یَوۡمَ تَرَوۡنَہَا تَذۡہَلُ کُلُّ مُرۡضِعَۃٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ہُمۡ بِسُکٰرٰی وَ لٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیۡدٌ ﴿۲﴾
جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اس سے غافل ہوجائے گی جسے اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے میں دیکھے گا، حالانکہ وہ ہرگز نشے میں نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
En
(اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اُس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے۔ اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے۔ بےشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے
En
جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے، حاﻻنکہ درحقیقت وه متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 1 میں تا آیت 3 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
2۔ 1 آیت مذکورہ میں جس زلزلے کا ذکر ہے، جس کے نتائج دوسری آیت میں بتلائے گئے ہیں جس کا مطلب لوگوں پر سخت خوف، دہشت اور گھبراہٹ کا طاری ہونا، یہ قیامت سے قبل ہوگا اور اس کے ساتھ دنیا فنا ہو جائیگی۔ یا یہ قیامت کے بعد اس وقت ہوگا جب قبروں سے اٹھ کر میدان محشر میں جمع ہوں گے۔ بہت سے مفسرین پہلی رائے کے قائل ہیں۔ جبکہ بعض مفسرین دوسری رائے کے اور اس کی تائید میں وہ احادیث پیش کرتے ہیں مثلا اللہ تعالیٰ آدم ؑ کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ذریت میں سے ہزار میں 999 جہنم کے لیے نکال دے۔ یہ بات سن کر حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگ مدہوش سے نظر آئیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہونگے صرف عذاب کی شدت ہوگی یہ بات صحابہ پر بڑی گراں گزری ان کے چہرے متغیر ہوگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا (گھبراؤ نہیں) یہ 999 یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور تم میں سے صرف ایک ہوگا۔ تمہاری (تعداد) لوگوں میں اس طرح ہوگی جیسے سفید رنگ کے بیل کے پہلو میں کالے بال یا کالے رنگ کے بیل کے پہلو میں سفید بال ہوں اور مجھے امید ہے کہ اہل جنت میں تم چوتھائی یا تہائی یا نصف ہو گے جسے سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بطور مسرت کے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا (صحیح بخاری تفسیر سورة حج) پہلی رائے بھی بےوزن نہیں ہے بعض ضعیف احادیث سے ان کی بھی تائید ہوتی ہے اس لئے زلزلہ اور اس کی کیفیات سے مراد اگر فزع اور ہولناکی کی شدت ہے (ظاہر یہی ہے) تو سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی یہ کیفیت دونوں موقعوں پر ہی ہوگی اس لیے دونوں ہی رائیں صحیح ہوسکتی ہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر لوگوں کی کیفیت ایسی ہوگی جیسی اس آیت میں اور صحیح بخاری کی روایت میں بیان کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ اس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تو لوگوں کو مد ہوش دیکھے گا حالانکہ وہ مد ہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب [1] ہی بڑا سخت ہو گا۔
[1] علم ہئیت کے موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سورج سے زمین کا فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ اور زمین سورج کے گرد جتنے عرصہ میں ایک چکر ختم کرتی ہے اسے ہم سال کا عرصہ کہتے ہیں۔ اس حساب سے ہماری زمین سورج کے گرد چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ پھر اس فضائے بسیط میں صرف ہماری زمین ہی محو گردش نہیں بلکہ تمام سیارے اسی طرح گردش میں مصروف ہیں۔ ان سب کے مدار الگ الگ ہیں اور ان سیاروں میں کشش، جذب و انجذاب رکھ دی گئی ہے۔ جن کی وجہ سے ان میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا۔ اور یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے کنٹرول اور اس کی تدبیر کے تحت ہو رہے ہیں۔ ہر سیارہ اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کی اس شدت سے پابند ہے کہ ان کی رفتار سرمو فرق آتا ہے اور نہ ہی ان میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے اور یہ سب ایسے امور ہیں جنہیں ہر انسان بجش خود دیکھ رہا اور ان کی شہادت دے رہا ہے۔ قریب قیامت کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو گا۔ بالفاظ دیگر سورج الٹی چال چلنے لگے گا۔ جسے ہم موجودہ نظریہ کے مطابق یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ زمین الٹی چال چلنے لگے گی اور بعض سیاروں کے الٹی چال چلنے کا نظریہ ہیئت دانوں میں معروف ہے۔ بطلیموس نظریہ کے مطابق پانچ سیارے زحل، مشتری، مریخ، زہرہ، عطارد ایسے ہیں جو سیدھی چال چلتے چلتے الٹی چال چلنے لگتے ہیں۔ پھر کچھ مدت بعد سیدھی چال چلنے لگتے ہیں۔ اور ان سیاروں کو ’خمسہ متحیرہ‘ کہتے ہیں۔ الٹی چال چلنے اور پھر سیدھی چال پر رواں ہونے کی تصدیق قرآن کریم کی درج ذیل آیت سے بھی ہو جاتی ہے۔ ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ﴾ [16: 15: 80] ”سو میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو سیدھی چال چلتے چلتے یکدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں (اور) ان کی جو سیدھی چال چلتے تھوڑا سے ہٹ جاتے ہیں (اور ان کی بھی) جو غائب ہو جاتے ہیں “ قیامت کیسے بپاہو گی اور سیاروں کا آپس میں ٹکراجانا اور اس کی دہشت:۔
پھر جب اللہ تعالیٰ قیامت بپا کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو صرف اتنا ہی ہو گا کہ کسی ایک سیارہ سے کشش جذب و انجذاب کو سلب کر لے اور ہماری زمین کسی دوسرے سیارے سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے۔ اب آپ اندازہ فرمائیے کہ اگر دو ریل گاڑیاں یا دو تیز رفتار بسیں آپس میں ٹکرا جائیں تو کیا حشر بپا ہوتا ہے۔ اور جب ہماری زمین جو چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی سی برق رفتاری سے محو گردش ہے۔ کم و بیش اسی رفتار والے سیارے سے ٹکڑا جائے گی تو کیا حشر بپا ہوگا۔ یہی منظر ان دو آیات میں پیش کیا گیا ہے کہ اس دھماکہ کی دہشت سے ہر حاملہ کا حمل ساقط ہو جائے گا اور لوگ یوں مخبوط الحواس ہو جائیں گے جیسے کوئی نشہ آور چیز پی رکھی ہے۔ اس منظر کی ہولناکی کو بعض دوسری آیات میں یوں پیش کیا گیا ہے ”اس وقت زمین کو ریزہ ریزہ اور پاش پاش کر دیا جائے گا“ [89: 21] ”زمین اپنے خزانے جیسے تیل، گیسیں اور معدنیات وغیرہ اپنے اندر سے نکال کر باہر پھینک دے گی اور خالی ہو جائے گی“ [84: 4] پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑتے پھریں گے اور لوگ یوں بدحواس ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ہوں گے جیسے روشنی کے گرد پتنگے گرے پڑتے ہیں۔ [101: 4۔ 5] غرض قیامت کے واقع ہونے پر دہشت اور ہولناکی کے منظر کو قرآن میں اور بھی بہت سے مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ قیامت کا دن در اصل ایک طویل دور کا نام ہے اور از روئے قرآن اس دن کی مدت ہمارے موجودہ حساب کے مطابق پچاس ہزار سال ہے۔ اس طویل عرصہ میں کئی اوقات ایسے آئیں گے جن کی دہشت اور ہولناکی اور گھبراہٹ اسی طرح کی ہو گی۔ چنانچہ درج ذیل حدیث میں جس دہشت اور گھبراہٹ کا ذکر ہے وہ یقیناً قیامت کے بپا ہونے کا موقع نہیں بلکہ کوئی اور ہی وقت ہے۔ اور اس دہشت اور گھبراہٹ کا سبب بھی قیامت کا زلزلہ یا دھماکہ نہیں بلکہ اس کا سبب جہنم میں جانے کا خدشہ ہے۔
یاجوج ماجوج کا جہنم میں حصہ:۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آدمؑ سے فرمائے گا اے آدم! وہ کہیں گے: پروردگار! میں حاضر ہوں جو ارشاد ہو۔ پھر ایک فرشتہ آواز سے پکارے گا ”اللہ تعالیٰ انھیں حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد سے دوزخ جانے والوں کا حصہ نکالو“ وہ عرض کریں گے: پروردگار! دوزخ کے لئے کتنا حصہ (نکالوں؟) راوی کہتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ہزار میں سے نو ننانوے“ یہ ایسا سخت وقت ہو گا کہ حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور بچہ بوڑھا ہو جائے گا اور تم لوگوں کو مد ہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مد ہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہو گا۔ یہ بات صحابہ پر بہت دشوار گزری اور ان کے چہرے متغیر ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: نو سو ننانوے تو یاجوج و ماجوج سے ہوں گے اور ایک تم سے ہو گا۔
اہل جنت کا نصف امت مسلمہ ہو گی:۔
پھر تم تو تمام خلقت میں ایسے ہو گے جیسے کسی سفید بیل کے پہلو میں ایک کالا بال ہو یا کسی کالے بیل کے پہلو میں ایک سفید بال ہو۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ تم سب لوگ اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو گے۔ (یہ سن کر خوشی سے) ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جنت کا تیسرا حصہ ہو گے“ ہم نے پھر اللہ اکبر پکارا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے“ ہم نے پھر اللہ اکبر کہا۔ [بخاري: كتاب التفسير]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دعوت تقویٰ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقوے کا حکم فرماتا ہے اور آنے والے دہشت ناک امور سے ڈرا رہا ہے خصوصاً قیامت کے زلزلے سے۔ اس سے مراد یا تو وہ زلزلہ ہے جو قیامت کے قائم ہونے کے درمیان آئے گا۔
جیسے فرمان ہے آیت «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا» ۱؎ [99-الزلزلة:2،1]، ’ زمین خوب اچھی طرح جھنجھوڑ دی جائے گی ‘۔
اور فرمایا آیت «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» ۱؎ [69-الحاقة:15،14] یعنی ’ زمین اور پہاڑ اٹھا کر باہم ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دئے جائیں گے‘۔
اور فرمان ہے آیت «إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا» ۱؎ [56-الواقعة:6-4] یعنی ’ جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ‘۔
صور کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ جب آسمان و زمین کو پیدا کر چکا تو صور کو پیدا کیا اسے اسرافیل علیہ السلام کو دیا وہ اسے منہ میں لیے ہوئے آنکھیں اوپر کو اٹھائے ہوئے عرش کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ کب حکم الٰہی ہو اور وہ صور پھونک دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صور کیا چیز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک پھونکنے کی چیز ہے بہت بری جس میں تین مرتبہ پھونکا جائے گا پہلا نفخہ گھبراہٹ کا ہو گا دوسرا بے ہوشی کا تیسرا اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کا۔ اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا وہ پھونکیں گے جس سے کل زمین و آسمان والے گھبرا اٹھیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ بغیر رکے، بغیر سانس لیے بہت دیرتک برابر اسے پھونکتے رہیں گے } }۔
جیسے فرمان ہے آیت «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا» ۱؎ [99-الزلزلة:2،1]، ’ زمین خوب اچھی طرح جھنجھوڑ دی جائے گی ‘۔
اور فرمایا آیت «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» ۱؎ [69-الحاقة:15،14] یعنی ’ زمین اور پہاڑ اٹھا کر باہم ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دئے جائیں گے‘۔
اور فرمان ہے آیت «إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا» ۱؎ [56-الواقعة:6-4] یعنی ’ جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ‘۔
صور کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ جب آسمان و زمین کو پیدا کر چکا تو صور کو پیدا کیا اسے اسرافیل علیہ السلام کو دیا وہ اسے منہ میں لیے ہوئے آنکھیں اوپر کو اٹھائے ہوئے عرش کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ کب حکم الٰہی ہو اور وہ صور پھونک دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صور کیا چیز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک پھونکنے کی چیز ہے بہت بری جس میں تین مرتبہ پھونکا جائے گا پہلا نفخہ گھبراہٹ کا ہو گا دوسرا بے ہوشی کا تیسرا اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کا۔ اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا وہ پھونکیں گے جس سے کل زمین و آسمان والے گھبرا اٹھیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ بغیر رکے، بغیر سانس لیے بہت دیرتک برابر اسے پھونکتے رہیں گے } }۔
اسی پہلے صور کا ذکر آیت «وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ» ۱؎ [38-ص:15] میں ہے اس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے زمین کپکپانے لگے گی۔
جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» ۱؎ [79-النازعات:8-6]، جب کہ زمین لرزنے لگے گی اور یکے بعد دیگرے زبردست جھٹکے لگیں گے دل دھڑکنے لگیں گے زمین کی وہ حالت ہو جائے گی جو کشتی کی طوفان میں اور گرداب میں ہوتی ہے یا جیسے کوئی قندیل عرش میں لٹک رہی ہو جسے ہوائیں چاروں طرف جھلارہی ہوں۔ آہ! یہی وقت ہو گا کہ دودھ پلانے والیاں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین بھاگنے لگیں گے زمین کے کناروں تک پہنچ جائیں گے لیکن وہاں سے فرشتوں کی مار کھا کر لوٹ آئیں گے۔
لوگ ادھر ادھر حیران پریشان زمین ایک طرف سے دوسرے کو آوازیں دینے لگیں گے اسی لیے اس دن کا نام قرآن نے «يَوْمَ التَّنَاد» رکھا جیسے کہ آیت میں ہے «وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ» ۱؎ [40-غافر:32]۔ اسی وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت کی گھبراہٹ کا انداز نہیں ہوسکتا۔
اب آسمان میں انقلابات ظاہر ہوں گے سورج چاند بے نور ہو جائیں گے، ستارے جھڑنے لگیں گے اور کھال ادھڑنے لگے گی۔ زندہ لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ہاں مردہ لوگ اس سے بے خبر ہونگے آیت قرآن «وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:68] میں جن لوگوں کا استثنا کیا گیا ہے کہ وہ بے ہوش نہ ہوں گے اس سے مراد شہید لوگ ہیں۔ یہ گھبراہٹ زندوں پر ہو گی شہید اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے نجات دے گا اور انہیں پر امن رکھے گا۔
یہ عذاب الٰہی صرف بدترین مخلوق کو ہو گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ اس سورت کی شروع کی آیتوں میں بیان فرماتا ہے۔ یہ حدیث طبرانی جریر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے اور بہت مطول ہے اس حصے کو نقل کرنے سے یہاں مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں جس زلزلے کا ذکر ہے یہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ اور قیامت کی طرف اس کی اضافت بوجہ قرب اور نزدیکی کے ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے «اشراط الساعة» وغیرہ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یا اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جو قیام قیامت کے بعد میدان محشر میں ہو گا جب کہ لوگ قبروں سے نکل کرمیدان میں جمع ہوں گے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں اس کی دلیل میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» ۱؎ [79-النازعات:8-6]، جب کہ زمین لرزنے لگے گی اور یکے بعد دیگرے زبردست جھٹکے لگیں گے دل دھڑکنے لگیں گے زمین کی وہ حالت ہو جائے گی جو کشتی کی طوفان میں اور گرداب میں ہوتی ہے یا جیسے کوئی قندیل عرش میں لٹک رہی ہو جسے ہوائیں چاروں طرف جھلارہی ہوں۔ آہ! یہی وقت ہو گا کہ دودھ پلانے والیاں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین بھاگنے لگیں گے زمین کے کناروں تک پہنچ جائیں گے لیکن وہاں سے فرشتوں کی مار کھا کر لوٹ آئیں گے۔
لوگ ادھر ادھر حیران پریشان زمین ایک طرف سے دوسرے کو آوازیں دینے لگیں گے اسی لیے اس دن کا نام قرآن نے «يَوْمَ التَّنَاد» رکھا جیسے کہ آیت میں ہے «وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ» ۱؎ [40-غافر:32]۔ اسی وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت کی گھبراہٹ کا انداز نہیں ہوسکتا۔
اب آسمان میں انقلابات ظاہر ہوں گے سورج چاند بے نور ہو جائیں گے، ستارے جھڑنے لگیں گے اور کھال ادھڑنے لگے گی۔ زندہ لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ہاں مردہ لوگ اس سے بے خبر ہونگے آیت قرآن «وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:68] میں جن لوگوں کا استثنا کیا گیا ہے کہ وہ بے ہوش نہ ہوں گے اس سے مراد شہید لوگ ہیں۔ یہ گھبراہٹ زندوں پر ہو گی شہید اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے نجات دے گا اور انہیں پر امن رکھے گا۔
یہ عذاب الٰہی صرف بدترین مخلوق کو ہو گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ اس سورت کی شروع کی آیتوں میں بیان فرماتا ہے۔ یہ حدیث طبرانی جریر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے اور بہت مطول ہے اس حصے کو نقل کرنے سے یہاں مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں جس زلزلے کا ذکر ہے یہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ اور قیامت کی طرف اس کی اضافت بوجہ قرب اور نزدیکی کے ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے «اشراط الساعة» وغیرہ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یا اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جو قیام قیامت کے بعد میدان محشر میں ہو گا جب کہ لوگ قبروں سے نکل کرمیدان میں جمع ہوں گے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں اس کی دلیل میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
