن ہوجائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ نیز ہم نے آسمان سے ایک خاص مقدار [20] میں پانی اتارا جسے ہم نے زمین میں ٹھہرا دیا اور بلا شبہ ہم اس کو لے جانے [21] پر بھی قادر ہیں۔
[20] پانی کی کل مقدار جو اللہ نے آسمان سے اتاری:۔
سوال یہ ہے کہ یہ ایک خاص مقدار میں پانی اللہ تعالیٰ نے کب اتارا تھا؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو اس وقت ہی ایک خاص اور کثیر مقدار میں پانی اتار دیا تھا۔ اتنا کثیر مقدار میں جو قیامت تک زمین پر پیدا ہونے والی مخلوق، خواہ وہ کسی نوع سے تعلق رکھتی ہو، کی ضروریات کے لئے کافی ہو۔ اس کثیر مقدار کے ایک کثیر حصہ نے زمین کی تین چوتھائی سطح کو سمندروں کی شکل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ پھر اس کثیر مقدار کا کثیر حصہ زمین کی سطح کے نیچے چلا گیا جیسے زمین کے نیچے بھی پانی کے دریا بہہ رہے ہیں اور سطح زمین کا کثیر حصہ ایسا ہے کہ جہاں سے کھودیں نیچے سے پانی نکل آتا ہے۔ جو انسان نکال کر اپنے استعمال میں لاتا ہے اور کبھی زمین سے از خود چشمے ابل پڑتے ہیں۔ پھر اپنی مخلوق کی ضروریات کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم فرمایا کہ سورج کی گرمی سے سمندر سے آبی بخارات اوپر اٹھتے ہیں۔ جو کسی سرد طبقہ میں پہنچ کر بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور مزید سردی سے زمین پر برسنے لگتے ہیں۔ اس بارش کے پانی سے زمین کی تمام نباتات سیراب ہوتی ہے۔ جاندار بھی اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ پھر اس بارش کا کچھ حصہ پانی میں جذب ہو جاتا ہے اور باقی حصہ ندی نالوں اور دریاؤں کی شکل میں پھر سمندروں میں جا گرتا ہے۔ اور جو پانی مخلوق استعمال کرتی ہے وہ بھی بالآخر یا تو پانی کی شکل میں زمین میں چلا جاتا ہے یا بخارات بن کر ہوا میں مل جاتا ہے۔ ان تصریحات سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کی جتنی مقدار زمین پر نازل فرمائی تھی۔ اس مقدار میں نہ کچھ اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی کمی واقع ہوئی ہے۔ البتہ اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ضروریات کی تکمیل کا ایک مستقل اور دائمی انتظام مہیا فرما دیا ہے۔
نیچریت اور دہریت کا رد:۔
اس سلسلہ میں حیران کن امر یہ ہے کہ پانی بذات خود ایک مرکب چیز ہے جو دو حصے ہائیڈروجن گیس اور ایک حصہ آکسیجن سے مل کر بنتا ہے (H2O) ہائیڈروجن گیس ایک آتش گیر اور فوراً بھڑک اٹھنے والی گیس ہے اور آکسیجن وہ گیس ہے۔ جو جلانے میں مدد دیتی ہے۔ گویا ان آتشیں خاصیت والے مادوں سے اللہ تعالیٰ نے وہ چیز پیدا کی جو آگ کو بجھا دیتی ہے اور پھر اسی کو کیمیاوی عمل کے ذریعہ پھاڑ کر انھیں گیسوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اور دوسری حیران کن بات یہ ہے کہ ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس آج بھی وافر مقدار میں فضا میں موجود ہے اگر وہ از خود زمین کی پیدائش کے وقت مل کر پانی بن گئیں تھیں تو آج بھی مل کر پانی کی مقدار میں اضافہ کیوں نہیں کر دیتیں؟ نیچری اور دہریہ حضرات کے لئے یہ ایک بہت اہم لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے پاس تو اس کا واضح جواب موجود ہے کہ جتنا پانی بنانا اللہ کو منظور اور اس کے اندازہ کے موافق تھا اتنا بن گیا۔ ان گیسوں میں از خود یہ قدرت نہیں ہے کہ مل کر پانی بن جائیں۔ اور اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنی مخلوق کی ضروریات کے مطابق آسمان سے بوقت ضرورت پانی برساتے ہیں۔ نہ اتنا زیادہ کہ مخلوق ڈوب کر مر جائے اور نہ اتنا کم کہ مخلوق قحط میں مبتلا ہو کر مر جائے۔ الا یہ کہ وہ عذاب الٰہی ہی کی شکل ہو۔
