اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ؕ وَ لِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۲۳﴾
بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، انھیں اس میں کچھ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی بھی اور ان کا لباس اس میں ریشم ہو گا۔
En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہیں ہیں۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی۔ اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا
En
ایمان والوں اور نیک کام والوں کو اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا جن کے درختوں تلے سے نہریں لہریں لے رہی ہیں، جہاں وه سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سچے موتی بھی۔ وہاں ان کا لباس خالص ریشم ہوگا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 23) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …: ” يُحَلَّوْنَ “ ”حَلَّي يُحَلِّيْ تَحْلِيَةً“} (تفعیل)سے مضارع مجہول ہے۔ اسی سے {”حِلْيَةٌ“} بمعنی زیور ہے۔ {” اَسَاوِرَ “ ”أَسْوِرَةٌ“} کی جمع ہے جو خود {” سِوَارٌ “} کی جمع ہے۔ جمع الجمع ان کنگنوں کی کثرت اور حسن و خوبی کے بیان کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ {” مِنْ اَسَاوِرَ “} میں {” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی کچھ کنگن سونے اور موتیوں کے ہوں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو تم نہیں جانتے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ }» [السجدۃ: ۱۷] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ توحید ربانی کے بارے میں باہمی معرکہ آرا گروہوں میں سے {” الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} کے عذاب کے ذکر کے بعد {” الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ثواب کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابتدا اس کی حرف تاکید {” اِنَّ “} سے ہے اور کفار کے ہر عذاب کے مقابلے میں اہل ایمان کے لیے کسی نہ کسی نعمت کا ذکر ہے۔چنانچہ {” يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “، ” كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا “} کے مقابلے میں ہے۔ {” تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ “، ”يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ “} کے مقابلے میں ہے۔ {” وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ “، ” قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ “} کے مقابلے میں ہے۔ {” يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ “، ” وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ “} کے مقابلے میں ہے اور {” وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ “، ” وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ “} کے مقابلے میں ہے، کیونکہ جنتیوں کے لیے طیب بات ”سلام“ ہے تو جہنمیوں کے لیے بری بات ”جلنے کا عذاب چکھو“ ہے۔
➋ { اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا:} عورتوں کے لیے سونے اور موتیوں کے زیور تو معروف بات ہے، رہے مرد تو گزشتہ زمانے میں بادشاہ اور بڑے بڑے رئیس زینت اور اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لیے کنگن اور موتی پہنا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اہل ایمان کو جنت میں شاہانہ لباس پہنایا جائے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ کہف (۳۱)۔
➌ { وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ: ” حَرِيْرٌ “} سے مراد خالص ریشم ہے، جس کا استعمال مردوں کے لیے دنیا میں حرام ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ لَبِسَ الْحَرِيْرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ] [بخاري، اللباس، باب لبس الحریر للرجال…:۵۸۳۲۔ مسلم:۷۳]”جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں ہر گز نہیں پہنے گا۔“
➋ { اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا:} عورتوں کے لیے سونے اور موتیوں کے زیور تو معروف بات ہے، رہے مرد تو گزشتہ زمانے میں بادشاہ اور بڑے بڑے رئیس زینت اور اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لیے کنگن اور موتی پہنا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اہل ایمان کو جنت میں شاہانہ لباس پہنایا جائے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ کہف (۳۱)۔
➌ { وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ: ” حَرِيْرٌ “} سے مراد خالص ریشم ہے، جس کا استعمال مردوں کے لیے دنیا میں حرام ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ لَبِسَ الْحَرِيْرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ] [بخاري، اللباس، باب لبس الحریر للرجال…:۵۸۳۲۔ مسلم:۷۳]”جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں ہر گز نہیں پہنے گا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23۔ 1 جہنمیوں کے مقابلے میں یہ اہل جنت کا اور ان نعمتوں کا تذکرہ ہے جو اہل ایمان کو مہیا کی جائیں گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے اللہ تعالیٰ یقیناً انھیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہاں انھیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ [28] کیا جائے گا اور وہاں ان کا لباس ریشم کا ہو گا۔
[28] اہل جنت کا لباس اور دوسری نعمتیں:۔
عہد نبوی میں یہ رواج عام تھا کہ شاہان وقت اور بڑے بڑے رئیس لوگ سونے اور جواہرات کے مرصع زیور پہنتے تھے۔ حتیٰ کہ ہمارے زمانہ میں بھی ہندوستان کے مہاراجے اور نواب ایسے زیور اور ریشمی لباس پہنتے ہیں۔ یہاں یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اہل جنت کو وہاں ہر وہ راحت آرام اور عیش و عشرت حاصل ہو گی جس کا کوئی انسان تصور کر سکتا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کی حقیقت کو سمجھنا بھی اس وقت نا ممکن ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ”ایسی ہوں گی جنہیں نہ کسی آنکھ نے آج تک دیکھا، نہ کانوں نے سنا۔ حتیٰ کہ کسی کے دل میں ان کا خیال تک بھی نہیں آسکتا“ [مسلم۔ كتاب الجنه و صفه نعيمها و اهلها]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جنت کے محلات و باغات ٭٭
اوپر دوزخیوں کا، ان کی سزاؤں کا، ان کے طوق و زنجیر کا، ان کے جلنے جھلسنے کا، ان کے آگ کے لباس کا ذکر کر کے اب جنت کا، وہاں کی نعمتوں کا اور وہاں کے رہنے والوں کا حال بیان فرما رہا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی سزاؤں سے بچائے اور جزاؤں سے نوازے آمین!
فرماتا ہے ’ ایمان اور نیک عمل کے بدلے جنت مل گئی جہاں کے محلات اور باغات کے چاروں طرف پانی کی نہریں لہریں مار رہی ہونگی جہاں چاہیں گے وہیں خودبخود ان کا رخ ہو جایا کرے گا سونے کے زیوروں سے سجے ہوئے ہوں گے موتیوں میں تل رہے ہوں گے ‘۔
متفق علیہ حدیث میں ہے { مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:250]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک فرشتہ ہے کہ جس کا نام بھی مجھے معلوم ہے وہ اپنی پیدائش سے مومنوں کے لیے زیور بنا رہا ہے اور قیامت تک اسی کام میں رہے گا اگر ان میں سے ایک کنگن بھی دنیا میں ظاہر ہو جائے تو سورج کی روشنی اسی طرح جاتی رہے جس طرح اس کے نکلنے سے چاند کی روشنی جاتی رہتی ہے۔
دوزخیوں کے کپڑوں کا ذکر اوپر ہو چکا ہے جنتیوں کے کپڑوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ نرم چمکیلے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے جسے سورۃ الدہر میں ہے کہ «عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا نَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [76-الانسان:،20،21] ’ ان کے لباس سبزریشمی ہوں گے چاندی کے کنگن ہوں گے اور شراب طہور کے جام پر جام پی رہے ہونگے۔ یہ ہے تمہاری جزا اور یہ تمہارے بار اور سعی کا نتیجہ ‘۔
صحیح حدیث میں ہے { ریشم تم نہ پہنو جو اسے دنیا میں پہن لے گا وہ آخرت کے دن اس سے محروم رہے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5830]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو اس دن ریشمی لباس سے محروم رہا وہ جنت میں نہ جائے گا کیونکہ جنت والوں کا یہی لباس ہے ان کو پاک بات سکھا دی گئی۔
فرماتا ہے ’ ایمان اور نیک عمل کے بدلے جنت مل گئی جہاں کے محلات اور باغات کے چاروں طرف پانی کی نہریں لہریں مار رہی ہونگی جہاں چاہیں گے وہیں خودبخود ان کا رخ ہو جایا کرے گا سونے کے زیوروں سے سجے ہوئے ہوں گے موتیوں میں تل رہے ہوں گے ‘۔
متفق علیہ حدیث میں ہے { مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:250]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک فرشتہ ہے کہ جس کا نام بھی مجھے معلوم ہے وہ اپنی پیدائش سے مومنوں کے لیے زیور بنا رہا ہے اور قیامت تک اسی کام میں رہے گا اگر ان میں سے ایک کنگن بھی دنیا میں ظاہر ہو جائے تو سورج کی روشنی اسی طرح جاتی رہے جس طرح اس کے نکلنے سے چاند کی روشنی جاتی رہتی ہے۔
دوزخیوں کے کپڑوں کا ذکر اوپر ہو چکا ہے جنتیوں کے کپڑوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ نرم چمکیلے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے جسے سورۃ الدہر میں ہے کہ «عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا نَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا» ۱؎ [76-الانسان:،20،21] ’ ان کے لباس سبزریشمی ہوں گے چاندی کے کنگن ہوں گے اور شراب طہور کے جام پر جام پی رہے ہونگے۔ یہ ہے تمہاری جزا اور یہ تمہارے بار اور سعی کا نتیجہ ‘۔
صحیح حدیث میں ہے { ریشم تم نہ پہنو جو اسے دنیا میں پہن لے گا وہ آخرت کے دن اس سے محروم رہے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5830]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو اس دن ریشمی لباس سے محروم رہا وہ جنت میں نہ جائے گا کیونکہ جنت والوں کا یہی لباس ہے ان کو پاک بات سکھا دی گئی۔
جیسے فرمان ہیں آیت «وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ» ۱؎ [14-ابراھیم:23] ’ ایماندار بحکم الٰہی جنت میں جائیں گے جہاں ان کا تحفہ آپس میں سلام ہو گا ‘۔
اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:75] ’ ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور سلام کر کے کہیں گے تمہارے صبر کا کیا ہی اچھا انجام ہوا ‘۔
اور جگہ فرمایا آیت «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25] ’ وہاں کوئی لغو بات اور رنج دینے والی بات نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔
پس انہیں وہ مکان دے دیا گیا جہاں صرف دل لبھانے والی آوازیں اور سلام ہی سلام سنتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے وہاں مبارک سلامت کی آوازیں ہی آئیں گی برخلاف دوزخیوں کے کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ سنتے ہیں، جھڑکے جاتے ہیں سرزنش کی جا رہی ہے کہ ایسے عذاب برداشت کرو وغیرہ۔ اور انہیں وہ جگہ دی گئی کہ یہ نہال نہال ہو گئے اور بے ساختہ ان کی زبانوں سے اللہ کی حمد ادا ہونے لگی۔ کیونکہ بےشمار بے نظیر رحمتیں پالیں۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { جیسے بے قصد و بے تکلف سانس آتا جاتا رہتا ہے اسی طرح بہشتیوں کو تسبیح وحمد کا الہام ہو گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835]
بعض مفسیریں کا قول ہے کہ طیب کلام سے مراد قرآن کریم ہے اور « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » ہے حدیث کے ورد اور اذکار ہیں اور صراط حمید سے مراد اسلامی راستہ ہے یہ تفسیر بھی پہلی تفسیر کے خلاف نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:75] ’ ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور سلام کر کے کہیں گے تمہارے صبر کا کیا ہی اچھا انجام ہوا ‘۔
اور جگہ فرمایا آیت «لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا» ۱؎ [56-الواقعة:26،25] ’ وہاں کوئی لغو بات اور رنج دینے والی بات نہ سنیں گے بجز سلام اور سلامتی کے ‘۔
پس انہیں وہ مکان دے دیا گیا جہاں صرف دل لبھانے والی آوازیں اور سلام ہی سلام سنتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے وہاں مبارک سلامت کی آوازیں ہی آئیں گی برخلاف دوزخیوں کے کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ سنتے ہیں، جھڑکے جاتے ہیں سرزنش کی جا رہی ہے کہ ایسے عذاب برداشت کرو وغیرہ۔ اور انہیں وہ جگہ دی گئی کہ یہ نہال نہال ہو گئے اور بے ساختہ ان کی زبانوں سے اللہ کی حمد ادا ہونے لگی۔ کیونکہ بےشمار بے نظیر رحمتیں پالیں۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { جیسے بے قصد و بے تکلف سانس آتا جاتا رہتا ہے اسی طرح بہشتیوں کو تسبیح وحمد کا الہام ہو گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835]
بعض مفسیریں کا قول ہے کہ طیب کلام سے مراد قرآن کریم ہے اور « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » ہے حدیث کے ورد اور اذکار ہیں اور صراط حمید سے مراد اسلامی راستہ ہے یہ تفسیر بھی پہلی تفسیر کے خلاف نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