ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 91

وَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ جَعَلۡنٰہَا وَ ابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۱﴾
اور اس عورت کو جس نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا، تو ہم نے اس میں اپنی روح سے پھونکا اور اسے اور اس کے بیٹے کو جہانوں کے لیے عظیم نشانی بنا دیا۔
اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفّت کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا
اور وه پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاﻇت کی ہم نے اس کے اندر روح سے پھونک دی اور خود انہیں اور ان کے لڑکے کو تمام جہان کے لئے نشانی بنا دیا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 91) ➊ {وَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا:} یعنی اس خاتون کا بھی ذکر کر جس پر ناپاک لوگ (یہودی) تہمتیں لگاتے ہیں، حالانکہ اس نے اپنی شرم گاہ کو حرام سے محفوظ رکھا، بلکہ عبادت میں ایسی مشغول رہی کہ حلال سے بھی محفوظ رکھا، جیسا کہ فرمایا: «{ لَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ [آل عمران: ۴۷] حالانکہ کسی بشر نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نیک شہرت کے اظہار کے لیے اس کا نام نہیں لیا، کیونکہ سب جانتے ہیں اس سے مراد مریم بنت عمران علیھا السلام ہیں۔
➋ {فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا:} مراد عیسیٰ علیہ السلام کی روح ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کے حکم سے جبریل علیہ السلام نے پھونکی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو عزت و شرف بخشنے کے لیے اسے اپنی روح قرار دیا اور جبریل علیہ السلام کے پھونکنے کو اپنا پھونکنا قرار دیا، جیسے {بيت الله} اور {ناقة الله} میں کعبہ کو اپنا گھر اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو اپنی اونٹنی قرار دیا۔ شیخ ثناء اللہ امر تسری رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: عیسائی لوگ اس آیت اور اس قسم کی اور آیات سے عموماً دلیل لایا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح (معاذ اللہ) خدا تھا، کیونکہ اس کو روح اللہ کہا گیا ہے، مگر وہ قرآن شریف کے محاورے کو غور سے نہیں دیکھتے کہ اس قسم کی اضافات سے مطلب کیا ہوتا ہے؟ سورۂ سجدہ میں عام انسانوں کے لیے بھی یہی اضافت روح کی اللہ کی طرف آئی ہے، چنانچہ ارشاد ہے: «{ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ (7) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ (8) ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ [السجدۃ: ۷ تا ۹] (یعنی اللہ نے) انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصے سے بنائی، پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی۔ اس جگہ عام انسانی پیدائش کی ابتدا اور سلسلے کا ذکر ہے۔ پس اگر آیت زیر تفسیر سے مسیح علیہ السلام کی الوہیت (خدا ہونا) ثابت ہوتی ہو تو اس قسم کی آیات سے تمام انسانوں کی الوہیت ثابت ہو گی، پھر اگر مسیح بھی ایسے ہی خدا اور الٰہ تھے جیسے کہ سب انسان ہیں تو خیر اس کے ماننے میں کسی کو کلام نہیں۔ پس آیت موصوفہ کے معنی وہی ہیں جو ہم نے لکھے ہیں (کہ وہ روح مخلوق تھی) ({فَافْهَمْ})۔
➌ {وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰيَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ:} مریم اور مسیح علیھما السلام کا جہانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی ہونا سورۂ آل عمران (۳۶ تا ۶۳)، نساء (۱۵۶ تا ۱۵۹، ۱۷۱) اور مائدہ (۴۶، ۱۱۰ تا ۱۲۰) میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

91۔ 1 یہ حضرت مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کا تذکرہ ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

