ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 51

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ رُشۡدَہٗ مِنۡ قَبۡلُ وَ کُنَّا بِہٖ عٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۵۱﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم اسے جاننے والے تھے۔ En
اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے
En
یقیناً ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ بخشی تھی اور ہم اس کے احوال سے بخوبی واقف تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) ➊ {وَ لَقَدْ اٰتَيْنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ …: رُشْدٌ} ہدایت اور سیدھا راستہ، یہ لفظ {غَيٌّ} کے مقابلے میں آتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [البقرۃ: ۲۵۶] بلاشبہ ہدایت گمراہی سے صاف واضح ہو چکی۔ اور سمجھ بوجھ اور ہوش مندی کے معنی میں بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا [النساء: ۶] پھر اگر تم ان سے کچھ سمجھ داری معلوم کرو۔ { رُشْدَهٗ } یعنی وہ سمجھ بوجھ جو اس کے لائق تھی۔
➋ { مِنْ قَبْلُ:} یعنی موسیٰ اور ہارون علیھما السلام سے پہلے یا نبوت عطا کرنے سے پہلے۔ بعض نے کہا غار سے نکلنے کے بعد۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام(۷۵ تا ۷۹)۔
➌ { وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ:} یعنی ہم اسے جانتے تھے کہ ہم نے اس میں کیا کیا خوبیاں اور صلاحیتیں رکھی تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی جتنی بھی خوبیاں بیان کر لی جائیں اللہ تعالیٰ کی یہ شہادت ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ منصب عطا ہی اسے ہوتا ہے جو اللہ کے علم میں اس کا اہل ہو، فرمایا: «{اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ [الأنعام: ۱۲۴] اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 مِنْ قَبْلُ سے مراد تو یہ ہے کہ ابراہیم ؑ کو رشد و ہدایت (یا ہوشمندی) دینے کا واقع، موسیٰ ؑ کو ابتدائے تورات سے پہلے کا ہے یہ مطلب ہے کہ ابراہیم ؑ کو نبوت سے پہلے ہی ہوش مندی عطا کردی تھی۔ 51۔ 2 یعنی ہم جانتے تھے کہ وہ اس رشد کا اہل ہے اور وہ اس کا صحیح استعمال کرے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ اور اس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیم کو ہوشمندی [46] بخشی تھی اور ہم اس (کے حال) سے خوف واقف تھے۔
[46] ﴿رشد﴾ کا مفہوم:۔
﴿رُشد سے مراد ایسی ہوش مندی ہے۔ جس سے انسان اپنے فائدہ و نقصان، نیک و بد اور خیر و شر میں امتیاز کرنے اور فائدہ کی بات کو قبول کرنے اور نقصان کی بات کو رد کرنے کے قابل ہو جائے۔ خواہ یہ نفع و نقصان دنیوی ہو یا اخروی ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ موسیٰؑ سے بہت مدت پہلے ہم نے حضرت ابراہیمؑ کو ہوش مندی اور عقل سلیم عطا کی تھی۔ وہ زمانے کے رسم و رواج کے پیروکار نہیں تھے۔ بلکہ ہر بات کے نفع و نقصان کو خود سوچنے کے عادی تھے۔ اور ہم ان کے حالات سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ وہ فی الواقع رسالت الٰہی کے مستحق ہیں۔ لہٰذا ہم نے انھیں نبوت عطا فرمائی۔ اگرچہ یہ ہوش مندی بھی ہم نے ہی انھیں عطا کی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یہودی روایتوں سے بچو ٭٭
فرمان ہے کہ ’ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی ‘۔ جیسے آیت میں ہے «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» ۱؎ [6-الأنعام:83]‏‏‏‏۔ ’ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کر سکیں ‘۔
یہ جو قصے مشہور ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا ً چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت، وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لیے کہ وہ صحت کے مطابق ہے۔ اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت ومخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کر سکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لیے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع و نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا، وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے، ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔
غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ’ ہم نے اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے ‘۔ بچپنے میں ہی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا اور نہایت جرأت سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو؟
اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔‏‏‏‏
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا! واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے۔ ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی؟ میں کہتا ہوں، تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہو گئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔
اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے، اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبرا گئے اور کہنے لگے ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ علیہ السلام کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے، تمام چیزوں کا خالق و مالک وہی ہے۔ تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی نہ خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود و مسجود کیسے ہو گئے؟ میری گواہی ہے کہ خالق و مالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اس کے سوا کوئی رب نہ معبود۔‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔
﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِیْنَ اور ہم اس کو جانتے تھے۔ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تعالى موسى ومحمداً - صلى الله عليه وسلم - وكتابيهما؛ قال: {ولقد آتينا إبراهيم رُشْدَهُ من قبلُ}؛ أي: من قبل إرسال موسى ومحمد ونزول كتابيهما، فأراه الله ملكوتَ السماواتِ والأرض، وأعطاه من الرُّشد الذي كَمَّلَ به نفسه ودعا الناس إليه ما لم يؤتِهِ أحداً من العالمين غير محمدٍ، وأضاف الرُّشد إليه لكونِهِ رُشداً بحسب حاله وعلوِّ مرتبتِهِ، وإلاَّ؛ فكلُّ مؤمنٍ له من الرشد بحسب ما عه من الإيمان. {وكُنَّا به عالمين}؛ أي: أعطيناه رشدَه، واختَصَصْناه بالرسالة والخُلَّة، واصطفيناه في الدُّنيا والآخرة؛ لعلمنا أنَّه أهل لذلك وكفءٌ له؛ لزكائه وذكائه.

ولهذا ذَكَرَ محاجَّتَهُ لقومه، ونهيهم عن الشِّرك، وتكسير الأصنام وإلزامهم بالحجَّة، فقال: