(آیت 110) ➊ {فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْسِخْرِيًّا …: ”حَتّٰۤىاَنْسَوْكُمْذِكْرِيْ“} کا لفظی معنی یہ ہے کہ انھوں نے تمھیں میری یاد بھلا دی۔ یعنی تم ان کے پیچھے ایسے ہاتھ دھو کر پڑے اور ان کا اس قدر مذاق اڑاتے رہے کہ گویا وہ تمھیں میری یاد بھلانے کا سبب بن گئے۔ (شوکانی) ➋ { وَكُنْتُمْمِّنْهُمْتَضْحَكُوْنَ:} دیکھیے سورۂ مطففین (۲۹ تا ۳۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
110۔ تو تم لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے [103]حتیٰ کہ ان کے ساتھ اس مشغلہ نے تمہیں میری یاد بھی بھلا دی اور تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔
[103] کیونکہ دنیا میں تمہاری حالت یہ تھی کہ جب میرے مخلص بندے تیرے آگے دعا و استغفار کرتے تھے یا میری عبادت کرتے تھے تو تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔ اس قدر ٹھٹھا کرتے اور ان کی نیک خصلتوں کا اتنا مذاق اڑاتے تھے کہ ان کے پیچھے پڑے رہنے کی وجہ سے تم نے میری یاد بھی بھلا دی۔ اور تمہیں اس بات کا احساس ہی نہ رہا تھا کہ تمہارے سر پر کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو ہر وقت تمہاری ان کرتوتوں کو دیکھ رہی ہے۔ اور وہ تمہیں شرارتوں کی سزا دینے پر قادر بھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