وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۴۲﴾
اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو بے شک ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود نے جھٹلایا۔
En
اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد وثمود بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں
En
اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) تو ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ﺛمود
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 42تا44) ➊ { وَ اِنْ يُّكَذِّبُوْكَ …:} آیت کے شروع میں ”واؤ“ کا عطف ایک محذوف جملے پر ہے اور وہ محذوف جملہ اور یہ مذکور جملہ دونوں ترغیب و ترہیب پر مشتمل پچھلی آیات کا حاصل بیان کر رہے ہیں۔ وہ جملہ یہ ہے: {” فَاِنْ آمِنُوْا بِكَ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ وَ إِنْ يُّكَذِّبُوْكَ أَخَذْتُهُمْ“} ”پس اگر وہ (یہ سب کچھ سن کر) تجھ پر ایمان لے آئیں تو ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں گے اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا۔“ پہلا جملہ سننے والے کی سمجھ کے سپرد کرکے حذف کر دیا ہے اور{” وَ اِنْ يُّكَذِّبُوْكَ “} کا اس پر عطف ڈالا ہے۔ (بقاعی) قرآن مجید میں بعض مقامات پر اس حذف شدہ جملے جیسے جملے مذکور بھی ہیں، مثلاً: «فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِيْ شِقَاقٍ» [البقرۃ: ۱۳۷] ”پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں۔“ اور فرمایا: «فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ» [آل عمران: ۲۰] ”پس اگر وہ تابع ہو جائیں تو بے شک ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے۔“اور فرمایا: «قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا» [النور: ۵۴] ”کہہ دے اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمھارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پاجاؤ گے۔“
{” وَ اِنْ يُّكَذِّبُوْكَ …“} یہ جملہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے اور ان کا غم دور کرنے کے لیے فرمایا ہے، یعنی اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا، خواہ وہ کتنی قوت رکھتے ہوں، میں نے ان سے پہلے عمر، قد و قامت، قوت و شوکت، مال و متاع، خبث و نجاست اور حکومت و اقتدار میں ان سے کہیں بڑھی ہوئی قوموں کو، جب وہ باز نہ آئے تو پکڑ لیا اور وہ میری گرفت سے بچ نہ سکے، تو مکہ کے ان کافروں کی کیا بساط ہے؟ اس لیے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ آپ سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے جھٹلایا، جن کی عمریں سب لوگوں سے زیادہ اور جن کا اقتدار نہایت مضبوط تھا اور عاد نے جو بہت لمبے اور نہایت مضبوط قد رکھتے تھے، جن کے بعد ان جیسی قوم پیدا نہیں ہوئی اور ثمود، جنھوں نے میدانوں میں اور پہاڑوں میں چٹانیں تراش کر نہایت مضبوط اور بلند و بالا عمارتیں بنا رکھی تھیں اور ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو جو جبر و تکبر میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور لوط علیہ السلام کی خبیث اور نجس قوم کو اور مدین والوں کو جنھوں نے حرام طریقے سے کمائے ہوئے مال کے خزانے جمع کر رکھے تھے۔
➋ {وَ كُذِّبَ مُوْسٰى:} موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ سب لوگوں کو نظر آنے والے اتنے معجزے عطا کیے گئے جو اس سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئے تھے، اس لیے ان کی تکذیب انتہائی بعید بات تھی، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے کلام کا اسلوب بدل دیا اور اس لیے بھی بدل دیا کہ پہلے ذکر کر دہ تمام انبیاء کی اقوام نے انھیں جھٹلایا تھا جب کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل نے انھیں چند ایک کے سوا نہیں جھٹلایا، صرف فرعون کی قوم قبطیوں نے انھیں جھٹلایا تھا۔ رہی بنی اسرائیل کی نافرمانیاں تو وہ موسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا سمجھنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس قوم کی بدعملی اور طبیعت کی خست کی وجہ سے تھیں۔
➌ { فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ:} اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مسلمانوں کو دلاسا اور تسلی دی ہے کہ میں نے مکہ کے کفار کو بھی اسی طرح مہلت دی ہے، اب جنگ کی اجازت ہے، اگر یہ ایمان لے آئیں تو خیر، ورنہ ان پر بھی میری پکڑ مہاجرین و انصار کی یلغار کی صورت میں تیار ہے۔
