ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 29

ثُمَّ لۡیَقۡضُوۡا تَفَثَہُمۡ وَ لۡیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمۡ وَ لۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ ﴿۲۹﴾
پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا خوب طواف کریں۔ En
پھر چاہیئے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) کا طواف کریں
En
پھر وه اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ { ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ: تَفَثٌ } کے دو معنی کیے گئے ہیں، ایک میل کچیل اور دوسرا مناسک حج۔ پہلے معنی کے مطابق ترجمہ ہو گا پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ احرام باندھنے کے ساتھ ہی سلے ہوئے کپڑے پہننا، بال یا ناخن کٹوانا اور خوشبو لگانا حرام ہو جاتا ہے۔ صرف دو چادریں ہوتی ہیں، سر ننگا ہوتا ہے اور زیادہ مل مل کر غسل نہیں کرنا ہوتا، اس مسافرانہ اور فقیرانہ حالت میں بدن پر میل کچیل چڑھ جاتا ہے۔ دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کو کنکر مارنے کے بعد بیوی سے مباشرت کے سوا احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پھر وہ سر کے بال منڈوائیں یا کتروائیں اور ناخن وغیرہ صاف کریں، پھر غسل کرکے سلے ہوئے کپڑے پہن لیں۔ اگر کسی نے قربانی کرنی ہو تو بہتر ہے احرام کھولنے سے پہلے کرلے، اگر احرام کھول کر قربانی کرے تب بھی کوئی حرج نہیں۔ احرام کھول کر، سلے ہوئے کپڑے پہن کر بیت اللہ کے طواف کے لیے روانہ ہو جائیں۔ اس طواف کا نام طواف زیارت اور طواف افاضہ ہے، یہ حج کا رکن ہے اور اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ اس طواف کے بعد احرام کی آخری پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے اور بیوی سے مباشرت حلال ہو جاتی ہے۔ دوسرے معنی کے مطابق ترجمہ ہو گا پھر وہ اپنے حج کے اعمال پورے کریں اور اپنی نذریں پوری کریں۔
➋ { وَ لْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ:} یعنی فریضۂ حج کے اعمال سے زائد کسی عمل کی نذر مانی ہو تو وہ پوری کریں، مثلاً زائد طواف یا مسجد حرام میں اعتکاف یا زائد قربانی یا نفل نماز یا صدقہ یا قرآن کی تلاوت وغیرہ۔
➌ {وَ لْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ: طَافَ يَطُوْفُ طَوَافًا } (ن) کسی چیز کے گرد پھرنا، چکر لگانا۔ { وَ لْيَطَّوَّفُوْا } باب تفعل سے ہے جو اصل میں {لِيَتَطَوَّفُوْا} تھا، حروف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی بیت اللہ کا خوب طواف کریں، فرض طواف کے علاوہ نفل طواف بھی کثرت سے کریں۔ یا باب تفعل سے طواف کی مشکل کی طرف اشارہ ہے، جو اس دن حاجیوں کے بے پناہ ہجوم کی وجہ سے پیش آتی ہے کہ اسے برداشت کرتے ہوئے کعبۃ اللہ کا طواف کریں۔
➍ { بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ:} عتیق کا معنی قدیم ہے۔ زمین پر اللہ کا پہلا تعمیر کیا جانے والا گھر ہونے کی وجہ سے اس کا نام {اَلْبَيْتُ الْعَتِيْقُ} ہے۔ عتیق کا دوسرا معنی آزاد ہے، یعنی اللہ کے سوا اس کا مالک کوئی نہیں جو اس میں آنے سے کسی کو روک سکے۔ یہ ہر آقا کے تسلط سے آزاد ہے۔ یہ مشرکین کا ظلم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے آنے والے مسلمانوں کو اس سے روکتے ہیں۔ آزاد کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس پر کبھی کوئی جابر مسلط نہیں ہو سکا، جیسا کہ اصحاب الفیل کا واقعہ معروف ہے۔ جو ظالم بھی اس گھر پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا اس کا یہی حال ہو گا۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَغْزُوْ جَيْشٌ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوْا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ] [بخاري، البیوع، باب ما ذکر في الأسواق: ۲۱۱۸] ایک لشکر کعبہ سے جنگ کے لیے آئے گا، جب وہ بیداء (مکہ کے باہر کھلے میدان) میں پہنچیں گے تو سب کے سب اول سے آخر تک زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوْجِ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ] [بخاري، الحج، باب قول اللّٰہ تعالٰی: { جعل اللّٰہ الکعبۃ… }: ۱۵۹۳] یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا۔ علاماتِ قیامت بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ] [بخاري، الحج، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «جعل اللّٰہ الکعبۃ…» : ۱۵۹۱] (قیامت کے قریب) ایک پتلی پنڈلیوں والا حبشی بیت اللہ کو گرا دے گا۔ مزید فرمایا: [كَأَنِّيْ بِهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَقْلُعُهَا حَجَرًا حَجَرًا] [بخاري، الحج، باب ھدم الکعبۃ: ۱۵۹۵] گویا میں وہ دیکھ رہا ہوں، کالا ٹیڑھے پاؤں والا ہے، اسے ایک ایک پتھر کر کے اکھیڑ رہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی 10 ذوالحجہ کو جمرہ کبریٰ (یا عقبہ) کو کنکریاں مارنے کے بعد حاجی تحلل اول (یا اصغر) حاصل ہوجاتا ہے، جس کے بعد وہ احرام کھول دیتا ہے اور بیوی سے مباشرت کے سوا، دیگر وہ تمام کام اس کے لئے جائز ہوجاتے ہیں، جو حالت احرام میں ممنوع ہوتے ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہی ہے کہ پھر وہ بالو، ناخنوں وغیرہ کو صاف کرلے، تیل خوشبو استعمال کرے اور سلے ہوئے کپڑے پہن لے وغیرہ۔ 29۔ 2 اگر کوئی مانی ہوئی ہو، جیسے لوگ مان لیتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے مقدس گھر کی زیارت نصیب فرمائی، تو ہم فلاں نیکی کا کام کریں گے۔ 29۔ 3 عتیق کے معنی قدیم کے ہیں مراد خانہ کعبہ ہے کہ حلق یا تقصیر کے بعد افاضہ کرلے، جسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں، اور یہ حج کا رکن ہے جو وقوف عرفہ اور جمرہ عقبہ (یا کبرٰی) کو کنکریاں مارنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ جب کہ طواف قدوم بعض کے نزدیک واجب اور بعض کے نزدیک سنت ہے اور طواف وداع سنت مؤکدہ (یا واجب) ہے۔ جو اکثر اہل علم کے نزدیک عذر سے ساقط ہوجاتا ہے، جیسے حائضہ عورت سے بالاتفاق ساقط ہوجاتا ہے (ایسر التفاسیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ پھر اپنا میل کچیل [41] دور کریں اور اپنی نذریں [42] پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف [43] کریں۔
[41] یعنی دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے کے بعد حج کرنے والے حضرات حجامت بنوائیں، ناخن کٹوائیں، نہائیں دھوئیں، اور راستے کی گرد اور میل کچیل دور کریں۔ اور احرام کھول کر عام لباس پہن لیں۔ اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ احرام کھولنے کے بعد احرام کی دوسری پابندیاں تو ختم ہو جاتی ہیں مگر اپنی بیوی کے پاس جانا اس وقت تک جائز نہیں ہوتا جب تک آدمی طواف افاضہ نہ کر لے۔ جس کا ذکر اسی آیت کے آخری جملہ میں ہے۔
[42] یعنی جو بھی نذر کسی حاجی نے اس موقع کے لئے مانی ہو۔ اور بعض کے نزدیک نذر سے مراد وہی قربانی یا قربانیاں ہیں جن کا حاجی نے ارادہ کر رکھا ہو۔
[43] بیت العتیق کے معانی:۔
عتیق کا ایک معنی ”آزاد“ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس گھر پر کسی ظالم اور جابر بادشاہ کا قبضہ نہیں ہو سکتا اور ایسے حملہ آوروں کا وہی حشر ہو گا جو اصحاب الفیل کا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ یاجوج ماجوج کی یورش کے بعد بھی تا قیامت بیت اللہ کا طواف اور حج آزادانہ طور پر ہوتا رہے گا۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ کا نام بیت العتیق اس لئے ہوا کہ اس پر کبھی کوئی ظالم غالب نہیں ہوا“ [ترمذي، ابواب التفسير]
قیامت کے نزدیک کعبہ کو گرانے والا:۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ (قیامت کے قریب) ایک لشکر کعبہ پر چڑھ آئے گا۔ جب وہ بیداء کے کھلے میدان میں پہنچیں گے تو سب کے سب اول سے آخر تک زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے“ [بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب ماذکر الاسواق]
البتہ قیامت کے بالکل نزدیک ایک چھوٹی پنڈلیوں والا کالا حبشی کعبہ کو گرانے آئے گا اور وہ اسے گرا دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں کعبہ کے گرانے والے کو دیکھ رہا ہوں، ایک کالا پھڈا (قدم کے اگلے حصہ کو قریب اور ایڑیوں کو دور کر کے چلنے والا آدمی) اس کا ایک ایک پتھر اکھیڑ رہا ہے“ [بخاری، کتاب المناسک، باب حرم الکعبہ]
اور عتیق کا دوسرا معنی ہر وہ چیز ہے جس کے قدیم ہونے کے باوجود اس کی شرافت، نجابت اور احترام میں کوئی فرق نہ آئے۔ زندہ جاوید۔ اسی لحاظ سے کعبہ کو بیت العتیق کہتے ہیں۔ دس ذی الحجہ کو رمی الجمار، قربانی، غسل اور احرام کھولنے کے بعد بیت اللہ کا طواف کرنا ضروری ہے اور اس طواف کو طواف افاضہ یا طواف زیارت کہتے ہیں اور یہ طواف حج کا رکن ہے اور واجب ہے۔ احرام کی پوری پابندیاں اس طواف کے بعد ہی ختم ہوتی ہیں۔ اور اگر طواف کرنے والا بیمار یا لاغر ہو تو سوار ہو کر بھی طواف کیا جا سکتا ہے چنانچہ حج اور قربانی کے کچھ احکام تو سابقہ چار آیات میں مذکور ہو چکے اور کچھ آئندہ آیات میں بتلائے جا رہے ہیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہاں کچھ متعلقہ مسائل اور احادیث بھی درج کر دی جائیں اور وہ حسب ذیل ہیں:
حج اور قربانی کے متعلق احادیث اور مسائل:۔
1۔ براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن خطبہ کے دوران فرمایا ” آج کے دن ہمیں پہلے نماز ادا کرنا چاہئے۔ پھر واپس جا کر قربانی کرنا چاہئے۔ جس نے اس طرح کیا وہ ہماری سنت پر چلا اور جس نے قربانی (نماز سے پہلے) کر لی۔ اس کی قربانی ادا نہیں ہوئی بلکہ اس نے اپنے گھر والوں کے لئے گوشت کی خاطر بکری کاٹی“ اس پر ابو بردہؓ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں نے تو نماز سے پہلے ہی ذبح کر لیا اور اب میرے پاس کوئی بکری نہیں۔ صرف ایک جذعہ (پٹھیا) ہے جو مسنہ (دوندی یا دو سال کی) بہتر ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اب وہ قربانی کر لو اور تمہارے بعد کسی کو ایسا کرنا کافی اور درست نہ ہو گا“ [بخاری۔ کتاب الاضاحی۔ باب الذبح بعد الصلوۃ]
اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ قربانی نماز عید کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ دوسرے اگر بکری قربانی دینا ہو تو اس کا مسنہ ہونا ضروری ہے۔
2۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کئے۔ میں نے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں ان کے منہ کے ایک جانب رکھے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے تھے۔ [بخاری۔ کتاب الاضاحی۔ باب من ذبح الاضاحی بیدہ]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ: ➊ قربانی کا جانور خوبصورت اور موٹا تازہ ہونا چاہئے۔ ➋ ایک شخص ایک سے زیادہ قربانیاں بھی دے سکتا ہے۔ ➌ جانور کو لٹا کر اور اسے خوب قابو کر کے ذبح کرنا چاہئے۔ ➍ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔ ➎ اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے کرنا افضل ہے۔
3۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: ہم منیٰ میں تھے کہ گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے پوچھا: ”یہ کہاں سے آیا ہے“ صحابہ نے عرض کیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کی طرف سے ایک گائے قربانی کی ہے“ [بخاری۔ کتاب الاضاحی۔ باب الاضحیة للمسافر و النساء]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ➊ صاحب استطاعت کو اپنے گھر والوں کی طرف سے الگ قربانی دینا سنت ہے۔ ➋ حج کرنے والوں کو قربانی منیٰ کے مقام پر کرنا چاہئے۔
4۔ حضرت نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اسی مذبح میں قربانی ذبح کیا کرتے تھے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے [بخاری۔ کتاب الاضاحی۔ باب الاضحیٰ والنحر بالمصلی]
یعنی منیٰ کا سارا علاقہ مذبح نہیں۔ بلکہ قربانی مذبح خانہ میں جا کر کرنا چاہئے۔
5۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج (10 ھ) کی کیفیت بیان کرتے ہوئے بتلاتے ہیں کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نحر کی جگہ آئے تو تریسٹھ (63) اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کئے باقی سینتیس (37) حضرت علیؓ کو دیئے جو انہوں نے نحر کئے۔ اور ان کو اپنی قربانی میں شریک کیا“ [مسلم۔ کتاب الحج۔ باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ: ➊ دو آدمی مل کر بھی قربانی کر سکتے ہیں۔ ➋ قربانی جتنی زیادہ سے زیادہ کوئی دے سکتا ہو، دینا چاہئے۔
6۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو انسان کے عملوں میں خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل محبوب نہیں ہے“ [ترمذی۔ مع تحفۃ الاحوذی ج 2 ص 352]
7۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال رہے اور ہمیشہ قربانی کرتے رہے۔ [ترمذي حواله ايضاً]
8۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص استطاعت رکھتا ہو۔ پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے“ [ابن ماجہ، کتاب الاضاحی۔ اردو ص 381 مطبوعہ مکتبہ سعودیہ، کراچی]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی اگرچہ ہر مسلمان پر واجب نہیں تاہم صاحب استطاعت کے لئے سنت مؤکدہ ضرور ہے۔
9۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسنۃ (بکری وغیرہ جو ایک سال کی ہو کر دوسرے میں لگی ہو) کی قربانی کرو۔ البتہ جب ایسا جانور نہ مل رہا ہو۔ تو جذعہ دنبہ (جو چھ ماہ کا ہو کر ساتویں میں لگا ہو) کر لو۔ [مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ باب سن الاضحیہ]
10۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع) میں سو اونٹ قربانی کئے اور مجھے حکم دیا کہ ان کا گوشت بانٹ دوں۔ میں نے سارا گوشت بانٹ دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: ان کی جھولیں بھی بانٹ دو میں نے وہ بھی بانٹ دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کھالیں بانٹنے کا حکم فرمایا، میں نے وہ بھی بانٹ دیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی بھی چیز قصاب کو مزدوری میں نہ دو۔ [بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب لایعطی الجزار من الہدی شیئاً]
11۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ عید الاضحیٰ کے دن عید میں شریک ہونے کے لئے دیہات سے (محتاج) لوگ آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قربانی کے گوشت سے تین دن تک کے لئے رکھ لو۔ باقی خیرات کر دو۔ (تاکہ محتاجوں کو بھی کھانے کو گوشت مل جائے) بعد میں لوگوں نے عرض کیا کہ: ہم اپنی قربانیوں کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے اور ان میں چربی پگھلاتے تھے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو اب کیا ہوا؟“ صحابہ نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں ان محتاجوں سے منع کیا تھا جو اس وقت موقع پر آگئے تھے۔ اب تم کھاؤ بھی، صدقہ بھی کرو اور رکھ بھی سکتے ہو“ [مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ باب النھی عن اکل لحوم الاضاحی بعد ثلاث و نسخہ]
12۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قربانی کا گوشت توشہ کر کے مدینہ تک آئے۔ ابو سفیان نے کہا اس حدیث میں قربانی سے مراد ہدی (مکہ میں کی ہوئی قربانی) ہے۔ [بخاری، کتاب الاضاحی۔ باب مایؤکل من لحوم الاضاحی وما یتزود منہا]
