وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوۡۤا اَوۡ مَاتُوۡا لَیَرۡزُقَنَّہُمُ اللّٰہُ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۵۸﴾
اور جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں وطن چھوڑا، پھر قتل کر دیے گئے، یا مر گئے یقینا اللہ انھیں ضرور رزق دے گا اچھا رزق اور بے شک اللہ ہی یقینا سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
En
اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مر گئے۔ ان کو خدا اچھی روزی دے گا۔ اور بےشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
En
اور جن لوگوں نے راه خدا میں ترک وطن کیا پھر وه شہید کر دیئے گئے یا اپنی موت مر گئے اللہ تعالیٰ انہیں بہترین رزق عطا فرمائے گا۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ روزی دینے والوں میں سب سے بہتر ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 58) ➊ { وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} اس سے پہلے {” فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ “} کے ساتھ عام مومنوں کا ذکر فرمایا تھا، اب ان میں سے خاص لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے اللہ کی خاطر اپنے وطن، گھر بار اور خویش و اقارب کو چھوڑا۔ مقصد ہجرت کی شان اور اس کی فضیلت بیان کرنا ہے کہ یہ اتنا عظیم عمل ہے کہ ہجرت کرنے والے جہاد فی سبیل اللہ میں قتل ہوں یا لڑائی کے بغیر فوت ہو جائیں، دار الکفر سے ہجرت کے بعد آخرت کے درجات میں برابر ہیں۔ (ابن عاشور) پہلی آیات سے اس کی ایک اور مناسبت یہ ہے کہ چونکہ مشرکین ان شیطانی شبہات اور رکاوٹوں کے ساتھ، جن کا اوپر ذکر ہوا، بہت سے لوگوں کو ایمان لانے سے روکتے تھے اور وہ روک صرف انھی کو سکتے تھے جو ان کے قابو میں ہوں، اس لیے اللہ سبحانہ نے ہجرت کی ترغیب دلائی اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ (بقاعی)
➋ { لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا:} لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انھیں برزخ میں اور جنت میں رزق حسن ہر صورت دے گا۔ شہداء کے متعلق دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۶۹) اور ہجرت کے بعد فوت ہونے کے متعلق دیکھیے سورۂ نساء (۱۰۰)۔
➌ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ:} اللہ تعالیٰ خیر الرازقین ہے، اس لیے کہ (1) وہ کسی استحقاق کے بغیر رزق دیتا ہے۔ (2) مانگے بغیر دیتا ہے۔ (3) بے حساب دیتا ہے۔ (4) کسی سے فائدے کی امید یا کسی سے خوف کے بغیر دیتا ہے۔ (5) اور صرف وہی ہے جو اپنے پاس سے دیتا ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا اگر دیتا ہے تو اسی کا دیا دیتا ہے، سو حقیقت میں دینے والا وہی ہے۔ سب دینے والوں سے بہتر ان لوگوں کے لحاظ سے فرمایا جو دنیا میں ایک دوسرے کو کچھ دے دیتے ہیں، مگر ان میں {” خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ “} کی صفات میں سے ایک صفت بھی نہیں جو اوپر گزری ہیں۔
➋ { لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا:} لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انھیں برزخ میں اور جنت میں رزق حسن ہر صورت دے گا۔ شہداء کے متعلق دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۶۹) اور ہجرت کے بعد فوت ہونے کے متعلق دیکھیے سورۂ نساء (۱۰۰)۔
➌ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ:} اللہ تعالیٰ خیر الرازقین ہے، اس لیے کہ (1) وہ کسی استحقاق کے بغیر رزق دیتا ہے۔ (2) مانگے بغیر دیتا ہے۔ (3) بے حساب دیتا ہے۔ (4) کسی سے فائدے کی امید یا کسی سے خوف کے بغیر دیتا ہے۔ (5) اور صرف وہی ہے جو اپنے پاس سے دیتا ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا اگر دیتا ہے تو اسی کا دیا دیتا ہے، سو حقیقت میں دینے والا وہی ہے۔ سب دینے والوں سے بہتر ان لوگوں کے لحاظ سے فرمایا جو دنیا میں ایک دوسرے کو کچھ دے دیتے ہیں، مگر ان میں {” خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ “} کی صفات میں سے ایک صفت بھی نہیں جو اوپر گزری ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
58۔ 1 یعنی اسی ہجرت کی حالت میں موت آگئی یا شہید ہوگئے۔ 58۔ 2 یعنی جنت کی نعمتیں جو ختم نہ ہونگیں نہ فنا۔ 58۔ 3 کیونکہ وہ بغیر حساب کے، بغیر استحقاق کے اور بغیر سوال کے دیتا ہے۔ علاوہ ازیں انسان بھی جو ایک دوسرے کو دیتے ہیں تو اسی کے دیئے ہوئے میں سے دیتے ہیں۔ اس لئے اصل رازق وہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
58۔ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر شہید ہوئے یا [86] مر گئے اللہ انھیں اچھا رزق دے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے
[86] اہل ایمان کا ذکر کرنے کے بعد خصوصی طور پر مہاجرین کا ذکر فرمایا۔ جنہوں نے اللہ اور اس کے دین کی خاطر اپنے گھر بار، جائیداد اور وطن مالوف کو خیرباد کہا اس کے بعد خواہ جہاد کر کے شہید ہو جائیں یا طبعی موت سے وفات پا جائیں۔ ان کی ہجرت کا عمل ہی اتنا گرانقدر ہے جس کے عوض اللہ انھیں ہزارہا گناہ بہترین کھانے پینے کا سامان اور بہترین رہائش عطا فرمائے گا۔ اتنا بہتر جس سے وہ خوش ہو جائیں گے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ ٭٭
یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضا مندی کے لیے اس کی راہ میں ہجرت کر جائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لیے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بے لڑے بھڑے اپنی قضاء کے ساتھ اپنے بستر پر موت آ جائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے۔
جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:100] یعنی ’ جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے ‘۔
انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:88،89] ’ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی ‘۔
اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:169]، ’ خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں ‘۔
اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔
جیسے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:100] یعنی ’ جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اسے موت آ جائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہو چکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہو گا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے ‘۔
انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ «فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ» ۱؎ [56-الواقعہ:88،89] ’ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لیے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی ‘۔
اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:169]، ’ خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں ‘۔
اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔
حضرت شرجیل بن سمط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت «وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ» ۱؎ [22-الحج:58] پڑھ لو }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:136/17:]
ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔
یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں۔ آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہھرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیئے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔
یہ آخری آیت صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