وَ مَا جَعَلۡنٰہُمۡ جَسَدًا لَّا یَاۡکُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَ مَا کَانُوۡا خٰلِدِیۡنَ ﴿۸﴾
اور ہم نے انھیں محض جسم نہیں بنایا تھا جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔
En
اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے
En
ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وه کھانا نہ کھائیں اور نہ وه ہمیشہ رہنے والے تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 8) ➊ {وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا …:” جَسَدًا “} کا معنی بے جان جسم ہے، یہ جثہ کا ہم معنی ہے۔ محقق ائمۂ لغت کا یہی قول ہے، جیسا کہ ابو اسحاق زجاج نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «{ فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ }» [طٰہٰ: ۸۸] کی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ [التحریر والتنویر] یہ ان کے اس اعتراض کا جواب ہے: «{ مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ }» [الفرقان: ۷] ”اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا: «{ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ }» [الأنبیاء: ۳] ”یہ تمھارے جیسا ایک بشر ہی تو ہے۔“ ان اعتراضوں کے ساتھ مطالبہ یہ تھا: «{ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ }» [الأنبیاء: ۵] ”پس یہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جس طرح پہلے رسول بھیجے گئے۔“ {” فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ “} کا جواب پہلے گزر چکا ہے۔ یہاں دوسرے دونوں اعتراضوں کا جواب دیا کہ اس سے پہلے تمام رسول جو ہم نے بھیجے، بشر تھے فرشتے نہ تھے، مرد تھے عورتیں نہ تھے۔ اسی طرح وہ بے جان جسم نہ تھے جو نہ کھاتے ہوں اور نہ بازاروں میں چلتے پھرتے ہوں، بلکہ وہ کھاتے پیتے بھی تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔ (فرقان: ۲۰) ان کی بیویاں بھی تھیں اور اولاد بھی۔ (رعد: ۳۸) جیسے تمھارے جد امجد ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام اور بنی اسرائیل کے جد امجد یعقوب، اسحاق اور ابراہیم علیھم السلام۔ تو جب ان سب کو بشر ہونے، کھانے پینے، بازاروں میں چلنے پھرنے اور صاحب آل و اولاد ہونے کے باوجود رسول مانتے ہو تو نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کیوں نہیں مانتے؟
➋ مشرکین خواہ پہلے زمانے کے ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یا ہمارے زمانے کے، سب کا ذہن یہی ہوتا ہے کہ بزرگ کھانے پینے سے بے نیاز اور بیوی بچوں سے مستغنی ہوتے ہیں اور دنیا کے دھندوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اسی لیے ان کی نگاہ میں بزرگ اور پیر بننے والے حضرات کمائی وغیرہ چھوڑ کر کٹیاؤں اور خانقاہوں میں ڈیرے لگا لیتے ہیں۔ ان بزرگوں کے بعض عقیدت مند ان کے متعلق عجیب و غریب قصے مشہور کر دیتے ہیں، جن کا ہونا ممکن ہی نہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو ”تذکرۃ الاولیاء“ پڑھ لیں، مثلاً فلاں بزرگ نے پہلے ایک دن کھانے کا ناغہ کیا، پھر ایک ماہ کا، پھر ایک سال کا اور پھر ساری عمر کا۔ پنجاب کے ایک بزرگ کے متعلق ان کے عقیدت مندوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ انھوں نے بارہ سال کچھ کھائے بغیر جنگل میں عبادت کرتے ہوئے گزار دیے، صرف ایک لکڑی کی روٹی ان کے پاس تھی، جسے کبھی کبھار وہ دانتوں سے کاٹتے تھے۔ پھر بارہ سال انھوں نے ایک کنویں میں الٹے لٹک کر اللہ کی عبادت کرتے ہوئے گزار دیے۔ ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ الٹا لٹکنا کون سی عبادت ہے؟ اور اس عرصے کی نمازیں، روزے اور وضو و غسل سب کہاں گئے؟ ان لوگوں کے ہاں یہ بزرگی ہے، جب کہ وہ تین صحابہ، جن میں سے ایک نے کہا تھا کہ میں ہمیشہ ساری ساری رات قیام کیا کروں گا، کبھی سوؤں گا نہیں، دوسرے نے کہا تھا کہ میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھوں گا کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا اور تیسرے نے کہا تھا کہ میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: [وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لٰكِنّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَ أُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ] ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں، لیکن میں قیام کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزے رکھتا ہوں کبھی نہیں بھی رکھتا اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جس نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔“ [بخاري، النکاح، باب الترغیب في النکاح: ۵۰۶۳]
