تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ آیات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب حج کے بعض مناسک میں تبدیلی کی، اسی طرح جیسے پہلی امتوں کے لیے مقرر کر دہ بعض احکام منسوخ بھی کیے اور بعض میں تبدیلی فرمائی تو کفار مکہ نے، جو دین ابراہیم کے پیروکار ہونے کے دعوے دار تھے اور یہود و نصاریٰ سب نے جھگڑنا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اصل دین ایک ہے جو توحید ہے، مگر ہم نے ہر زمانے کے لوگوں کے لیے اس زمانے کے احوال و ضروریات کے مطابق عبادت کا ایک طریقہ مقرر فرمایا، جس کے مطابق وہ عبادت کرتے تھے۔ جس میں بعض چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی تھیں، جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی امت کے لیے تورات اور عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے لیے تورات کے ساتھ انجیل تھی۔ اب قیامت تک دنیا کے تمام لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں اور ان کا ضابطۂ حیات قرآن مجید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا» [المائدۃ: ۴۸] ”تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔“
➌ { فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ اگر بعد میں آنے والے نبی کے زمانے میں کسی عبادت کے طریقے میں کوئی تبدیلی کر دے تو بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ دل و جان سے اسے قبول کریں نہ کہ اس معاملے میں پیغمبر سے جھگڑا شروع کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ یہ لوگ ہر گز آپ سے اس معاملے میں جھگڑا نہ کریں، یعنی آپ بھی ان سے جھگڑا نہ کریں اور نہ انھیں جھگڑے کا موقع دیں اور آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیتے چلے جائیں اور یقین رکھیں کہ آپ بالکل سیدھے راستہ پر ہیں۔ سورۂ جاثیہ میں فرمایا: «ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ» [الجاثیۃ: ۱۸] ”پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[97] عبادات کا طریق کار ہر نبی اور اس کی امت کے لئے مختلف رہا ہے اور اس میں وقت کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا جاتا رہا ہے۔ اور چونکہ یہ طریق کار بھی اللہ ہی طرف سے ہوتا ہے لہٰذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس بارے میں آپ سے بحث یا جھگڑا کرے۔ کیونکہ اس زمانہ میں یہی طریق کار درست اور برحق ہے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا جا رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لیے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔
جیسے سورۃ البقرہ میں فرمان ہے کہ «وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا» ۱؎ [2-البقرۃ:148] ’ ہر ایک لیے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے ‘ یہاں بھی ہے کہ ’ وہ اس کے بجا لانے والے ہیں ‘ تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ ’ اللہ کی قدرت اور ارادے سے کر رہے ہیں ان کے جھگڑنے سے تو بددل نہ ہو اور حق سے نہ ہٹ۔ اپنے رب کی طرف بلاتا رہ اور اپنی ہدایت واستقامت پر مکمل یقین رکھ۔ یہی راستہ حق سے ملانے والا ہے، کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہے ‘۔
جیسے فرمایا ہے «وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [28-القص:87] ’ خبردار کہیں تجھے اللہ کی آیتوں کے تیرے پاس پہنچ جانے پر بھی ان سے روک نہ دیں، اپنے رب کے راستے کی دعوت عام برابر دیتا رہ ‘۔
