ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 73

وَ جَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ فِعۡلَ الۡخَیۡرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءَ الزَّکٰوۃِ ۚ وَ کَانُوۡا لَنَا عٰبِدِیۡنَ ﴿ۚۙ۷۳﴾
اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔ En
اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے
En
اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہبری کریں اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نمازوں کے قائم رکھنے اور زکوٰة دینے کی وحی (تلقین) کی، اور وه سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 73) ➊ { وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا:} یعنی وہ صرف خود ہی ہر لحاظ سے درست اور ہمارے مکمل فرماں بردار نہ تھے، بلکہ وہ اپنی قوم کے پیشوا بھی تھے جو ہماری وحی کے مطابق دوسروں کو بھی حق کی طرف دعوت دیتے تھے۔ معلوم ہوا اصل ہدایت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو اور جو ائمہ اللہ کے حکم کے بغیر حکم دیں تو وہ ہدایت کے امام نہیں، گمراہی کے امام ہیں۔
➋ {وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ …:} یعنی صالحیت اور امامت کے علاوہ ہم نے انھیں اپنی وحی سے بھی سرفراز فرمایا۔ {فِعْلَ الْخَيْرٰتِ } میں اگرچہ تمام نیک اعمال آ جاتے ہیں مگر اسلام لانے کے بعد اللہ کے حقوق میں سے سب سے اہم عمل نماز اور بندوں کے حقوق میں سے سب سے اہم حق زکوٰۃ کا ذکر خاص طور پر فرمایا، کیونکہ اگر یہ نہیں تو اسلام بھی معتبر نہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵)۔
➌ {وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ: لَنَا } پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے، کسی اور کو ہمارے ساتھ شریک کرنے والے نہ تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

73۔ نیز ہم نے انھیں پیشوا بنا دیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیک اعمال کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی کی اور وہ سب [61] ہمارے عبادت گزار تھے۔
[61] حضرت ابراہیمؑ نے بڑھاپے کی عمر اولاد کے لئے دعا کی تو اللہ نے حضرت اسحاق عطا فرمایا پھر حضرت ابراہیم نے بیٹے حضرت اسحاقؑ کے ہاں حضرت یعقوبؑ پیدا ہوئے اور تینوں ہی تھے اور یہ تو واضح ہے کہ نبی اپنے دور کا صالح ترین فرد ہوتا ہے اور ان سب انبیاء کی شریعتوں میں نماز اور زکوٰۃ ایسے ہی فرض تھی جیسے شریعت محمدیہ میں فرض کی گئی ہے البتہ جزئیات کا اختلاف ہوتا ہی رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔
﴿ یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔
﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰ٘وةِ وَاِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوْا لَنَا عٰؔبِدِیْنَ اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن صلاحِهِم أنَّه جعلهم أئمةً يهدون بأمره، وهذا من أكبر نعم الله على عبده: أن يكونَ إماماً يَهتدي به المهتدونَ، ويمشي خلفَه السالكون، وذلك لمَّا صبروا، وكانوا بآياتِ الله يوقنونَ.

وقوله: {يهدون بأمرِنا}؛ أي: يهدون الناس بديننا، لا يأمرون بأهواء أنفسهم، بل بأمر الله ودينِهِ واتِّباع مرضاته، ولا يكون العبدُ إماماً حتى يدعو إلى أمر الله.

{وأوحَيْنا إليهم فعلَ الخيرات}: يفعلونها ويدعون الناس إليها، وهذا شاملٌ للخيرات كلِّها من حقوق الله وحقوق العباد، {وإقام الصَّلاة وإيتاءِ الزَّكاةِ}: هذا من باب عطف الخاصِّ على العامِّ؛ لشرف هاتين العبادتين وفضلهما، ولأنَّ مَنْ كمَّلهما كما أمِرَ؛ كان قائماً بدينه، ومن ضيَّعهما؛ كان لما سواهما أضيع، ولأنَّ الصلاةَ أفضلُ الأعمال التي فيها حقُّه، والزكاة أفضلُ الأعمال التي فيها الإحسان لخلقه.

{وكانوا لنا}؛ أي: لا لغيرنا {عابدينَ}؛ أي: مديمين على العبادات القلبيَّة والقوليَّة والبدنيَّة في أكثر أوقاتهم، فاستحقُّوا أن تكون العبادة وصفَهم، فاتَّصفوا بما أمر الله به الخلقَ، وخَلَقَهم لأجلِهِ.