➍ { فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ: ” نَكِيْرِ “} کی ”راء“ کے نیچے کسرہ ہے، کیونکہ اصل میں {” نَكِيْرِيْ“} تھا، میرا عذاب۔ ”یاء“ کو تخفیف کے لیے اور فواصل یعنی آیات کے آخری الفاظ (مثلاً {كَفُوْرٍ، عَزِيْزٌ، الْاُمُوْرِ، مَشِيْدٍ، الصُّدُوْرِ} وغیرہ) کی موافقت کے لیے حذف کر دیا گیا۔ ان پر آنے والے عذابوں کی تفصیل سورۂ عنکبوت میں ہے، فرمایا: «{ فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ }» [العنکبوت: ۴۰] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اوران میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔“
{” وَ اِنْ يُّكَذِّبُوْكَ …“} یہ جملہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے اور ان کا غم دور کرنے کے لیے فرمایا ہے، یعنی اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا، خواہ وہ کتنی قوت رکھتے ہوں، میں نے ان سے پہلے عمر، قد و قامت، قوت و شوکت، مال و متاع، خبث و نجاست اور حکومت و اقتدار میں ان سے کہیں بڑھی ہوئی قوموں کو، جب وہ باز نہ آئے تو پکڑ لیا اور وہ میری گرفت سے بچ نہ سکے، تو مکہ کے ان کافروں کی کیا بساط ہے؟ اس لیے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ آپ سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے جھٹلایا، جن کی عمریں سب لوگوں سے زیادہ اور جن کا اقتدار نہایت مضبوط تھا اور عاد نے جو بہت لمبے اور نہایت مضبوط قد رکھتے تھے، جن کے بعد ان جیسی قوم پیدا نہیں ہوئی اور ثمود، جنھوں نے میدانوں میں اور پہاڑوں میں چٹانیں تراش کر نہایت مضبوط اور بلند و بالا عمارتیں بنا رکھی تھیں اور ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو جو جبر و تکبر میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور لوط علیہ السلام کی خبیث اور نجس قوم کو اور مدین والوں کو جنھوں نے حرام طریقے سے کمائے ہوئے مال کے خزانے جمع کر رکھے تھے۔
➋ {وَ كُذِّبَ مُوْسٰى:} موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ سب لوگوں کو نظر آنے والے اتنے معجزے عطا کیے گئے جو اس سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئے تھے، اس لیے ان کی تکذیب انتہائی بعید بات تھی، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے کلام کا اسلوب بدل دیا اور اس لیے بھی بدل دیا کہ پہلے ذکر کر دہ تمام انبیاء کی اقوام نے انھیں جھٹلایا تھا جب کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل نے انھیں چند ایک کے سوا نہیں جھٹلایا، صرف فرعون کی قوم قبطیوں نے انھیں جھٹلایا تھا۔ رہی بنی اسرائیل کی نافرمانیاں تو وہ موسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا سمجھنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس قوم کی بدعملی اور طبیعت کی خست کی وجہ سے تھیں۔
➌ { فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ:} اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مسلمانوں کو دلاسا اور تسلی دی ہے کہ میں نے مکہ کے کفار کو بھی اسی طرح مہلت دی ہے، اب جنگ کی اجازت ہے، اگر یہ ایمان لے آئیں تو خیر، ورنہ ان پر بھی میری پکڑ مہاجرین و انصار کی یلغار کی صورت میں تیار ہے۔
➍ { فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ: ” نَكِيْرِ “} کی ”راء“ کے نیچے کسرہ ہے، کیونکہ اصل میں {” نَكِيْرِيْ“} تھا، میرا عذاب۔ ”یاء“ کو تخفیف کے لیے اور فواصل یعنی آیات کے آخری الفاظ (مثلاً {كَفُوْرٍ، عَزِيْزٌ، الْاُمُوْرِ، مَشِيْدٍ، الصُّدُوْرِ} وغیرہ) کی موافقت کے لیے حذف کر دیا گیا۔ ان پر آنے والے عذابوں کی تفصیل سورۂ عنکبوت میں ہے، فرمایا: «{ فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ }» [العنکبوت: ۴۰] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اوران میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
42۔ (اے نبی)! اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم اور قوم عاد اور ثمود بھی جھٹلا چکے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ’ منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا ‘۔
سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] تلاوت کی }۔
پھر فرمایا کہ ’ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» ۱؎ [4-النساء:78] یعنی ’ گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں ‘۔
سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» ۱؎ [11-ھود:102] تلاوت کی }۔
پھر فرمایا کہ ’ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ» ۱؎ [4-النساء:78] یعنی ’ گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں ‘۔
’ کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ ‘
امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔
اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔“
امام ابن ابی الدنیا کتاب «التفکر و الا عبار» میں روایت لائے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔
اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔“