ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 31

حُنَفَآءَ لِلّٰہِ غَیۡرَ مُشۡرِکِیۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخۡطَفُہُ الطَّیۡرُ اَوۡ تَہۡوِیۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ مَکَانٍ سَحِیۡقٍ ﴿۳۱﴾
اس حال میں کہ اللہ کے لیے ایک طرف ہونے والے ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہیں اورجو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا، پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں، یا اسے ہوا کسی دور جگہ میں گرا دیتی ہے۔ En
صرف ایک خدا کے ہو کر اس کے ساتھ شریک نہ ٹھیرا کر۔ اور جو شخص (کسی کو) خدا کے ساتھ شریک مقرر کرے تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اُچک لے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اُڑا کر پھینک دے
En
اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے۔ سنو! اللہ کے ساتھ شریک کرنے واﻻ گویا آسمان سے گر پڑا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پھینک دے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) ➊ {حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ: أَيْ كُوْنُوْا حُنَفَاءَ} یعنی تمام معبودوں سے ہٹ کر صرف اللہ کی خالص عبادت کرنے والے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے والے بنو۔ { حُنَفَآءَ } پر نصب { اجْتَنِبُوْا } کی ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۰ تا ۱۶۳)۔
➋ { وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ:} جو شخص توحید پر قائم ہے وہ بلندی اور عزو شرف میں گویا آسمان پر ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا اور اسی کا حکم مانتا ہے۔ جب اس نے شرک کیا تو اس بلند مقام سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے راستے ہی میں اچک لیں گے، یعنی وہ بتوں کے پجاریوں یا ان زندہ یا مردہ پیروں بزرگوں کے مجاوروں کے ہتھے چڑھ جائے گا جنھوں نے ان پیروں بزرگوں کو خدا بنا رکھا ہے، یا ہوا اسے بہت دور جگہ میں گرا دے گی، یعنی اگر کسی کے قابو نہ آیا تو اللہ سے تو بدظن ہو ہی چکا ہے، پھر اسے اس کی خواہش بہت دور گہری جگہ میں گرا دے گی، یعنی سب سے منکر ہو کر دہریہ ہو جائے گا۔ دونوں صورتوں میں اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 حنفاء حنیف کی جمع ہے جس کے مصدری معنی ہیں مائل ہونا ایک طرف ہونا، یک رخا ہونا یعنی شرک سے توحید کی طرف اور کفر و باطل سے اسلام اور دین حق کی طرف مائل ہوتے ہوئے۔ یا ایک طرف ہو کر خالص اللہ کی عبادت کرتے ہوئے۔ 31۔ 2 یعنی جس طرح بڑے پرندے، چھوٹے جانوروں کو نہایت تیزی سے جھپٹا مار کر انھیں نوچ کھاتے ہیں یا ہوائیں کسی کو دور دراز جگہوں پر پھینک دیں اور کسی کو اس کا سراغ نہ ملے۔ دونوں صورتوں میں تباہی اس کا مقدر ہے۔ اسی طرح وہ انسان جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، وہ سلامت فطرت اور طہارت نفس کے اعتبار سے طہر و صفا کی بلندی پر فائز ہوجاتا ہے اور جوں ہی وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے تو گویا اپنے کو بلندی سے پستی میں اور صفائی سے گندگی اور کیچڑ میں پھینک لیتا ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ اللہ کے لئے یکسو [48] ہو جاؤ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنایا تو وہ ایسے ہے جیسے وہ آسمان [49] سے گرے پھر اسے پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اسے کسی دور دراز مقام میں لے جا کے پھینک دے۔
[48] حنیف کا لغوی معنی:۔
حنفاء حنیف کی جمع ہے۔ اور حنیف بھی تمام باطل راہوں کو چھوڑ کر استقامت کی طرف مائل ہونا (مفردات القرآن) اور حنیف وہ شخص ہے جو تمام باطل راہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ کی طرف آجائے۔ اور وہ سیدھی راہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، عبادت و تصرفات میں کسی بھی چیز کو ذرہ برابر بھی شریک نہ سمجھا جائے۔
[49] شرک انسانیت کی توہین ہے اور اس کی مثال جیسے کوئی بلندی سے نیچے پٹخ دیا جائے:۔
انسان تمام مخلوقات سے اشرف و افضل پیدا کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس کے لئے سزاوار یہی بات ہے کہ وہ صرف اور صرف اپنے خالق و مالک کے سامنے سر جھکائے اسی سے اپنی حاجات طلب کرے اور اسی کی عبادت کرے۔ اب اگر وہ اللہ کو چھوڑ کر کسی بھی چیز کی عبادت کرے، اس کے آگے سر جھکائے یا حاجات روا کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اعلیٰ چیز اپنے سے کمتر درجہ کی چیز کے سامنے جھک گئی یا اگر وہ کسی انسان کے سامنے سر جھکائے تو بھی مطلب یہ ہو گا کہ وہ اپنے ہی جیسی محتاج مخلوق کے آگے جھک رہا ہے اور یہ بھی انسانیت کی تذلیل ہے۔ ایسے شخص کی مثال یہ ہے جیسے وہ توحید کی بلندیوں سے شرک کی پستیوں میں جا گرا۔ اور اب وہ اپنے جیسے دوسرے مشرکوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ جو اسے کبھی کسی در پر جانے کا مشورہ دیں گے کبھی کسی دوسرے کے آستانہ پر جانے کا۔ حتیٰ کہ یہ شکاری پرندے اسے مکمل طور پر گمراہ اور بے ایمان کر کے ہی چھوڑیں گے۔ اور اگر وہ ان سے کسی طرح بچ بھی گیا تو اللہ کے مقابلہ میں اس کی دینی خواہشات نفس ہی گمراہی کے گڑھے میں جا گرانے کو کافی ہیں۔ اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی بذات خود بھی شرک ہی کی ایک قسم ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے: ﴿اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَويٰهُ [43: 25] یعنی اگر وہ دوسرے مشرکوں کے ہتھے نہ بھی چڑھے تو اس کا اپنا نفس ہی اسے گمراہ کرنے کو کافی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بت پرستی کی گندگی سے دور رہو ٭٭
فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لیے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے۔ مکہ حج عمرہ بھی حرمات الٰہی ہیں۔ تمہارے لیے چوپائے سب حلال ہیں ہاں جو حرام تھے وہ تمہارے سامنے بیان ہو چکے ہیں۔ یہ جو مشرکوں نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام نام رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے نہیں بتلائے۔
اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے «الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:3]‏‏‏‏ مردار جانور بوقت ذبح بہا ہوا خون سور کا گوشت اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا ہوا، گلا گھٹا ہوا وغیرہ۔ تمہیں چاہے کہ بت پرستی کی گندگی سے دور رہو۔
«مِنَ» یہاں پر بیان جنس کے لیے ہے، اور جھوٹی بات سے بچو۔ اس آیت میں شرک کے ساتھ جھوٹ کو ملادیا جیسے آیت «قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:33]‏‏‏‏ یعنی ’ میرے رب نے گندے کاموں کو حرام کر دیا خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ۔ اور گناہ کو سرکشی کو اور بےعلمی کے ساتھ اللہ پر باتیں بنانے کو ‘۔ اسی میں جھوٹی گواہی بھی داخل ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاؤں؟ صحابہ نے کہا ارشاد ہو، فرمایا: { اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کی نافرمانی کرنا } پھر تکیہ سے الگ ہٹ کر فرمایا: { اور جھوٹ بولنا اور جھوٹی شہادت دینا }۔ اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب نہ فرماتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2654]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں کھڑے ہو کر تین بار فرمایا: { جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر کر دی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا فقرہ تلاوت فرمایا } }۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { صبح کی نماز کی بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر یہ فرمایا }۔ [سنن ابوداود:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے اللہ کے دین کو خلوص کے ساتھ تھام لو باطل سے ہٹ کر حق کی طرف آ جاؤ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والوں میں نہ بنو۔‏‏‏‏
پھر مشرک کی تباہی کی مثال بیان فرمائی کہ ’ جیسے کوئی آسمان سے گر پڑے پس یا تو اسے پرند ہی اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی ہلاکت کے دور دراز گڑھے میں پہنچا دے گی ‘۔ چنانچہ کافر کی روح کو لے کر جب فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور وہیں سے وہ پھینک دی جاتی ہے اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔
یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ سورۃ ابراہیم میں گزر چکی ہے سورۃ الانعام میں ان مشرکوں کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے «قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّـهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّـهِ هُوَ الْهُدَىٰ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:71]‏‏‏‏ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئیے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیز کو پکاریں کہ نہ وه ہم کو نفع پہنچائے اور نہ ہم کو نقصان پہنچائے اور کیا ہم الٹے پھر جائیں اس کے بعد کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کر دی ہے، جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطانوں نے کہیں جنگل میں بے راه کر دیا ہو اور وه بھٹکتا پھرتا ہو، اس کے کچھ ساتھی بھی ہوں کہ وه اس کو ٹھیک راستہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ۔ آپ کہہ دیجئیے کہ یقینی بات ہے کہ راه راست وه خاص اللہ ہی کی راه ہے اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے پورے مطیع ہو جائیں ‘۔ یہ اس کی مثل کے ہے جسے شیطان باؤلا بنا دے۔