اس کے بعد بھی اگر کوئی حق قبول کرنے سے جائے تو اس سے کنارہ اختیار کیجئے اور کہہ دیجئیے اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔ جیسے کئی جگہ اسی مضمون کو دہرایا ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [10-یونس:41] ’ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو، میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں ‘۔
پس یہاں بھی ان کے کان کھول دیئے کہ «هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ كَفَىٰ بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ» ۱؎ [46-الاحقاف:8] ’ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے وہ تمہاری ادنیٰ سی ادنیٰ حرکت کو بھی جانتا ہے اور وہی ہے تم میں کافی شاہد ہے قیامت کے دن ہم تم میں فیصلہ اللہ خود کر دے گا، اور اس وقت سارے اختلافات مٹ جائیں گے ‘۔
جیسے فرمان ہے «فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّـهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّـهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ» ۱؎ [42-الشورى:15] ’ تو اسی کی دعوت دیتا رہ اور ہمارے حکم پر ثابت قدم رہ اور کسی کی خواہش کے پیچھے نہ لگ اور صاف اعلان کر دے کہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب پر میرا ایمان ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه جَعَلَ لكلِّ أمةٍ {مَنْسَكاً}؛ أي: معبداً وعبادةً، قد تختلفُ في بعض الأمور، مع اتِّفاقها على العدل والحكمة؛ كما قال تعالى: {لكلٍّ جَعَلْنا منكم شِرْعةً ومنهاجاً ولو شاءَ اللهُ لَجَعَلَكُم أمَّةً واحدةً ولكن لِيَبْلُوَكُم فيما آتاكم ... } الآية، {هم ناسِكُوه}؛ أي: عاملون عليه بحسب أحوالهم؛ فلا اعتراض على شريعةٍ من الشرائع، خصوصاً من الأميين أهل الشرك والجهل المبين؛ فإنَّه إذا ثبتت رسالةُ الرسول بأدلتها؛ وجب أن يُتَلَقَّى جميع ما جاء به بالقَبول والتسليم وترك الاعتراض، ولهذا قال: {فلا ينازِعُنَّكَ في الأمر}؛ أي: لا ينازِعُك المكذِّبون لك، ويعترِضون على بعض ما جئتَهم به بعقولهم الفاسدة؛ مثلَ منازعتِهِم في حلِّ الميتةِ بقياسهم الفاسد؛ يقولونَ: تأكلونَ ما قَتَلْتُم ولا تأكلونَ ما قَتَلَ الله؟! وكقولهم: {إنَّما البيعُ مثلُ الرِّبا} ... ونحو ذلك من اعتراضاتهم التي لا يلزم الجواب عن أعيانها، وهم منكرون لأصل الرسالة، وليس فيها مجادلةٌ ومحاجَّةٌ بانفرادها، بل لكلِّ مقام مقال؛ فصاحب هذا الاعتراض المنكِرُ لرسالة الرسول إذا زَعَمَ أنَّه يجادِل ليسترشدَ؛ يُقال له: الكلامُ معك في إثبات الرِّسالة وعدمها، وإلاَّ؛ فالاقتصارُ على هذه دليلٌ أنَّ مقصوده التعنت والتعجيز، ولهذا أمر اللَّهُ رسولَه أن يدعُو إلى ربِّه بالحكمة والموعظة الحسنة ويمضي على ذلك؛ سواءً اعترضَ المعترِضون أم لا، وأنه لا ينبغي أن يَثْنيكَ عن الدَّعوةِ شيءٌ؛ لأنَّك على {هدىً مستقيم}؛ أي: معتدلٍ، موصل للمقصودِ، متضمنٍ علم الحقِّ والعمل به؛ فأنت على ثقةٍ من أمرك ويقينٍ من دينك، فيوجِبُ ذلك لك الصلابة والمضيَّ لما أمرك به ربُّك، ولست على أمرٍ مشكوكٍ فيه أو حديثٍ مفترى، فتقف مع الناس ومع أهوائهم وآرائهم ويوقِفُك اعتراضُهم، ونظير هذا قولُه تعالى: {فتوكَّلْ على اللهِ إنَّك على الحقِّ المبينِ}.
مع أنَّ في قوله: {إنَّك لعلى هدىً مستقيم}: إرشاداً لأجوبة المعترضين على جزئيَّات الشرع بالعقل الصحيح؛ فإنَّ الهدى وصفٌ لكلِّ ما جاء به الرسول، والهدى ما تحصُلُ به الهدايةُ في مسائل الأصول والفروع، وهي المسائل التي يُعْرَفُ حسنُها وعدلُها وحكمتُها بالعقل والفطرة السليمة، وهذا يُعْرَفُ بتدبُّر تفاصيل المأمورات والمنهيَّاتِ.