ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 36

وَ اِذَا رَاٰکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّتَّخِذُوۡنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ؕ اَہٰذَا الَّذِیۡ یَذۡکُرُ اٰلِہَتَکُمۡ ۚ وَ ہُمۡ بِذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا تو تجھے مذاق ہی بناتے ہیں، کیا یہی ہے جو تمھارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، اور وہ خود رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں۔
اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں
یہ منکرین تجھے جب بھی دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق ہی اڑاتے ہیں کہ کیا یہی وه ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر برائی سے کرتا ہے، اور وه خود ہی رحمٰن کی یاد کے بالکل ہی منکر ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36) ➊ { وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …: هُزُوًا } مصدر بمعنی مفعول ہے، یعنی جسے مذاق کیا جائے۔ پچھلی آیت میں لوگوں کو خیر و شر کے ساتھ آزمانے کا ذکر فرمایا۔ بنی نوع انسان کے لیے سب سے بڑی خیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے اور آپ کی آمد لوگوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش بھی ہے کہ کون نعمت کی قدر کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتا ہے اور کون ناشکری اور کفر کرتا ہے۔ اس آیت میں اس نعمت کے عطا ہونے پر ناشکری کرنے والے لوگوں یعنی کافروں کے رویے کا ذکر فرمایا کہ جب وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مذاق ہی بناتے ہیں، سنجیدگی سے نہ کوئی بات سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔
➋ { اَهٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ:} یہ جملہ ان کے ٹھٹھے کی تفسیر ہے، یعنی وہ آپ کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمھارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے؟ ذکر کرنے سے مراد اچھائی سے ذکر کرنا بھی ہوتا ہے اور برائی سے بھی، تعین اس کا حال کے قرینے سے ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص آپ سے آپ کے کسی دوست کے متعلق بیان کرتا ہے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا، تو ظاہر ہے اس کی مراد یہی ہے کہ وہ آپ کی تعریف کر رہا تھا اور اگر آپ کے کسی مخالف کے متعلق بیان کرے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا تو اس سے مراد یہی ہو گی کہ وہ برائی کے ساتھ آپ کا ذکر کر رہا تھا۔ جیسا کہ بت توڑنے والے کو تلاش کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے کہا تھا: «{ سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِيْمُ [الأنبیاء: ۶۰] ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ { اَهٰذَا } (کیا یہی ہے) میں ہمزہ تعجب کے اظہار کے لیے اور { هٰذَا } تحقیر کے لیے استعمال ہوا ہے۔
➌ { وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ:} یعنی ان کے معبودوں کا برائی سے ذکر کرنے پر آپ کا مذاق اڑانا انھیں کس طرح زیب دیتا ہے، جب کہ خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں؟ انھیں اس بے حد رحم والے کا ذکر گوارا نہیں جس نے انھیں پیدا کیا، ان پر انعام فرمایا اور جس اکیلے کے ہاتھ میں ان کا نفع اور ان کا نقصان ہے۔ پھر مذاق کے حق دار یہ لوگ ہیں یا ہمارا رسول؟ { بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ } کی تفسیر بعض مفسرین نے قرآن مجید فرمائی ہے کہ «{ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ [الحجر: ۹] یعنی وہ خود رحمان کے نازل کردہ ذکر کے منکر ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36۔ 1 اس کے باوجود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہنسی و مذاق اڑاتے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا ۭ اَھٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا) 25۔ الفرقان:41) جب اے پیغمبر! یہ کفار مکہ تجھے دیکھتے ہیں تو تیرا مذاق اڑانے لگ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ اور جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں تو بس مذاق ہی اڑاتے ہیں (کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہو جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے؟ جبکہ وہ خود رحمن [34] کے ذکر کے منکر ہیں۔
[34] مشرکوں کا اپنے معبودوں کو آپ سے بالا تر سمجھنا اور آپ کا مذاق اڑانا:۔
یعنی مشرکین مکہ کے نزدیک ان کے اپنے معبودوں کی شان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں بہت ارفع و اعلیٰ تھی۔ لہٰذا وہ آپ کو دیکھ کر از راہ مذاق و استہزا یوں کہتے کہ دیکھو یہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کی باتیں کرتا ہے (یعنی ان کے مقابلہ میں اس کی اوقات ہی کیا ہے؟) حالانکہ آپ ان کے معبودوں کو نہ گالی دیتے تھے اور نہ برا بھلا کہتے تھے۔ اور کہتے تھے تو صرف یہ کہتے تھے کہ تمہارے یہ معبود تمہارا نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں۔ اور اسے ہی وہ اپنے لئے سب سے بڑی گالی سمجھتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک آپ کے اس نظریہ سے ان کے معبودوں کی، ان کی اپنی اور ان کے آباؤ و اجداد کی سب کی توہین ہو جاتی تھی۔ اب وہ سنجیدگی سے معاملہ کو سمجھنے کی کوشش تو کرتے نہیں تھے۔ مگر ضد اور تعصب میں آکر آپ کا مذاق اڑانے لگتے تھے۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جب اس ہستی کا ذکر ہوتا جو فی الواقع ہر ایک کے نفع و نقصان کی مالک ہے تو انھیں یہ تکلیف شروع ہو جاتی کہ اللہ اکیلے کا کیوں ذکر کرتا ہے اور ہمارے معبودوں کو کیوں ساتھ شامل نہیں کرتا، حالانکہ اللہ کو وہ خود بھی اپنے معبودوں سے بڑا معبود سمجھتے تھے اور جب موت سامنے کھڑی نظر آتی تو اسے ہی پکارتے تھے۔ لہٰذا اللہ اکیلے کو پکارنے میں بھی تکلیف ہوتی تھی۔ اور رحمٰن کے لفظ سے تو انھیں ویسے بھی چڑ تھی جیسا کہ پہلا سورۃ رعد کی آیت نمبر 30 کے حاشیہ نمبر 39 میں گزر چکا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جلد باز انسان ٭٭
ابوجہل وغیرہ کفار قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں، تمہارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ سرکشی ہے۔ دوسرے یہ کہ خود ‌ ذکر رحمن کے منکر ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر۔
اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کر کے فرمایا گیا ہے آیت «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:41-42]‏‏‏‏ یعنی ’ وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہو جائے گا کہ گمراہ کون تھا؟ ‘ «وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» ۱؎ [17-الاسراء:11]‏‏‏‏ ’ انسان بڑا ہی جلدباز ہے ‘۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا۔ شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی، سر، آنکھ اور زبان میں جب روح آ گئی تو کہنے لگے، الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہو جائے۔‏‏‏‏
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { تمام دنوں میں بہتر و افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے، اسی میں قیامت قائم ہوگی، اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے، اللہ اسے عطا فرماتا ہے }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ { وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے }۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1046، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لیے کہ انسانی جبلت میں ہی جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔ پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔
اسی لیے فرمایا کہ ’ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہی ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق میں اڑانے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے۔ تم ابھی ہی دیکھ لو گے۔ جلدی نہ مچاؤ، دیر ہے اندھیر نہیں، مہلت ہے بھول نہیں ‘۔