(١) { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تیز تیز چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے با آواز بلند ان دونوں آیتوں کی تلاوت کی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے کان میں آواز پڑتے ہی وہ سب اپنی سواریاں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو یہ کون سا دن ہو گا؟ یہ وہ دن ہو گا جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو فرمائے گا کہ اے آدم جہنم کا حصہ نکال۔ وہ کہیں گے اے اللہ کتنوں میں سے کتنے؟ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے }۔
یہ سنتے ہی صحابہ کے دل دہل گئے، چپ لگ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ { غم نہ کرو، خوش ہو جاؤ، عمل کرتے رہو۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تمہارے ساتھ مخلوق کی وہ تعداد ہے کہ جس کے ساتھ ہو اسے بڑھا دے یعنی یاجوج ماجوج اور نبی آدم میں سے جو ہلاک ہو گئے اور ابلیس کی اولاد }۔
اب صحابہ رضی اللہ عنہم کی گھبراہٹ کم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عمل کرتے رہو اور خوشخبری سنو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم تو اور لوگوں کے مقابلے پر ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلو کا یا جانور کے ہاتھ کا داغ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3169،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی روایت کی اور سند میں ہے کہ { یہ آیت حالت سفر میں اتری۔ اس میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان سن کر رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قریب قریب رہو اور ٹھیک ٹھاک رہو ہر نبوت کے پہلے جاہلیت کا زمانہ رہا ہے وہی اس گنتی کو پوری کر دے گا ورنہ منافقوں سے وہ گنتی پوری ہوگی } }۔
اس میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { مجھے تو امید ہے کہ اہل جنت کی چوتھائی صرف تم ہی ہو گے }۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ اکبر کہا۔ ارشاد ہوا کہ { عجب نہیں کہ تم تہائی ہو }، اس پر انہوں نے پھر تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے امید ہے کہ تم ہی نصفاً نصف ہو گے }، انہوں نے پھر تکبیر کہی }۔ راوی کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوتہائیاں بھی فرمائیں یا نہیں؟ ۱؎ [سنن ترمذي:3168،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { غزوہ تبوک سے واپسی میں مدینے کے قریب پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت آیت شروع کی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24906:مرسل]
ایک اور روایت میں ہے کہ { جنوں اور انسانوں سے جو ہلاک ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:4910:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ { تم تو ایک ہزار اجزا میں سے ایک جز ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند بزار:3467:ضعیف]
یہ سنتے ہی صحابہ کے دل دہل گئے، چپ لگ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ { غم نہ کرو، خوش ہو جاؤ، عمل کرتے رہو۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تمہارے ساتھ مخلوق کی وہ تعداد ہے کہ جس کے ساتھ ہو اسے بڑھا دے یعنی یاجوج ماجوج اور نبی آدم میں سے جو ہلاک ہو گئے اور ابلیس کی اولاد }۔