➌ { وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ:} یہ بھی کفار کے ایک غلط عقیدے کا رد ہے کہ اللہ کے رسول اور خاص بندے مرتے نہیں۔ کئی جاہلوں نے ایک عبارت بنا رکھی ہے جسے وہ قرآن کی آیت قرار دے کر سناتے ہیں: {” أَلَا إِنَّ أَوْلِيَائَ اللّٰهِ لَا يَمُوْتُوْنَ وَلٰكِنَّهُمْ مِنْ دَارٍ إِلٰي دَارٍ يَنْتَقِلُوْنَ “} ”یاد رکھو! اللہ کے ولی مرتے نہیں، بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔“ اگر کوئی شخص کہہ بیٹھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا فلاں بزرگ فوت ہو گئے ہیں تو یہ لوگ اسے گستاخ قرار دے کر اس پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ پہلے گزرے ہوئے رسول ہمیشہ رہنے والے نہ تھے، بلکہ اپنی طبعی زندگی گزار کر فوت ہو گئے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَاۡىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ }» [الأنبیاء: ۳۴] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر تو مر جائے تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ زمر (۳۰، ۳۱)۔
➋ مشرکین خواہ پہلے زمانے کے ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یا ہمارے زمانے کے، سب کا ذہن یہی ہوتا ہے کہ بزرگ کھانے پینے سے بے نیاز اور بیوی بچوں سے مستغنی ہوتے ہیں اور دنیا کے دھندوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اسی لیے ان کی نگاہ میں بزرگ اور پیر بننے والے حضرات کمائی وغیرہ چھوڑ کر کٹیاؤں اور خانقاہوں میں ڈیرے لگا لیتے ہیں۔ ان بزرگوں کے بعض عقیدت مند ان کے متعلق عجیب و غریب قصے مشہور کر دیتے ہیں، جن کا ہونا ممکن ہی نہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو ”تذکرۃ الاولیاء“ پڑھ لیں، مثلاً فلاں بزرگ نے پہلے ایک دن کھانے کا ناغہ کیا، پھر ایک ماہ کا، پھر ایک سال کا اور پھر ساری عمر کا۔ پنجاب کے ایک بزرگ کے متعلق ان کے عقیدت مندوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ انھوں نے بارہ سال کچھ کھائے بغیر جنگل میں عبادت کرتے ہوئے گزار دیے، صرف ایک لکڑی کی روٹی ان کے پاس تھی، جسے کبھی کبھار وہ دانتوں سے کاٹتے تھے۔ پھر بارہ سال انھوں نے ایک کنویں میں الٹے لٹک کر اللہ کی عبادت کرتے ہوئے گزار دیے۔ ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ الٹا لٹکنا کون سی عبادت ہے؟ اور اس عرصے کی نمازیں، روزے اور وضو و غسل سب کہاں گئے؟ ان لوگوں کے ہاں یہ بزرگی ہے، جب کہ وہ تین صحابہ، جن میں سے ایک نے کہا تھا کہ میں ہمیشہ ساری ساری رات قیام کیا کروں گا، کبھی سوؤں گا نہیں، دوسرے نے کہا تھا کہ میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھوں گا کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا اور تیسرے نے کہا تھا کہ میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: [وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لٰكِنّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَ أُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ] ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں، لیکن میں قیام کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزے رکھتا ہوں کبھی نہیں بھی رکھتا اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جس نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔“ [بخاري، النکاح، باب الترغیب في النکاح: ۵۰۶۳]