91۔ اور اس عورت کو بھی، جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔ پھر ہم نے اپنی روح سے ان کے اندر پھونکا [81] اور انھیں اور ان کے بیٹے کو تمام اہل عالم کے لئے ایک نشانی بنا دیا [82]۔
[81] سیدہ مریم اور سیدنا زکریا پر یہود کا الزام:۔
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کا پتلا بنا کر اسے سنوار لیا تو اس میں اپنی روح سے پھونکا جس سے انسان میں قوت ارادہ اختیار اور قوت تمیز و استنباط ودیعت کی گئی۔ پھر توالد و تناسل کے ذریعہ یہی اوصاف تمام اولاد آدم میں منتقل ہوئے اور یہ اوصاف ایسے ہیں جو کسی دوسری مخلوق میں نہیں پائے جاتے۔ بعد ازاں اللہ نے اپنی روح کو حضرت مریم کے ہاں بھیجا۔ یہی روح حضرت مریم کے سامنے متمثل ہو کر ایک تندرست انسان کی شکل بن گئی۔ اسی روح نے اپنے آپ کو حضرت مریم کے سامنے ”تیرے پروردگار کا رسول“ کہا اور اسی روح (جو مفسرین کے قول کے مطابق جبریل علیہ السلام) نے حضرت مریم سے کہا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ ”تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں“ چنانچہ اس روح نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک ماری جس سے حضرت مریم کو حمل قرار پا گیا۔ (سورہ مریم) اسی واقعہ کو اللہ تعالیٰ اس مقام پر بھی اور سورۃ تحریم کی آیت نمبر 12 میں ان الفاظ سے عبیر فرمایا کہ ”ہم نے مریم میں اپنی روح سے پھونکا“ اسی لئے آپ کو روح اللہ و کلمۃ اللہ کہا جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی ہر مقام پر یہ وضاحت فرما دی کہ حضرت مریم نے فی الواقع اپنی عصمت کی پوری پوری حفاظت کی تھی۔ ایسی وضاحتوں کے باوجود یہود نے حضرت مریم پر تہمت زنا لگا دی اور اس کو حضرت زکریاؑ سے منسوب کر دیا۔ صرف اس لیے کہ آپ حضرت مریم کے کفیل تھے۔ یہ تو یہود کی کارستانی تھی اور نصاریٰ دوسری انتہا کو جا پہنچے اور انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو اللہ یا اللہ کا بیٹا یا تین خداؤں میں تیسرا قرار دے دیا۔ گویا آپ کی اس معجزانہ پیدائش یہود و نصاریٰ غلو کا شکار ہو کر گمراہی میں مبتلا ہو گئے۔
[82] سیدنا عیسیٰ کی بن باپ کے پیدائش کے منکرین:۔
بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے پیدا ہو چکے ہیں جو حضرت عیسیٰ کی بن باپ پیدائش کے قائل نہیں۔ اور یہ وہی طبقہ جو جدید زمانے کی عقل پرستی سے ذہنی طور پر ہر وقت مرعوب رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مریم میں فرمایا ”تاکہ ہم اس (عیسیٰ کی پیدائش) کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں“ [19: 21]
اور اس مقام پر فرمایا کہ ”ہم نے حضرت مریم اور اس کے بیٹے دونوں کو جہاں والوں کے لئے نشانی بنا دیا“ نیز سورۃ مومنون کی آیت نمبر 50 میں فرمایا: ”اور ہم نے ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو اور ان کی ماں کو نشانی بنا دیا“ اب ان حضرات سے سوال یہ ہے کہ اگر حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش معمول کے مطابق ماں اور باپ دونوں کے ملاپ سے ہوئی تھی تو حضرت مریم اور عیسیٰ ابن مریم دونوں کی لوگوں کے لئے یا جہان والوں کے لئے ایک نشانی کیسے بن سکتے تھے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بلا شوہر اولاد ٭٭
حضرت مریم اور عیسیٰ علیہم السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے۔ قرآن میں کریم میں عموماً زکریا علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کے قصے کے ساتھ ہی ان کا قصہ بیان ہوتا رہا ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں میں پورا رابط ہے۔ زکریا علیہ السلام پورے بڑھاپے کے عالم میں آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ جوانی سے گزری ہوئی اور پوری عمر کی بے اولاد ان کے ہاں اولاد عطا فرمائی۔ اس قدرت کو دکھا کر پھر محض عورت بغیر شوہر کے اولاد کا عطا فرمانا یہ اور قدرت کا کمال ظاہر کرتا ہے۔
سورۃ آل عمران اور سورۃ مریم میں بھی یہی ترتیب ہے۔ مراد عصمت والی عورت سے مریم ہیں جیسے فرمان ہے، آیت «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ» ۱؎ [66-التحريم:12]‏‏‏‏ یعنی ’ عمران کی لڑکی مریم جو پاک دامن تھیں انہیں اور ان کے لڑکے اور عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) کو اپنی بے نظیر قدرت کانشان بنایا کہ مخلوق کو اللہ کی ہر طرح کی قدرت اور اس کے پیدائش وسیع اختیارات اور صرف اپنا ارادے سے چیزوں کا بنانا معلوم ہو جائے ‘۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی قدرت کی ایک علامت تھے جنات کے لیے بھی اور انسانوں کے لیے بھی۔