تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَوْقَكُمْ:} زمین کے کسی حصے پر چلے جاؤ آسمان اوپر ہی ہو گا۔
➌ {سَبْعَ طَرَآىِٕقَ:” طَرَآىِٕقَ “ ”طَرِيْقَةٌ“} کی جمع ہے۔ {”طَارَقَ يُطَارِقُ“} اور {”أَطْرَقَ“} کا معنی ایک دوسرے پر چڑھانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ترکوں سے لڑو گے۔“ پھر ان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: [كَأَنَّ وُجُوْهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ] [بخاري، الجہاد والسیر، باب قتال الترک: ۲۹۲۸] ”ان کے چہرے (ایسے چوڑے ہوں گے) جیسے وہ ایسی ڈھا لیں ہیں جن پر چمڑا چڑھایا ہوا ہے۔“ {”طَارَقْتُ بَيْنَ الثَّوْبَيْنِ“} ”میں نے دو کپڑے اوپر تلے لیے۔“ مطلب یہ ہے کہ یہ ساتوں آسمان ایک دوسرے کے اوپر ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا» [نوح: ۱۵] ”کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا فرمایا۔“ {”طَرَقَ يَطْرُقُ “} (ن){ ”ضَرَبَ“} کے معنی میں بھی آتا ہے، ہتھوڑے کو {”اَلْمِطْرَقَةُ“} اسی لیے کہتے ہیں۔ {”طَرِيْقٌ“} کا ایک معنی راستہ بھی ہے، کیونکہ وہ چلنے والوں کی ٹھوکر میں ہوتا ہے۔ آسمانوں کو {”طَرِيْقَةٌ“} اس لیے بھی کہتے ہیں کہ وہ فرشتوں کی آمد و رفت اور احکام الٰہی کے نزول اور اعمال کے اوپر جانے کے راستے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [الطلاق: ۱۲] ”اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔“
➍ { وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ: ” كُنَّا “} استمرار (ہمیشگی) کے لیے ہے، اسی لیے ترجمہ میں ”کبھی“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ انسانوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد ہم ان سے بے خبر اور بے تعلق ہو گئے ہوں، یا انھیں کسی داتا، دستگیر یا گنج بخش کے حوالے کر دیا ہو، نہیں، ایسا نہ کبھی تھا نہ ہو گا۔ ان کا وجود تو قائم ہی ہمارے علم اور ہماری قدرت کی بدولت ہے، جیسا کہ فرمایا: «يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْاَرْضِ وَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا يَعْرُجُ فِيْهَا وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ» [الحدید: ۴] ” وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمھارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ انعام (۵۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[19] یعنی ہم اپنی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اس کی مستقل نگہداشت بھی کرتے رہتے ہیں کیونکہ جس چیز سے بھی کام لیا جائے وہ کسی نہ کسی وقت بگڑ بھی جاتی ہے اس کی چال اور اس کے کام میں فرق آجاتا ہے اور اگر بروقت اس کی نگہداشت نہ کی جائے تو وہ خراب اور تباہ بھی ہو جاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات کا نظام اتنا مربوط و منظم ہے کہ اس میں نہ ذرہ بھر فرق آتا ہے اور نہ کہیں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ جو اس کی بات کی قوی دلیل ہے کہ اس کائنات کا کوئی ایسا منتظم موجود ہے جو اپنی اس عظیم الجثہ مخلوق کی ہمہ وقت کڑی نگہداشت کر رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [6-الأنعام: 59] آسمان کی بلند و بالا چیزیں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں، اور پہاڑوں کی چوٹیاں، سمندروں، میدانوں، درختوں کی اسے خبر ہے۔ درختوں کا کوئی پتہ نہیں گرتا جو اس کے علم میں نہ ہو کوئی دانہ زمین کی اندھیروں میں ایسا نہیں جاتا جسے وہ نہ جانتا ہو کوئی ترخشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں نہ ہو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى خلق الآدميِّ؛ ذكر مسكنه وتوفُّر النعم عليه من كل وجهٍ، فقال: {ولقد خَلَقْنا فوقَكُم}: سقفاً للبلاد ومصلحةً للعباد، {سبع طرائقَ}؛ أي: سبع سماواتٍ طباقاً، كلُّ طبقةٍ فوق الأخرى، قد زُيِّنَتْ بالنُّجوم والشمس والقمر، وأودِعَ فيها من مصالح الخلق ما أودع. {وما كُنَّا عن الخلق غافلين}؛ فكما أن خَلْقَنا عامٌّ لكل مخلوق؛ فعلمنا أيضاً محيطٌ بما خَلَقْنا؛ فلا نغفل مخلوقاً ولا ننساه، ولا نَخْلُقُ خلقاً فنضيِّعه، ولا نغفل عن السماء فتقع على الأرض، ولا ننسى ذرَّةً في لجج البحار وجوانب الفلوات ولا دابَّة إلاَّ سُقنا إليها رزقها، {وما من دابَّةٍ في الأرض إلاَّ على الله رِزْقُها ويعلم مُسْتَقَرَّها ومُسْتَوْدَعَها}: وكثيراً ما يقرِنُ تعالى بين خلقِهِ وعلمِهِ؛ كقوله: {ألا يعلمُ من خَلَقَ وهو اللطيفُ الخبير}، {بلى وهو الخلاقُ العليم}؛ لأنَّ خلق المخلوقات من أقوى الأدلَّة العقليَّة على علم خالقها وحكمته.