اور مدین والوں نے۔ اور موسیٰ کو جھٹلایا گیا تو میں نے ان کافروں کو مہلت دی، پھرمیں نے انھیں پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا تھا؟
En
اور مدین کے رہنے والے بھی۔ اور موسیٰ بھی تو جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر ان کو پکڑ لیا۔ تو (دیکھ لو) کہ میرا عذاب کیسا (سخت) تھا
اور مدین والے بھی اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جھٹلائے جا چکے ہیں پس میں نے کافروں کو یوں ہی سی مہلت دی پھر دھر دبایا، پھر میرا عذاب کیسا ہوا؟
En
اس آیت کی تفسیر آیت 43 میں تا آیت 45 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44۔ 1 اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ نئی بات نہیں ہے پچھلی قومیں بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ یہی کچھ کرتی رہی ہیں اور میں بھی انھیں مہلت دیتا رہا۔ پھر جب ان کا وقت مہلت ختم ہوگیا تو انھیں تباہ برباد کردیا گیا۔ اس میں تعریض وکنایہ ہے مشرکین مکہ کے لیے کہ تکذیب کے باوجود تم ابھی تک مؤاخذہ الہی سے بچے ہوئے ہو تو یہ نہ سمجھ لینا کہ ہمارا کوئی مؤاخذہ کرنے والا نہیں بلکہ یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے جو وہ ہر قوم کو دیا کرتا ہے لیکن اگر وہ اس اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اطاعت وانقیاد کا راستہ اختیار نہیں کرتی تو پھر اسے ہلاک یا مسلمانوں کے ذریعے سے مغلوب اور ذلت و رسوائی سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ 44۔ 2 یعنی کس طرح میں نے انھیں اپنی نعمتوں سے محروم کرکے عذاب و ہلاکت سے دو چار کردیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ اور مدین والوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا۔ ان سب کافروں کو [71] میں نے پہلے مہلت دی پھر انھیں پکڑ لیا سو دیکھ لو میری سزا کیسی [72] رہی؟
[71] عذاب میں تاخیر پر کافروں کا استہزاء:۔
ان آیات میں ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہہ کر تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار و مشرکین کے انکار، ضد، ہٹ دھرمی اور مخالفت کا واقعہ صرف آپ سے ہی پیش نہیں آیا بلکہ سب سابقہ انبیاء ایسے ہی حالات سے دو چار ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے مصائب پر صبر کیا تھا۔ لہٰذا آپ بھی صبر کیجئے۔ اور دوسرے یہاں ایک قانون بیان کیا جا رہا ہے جو یہ ہے کہ انبیاء اس وقت مبعوث کئے جاتے ہیں۔ جب معاشرہ میں خاصا بگاڑ پیدا ہو چکا ہو۔ لوگ اللہ وحدہٗ کو بھول چکے ہوں۔ شرک کی وبا عام ہو۔ غریبوں اور کمزوروں کو ظلم و تشدد ہو رہا ہو۔ حکومت اور قیادت بڑے بڑوں کے ہاتھ میں ہو۔ ان حالات میں جب نبی آکر اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تو جن بڑے بڑے لوگوں پر اس دعوت کی زد پڑتی ہے وہ سب اس نبی اور اس کی مختصر اور کمزور سی پیروکار جماعت کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ جس پر نبی انھیں اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈراتا ہے اور جب عذاب میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ بڑے بڑے فوراً یہ کہنے لگتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے کیوں نہیں آتے؟ گویا نبی کی تکذیب کے لئے انھیں ایک اور دلیل ہاتھ آجاتی ہے۔
[72] نکیر کا لغوی مفہوم:۔
اللہ کے عذاب یا اس کی گرفت کے لئے بھی ایک قانون ہے۔ یہاں ایسی اندھیر نگری نہیں کہ ادھر کسی نے جرم کیا تو فوراً عذاب الٰہی سے وہ تباہ ہو گیا۔ ایسا ہوتا تو یہ دنیا کبھی آباد نہ رہ سکتی۔ اس کے بجائے اس کائنات میں اللہ کا قانون امہال و تدریج کام کرتا ہے اور عذاب کے سلسلہ میں یہی قانون ہے۔ اللہ مجرمین کو مہلت دیتا ہے۔ تاکہ انھیں انتباہ کے بعد سنبھلنے کا اور توبہ کرنے کا موقع میسر ہو۔ اس دوران اگر وہ سنبھل جائیں تو عذاب الٰہی رک جاتا ہے اور اگر نہ رکیں تو بھی عذاب اپنے معینہ مدت پر ہی آتا ہے اور جب اس کا معینہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ آکے رہتا ہے۔ اس آیت میں عذاب کے لئے نکیر کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے مادہ نکر میں ناگواری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور اجنبیت کا بھی لہٰذا اس کی ضد عرف بھی آتی ہے اور عجب بھی اور نکیر کا لفظ کسی ناگوار بات کے معنوں میں بھی آتا ہے اور کسی ناگوار بات پر گرفت کے معنوں میں بھی۔ پھر نکر کے معنی کسی چیز کی شکل و صورت کو اس طرح بدلنا ہے کہ اس کا حلیہ بگڑ جائے۔ لہٰذا نکیر کے معنی ایسی گرفت یا عذاب ہو گا جو اس عذاب میں خود لوگوں کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