[21] یعنی پانی کے زمین دوز ذخیروں کو اتنی گہرائی تک لے جائیں کہ اسے نکالنا انسانوں کی بساط سے باہر ہو جائے۔ یا ان ذخیروں کو کڑوا کسیلا بنا دیں جو قابل استعمال ہی نہ رہیں۔
[21] یعنی پانی کے زمین دوز ذخیروں کو اتنی گہرائی تک لے جائیں کہ اسے نکالنا انسانوں کی بساط سے باہر ہو جائے۔ یا ان ذخیروں کو کڑوا کسیلا بنا دیں جو قابل استعمال ہی نہ رہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آسمان سے نزول بارش ٭٭
اللہ تعالیٰ کی یوں تو بےشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت وضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہو جائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں قدرت برساتی پانی پہنچا کر وہاں کی زمین کو سیراب کر دیتی ہے۔ جیسے کہ مصر کے علاقہ کی زمین جو دریائے نیل کی تری سے سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے۔ اسی پانی کے ساتھ سرخ مٹی کھیچ کر جاتی ہے جو حبشہ کے علاقہ میں ہوتی ہے وہاں کی بارش کے ساتھ مٹی بہہ کر پہنچتی ہے جو زمین پر ٹھہرجاتی ہے اور زمین قابل زراعت ہو جاتی ہے ورنہ وہاں کی شور زمین کھیتی باڑی کے قابل نہیں۔ سبحان اللہ اس لطیف خبیر، اس غفور رحیم اللہ کی کیا کیا قدرتیں اور حکمتیں زمین میں اللہ پانی کو ٹھیرا دیتا ہے زمین میں اس کو چوس لینے اور جذب کر لینے کی قابلیت اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے تاکہ دانوں کو اور گٹھلیوں کو اندر ہی اندر وہ پانی پہنچا دے۔
پھر فرماتا ہے ہم اس کے لے جانے اور دور کر دینے پریعنی نہ برسانے پر بھی قادر ہیں اگر چاہیں شور، سنگلاخ زمین، پہاڑوں اور بے کار بنوں میں برسا دیں۔ اگر چاہیں تو پانی کو کڑوا کر دیں نہ پینے کے قابل رہے نہ پلانے کے، نہ کھیت اور باغات کے مطلب کا رہے، نہ نہانے دھونے کے مقصد کا۔ اگرچاہیں زمین میں وہ قوت ہی نہ رکھیں کہ وہ پانی کو جذب کر لے چوس لے بلکہ پانی اوپر ہی اوپر تیرتا پھرے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ایسی دوردراز جھیلوں میں پانی پہنچا دیں کہ تمہارے لیے بے کار ہو جائے اور تم کوئی فائدہ اس سے نہ اٹھا سکو۔ یہ خاص اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف ورحم ہے کہ وہ بادلوں سے میٹھا عمدہ ہلکا اور خوش ذائقہ پانی برساتا ہے پھر اسے زمین میں پہنچاتا ہے اور ادھر ادھر ریل پیل کر دیتا ہے کھیتیاں الگ پکتی ہیں باغات الگ تیار ہوتے ہیں، خود پیتے ہو اپنے جانوروں کو پلاتے ہو نہاتے دھوتے ہو پاکیزگی اور ستھرائی حاصل کرتے ہو «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پھر فرماتا ہے ہم اس کے لے جانے اور دور کر دینے پریعنی نہ برسانے پر بھی قادر ہیں اگر چاہیں شور، سنگلاخ زمین، پہاڑوں اور بے کار بنوں میں برسا دیں۔ اگر چاہیں تو پانی کو کڑوا کر دیں نہ پینے کے قابل رہے نہ پلانے کے، نہ کھیت اور باغات کے مطلب کا رہے، نہ نہانے دھونے کے مقصد کا۔ اگرچاہیں زمین میں وہ قوت ہی نہ رکھیں کہ وہ پانی کو جذب کر لے چوس لے بلکہ پانی اوپر ہی اوپر تیرتا پھرے یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ایسی دوردراز جھیلوں میں پانی پہنچا دیں کہ تمہارے لیے بے کار ہو جائے اور تم کوئی فائدہ اس سے نہ اٹھا سکو۔ یہ خاص اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف ورحم ہے کہ وہ بادلوں سے میٹھا عمدہ ہلکا اور خوش ذائقہ پانی برساتا ہے پھر اسے زمین میں پہنچاتا ہے اور ادھر ادھر ریل پیل کر دیتا ہے کھیتیاں الگ پکتی ہیں باغات الگ تیار ہوتے ہیں، خود پیتے ہو اپنے جانوروں کو پلاتے ہو نہاتے دھوتے ہو پاکیزگی اور ستھرائی حاصل کرتے ہو «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
