ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 87

وَ ذَاالنُّوۡنِ اِذۡ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقۡدِرَ عَلَیۡہِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۷﴾
اور مچھلی والے کو، جب وہ غصے سے بھرا ہوا چلا گیا، پس اس نے سمجھا کہ ہم اس پر گرفت تنگ نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہو گیا ہوں۔
اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں
مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالﺂخر وه اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 87) ➊ { وَ ذَا النُّوْنِ:} یعنی مچھلی والے کو یاد کرو۔ { النُّوْنِ } کی جمع {نِيْنَانٌ} ہے، جیسے {حُوْتٌ} کی جمع {حِيْتَانٌ} ہے۔ اس سے مراد یونس بن متی (بروزن {شَتّٰي}) ہیں جو نینویٰ (پہلے نون کے کسرہ اور دوسرے کے فتحہ کے ساتھ) کے رہنے والے تھے، جو موصل (عراق) کے قریب تھا۔
➋ { اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا: مُغَاضِبًا } باب مفاعلہ سے اسم فاعل ہے جس میں مشارکت ہوتی ہے، یا معنی میں مبالغہ مراد ہوتا ہے۔ یونس علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو دعوت دی اور وہ مسلسل کفر کرتے رہے تو آخر اکتا کرسخت غصے کی حالت میں ان کے حق میں بددعا کی اور عذاب کی دھمکی دے کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر انھیں چھوڑ کر نکل پڑے۔ جب کہ منصبِ رسالت کا تقاضا تھا کہ ان کے تمام تر غیظ و غضب اور کفر و طغیان کے باوجود انھی میں رہتے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہر گز انھیں چھوڑ کر نہ جاتے، جیسا کہ نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال دعوت میں گزار دیے، نہ اکتائے اور نہ ان کے حق میں بددعا کی، جب تک اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ آئندہ ان کی قوم میں سے کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا۔ دیکھیے سورۂ ہود (۳۶) اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: «{ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ [القلم: ۴۸] پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو۔ اور فرمایا: «{ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ [الأحقاف: ۳۵] پس اولو العزم رسولوں کی طرح صبر کر اور ان کے لیے جلدی (عذاب کا) مطالبہ نہ کر۔ اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے بلااجازت نکلنے کو غلام کا بھاگ جانا قرار دیا ہے، فرمایا: «{ اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ [الصافات: ۱۴۰] جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گیا۔ یونس علیہ السلام کے واقعہ کے لیے مزید دیکھیے سورۂ یونس (۹۸) اور سورۂ صافات (۱۳۹ تا ۱۴۸)۔
➌ { فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ: اَنْ } اصل میں {أَنَّا} سے مخفف ہے، { نَا } کو حذف کر کے { أَنَّ } کے نون کو ساکن کر دیا گیا ہے، یا { أَنْ } حرف تفسیر ہے جو {أَيْ} کے معنی میں ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ {قَدَرَ يَقْدِرُ} کا معنی قادر ہونا، قابو پانا ہے، تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ کا جلیل القدر پیغمبر یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر قابو نہیں پا سکے گا؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے یہ ہر گز نہیں سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر قابو نہیں پا سکے گا، بلکہ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی معمولی کوتاہی پر بھی سخت خفگی کا اظہار فرماتے ہیں۔ اس آیت میں ان کی حالت کا بیان ہے کہ بلااجازت ان کے چلے جانے سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ سمجھ رہے ہوں کہ مجھے کوئی پکڑ نہیں سکے گا۔ دوسرا جواب اس سے بہتر ہے کہ یہاں { لَنْ نَّقْدِرَ } قادر ہونے کے معنی میں نہیں، بلکہ تنگی کرنے اور گرفت کرنے کے معنی میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَللّٰہُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ [الرعد: ۲۶] اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے۔ اور فرمایا: «{وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ [الطلاق: ۷] اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ آیت کا معنی یہ ہو گا کہ یونس علیہ السلام نے سمجھا کہ ان کے بلااجازت قوم سے نکل جانے پر ہم ان پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔ بعض اہل علم نے پہلے معنی کو سرے سے غلط قرار دیا ہے۔
➍ {فَنَادٰى فِي الظُّلُمٰتِ:} یہاں ایک لمبی بات حذف کر دی گئی ہے، جو سورۂ صافات (۱۳۹ تا ۱۴۸) میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ وہ قوم سے نکلے تو سمندری سفر کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوئے جو ضرورت سے زیادہ بھری ہوئی تھی۔ طوفان آیا اور سب کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوا تو کشتی ہلکی کرنے کے لیے سامان پھینکنے کے بعد کچھ آدمیوں کو سمندر میں پھینکنے کا فیصلہ ہوا۔ قرعہ ڈالا گیا تو کئی اور آدمیوں کے ساتھ یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکلا، چنانچہ دوسروں کے ساتھ انھیں بھی سمندر میں پھینک دیا گیا، جہاں اللہ کے حکم سے ایک بہت بڑی مچھلی نے انھیں سالم ہی نگل لیا۔ اب وہ ایسی جگہ تھے جہاں اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ یہ ایسا قید خانہ تھا جہاں نہ کوئی ملاقاتی، نہ مقدمہ لڑنے والا، نہ پیروی کرنے والا، نہ قید کی کوئی میعاد، بلکہ تا قیامت قید کا فیصلہ (اگر وہ تسبیح نہ کریں) اور نہ اللہ کے سوا امید کی کوئی روشنی۔ ان کئی اندھیروں میں انھوں نے اپنے رب کو اس حال میں آواز دی کہ وہ غم سے بھرے ہوئے تھے، فرمایا: «{ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌ [القلم:۴۸] جب اس نے پکارا، اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔
➎ قرآن مجید میں { الظُّلُمٰتِ } کا لفظ ہر جگہ جمع ہی آیا ہے، واحد کہیں بھی استعمال نہیں ہوا۔ (ابن عاشور) پھر سمندر کی تاریکیوں کا کوئی حساب ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ [النور: ۴۰] یا (کفار کے اعمال کی مثال) ان اندھیروں کی طرح ہے جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق سمندر کے اندھیرے جب صرف { الظُّلُمٰتِ } ہی نہیں بلکہ{ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ } ہیں تو{ الظُّلُمٰتِ } کی جمع کا صیغہ مکمل کرنے کے لیے رات کا اندھیرا شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یونس علیہ السلام کی دعا دن کے وقت ہو تب بھی { فِي الظُّلُمٰتِ } ہی ہے۔ [التفسیر القرآنی للشیخ عبد الکریم الخطیب]
➏ { اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ:} یہ{ اَنْ } بھی اصل میں {أَنَّهُ} سے مخفف ہے، یا حرف تفسیر بمعنی { أَيْ } ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے اگلی آیت میں فرمایا ہے: «{ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یونس علیہ السلام نے کچھ مانگا ہی نہیں، نہ رہائی اور نہ اس مصیبت سے چھٹکارا، تو اللہ تعالیٰ نے کون سی دعا قبول فرمائی؟ جواب اس کا یہ ہے (واللہ اعلم) کہ انھوں نے اپنی حالت کے مطابق بہترین دعا کی ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میرا مالک و معبود ہے، میں تیرا بندہ اور تیرا غلام ہوں، میں اور میرا سب کچھ تیرے سپرد اور تیرے تابع ہے۔ پھر اس کی تسبیح کی کہ تو ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، میری اس آزمائش اور مصیبت میں تیرا کوئی ظلم ہے نہ زیادتی، تیری ذات ظلم سے یکسر پاک ہے۔ تو نے جو کیا مالک اور معبود ہونے کی وجہ سے تیرا حق ہے اور اس میں تیری بے شمار حکمتیں ہیں۔ آخر میں اپنے ظلم کا اعتراف کیا کہ یقینا مجھ پر جو کچھ گزرا یہ میرے اپنی جان پر ظلم کی وجہ سے ہے۔ یہ دعا بہترین اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے اعتراف میں درخواست ہو رہی ہے کہ تیرے سوا کوئی مجھے اس مصیبت سے نجات نہیں دے سکتا، تسبیح کے ضمن میں اظہار ہو رہا ہے کہ تو مجھے اس مصیبت سے نکالنے سے عاجز نہیں کہ جس سے نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نہیں اور ہمیشہ سے اپنے ظالموں میں سے ہونے کا اعتراف معافی اور بخشش مانگنے کی لطیف ترین صورت ہے۔ ایوب علیہ السلام نے بھی دعا کے لیے عرض حال اور اللہ کی رحمت کا واسطہ دینے پر اکتفا کیا ہے۔ مزید سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ } کے بہترین دعا ہونے کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ یونس علیہ السلام کے واقعہ کی مزید تفصیل سورۂ صافات اور سورۂ قلم میں دیکھیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

87۔ 1 مچھلی والے سے مراد حضرت یونس ؑ ہیں جو اپنی قوم سے ناراض ہو کر اور انھیں عذاب الٰہی کی دھمکی دے کر، اللہ کے حکم کے بغیر وہاں سے چل دیئے تھے، جس پر اللہ نے ان کی گرفت اور انھیں مچھلی کا لقمہ بنادیا، اس کی کچھ تفصیل سورة یونس میں گزر چکی ہے اور کچھ سورة صافات میں آئے گی۔ 87۔ 2 ظلمات، ظلمۃ کی جمع ہے بمعنی اندھیرا۔ حضرت یونس ؑ متعدد اندھیروں میں گھر گئے۔ رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

