ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 60

قَالُوۡا سَمِعۡنَا فَتًی یَّذۡکُرُہُمۡ یُقَالُ لَہٗۤ اِبۡرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۰﴾
لوگوں نے کہا ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔
لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں
بولے ہم نے ایک نوجوان کو ان کا تذکره کرتے ہوئے سنا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) کہا جاتا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60){قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ …: } بتوں کو توڑنے کا مجرم تلاش کرنے میں انھیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ جن لوگوں نے وہ تقریر سنی تھی، جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد اور قوم کے سامنے کی تھی اور جس میں انھوں نے صاف اعلان کیا تھا کہ اللہ کی قسم! میں ضرور تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، انھوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو سنا ہے جو ان (بتوں) کا ذکر کر رہا تھا، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ ان مشرکوں کا ابراہیم علیہ السلام کی تحقیر کا انداز دیکھیے، وہ انھیں ابراہیم نامی ایک غیر معروف جوان بتا رہے ہیں، حالانکہ ابراہیم علیہ السلام جیسی شخصیت گمنام ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ بھلا سورج یا چاند بھی چھپے رہ سکتے ہیں؟ پھر وہ اس عمل کا باعث ان کی جوانی کو قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ان جاہلوں کو معلوم ہی نہیں کہ اس جوان کی جوانی دیوانی نہیں بلکہ ایسی ہوش مند ہے جس پر بے شمار پختہ عمروں کی پختہ عمری قربان ہے۔ { يَذْكُرُهُمْ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۳۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60۔ 1 ان میں سے بعض نے کہا کہ وہ نوجوان ابراہیم ؑ ہے نا، وہ ہمارے بتوں کے خلاف باتیں کرتا ہے، معلوم ہوتا ہے یہ اس کی کارستانی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ (بعض) لوگ کہنے لگے: ”ہم نے ایک نوجوان کو ان بتوں کا ذکر کرتے سنا تھا جس کا نام ابراہیم [53] ہے۔
[53] جب ان لوگوں نے میلہ سے واپس آکر اپنے مشکل کشاؤں کی یہ خستہ حالی دیکھی تو انھیں بہت دکھ ہوا۔ انھیں یہ خیال تک نہ آیا کہ بڑے بت کے کندھے پر جو کلہاڑا ہے تو شاید اسی بڑے خدا نے چھوٹے خداؤں کو تہس نہس کر دیا ہو۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بت تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے، توڑا پھوڑ کا کام کیسے کر سکتے ہیں؟ اور یہی کچھ حضرت ابراہیمؑ انھیں سمجھنا چاہتے تھے۔ انھیں خیال آیا تو صرف یہ کہ جس کسی نے یہ کام کیا ہے وہ بڑا ظالم ہے۔ اب ان مشکل کشاؤں کی ناراضگی سے ہم پر قہر نازل ہوکے رہے گا اور اس قہر سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم اس ظالم کا سراغ لگائیں اور اسے قرار واقعی سزا دیں۔ حضرت ابراہیمؑ چونکہ کئی لوگوں کے سامنے یہ اظہار خیال کر چکے تھے کہ ”یہ بے جان پتھر کی مورتیاں نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور نہ سنوار سکتی ہیں لہٰذا ان کی عبادت کرنا صریح گمراہی اور انسانیت کی توہین ہے“ لہٰذا بعض لوگوں کو فوراً یہ خیال آ گیا کہ یہ کارستانی ابراہیم کی ہی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی شخص ہماری نظر میں ایسا نہیں جو ہمارے ان معبودوں میں اس قدر گستاخ واقع ہوا ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