ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 3

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ یَتَّبِعُ کُلَّ شَیۡطٰنٍ مَّرِیۡدٍ ۙ﴿۳﴾
اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں کچھ جانے بغیر جھگڑتا ہے اور پوری کوشش سے ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتا ہے۔ En
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا (کی شان) میں علم (ودانش) کے بغیر جھگڑتے اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرتے ہیں
En
بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وه بھی بے علمی کے ساتھ اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ …:} واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے جو آیات کے مطابق یہ ہے کہ لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے اور قیامت پر اور دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے پر یقین رکھتا ہے۔
➋ اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو قیامت کا منکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ جانے بغیر خواہ مخواہ جھگڑتا ہے اور کہتا ہے کہ جو لوگ ہڈیاں اور مٹی ہو چکے اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کیسے کرے گا؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے مقابلے میں اپنے قیاس اور عقل کے ڈھکوسلے پیش کرتا ہے اور اپنے اس جھگڑے میں پوری کوشش سے ہر سرکش شیطان یعنی ابلیس اور اس کی اولاد کے اور انسانوں میں سے کفر کے سرداروں کے پیچھے چلتا ہے، جو لوگوں کو حق سے روکتے ہیں۔ {تَبِعَ يَتْبَعُ} (ع) کا معنی پیروی کرنا ہے۔ { يَتَّبِعُ } باب افتعال میں مبالغہ ہے، یعنی پوری کوشش کرکے ہر شیطان کے پیچھے چلتا ہے۔ (بقاعی)
➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ علم کے ساتھ جھگڑا درست بلکہ لازم ہے، جیسا کہ فرمایا: «{اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ [النحل: ۱۲۵] اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 مثلًا یہ کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے، یا اس کی اولاد ہے وغیرہ وغیرہ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے [2] میں بغیر علم کے بحث کرتے اور [3] ہر سرکش شیطان کی اتباع کرنے لگتے ہیں۔
[2] اللہ اور اس کی صفات میں جھگڑا:۔
اس صورت کے آغاز میں جو قیامت کے بپا ہونے کے وقت کی دہشت کا ذکر کیا گیا ہے یہ بطور تمہید ہے اور اس سے اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا کر ان باتوں سے پرہیز کی تلقین کی جائے جو اللہ کے غضب کا موجب بنتی ہیں۔ جیسا کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے جملہ اختیارات و تصرفات کو اپنے بتوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ اس آیت میں فی اللہ سے مراد اللہ کی ہستی نہیں ہے۔ کیونکہ مشرکین اللہ کی ہستی کے قائل تھے۔ جھگڑا صرف اس بات میں تھا کہ مشرکین یہ کہتے تھے کہ ہمارے معبودوں کو بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے کچھ نہ کچھ اختیارات حاصل ہیں جب کہ وحی الٰہی ان کے اس عقیدے کی مکمل تردید کر دیتی تھی۔
[3] یعنی جو بھی شیطان یا شیطان سیرت انسان انھیں کسی شرکیہ فعل یا بدعی عقیدہ و عمل کی دعوت دیتا ہے تو اسے یوں تسلیم کرتے ہیں جیسے پہلے ہی اس کی اتباع کرنے کو تیار بیٹھے تھے۔ حالانکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ جو شخص بھی شیطان کی رفاقت کا دم بھرے گا اور اس کی اتباع کرے گا تو وہ اسے ایسا گمراہ کرے گا کہ اسے جہنم میں پہنچا کے چھوڑے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ازلی مردہ لوگ ٭٭