87۔ اور مچھلی والے [77] (یونس) کو بھی ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا جب وہ غصہ سے بھرے ہوئے (بستی چھوڑ کر) چلا گئے انھیں یہ گمان تھا کہ ہم ان پر گرفت نہ کر سکیں گے، پھر انہوں نے اندھیروں میں پکارا کہ: ”تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے میں ہی قصور وار تھا۔
[77] نون کا لغوی مفہوم:۔
حضرت یونسؑ کو قرآن میں اس مقام پر ذالنون کہا گیا ہے اور سورۃ القلم صاحب الحوت۔ حوت اسم جنس ہے جس کا اطلاق ہر قسم کی چھوٹی بڑی مچھلی پر ہو سکتا ہے۔ جبکہ نون سب سے بڑی (وہیل مچھلی) کو کہتے ہیں۔ (مفردات القرآن) اور آپ کا یہ لقب اس لئے ہوا کہ آپ ایک مدت مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ زندہ و سلامت رہے اور اس دوران اللہ کی تسبیحات پڑھتے رہے۔
سیدنا یونس مچھلی کے پیٹ میں اور آپ کی دعا:۔
آپ اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے۔ آپ کا زمانہ بعثت نویں صدی قم ہے۔ حسب معمول قوم نے آپ کی دعوت کا انکار کیا۔ آپ نے قوم کے مستقل انکار پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ اور جب قوم نے کہا کہ جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے تو آپ نے از خود ہی انھیں چالیس دن بعد عذاب آنے کی وعید سنا دی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے چالیس دن کا کوئی وعدہ نہیں فرمایا تھا۔ پھر جب یہ مدت گزرنے کو ہوئی اور عذاب کی کوئی علامت نہ دیکھی تو غم اور غصہ کی وجہ سے وہاں سے فرار کی راہ اختیار کی تاکہ قوم انھیں جھوٹا نہ کہے۔ کشتی میں سوار ہوئے تو وہ ہچکولے کھانے لگی۔ کشتی والوں نے قرعہ ڈالا اور اس قرعہ کے نتیجہ میں حضرت یونسؑ کو سمندر میں پھینک دیا۔ ایک بہت بڑی مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اس دوران آپ ہر وقت اللہ کی تسبیح اور اپنے گناہوں کے اعتراف پر مشغول رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مشکل سے نجات دی۔ اور مچھلی نے آپ کو بر لب ساحل اگل دیا۔ جب ذرا طاقت آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوبارہ اسی قوم یعنی اہل نینوا کی طرف بھیجا۔ اب دوسری طرف صورت حال یہ پیش آئی کہ جب حضرت یونسؑ مفرور ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یونسؑ کے قول کو پورا کر دیا اور وقت معینہ پر اہل نینوا کو عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو وہ سب لوگ بچے، بوڑھے، جوان عورتیں مرد مل کر کھلے میدان میں نکل آئے اور اللہ کے حضور گڑگڑائے اور توبہ کی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ عذاب ٹال دیا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ میں یہ ایک ہی استثناء ہے کہ آیا ہوا عذاب ٹل گیا ہو۔ اب اس قوم کی طرف جب یونسؑ آئے تو وہ پہلے ہی نرم ہو چکی تھی۔ لہٰذا آپ کی تبلیغ کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یونس علیہ السلام اور ان کی امت ٭٭
یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورۃ الصافات میں بھی ہے اور سورۃ نون میں بھی ہے۔ ۱؎ [37-الصافات:139-148]‏‏‏‏ ۱؎ [68-القلم:48-50]‏‏‏‏ یہ پیغمبر یونس بن متی علیہ السلام تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی۔ آپ علیہ السلام وہاں سے ناراض ہو کرچل دئے اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ تین دن میں تم پر عذاب الٰہی آ جائے گا۔‏‏‏‏ جب انہیں اس بات کی تحقیق ہوگئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء علیہم السلام جھوٹے نہیں ہوتے تو یہ سب کے سب چھوٹے بڑے مع اپنے جانوروں اور مویشوں کے جنگل میں نکل کھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا اور بلک بلک کر نہایت گریہ وزاری سے جناب باری تعالیٰ میں فریاد شروع کر دی۔
ادھر ان کی آہ وبکاء ادھر جانوروں کی بھیانک صدا غرض اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی عذاب اٹھا لیا گیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ» ۱؎ [10-یونس:98]‏‏‏‏ یعنی ’ عذابوں کی تحقیق کے بعد کے ایمان نے کسی کو نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہم نے ان پر سے عذاب ہٹالیے اور دنیا کی رسوائی سے انہیں بچا لیا اور موت تک کی مہلت دے دی ‘۔
حضرت یونس علیہ السلام یہاں سے چل کر ایک کشتی میں سوار ہوئے آگے جاکر طوفان کے آثار نمودار ہوئے۔ قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے مشورہ یہ ہوا کہ کسی آدمی کو دریا میں ڈال دینا چاہے کہ وزن کم ہو جائے۔ قرعہ یونس علیہ السلام کا نکلا لیکن کسی نے آپ علیہ السلام کو دریا میں ڈالنا پسند نہ کیا۔ دوبارہ قرعہ اندازی ہوئی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا تیسری مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اب کی مرتبہ بھی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا۔