اب صحابہ رضی اللہ عنہم کی گھبراہٹ کم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عمل کرتے رہو اور خوشخبری سنو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم تو اور لوگوں کے مقابلے پر ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلو کا یا جانور کے ہاتھ کا داغ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3169،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی روایت کی اور سند میں ہے کہ { یہ آیت حالت سفر میں اتری۔ اس میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان سن کر رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قریب قریب رہو اور ٹھیک ٹھاک رہو ہر نبوت کے پہلے جاہلیت کا زمانہ رہا ہے وہی اس گنتی کو پوری کر دے گا ورنہ منافقوں سے وہ گنتی پوری ہوگی } }۔
اس میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { مجھے تو امید ہے کہ اہل جنت کی چوتھائی صرف تم ہی ہو گے }۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ اکبر کہا۔ ارشاد ہوا کہ { عجب نہیں کہ تم تہائی ہو }، اس پر انہوں نے پھر تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے امید ہے کہ تم ہی نصفاً نصف ہو گے }، انہوں نے پھر تکبیر کہی }۔ راوی کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوتہائیاں بھی فرمائیں یا نہیں؟ ۱؎ [سنن ترمذي:3168،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { غزوہ تبوک سے واپسی میں مدینے کے قریب پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت آیت شروع کی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24906:مرسل]
ایک اور روایت میں ہے کہ { جنوں اور انسانوں سے جو ہلاک ہوئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:4910:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ { تم تو ایک ہزار اجزا میں سے ایک جز ہی ہو }۔ ۱؎ [مسند بزار:3467:ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکارے گا وہ جواب دیں گے «لَبَّيْكَ رَبّنَا وَسَعْدَيْك» پھر آواز آئے گی کہ ’ اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں جہنم کا حصہ نکال ‘، پوچھیں گے اللہ کتنا؟ حکم ہوگا ’ ہر ہزار میں سے نو سو نناوے ‘ اس وقت حاملہ کے حمل گرجائیں گے، بچے بوڑھے ہو جائیں گے، اور لوگ حواس باختہ ہو جائیں گے کسی نشے سے نہیں بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی کی وجہ سے۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کے چہرے متغیر ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے اور تم میں سے ایک۔ تم تو ایسے ہو جیسے سفید رنگ بیل کے چند سیاہ بال جو اس کے پہلو میں ہوں۔ یامثل چند سفید بالوں کے جو سیاہ رنگ بیل کے پہلو میں ہوں } }۔
پھر فرمایا { مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی گنتی میں تمہاری گنتی چوتھے حصے کی ہوگی }، ہم نے اس پر تکبیر کہی۔ پھر فرمایا { آدھی تعداد میں باقی سب اور آدھی تعداد صرف تمہاری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4841]
اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا؟ جب کہ یہ حالت ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:3307،]
اور روایت میں ہے { تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ حاضر کئے جاؤ گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرد عورتیں ایک ساتھ؟ ایک دوسرے پر نظریں پڑیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عائشہ وہ وقت نہایت سخت اور خطرناک ہو گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6527]
مسند احمد میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دوست اپنے دوست کو قیامت کے دن یاد کرے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عائشہ تین موقعوں پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ اعمال کے تول کے وقت جب تک کمی زیادتی نہ معلوم ہو جائے۔ اعمال ناموں کے اڑائے جانے کے وقت جب تک دائیں بائیں ہاتھ میں نہ آ جائیں۔ اس وقت جب کہ جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی جو گھیرلے گی اور سخت غیظ وغضب میں ہوگی اور کہے گی میں تین قسم کے لوگوں پر مسلط کی گئی ہوں ایک تو وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے رہتے ہیں دوسرے وہ جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور تیسرے ہر سرکش ضدی متکبر پر پھر تو وہ انہیں سمیٹ لے گی اور چن چن کر اپنے پیٹ میں پہنچا دے گی جہنم پر پل صراط ہو گی جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہو گی اس پر آنکس اور کانٹے ہوں گے جسے اللہ چاہے پکڑ لے گی اس پر سے گزرنے والے مثل بجلی کے ہوں گے مثل آنکھ جھپکنے کے مثل ہوا کے مثل تیزرفتار گھوڑوں اور اونٹوں کے فرشتے ہر طرف کھڑے دعائیں کرتے ہوں گے کہ اللہ سلامتی دے اللہ بچا دے پس بعض تو بالکل صحیح سالم گزر جائیں گے بعض کچھ چوٹ کھا کر بچ جائیں گے بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے} }۔ ۱؎ [مسند احمد:110/6:ضعیف]
