(آیت 50) ➊ {وَهٰذَاذِكْرٌمُّبٰرَكٌاَنْزَلْنٰهُ: ”هٰذَا“} (یہ) سے مراد قرآن مجید ہے، سامعین کے ذہن میں حاضر ہونے کی وجہ سے اس کی طرف {”هٰذَا“} کے ساتھ اشارہ فرمایا ہے۔ {”ذِكْرٌ“} یعنی یہ نصیحت ہے اور یاد دہانی بھی۔ {”مُبٰرَكٌ“} جس میں بہت برکت، یعنی بے شمار بھلائیاں ہیں اور ہم نے (اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا ہے) اسے نازل کیا ہے۔ ➋ { اَفَاَنْتُمْلَهٗمُنْكِرُوْنَ:} ہم نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو تورات اور معجزات عطا کیے، تم لوگ انھیں مانتے ہو تو یہ بابرکت ذکر یعنی قرآن بھی ہم نے ہی نازل کیا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہیں مانتے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
50۔ 1 یہ قرآن، جو یاد دہانی حاصل کرنے والے کے لئے ذکر اور نصیحت اور خیر و برکت کا حامل ہے، اسے بھی ہم نے ہی اتارا ہے۔ تم اس کے مُنَزَّلمِّنَاللّٰہِ ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو، جب کہ تمہیں اعتراف ہے کہ تورات اللہ کی طرف سے ہی نازل کردہ کتاب ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ اور یہ (قرآن) بھی ایسی ہی بابرکت نصیحت [45] ہے جسے ہم نے اتارا ہے۔ پھر کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟
[45] قرآن کی صفات بمقابلہ تورات:۔
اور یہ قرآن جسے ہم نے اے قریشیو! تمہاری طرف نازل کیا ہے یہ تورات سے بھی زیادہ بابرکت ہے۔ جس میں سابقہ تمام آسمانی کتب کی خوبیاں بھی موجود ہیں اور ان سب کا خلاصہ بھی اس میں آگیا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں انسان کی ہدایت سے متعلق ہر چیز کو پوری تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔ گویا یہ قرآن فرقان بھی ہے، ضیاء اور نور بھی ہے، ذکر اور تذکرہ بھی ہے اور قیامت تک کے لوگوں کے لئے رحمت اور باعث رحمت بھی ہے۔ پھر بھی اگر تم ایسی بابرکت کتاب کا انکار کرتے ہو تو تمہاری بدبختی میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