➌ { وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ:} یہ بھی کفار کے ایک غلط عقیدے کا رد ہے کہ اللہ کے رسول اور خاص بندے مرتے نہیں۔ کئی جاہلوں نے ایک عبارت بنا رکھی ہے جسے وہ قرآن کی آیت قرار دے کر سناتے ہیں: {” أَلَا إِنَّ أَوْلِيَائَ اللّٰهِ لَا يَمُوْتُوْنَ وَلٰكِنَّهُمْ مِنْ دَارٍ إِلٰي دَارٍ يَنْتَقِلُوْنَ “} ”یاد رکھو! اللہ کے ولی مرتے نہیں، بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔“ اگر کوئی شخص کہہ بیٹھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا فلاں بزرگ فوت ہو گئے ہیں تو یہ لوگ اسے گستاخ قرار دے کر اس پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ پہلے گزرے ہوئے رسول ہمیشہ رہنے والے نہ تھے، بلکہ اپنی طبعی زندگی گزار کر فوت ہو گئے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَاۡىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ }» [الأنبیاء: ۳۴] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر تو مر جائے تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ زمر (۳۰، ۳۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 بلکہ وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور موت سے بھی ہم کنار ہو کر مسافر عالم بقاء بھی ہوئے، یہ انبیاء کی بشریت ہی کی دلیل دی جا رہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ ہم نے ان (رسولوں کے) جسم ایسے نہیں بنائے تھے جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ہمیشہ رہنے [8] والے بھی نہ تھے۔
[8] سب انبیاء مرد تھے کھانا کھایا کرتے تھے اور سب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں:۔
اب کفار مکہ کے ایک بنیادی اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے۔ اعتراض یہ تھا کہ یہ نبی ہم ہی جیسا ایک بشر ہے۔ سب بشری کمزوریاں اور بشری تقاضے اس میں بھی موجود ہیں جو ہم میں ہیں۔ وہ ہماری طرح ہی کھانے پینے اور چلنے پھرنے کا محتاج ہے اور ہماری طرح نکاح شادیاں بھی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ اسے نہ تو کوئی دینی جاہ چشم میسر ہے اور نہ ہی کوئی فرشتہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ان سب باتوں کا انھیں جواب یہ دیا گیا کہ تم لوگ جو اہل کتاب سے پوچھ پوچھ کر اس نبی سے کئی طرح کے سوال اور کئی طرح کے اعتراض کرتے ہو تو ایک سوال یہ بھی پوچھ لو کہ آیا موسیٰؑ بشر تھے یا نہیں؟ ان کے جواب سے تمہیں تسلی ہو جائے گی کہ موسیٰؑ خود بھی اور ان کے علاوہ دوسرے تمام انبیاء بھی سب کے سب بشر ہی تھے۔ سب بشری تقاضے ان کے ساتھ بھی لگے ہوئے تھے۔ کھانے پینے کے علاوہ وہ سب کے سب موت سے بھی دوچار ہوئے اور آج ان میں سے کوئی بھی زندہ موجود نہیں ہے۔ [نيز ديكهئے سورة نحل كا حاشيه 44۔ 1]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-یوسف:109] یعنی ’ تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے ‘۔
اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:9] یعنی ’ کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں ‘۔
ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ’ کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ ‘
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اہل علم سے (یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ ‘
یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:9] یعنی ’ کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں ‘۔
ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ’ کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ ‘
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اہل علم سے (یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ ‘
یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» ۱؎ [25-الفرقان:20] یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے ‘ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔
جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7، 8]، یعنی ’ یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا ‘، الخ۔
اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» ۱؎ [21-الأنبياء:34] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا ‘ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔
جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7، 8]، یعنی ’ یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا ‘، الخ۔
اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» ۱؎ [21-الأنبياء:34] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا ‘ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