آسمانی بارش سے رب العالمین تمہارے لیے روزیاں اگاتا ہے، لہلہاتے ہوئے کھیت ہیں، کہیں سرسبز باغ ہیں جو خوش نما اور خوش منظر ہونے کے علاوہ مفید اور فیض والے ہیں۔ کھجور انگور جو اہل عرب کا دل پسند میوہ ہے۔ اور اسی طرح ہر ملک والوں کے لیے الگ الگ طرح طرح کے میوے اس نے پیدا کر دیے ہیں۔ جن کے حصول کے عوض اللہ کے شکر گزاری بھی کسی کے بس کی نہیں۔ بہت میوے تمہیں اس نے دے رکھے ہیں جن کی خوبصورتی بھی تم دیکھتے ہو اور ان کے ذائقے سے بھی کھا کر فائدہ اٹھاتے ہو۔ پھر زیتوں کے درخت کا ذکر فرمایا۔ طورسینا وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے بات چیت کی تھی اور اس کے اردگرد کی پہاڑیاں طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو ہرا اور درختوں والا ہو ورنہ اسے جبل کہیں گے طور نہیں کہیں گے۔ پس طورسینا میں جو درخت زیتوں پیدا ہوتا ہے اس میں سے تیل نکلتا ہے جو کھانے والوں کو سالن کا کام دیتا ہے۔ حدیث میں ہے زیتوں کا تیل کھاؤ اور لگاؤ وہ مبارک درخت میں سے نکلتا ہے [مسند احمد:497/3:حسن لغیرہ]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک صاحب عاشورہ کی شب کو مہمان بن کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹ کی سری اور زیتون کھلایا اور فرمایا یہ اس مبارک درخت کا تیل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [سنن ترمذي:1851،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر چوپایوں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان سے جو فوائد انسان اٹھا رہے ہیں، ان پر سوار ہوتے ہیں ان پر اپنا سامان اسباب لادتے ہیں اور دوردراز تک پہنچتے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو وہاں تک پہچنے میں جان آدھی رہ جاتی۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربانی اور رحمت والا ہے جیسے فرمان ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ» [36- يس: 71] کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خود ہم نے انہیں چوپایوں کا مالک بنا رکھا ہے کہ یہ ان کے گوشت کھائیں ان پر سواریاں لیں اور طرح طرح کہ نفع حاصل کریں کیا اب بھی ان پر ہماری شکر گزاری واجب نہیں؟ یہ خشکی کی سواریاں ہیں پھر تری کی سواریاں کشتی جہاز وغیرہ الگ ہیں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک صاحب عاشورہ کی شب کو مہمان بن کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹ کی سری اور زیتون کھلایا اور فرمایا یہ اس مبارک درخت کا تیل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔ [سنن ترمذي:1851،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر چوپایوں کا ذکر ہو رہا ہے اور ان سے جو فوائد انسان اٹھا رہے ہیں، ان پر سوار ہوتے ہیں ان پر اپنا سامان اسباب لادتے ہیں اور دوردراز تک پہنچتے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو وہاں تک پہچنے میں جان آدھی رہ جاتی۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربانی اور رحمت والا ہے جیسے فرمان ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ» [36- يس: 71] کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خود ہم نے انہیں چوپایوں کا مالک بنا رکھا ہے کہ یہ ان کے گوشت کھائیں ان پر سواریاں لیں اور طرح طرح کہ نفع حاصل کریں کیا اب بھی ان پر ہماری شکر گزاری واجب نہیں؟ یہ خشکی کی سواریاں ہیں پھر تری کی سواریاں کشتی جہاز وغیرہ الگ ہیں۔