ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 52

اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖ مَا ہٰذِہِ التَّمَاثِیۡلُ الَّتِیۡۤ اَنۡتُمۡ لَہَا عٰکِفُوۡنَ ﴿۵۲﴾
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو؟
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟
جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں؟

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52) ➊ {اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَ قَوْمِهٖ …: التَّمَاثِيْلُ تِمْثَالٌ} کی جمع ہے، اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق کی مثل بنائی ہوئی صورت، مجسمہ۔ بت پرست عموماً انسانوں کے مجسموں کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ سمجھ بوجھ جو موسیٰ علیہ السلام سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا حق ہونا اور بتوں اور دوسرے تمام معبودوں کا باطل ہونا۔ ابراہیم علیہ السلام کی قوم بت پرست بھی تھی، ستارے، چاند اور سورج کی پرستش بھی کرتی تھی اور بادشاہ کو بھی رب مانتی تھی۔ ستارے، چاند اور سورج کے معبود نہ ہونے کے لیے ابراہیم علیہ السلام کی نہایت مدلل، مؤثر اور لاجواب دعوت سورۂ انعام (۷۶ تا ۸۳) میں ملاحظہ فرمائیں۔ بادشاہ کے رب نہ ہونے کی دعوت سورۂ بقرہ (۲۵۸) میں ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں بتوں کے بے اختیار ہونے کی تبلیغ اور اس کا عملی اظہار فرمایا ہے۔
➋ {مَا هٰذِهِ التَّمَاثِيْلُ …: هٰذِهِ } کا اشارہ بتوں کی تحقیر کے لیے ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے نادان بنتے ہوئے اپنے باپ اور اپنی قوم سے بتوں کا تذکرہ نہایت تحقیر کے ساتھ کرتے ہوئے پوچھا: یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو، کیا چیز ہیں؟ گویا ابراہیم علیہ السلام ان کو کوئی چیز ماننے ہی پر تیار نہ تھے، کیونکہ وہ نہ سنتے تھے اور نہ کوئی فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے تھے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۴۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52۔ 1 تَمَاثِیْل، تِمْثَالُ کی جمع ہے۔ یہ اصل میں کسی چیز کی ہوبہو نقل کو کہتے ہیں۔ جیسے پتھر کا مجسمہ یا کاغذ اور دیوار پر کسی کی تصویر۔ یہاں مراد وہ مورتیاں ہیں جو قوم ابراہیم ؑ نے اپنے معبودوں کی بنا رکھی تھیں اور جن کی وہ عبادت کرتے تھے عاکف۔ عکوف سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے معنی کسی چیز کو لازم پکڑنے اور اس پر جھک کر جم کر بیٹھ رہنے کے ہیں۔ اسی سے اعتکاف ہے جس میں انسان اللہ کی عبادت کے لیے جم کر بیٹھتا ہے اور یکسوئی اور انہماک سے اس کی طرف لو لگاتا ہے یہاں اس سے مراد بتوں کی تعظیم و عبادت اور ان کے تھانوں پر مجاور بن کر بیٹھنا ہے یہ تماثیلیں (مورتیاں اور تصویریں) قبر پرستوں اور پیر پرستوں میں بھی آجکل عام ہیں اور ان کو بڑے اہتمام سے گھروں اور دکانوں میں بطور تبرک آویزاں کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں سمجھ عطا فرمائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ: یہ مورتیاں کیا ہیں جن کے آگے تم بندگی کے لئے [47] بیٹھے رہتے ہو؟
[47] یہ حضرت ابراہیمؑ کی ہوش مندی کا تقاضا تھا کہ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں کو بے جان اور ساکت و صامت بتوں کے سامنے سجدہ ریز دیکھا تو فوراً دل میں سوچنے لگے کہ ان بے جان پتھروں کے سامنے، جو نہ حرکت کر سکتے ہیں، نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں۔ سجدہ کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ ایسی چیزوں کو سجدہ کرنا تو سراسر انسانیت کی توہین اور تذلیل ہے۔ قوم کی اس انسانیت سوز حرکت پر وہ مدتوں دل ہی دل میں کڑہتے اور نفرت کرتے رہے۔ بالآخر انہوں نے اپنے طبیعت کے تقاضا سے مجبور ہو کر اپنے باپ اور اپنی قوم سے یہ سوال کر ہی دیا کہ مجھے بھی تو کچھ بتلاؤ کہ جن بے جان مورتیوں کے سامنے تم بیٹھ کر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہو اس کا فائدہ کیا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یہودی روایتوں سے بچو ٭٭
فرمان ہے کہ ’ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی ‘۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83]‏‏‏‏۔ ’ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں ‘۔
یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔
غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ’ ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے ‘۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟
اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔‏‏‏‏
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔
اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔‏‏‏‏