تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو قیامت کا منکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ جانے بغیر خواہ مخواہ جھگڑتا ہے اور کہتا ہے کہ جو لوگ ہڈیاں اور مٹی ہو چکے اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کیسے کرے گا؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے مقابلے میں اپنے قیاس اور عقل کے ڈھکوسلے پیش کرتا ہے اور اپنے اس جھگڑے میں پوری کوشش سے ہر سرکش شیطان یعنی ابلیس اور اس کی اولاد کے اور انسانوں میں سے کفر کے سرداروں کے پیچھے چلتا ہے، جو لوگوں کو حق سے روکتے ہیں۔ {”تَبِعَ يَتْبَعُ“} (ع) کا معنی پیروی کرنا ہے۔ {” يَتَّبِعُ “} باب افتعال میں مبالغہ ہے، یعنی پوری کوشش کرکے ہر شیطان کے پیچھے چلتا ہے۔ (بقاعی)
➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ علم کے ساتھ جھگڑا درست بلکہ لازم ہے، جیسا کہ فرمایا: «{اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ }» [النحل: ۱۲۵] ”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[3] یعنی جو بھی شیطان یا شیطان سیرت انسان انھیں کسی شرکیہ فعل یا بدعی عقیدہ و عمل کی دعوت دیتا ہے تو اسے یوں تسلیم کرتے ہیں جیسے پہلے ہی اس کی اتباع کرنے کو تیار بیٹھے تھے۔ حالانکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ جو شخص بھی شیطان کی رفاقت کا دم بھرے گا اور اس کی اتباع کرے گا تو وہ اسے ایسا گمراہ کرے گا کہ اسے جہنم میں پہنچا کے چھوڑے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن الناس طائفةٌ وفرقةٌ؛ سلكوا طريق الضَّلال، وجعلوا يجادلون بالباطل الحقَّ؛ يريدون إحقاق الباطل وإبطال الحقِّ، والحال أنَّهم في غاية الجهل، ما عندهم من العلم شيء، وغاية ما عندهم تقليد أئمَّة الضَّلال من كلِّ شيطان مَريدٍ متمرِّدٍ على الله وعلى رسلِهِ معاندٍ لهم، قد شاقَّ الله ورسوله، وصار من الأئمة الذين يدعون إلى النار. {كُتِبَ عليه}؛ أي: قدِّر على هذا الشيطان المريد، {أنَّه مَنْ تولاَّه}؛ أي: اتَّبعه؛ {فأنَّه يضلُّه}: عن الحقِّ ويجنِّبه الصراط المستقيم؛ {ويهديهِ إلى عذابِ السَّعير}: وهذا نائبُ إبليس حقًّا؛ فإنَّ اللَّه قال عنه: {إنَّما يدعو حِزْبَهُ ليكونوا من أصحاب السَّعير}. فهذا الذي يجادلُ في الله قد جمع بين ضلالِهِ بنفسِهِ وتصدِّيه إلى إضلال الناس، وهو متَّبعٌ ومقلِّد لكلِّ شيطان مَريدٍ، ظلماتٌ بعضها فوق بعض، ويدخل في هذا جمهورُ أهل الكفر والبدع؛ فإنَّ أكثرهم مقلِّدةٌ يجادلون بغير علم.