لَیُدۡخِلَنَّہُمۡ مُّدۡخَلًا یَّرۡضَوۡنَہٗ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿۵۹﴾
یقینا وہ انھیں ایسے مقام میں ضرور داخل کرے گا جس پر وہ خوش ہوں گے اور بے شک اللہ ضرور سب کچھ جاننے والا، بے حد بردبار ہے۔
En
وہ ان کو ایسے مقام میں داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے۔ اور خدا تو جاننے والا (اور) بردبار ہے
En
انہیں اللہ تعالیٰ ایسی جگہ پہنچائے گا کہ وه اس سے راضی ہو جائیں گے، بیشک اللہ تعالیٰ علم اور بردباری واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 59) ➊ { لَيُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَهٗ:} مراد جنت ہے جسے دیکھ کر وہ خوش ہوں گے اور اس میں اپنی ہر خواہش موجود پائیں گے۔ پسندیدہ رہائش بھی رزق حسن میں شامل ہے، اس کا الگ ذکر اس لیے فرمایا کہ خوبصورت اور بہترین گھر کا اہتمام لوگ کھانے پینے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔
➋ {وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ:} صفت {”عَلِيْمٌ“} کی مناسبت اس مقام کے ساتھ دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے والوں کے اعمال اور ان کی نیتوں کو خوب جاننے والا ہے، وہ ہر ایک کو ان کے مطابق جزا دے گا اور اسی طرح ہجرت پر مجبور کرنے والے کفار کے اعمال اور نیتوں سے بھی خوب واقف ہے، انھیں بھی ان کے مطابق سزا دے گا۔ اسی طرح {”حَلِيْمٌ “} کی مناسبت بھی دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ ان مہاجرین سے جو کوتاہیاں ہوئیں اللہ تعالیٰ اپنے بے انتہا حلم کی وجہ سے ان سے چشم پوشی فرما کر انھیں رزق حسن اور پسندیدہ منزل عطا فرمائے گا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ جن کفار نے انھیں نکالا، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے کمال حلم کی وجہ سے اتنے بڑے جرم کے باوجود مہلت دی اور فوراً گرفت نہیں فرمائی، جس کے نتیجے میں تقریباً وہ تمام لوگ جنھوں نے مہاجرین کو مکہ سے نکالا تھا مسلمان ہو گئے۔
➋ {وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ:} صفت {”عَلِيْمٌ“} کی مناسبت اس مقام کے ساتھ دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے والوں کے اعمال اور ان کی نیتوں کو خوب جاننے والا ہے، وہ ہر ایک کو ان کے مطابق جزا دے گا اور اسی طرح ہجرت پر مجبور کرنے والے کفار کے اعمال اور نیتوں سے بھی خوب واقف ہے، انھیں بھی ان کے مطابق سزا دے گا۔ اسی طرح {”حَلِيْمٌ “} کی مناسبت بھی دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ ان مہاجرین سے جو کوتاہیاں ہوئیں اللہ تعالیٰ اپنے بے انتہا حلم کی وجہ سے ان سے چشم پوشی فرما کر انھیں رزق حسن اور پسندیدہ منزل عطا فرمائے گا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ جن کفار نے انھیں نکالا، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے کمال حلم کی وجہ سے اتنے بڑے جرم کے باوجود مہلت دی اور فوراً گرفت نہیں فرمائی، جس کے نتیجے میں تقریباً وہ تمام لوگ جنھوں نے مہاجرین کو مکہ سے نکالا تھا مسلمان ہو گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
59۔ 1 کیونکہ جنت کی نعمتیں ایسی ہونگیں، جنہیں آج تک نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا۔ اور دیکھنا سننا تو کجا، کسی انسان کے دل میں ان کا وہم و گمان بھی نہیں گزرا، بھلا ایسی نعمتوں سے بہرا یاب ہو کر کون خوش نہیں ہوگا؟ 59۔ 2 عَلِیْم وہ نیک عمل کرنے والوں کے درجات اور ان کے مراتب استحقاق کو جانتا ہے۔ کفر و شرک کرنے والوں کی گستاخیوں اور نافرمانیوں کو دیکھتا ہے۔ لیکن ان کا فوری مؤاخذہ نہیں کرتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ وہ انھیں ایسی جگہ داخل کرے گا جس سے وہ خوش ہو جائیں گے اور اللہ یقیناً سب کچھ جاننے والا ہے، بردبار [87] ہے۔
[87] یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ کسی نے کس کس قدر خلوص نیت کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ لہٰذا وہ اتنا ہی اسے زیادہ اجر دے گا اور یہاں حلیم کے لفظ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر کسی مہاجر سے کچھ خطا ہو بھی گئی تو اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ نہیں کرے گا اور دوسرا یہ کہ جن لوگوں نے مہاجرین کو ہجرت پر مجبور کیا تھا انھیں اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ حلیم ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ فوراً عذاب نازل نہیں کرتا۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ ٭٭
یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضا مندی کے لیے اس کی راہ میں ہجرت کر جائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لیے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بے لڑے بھڑے اپنی قضاء کے ساتھ اپنے بستر پر موت آ جائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے۔
جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:100] یعنی ’ جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے ‘۔
انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:88،89] ’ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی ‘۔
اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:169]، ’ خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں ‘۔
اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔
جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:100] یعنی ’ جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے ‘۔
انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:88،89] ’ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی ‘۔
اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:169]، ’ خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں ‘۔
اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔
حضرت شرجیل بن سمط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت «وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ» ۱؎ [22-الحج:58] پڑھ لو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:136/17:]
ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔
یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔
یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