پھر فرمایا { مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی گنتی میں تمہاری گنتی چوتھے حصے کی ہوگی }، ہم نے اس پر تکبیر کہی۔ پھر فرمایا { آدھی تعداد میں باقی سب اور آدھی تعداد صرف تمہاری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4841]
اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا؟ جب کہ یہ حالت ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:3307،]
اور روایت میں ہے { تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ حاضر کئے جاؤ گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرد عورتیں ایک ساتھ؟ ایک دوسرے پر نظریں پڑیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عائشہ وہ وقت نہایت سخت اور خطرناک ہو گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6527]
مسند احمد میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دوست اپنے دوست کو قیامت کے دن یاد کرے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عائشہ تین موقعوں پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ اعمال کے تول کے وقت جب تک کمی زیادتی نہ معلوم ہو جائے۔ اعمال ناموں کے اڑائے جانے کے وقت جب تک دائیں بائیں ہاتھ میں نہ آ جائیں۔ اس وقت جب کہ جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی جو گھیرلے گی اور سخت غیظ وغضب میں ہوگی اور کہے گی میں تین قسم کے لوگوں پر مسلط کی گئی ہوں ایک تو وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے رہتے ہیں دوسرے وہ جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور تیسرے ہر سرکش ضدی متکبر پر پھر تو وہ انہیں سمیٹ لے گی اور چن چن کر اپنے پیٹ میں پہنچا دے گی جہنم پر پل صراط ہو گی جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہو گی اس پر آنکس اور کانٹے ہوں گے جسے اللہ چاہے پکڑ لے گی اس پر سے گزرنے والے مثل بجلی کے ہوں گے مثل آنکھ جھپکنے کے مثل ہوا کے مثل تیزرفتار گھوڑوں اور اونٹوں کے فرشتے ہر طرف کھڑے دعائیں کرتے ہوں گے کہ اللہ سلامتی دے اللہ بچا دے پس بعض تو بالکل صحیح سالم گزر جائیں گے بعض کچھ چوٹ کھا کر بچ جائیں گے بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے} }۔ ۱؎ [مسند احمد:110/6:ضعیف]
قیامت کے آثار میں اور اس کی ہولناکیوں میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ جن کی جگہ اور ہے۔ یہاں فرمایا ’ قیامت کا زلزلہ نہایت خطرناک ہے بہت سخت ہے نہایت مہلک ہے دل دہلانے والا اور کلیجہ اڑانے والا ہے ‘۔
زلزلہ رعب و گھبراہٹ کے وقت دل کے ہلنے کو کہتے ہیں جیسے آیت میں ہے کہ «هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا» ۱؎ [33-الأحزاب:11] ’ اس میدان جنگ میں مومنوں کو مبتلا کیا گیا اور سخت جھنجھوڑ دئے گئے ‘۔
جب تم اسے دیکھو گے یہ ضمیر شان کی قسم سے ہے اسی لیے اس کے بعد اس کی تفسیر ہے کہ ’ اس سختی کی وجہ سے دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ کے حمل ساقط ہو جائیں گے۔ لوگ بدحواس ہو جائیں گے ایسے معلوم ہوں گے جیسے کوئی نشے میں بدمست ہو رہا ہو۔ دراصل وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی نے انہیں بے ہوش کر رکھا ہو گا ‘۔
زلزلہ رعب و گھبراہٹ کے وقت دل کے ہلنے کو کہتے ہیں جیسے آیت میں ہے کہ «هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا» ۱؎ [33-الأحزاب:11] ’ اس میدان جنگ میں مومنوں کو مبتلا کیا گیا اور سخت جھنجھوڑ دئے گئے ‘۔
جب تم اسے دیکھو گے یہ ضمیر شان کی قسم سے ہے اسی لیے اس کے بعد اس کی تفسیر ہے کہ ’ اس سختی کی وجہ سے دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ کے حمل ساقط ہو جائیں گے۔ لوگ بدحواس ہو جائیں گے ایسے معلوم ہوں گے جیسے کوئی نشے میں بدمست ہو رہا ہو۔ دراصل وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی نے انہیں بے ہوش کر رکھا ہو گا ‘۔