چنانچہ خود قرآن میں ہے آیت «فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ» ۱؎ [37-الصافات:141]‏‏‏‏ اب کہ یونس علیہ السلام خود کھڑے ہو گئے کپڑے اتار کر دریا میں کود پڑے۔ بحر اخضر سے بحکم الٰہی ایک مچھلی پانی کاٹتی ہوئی آئی اور آپ علیہ السلام کو لقمہ کرگئی۔ لیکن بحکم اللہ نے آپ علیہ السلام کی ہڈی توڑی نہ جسم کو کچھ نقصان پہچایا۔
آپ علیہ السلام اس کے لیے غذا نہ تھے بلکہ اس کا پیٹ آپ علیہ السلام کے لیے قید خانہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نسبت مچھلی کی طرف کی گئی عربی میں مچھلی کو نون کہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا غضب وغصہ آپ کی قوم پر تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:511/18:]‏‏‏‏
خیال یہ تھا کہ اللہ آپ کو تنگ نہ پکڑے گا پس یہاں «نَقُدِرَ» کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہدرحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ نے کئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:514/18:]‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کی تائید آیت «وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا» ۱؎ [65-الطلاق:7]‏‏‏‏ سے بھی ہوتی ہے۔
حضرت عطیہ عوفی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ معنی کئے ہیں کہ ہم اس پر مقدر نہ کریں گے۔‏‏‏‏ «قَدَرَ» اور «قَدَّرَ» دونوں لفظ ایک معنی میں بولے جاتے ہیں اس کی سند میں عربی کے شعر کے علاوہ آیت «فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ» ۱؎ [54-القمر:12]‏‏‏‏ بھی پیش کی جا سکتی ہے۔
ان اندھیریوں میں پھنس کر اب یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا پھر رات کا اندھیرا یہ اندھیرے سب جمع تھے۔ ۱؎ [تفسیر قرطبی:333/11:]‏‏‏‏
آپ علیہ السلام نے سمندر کی تہہ کی کنکریوں کی تسبیح سنی اور خود بھی تسبیح کرنی شروع کی۔ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں جا کر پہلے تو سمجھے کہ میں مرگیا پھر پیر کو ہلایا تو یقین ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ وہیں سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے بارالٰہی میں نے تیرے لیے اس جگہ کو مسجد بنایا جسے اس سے پہلے کسی نے جائے سجود نہ بنایا ہوگا۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/18:]‏‏‏‏ حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں چالیس دن آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے قید کا ارادہ کیا تو مچھلی کو حکم دیا کہ آپ علیہ السلام کو نگل لے لیکن اس طرح کے نہ ہڈی ٹوٹے نہ جسم پر خراش آئے۔ جب آپ علیہ السلام سمندر کی تہہ میں پہنچے تو وہاں تسبیح سن کر حیران رہ گئے وحی آئی کہ ’ یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے ‘۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے بھی اللہ کی تسبیح شروع کر دی اسے سن کر فرشتوں نے کہا بار الٰہا! یہ آواز تو بہت دور کی اور بہت کمزورہے کس کی ہے؟ ہم تو نہیں پہچان سکے۔ جواب ملا کہ ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے اس نے میری نافرمانی کی میں نے اسے مچھلی کے پیٹ کے قید خانے میں ڈال دیا ہے ‘۔ انہوں نے کہا پروردگار ان کے نیک اعمال تو دن رات کے ہر وقت چڑھتے ہی رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی سفارش قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو کنارے پر اگل دے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24778:ضعیف]‏‏‏‏
تفسیر ابن کثیر کے ایک نسخے میں یہ روایت بھی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا { کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے تیئں یونس بن متع سے افضل کہے۔ اللہ کے اس بندے نے اندھیریوں میں اپنے رب کی تسبیح بیان کی ہے } }۔ ۱؎ [ابن ابی شیبة:156/12]‏‏‏‏ اوپر جو روایت گزری اس کی وہی ایک سند ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے { حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب یونس علیہ السلام نے یہ دعا کی تو یہ کلمات عرش کے اردگرد گھومنے لگے، فرشتے کہنے لگے بہت دور دراز کی یہ آواز ہے لیکن کان اس سے پہلے آشنا ضرور ہیں آواز بہت ضعیف ہے۔ جناب باری نے فرمایا کیا ’ تم نے پہچانا نہیں؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آوازہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس (‏‏‏‏علیہ السلام) جس کے پاک عمل قبول شدہ ہر روز تیری طرف چڑھتے تھے اور جن کی دعائیں تیرے پاس مقبول تھیں، اے اللہ جیسے وہ آرام کے وقت نیکیاں کرتا تھا تو اس مصیبت کے وقت اس پر رحم کر۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو بغیر کسی تکلیف کے کنارے پر اگل دے }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:599/4:ضعیف]‏‏‏‏
