ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 74

وَ لُوۡطًا اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا وَّ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡ کَانَتۡ تَّعۡمَلُ الۡخَبٰٓئِثَ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فٰسِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۴﴾
اور لوط، ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور اسے اس بستی سے نجات دی جو گندے کام کیا کرتی تھی۔ یقینا وہ برے لوگ تھے جو نافرمان تھے۔
اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا اور اس بستی سے جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بچا نکالا۔ بےشک وہ برے اور بدکردار لوگ تھے
ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھی حکم اور علم دیا اور اسے اسی بستی سے نجات دی جہاں کے لوگ گندے کاموں میں مبتلا تھے۔ اور تھے بھی بدترین گنہگار

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 75،74) {وَ لُوْطًا اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا …:} لوط علیہ السلام کا ذکر الگ کرنے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انھیں پہلے تینوں انبیاء کے علاقے اور قوم کے علاوہ کسی دوسرے علاقے اور قوم کی طرف بھیجا گیا تھا۔ لوط علیہ السلام کا قصہ سورۂ اعراف (۸۰)، ہود (۸۱) اور حجر (۶۱) میں گزر چکا ہے۔ ان کی بستی کے خبیث اعمال کا ذکر گزشتہ سورتوں کے علاوہ سورۂ عنکبوت (۲۸ تا ۳۵) اور سورۂ قمر (۳۳ تا ۳۷) وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ اس بستی کا نام سدوم مشہور ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا اور اس بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے گندے کام کرتے تھے۔ بلا شبہ وہ بہت برے اور نافرمان لوگ تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