جو لوگ موت کے بعد کی زندگی کے منکر ہیں اور اللہ کو اس پر قادر نہیں مانتے اور فرمان الٰہی سے ہٹ کر نبیوں کی تابعداری کو چھوڑ کر سرکش انسانوں اور جنوں کی ماتحتی کرتے ہیں ان کی جناب باری تعالیٰ تردید فرما رہا ہے، ’ آپ دیکھیں گے کہ جتنے بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں وہ حق سے منہ پھیر لیتے ہیں، باطل کی اطاعت میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور گمراہ سرداروں کی مانتے ہیں وہ ازلی مردود ہے اپنی تقلید کرنے والوں کو وہ بہکاتا رہتا ہے اور آخرش انہیں عذابوں میں پھانس دیتا ہے جو جہنم کی جلانے والی آگ کے ہیں ‘۔
یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے اس خبیث نے کہا تھا کہ ذرا بتلاؤ تو اللہ تعالیٰ سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا اس کے اس سوال سے آسمان لرز اٹھا اور اس کی کھوپڑی اڑ گئی۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک یہودی نے ایسا ہی سوال کیا تھا اسی وقت آسمانی کڑاکے نے اسے ہلاک کردیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:20267:مرسل ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، وہ باطل دلائل کے ساتھ حق سے جھگڑتے ہیں، وہ باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جہالت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے ہیں، ان کے پاس کچھ بھی علم نہیں۔ ان کے علم کی انتہا یہ ہے کہ وہ ائمہ ضلال اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھتا ہے، ان کے خلاف سرکشی کرتا ہے۔ وہ اللہ اور رسول کی مخالفت کر کے ائمہ ضلال میں شامل ہو جاتا ہے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔
﴿ كُتِبَ عَلَیْهِ لکھ دیا گیا ہے اس پر۔ یعنی اس سرکش شیطان کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے ﴿ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ کہ جو اس کی پیروی کرے گا ﴿ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وہ اسے حق سے دور اور راہ راست سے بھٹکا دے گا ﴿ وَیَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ اور اسے جہنم کا راستہ دکھائے گا اور یہ یقینا ابلیس کا نائب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰؔبِ السَّعِیْرِ (فاطر:35؍6) وہ اپنے پیروکاروں کو صرف اس لیے اپنی راہ پر بلا رہا ہے تاکہ وہ بھی جہنمیوں میں شامل ہو جائیں۔ یہی وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتا ہے، خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہوتا ہے اور یہی وہ شخص ہے جو ہر سرکش شیطان کا مقلد ہے… اندھیرے ایک سے ایک بڑھ کر ہیں۔ اس گروہ میں اہل کفر اور اہل بدعت کی اکثریت شامل ہے کیونکہ ان کی اکثریت مقلدین پر مشتمل ہے جو بغیر علم کے جھگڑتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ومن الناس طائفةٌ وفرقةٌ؛ سلكوا طريق الضَّلال، وجعلوا يجادلون بالباطل الحقَّ؛ يريدون إحقاق الباطل وإبطال الحقِّ، والحال أنَّهم في غاية الجهل، ما عندهم من العلم شيء، وغاية ما عندهم تقليد أئمَّة الضَّلال من كلِّ شيطان مَريدٍ متمرِّدٍ على الله وعلى رسلِهِ معاندٍ لهم، قد شاقَّ الله ورسوله، وصار من الأئمة الذين يدعون إلى النار. {كُتِبَ عليه}؛ أي: قدِّر على هذا الشيطان المريد، {أنَّه مَنْ تولاَّه}؛ أي: اتَّبعه؛ {فأنَّه يضلُّه}: عن الحقِّ ويجنِّبه الصراط المستقيم؛ {ويهديهِ إلى عذابِ السَّعير}: وهذا نائبُ إبليس حقًّا؛ فإنَّ اللَّه قال عنه: {إنَّما يدعو حِزْبَهُ ليكونوا من أصحاب السَّعير}. فهذا الذي يجادلُ في الله قد جمع بين ضلالِهِ بنفسِهِ وتصدِّيه إلى إضلال الناس، وهو متَّبعٌ ومقلِّد لكلِّ شيطان مَريدٍ، ظلماتٌ بعضها فوق بعض، ويدخل في هذا جمهورُ أهل الكفر والبدع؛ فإنَّ أكثرهم مقلِّدةٌ يجادلون بغير علم.