ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 66

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاکُمۡ ۫ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ ﴿۶۶﴾
اور وہی ہے جس نے تمھیں زندگی بخشی، پھر تمھیں مارے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا۔ بے شک انسان یقینا بہت ناشکرا ہے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی۔ پھر تم کو مارتا ہے۔ پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکر ہے
En
اسی نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر وہی تمہیں زنده کرے گا، بے شک انسان البتہ ناشکرا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 66) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَحْيَاكُمْ …:} یہ چھٹی نعمت ہے اور پہلے ذکر کی گئی تمام نعمتوں کی اصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں پیدا فرمایا، اگر پیدا ہی نہ کرتا تو دوسری تمام نعمتیں تمھارے کس کام کی تھیں؟ اس بات کو ہر ملحد شخص بھی مانتا ہے کہ ہم پہلے نہیں تھے، بعد میں پیدا ہوئے۔ { ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ } پھر وہ تمھیں موت دے گا، یہ حقیقت بھی ہر شخص تسلیم کرتا ہے۔ { ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ } جو شخص پہلی دونوں باتیں مانتا ہے اسے یہ بھی ماننا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد زندہ بھی کرے گا۔
➋ بظاہر ان تینوں میں سے نعمت صرف پہلی دفعہ پیدا کرنا ہے، کیونکہ پھر مارنا اور زندہ کرنا تو محاسبے کے لیے ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ بھی نعمتیں ہیں، کیونکہ ان دونوں کے بغیر جنت اور دیدار الٰہی کبھی حاصل نہیں ہو سکتے اور جو چیز جنت کی ہمیشہ کی زندگی اور مالک کے دیدار کا ذریعہ ہو اس کے نعمت ہونے میں کیا شک ہے؟
➌ { اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ: لَكَفُوْرٌ كَافِرٌ} میں مبالغہ ہے اور کفر سے مراد کفر نعمت یعنی نعمتوں کی ناشکری یا ان کا انکار ہے، یعنی ابن آدم ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتا جو اوپر کی آیات میں مذکور ہیں، نہ ان کا شکر ادا کرتا ہے، یعنی اس دعوت کو نہیں مانتا جو اس کی طرف سے اس کے رسول پیش کرتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ [إبراہیم: ۳۴] اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پاؤ گے، بلاشبہ انسان یقینا بڑا ظالم، بہت ناشکرا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

66۔ 1 یہ بحیثیت جنس کے ہے۔ بعض افراد کا اس ناشکری سے نکل جانا اس کے منافی نہیں، کیونکہ انسانوں کی اکثریت میں یہ کفر و جحود پایا جاتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

66۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں زندگی دی، پھر تمہیں [95] مارتا ہے پھر تمہیں (دوبارہ) زندہ کرے گا اور حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکر حق ہے۔
[95] انسان کو اللہ کا زندگی بخشنا ایسا احسان ہے جسے ہر شخص احسان سمجھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا انسان کو موت دینا اس لحاظ سے احسان ہے کہ اگر آدم سے لے کر موجودہ دور تک تمام مخلوق زندہ رہتی۔ تو انسان کو زمین پر کھڑا ہونے کو بھی جگہ نہ ملتی۔ وسائل معاش اور ضروریات زندگی کا مہیا ہونا تو دور کی بات ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ساتھ ہی ساتھ پہلوں کو موت کی نیند سلا کر آنے والوں کے لئے جگہ اور ضروریات زندگی مہیا کر دیتا ہے۔ اسی طرح مرنے کے بعد زندہ کرنا پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دینا بھی اللہ تعالیٰ کا انسان پر احسان عظیم ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اس اخروی زندگی اور اس کی تفصیلات سے بذریعہ وحی مطلع کر کے انجام سے خبردار نہ کرتا تو طاقتور اور درندہ صفت انسان کمزور انسانوں کو کچا چبا ڈالتے اور انھیں کبھی جینے کا حق نہ دیتے۔ جس کا بالآخر نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا میں مسلسل جنگ اور بدامنی کی وجہ سے انسان کا وجود ہی صفحہ ہستی سے ختم ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ کے اتنے احسانات کے باوجود انسان کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ کسی ایسے حقائق پر غور کرتا ہے اور نہ اللہ کے ان احسانات کے لئے اس کا شکر گزار ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