13۔ زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمرؓ کو دیکھا۔ وہ ایک شخص کے پاس آئے جس نے نحر کرنے کے لئے اپنا اونٹ بٹھایا تھا۔ عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا: ”اس اونٹ کو کھڑا کر اور پاؤں باندھ دے (پھرنحر کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سنت ہے۔“ [بخاری۔ کتاب المناسک۔ نحرالابل مقیدۃ]
14۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”اونٹ اور گائے (کی قربانی) میں سات سات آدمی شریک ہو جائیں“ [مسلم۔ کتاب الحج باب جواز الاشتراک فی الھدی]
15۔ حضرت رافع بن خدیجؓ کہتے ہیں کہ ہم تہامہ کے علاقہ میں ذو الحلیفہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ وہاں ہمیں بکریاں اور اونٹ ملے ہم نے جلدی کر کے گوشت کاٹ کر ہنڈیاں چڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ ہنڈیاں اوندھا دینے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس بکریاں ایک اونٹ کے برابر رکھیں۔ [مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ جواز الذبح بکل ما انہر الدم الا السن....]
اس حدیث کو امام مسلم، کتاب الاضاحی میں درج کر کے یہ اجتہاد کیا ہے کہ اونٹ کی قربانی میں دس آدمی تک شریک ہو سکتے ہیں جبکہ گائے، بیل میں صرف سات آدمی ہی شریک ہو سکتے ہیں۔
16۔ عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حالت احرام میں شکار کرے اور اسے اس کا بدلہ دینا ہو تو اس بدلہ کے جانور یا نذر کے جانور میں سے کچھ نہ کھائے۔ باقی سب میں سے کھا سکتا ہے۔ [بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب ما یا کل من البدن]
17۔
قربانی کے جانور پر سوار ہونا تعظیم کے منافی نہیں:۔
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اونٹ ہانک رہا تھا (اور خود پیدل چل رہا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا“ وہ کہنے لگا: ”یہ قربانی کا جانور ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ” اس پر سوار ہو جا“ وہ پھر کہنے لگا: ” یہ قربانی کا جانور ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار اسے فرمایا: ”ارے کم بخت اس پر سوار ہو جا“ [بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب رکوب البدن]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت قربانی کے جانور پر سوار ہونا شعائر اللہ کی تعظیم کے منافی نہیں۔
18۔
پیدل حج کرنا کار ثواب نہیں:۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دونوں بیٹوں کا سہارا لئے چل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”اس نے پیدل کعبہ کو جانے کی منت مانی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ کو اس بات کی حاجت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو تکلیف دے“ اور اسے حکم دیا کہ وہ سوار ہو جائے۔ [بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب من نذر المشیۃ الی الکبعة]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیدل سفر حج کار ثواب نہیں بلکہ مکروہ کام ہے اور اگر کسی نے ایسی نیت کی بھی ہو تو اسے پورا نہ کرنا چاہئے۔
19۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مزدلفہ سے منیٰ میں آئے تو پہلے جمرہ عقبہ پر گئے اور کنکریاں ماریں۔ پھر اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے۔ پھر قربانی کی۔ پھر حجام سے سر مونڈنے کو کہا پہلے داہنی طرف سے پھر بائیں سے پھر وہ بال آپ نے صحابہ کو دے دیئے۔ [مسلم۔ کتاب الحج۔ باب ان السنہ یوم النحر ان یرمی ثم ینحر]
یوم النحر کے کاموں کی از روئے سنت ترتیب یہ ہے پہلے رمی (2) بعد میں قربانی (3) پھر حجامت اور احرام کھولنا اور (4) طواف افاضہ یا طوائف الزیارۃ تاہم ان کاموں میں تقدیم و تاخیر ہو جائے تو کچھ حرج نہیں، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:
20۔
یوم النحر: مناسک حج میں تقدیم و تاخیر:۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے رمی سے پہلے طواف الزیارۃ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حرج نہیں اور ایک شخص نے کہا میں نے شام ہو جانے کے بعد رمی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ حرج نہیں۔ ایک نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرج نہیں۔ [بخاری۔ کتاب المناسک، باب الذبح قبل الحلق]
21۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یا اللہ سر منڈانے والوں کو بخش دے“ لوگوں نے عرض کیا: ”اور بال کترانے والوں کو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”یا اللہ بال منڈانے والوں کو بخش دے“ لوگوں نے پھر کہا، اور بال کترانے والوں کو؟ غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار سر منڈانے والوں کے لئے بخشش طلب فرمائی اور چوتھی بار فرمایا ”اور بال کترانے والوں کو بھی“ [بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب الحلق والتقصیر عند الاحلال]
22۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ (قربانی کرنے تک) نہ حجامت بنائے اور نہ ناخن کاٹے“ [مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ باب النہی من دخل علیہم شر ذی الحجۃ]
23۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا اور دسویں تاریخ کو ہی طواف الزیارۃ کر لیا۔ پھر ام المومنین حضرت صفیہ کو حیض آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صحبت کرنا چاہی۔ تو میں نے عرض کیا ”یا رسول اللہ! وہ تو حائضہ ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا اس نے ہمیں یہاں روک دیا؟“ لوگوں نے کہا ”وہ دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کر چکی ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر کیا ہے چلو نکلو“ [بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب الزیارۃ یوم النحر]
اس حدیث سے طواف الزیارۃ کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ جب تک حاجی طواف الزیارۃ نہ کر لے اس کا حج مکمل نہیں ہوتا۔ نہ وہاں مکہ سے رخصت ہو سکتا ہے۔
24۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے دوران ارشاد فرمایا: ”لوگو! تم پر حج فرض ہے۔ لہٰذا حج کرو“ ایک شخص (اقرع بن حابس) کہنے لگا: کیا ہر سال یا رسول اللہ!؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس شخص نے تین بار یہی سوال کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج فرض ہو جاتا اور تم یہ حکم بجا نہ لا سکتے۔ لہٰذا مجھے وہاں چھوڑ دو جہاں میں تم کو چھوڑ دوں (بات کرنا بند کر دوں) کیونکہ تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے اپنے نبیوں سے بہت سوال کئے اور ان سے بہت اختلاف کرتے رہے۔ تو جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جتنا ہو سکے اسے بجا لاؤ۔ اور جب میں کسی بات سے منع کروں تو اس سے رک جاؤ“ [مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب توقیرہ صلی اللہ علیہ وسلم وترک اکثار سوالہ عما لا ضرورۃالیہ، الخ، ابن ماجہ باب اتباع السنہ آخری حدیث]
قربانی کو مالی ضیاع سمجھنے والے مسلمان:۔
حج اور بالخصوص قربانی کے مسائل کی یہ تفصیل اس لیے دینا پڑی کہ مسلمانوں میں سے ہی کچھ لوگ ایسے پیدا ہو چکے ہیں۔ جو کہ قربانی کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ کبھی وہ یہ کہتے ہیں کہ قربانی صرف مکہ میں ہے اور حاجیوں کے لئے ہے اور ہم لوگ جو ہر شہر اور ہر بستی میں قربانیاں کرتے ہیں ان کا کوئی حکم نہیں۔ کہیں وہ اسے گوشت اور مالی ضیاع سے تعبیر کرتے ہیں اور کبھی یہ درد اٹھنے لگتا ہے کہ جتنی رقم قربانیوں پر خرچ کی جاتی ہے اتنی رقم سے محتاجوں کے لئے کئی رہائشی منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ اور کبھی کہتے ہیں کہ جتنی رسم کسی قربانی پر صرف ہوتی ہے اتنی رقم صدقہ میں صرف کر دی جائے تو بہتر ہے۔ مندرجہ بالا احادیث میں ان کی ان سب باتوں کا جواب اور تردید موجود ہے۔ ایسے لوگ در اصل مغربیت اور مغربی تہذیب سے مرعوب، اس کے شیدائی اور کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اگر قربانی سے دگنی رقم سینما بینی اور اپنی عیاشیوں پر خرچ کر دیں تو وہ ان کے نزدیک مالی ضیاع نہیں ہوتا۔ لیکن قربانی میں انھیں کئی طرح کے نقصانات نظر آنے لگتے ہیں۔ بہرحال ان کے سب اقوال ''خوئے بد را بہانہ بسیار“ کا مصداق ہوتے ہیں۔ انھیں محتاجوں اور فقیروں سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی اور اگر بالفرض حکومت کوئی ایسا منصوبہ بنا بھی لے تو وہ خود کبھی اس فنڈ میں کچھ دینا گوارا نہ کریں گے۔ ان کی اصل غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ قربانی نہ کرنے کے باوجود بھی وہ مسلمانوں کی نظروں میں بخیل اور ’چور‘ نہ سمجھے جائیں۔ (ایسے لوگوں کے دلائل کی تفصیل اور ان کی تردید کے لئے دیکھئے میری تصنیف آئینہ پرویزیت حصہ سوم)

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

احکام حج ٭٭
پھر وہ احرام کھول ڈالے سر منڈوالیں کپڑے پہن لیں، ناخن کٹوا ڈالیں، وغیرہ احکام حج پورے کر لیں۔ نذریں پوری کر لیں حج کی قربانی کی اور جو ہو۔ پس جو شخص حج کے لیے نکلا اس کے ذمے طواف بیت اللہ، طواف صفا مروہ، عرفات کے میدان میں جانا، مزدلفے کی حاضری، شیطانوں کو کنکر مارنا وغیرہ سب کچھ لازم ہے۔ ان تمام احکام کو پورے کریں اور صحیح طور پر بجا لائیں اور بیت اللہ شریف کا طواف کریں جو یوم النحر کو واجب ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { حج کا آخری کام طواف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس ذی الحجہ کو منٰی کی طرف واپس آئے تو سب سے پہلے شیطانوں کو سات سات کنکریاں ماریں۔ پھر قربانی کی، پھر سر منڈوایا، پھر لوٹ کر بیت اللہ آ کر طواف بیت اللہ کیا }۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ { لوگوں کو حکم کیا گیا ہے کہ ان کا آخری کام طواف بیت اللہ ہو۔ ہاں البتہ حائضہ عورتوں کو رعایت کر دی گئی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1755]‏‏‏‏
بیت العتیق کے لفظ سے استدلال کر کے فرمایا گیا ہے کہ طواف کرنے والے کو حطیم بھی اپنے طواف کے اندر لے لینا چاہے۔ اس لیے کہ وہ بھی اصل بیت اللہ شریف میں سے ہے ابراہیم علیہ السلام کی بنا میں یہ داخل تھا گو قریش نے نیا بناتے وقت اسے باہر چھوڑ دیا لیکن اس کی وجہ بھی خرچ کی کمی تھی نہ کہ اور کچھ۔
{ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے پیچھے سے طواف کیا اور فرمایا بھی دیا کہ { حطیم بیت اللہ شریف میں داخل ہے }۔ اور آپ نے دونوں شامی رکنوں کو ہاتھ نہیں لگایا نہ بوسہ دیا کیونکہ وہ بناء ابراہیمی کے مطابق پورے نہیں۔ اس آیت کے اترنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے پیچھے سے طواف کیا }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:41/6:]‏‏‏‏
پہلے اس طرح کی عمارت تھی کہ یہ اندر تھا اسی لیے اسے پرانا گھر کہا گیا یہی سب سے پہلا اللہ کا گھر ہے اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ طوفان نوح میں سلامت رہا۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ کوئی سرکش اس پر غالب نہیں آسکا۔ یہ ان سب کی دست برد سے آزاد ہے جس نے بھی اس سے برا قصد کیا وہ تباہ ہوا۔ اللہ نے اسے سرکشوں کے تسلط سے آزاد کر لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3170،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ترمذی میں اسی طرح کی ایک مرفوع حدیث بھی ہے جو حسن غریب ہے اور ایک اور سند سے مرسلاً بھی مروی ہے۔