استغفار موجب نجات ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور غم سے نجات دے دی ان اندھیروں سے نکال دیا۔ اسی طرح ہم ایمان داروں کو نجات دیا کرتے ہیں، وہ مصیبتوں میں گھر کر ہمیں پکارتے ہیں اور ہم ان کی دستگیری فرما کرتمام مشکلیں آسان کر دیتے ہیں ‘۔ خصوصاً جو لوگ اس دعائے یونس ہی کو پڑھیں جسکی تاکید سید الانبیاء رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
مسند احمد ترمذی وغیرہ میں ہے { سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہاں تھے۔ میں نے سلام کیا آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے بغور دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے امیر المؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہ دیا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہ یہ آئے، نہ انہوں نے سلام کیا، نہ یہ کہ میں نے انہیں جواب نہ دیا ہو۔‏‏‏‏ اس پر میں قسم کھائی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی میرے مقابلے میں قسم کھالی۔ پھر کچھ خیال کر کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے توبہ استغفار کیا اور فرمایا ٹھیک ہے۔ آپ نکلے تھے لیکن میں اس وقت اپنے دل سے وہ بات کہہ رہا تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے سنی تھی۔ واللہ مجھے جب وہ یاد آتی ہے میری آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ میرے دل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے
{ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبردیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اول دعا کا ذکر کیا ہی تھا جو ایک اعرابی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی باتوں میں مشغول کرلیا۔ بہ وقت گزرتا گیا اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے اور مکان کی طرف تشریف لے چلے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے قریب پہنچ گئے مجھے ڈر لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر نہ چلے جائیں اور میں رہ جاؤں تو میں نے زور زور سے پاؤں مارمار کر چلنا شروع کیا میری جوتیوں کی آہٹ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: { کون ابواسحاق؟} میں نے کہا جی ہاں یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں ہاں وہ دعا ذوالنون علیہ السلام کی تھی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87]‏‏‏‏ { سنو جو بھی مسلمان جس کسی معاملے میں جب کبھی اپنے رب سے یہ دعا کرے اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتا ہے } } }۔
ابن ابی حاتم میں ہے { جو بھی یونس علیہ السلام اس دعا کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول کی جائے گی }۔
ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی آیت میں اس کے بعد ہی فرمان ہے ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں۔‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کا وہ نام جس سے وہ پکارا جائے تو قبول فرمالے اور جو مانگا جائے وہ عطا فرمائے وہ یونس بن متع علیہ السلام کی دعا میں ہے }۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ یونس علیہ السلام کے لیے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ فرمایا: { ان کے لیے خاص اور تمام مسلمانوں کے لیے عام جو بھی یہ دعا کرے، کیا تو نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ ’ ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اسے غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں ‘۔ پس جو بھی اس دعا کو کرے اس سے اللہ کا قبولیت کا وعدہ ہو چکا ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24779:ضعیف]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے کثیر بن سعید فرماتے ہیں میں نے امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ابوسعید! اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ برادر زادے کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا؟ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی دو آیتیں «وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» تلاوت فرمائیں اور فرمایا بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔‏‏‏‏