ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 32

وَ جَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا مَّحۡفُوۡظًا ۚۖ وَّ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۳۲﴾
اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ En
اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں
En
آسمان کو محفوظ چھت بھی ہم نے ہی بنایا ہے۔ لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان نہیں دھرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) ➊ { وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا:} زمین کے چند عجائب کے ذکر کے بعد آسمان کے عجائب کی طرف متوجہ فرمایا۔ لوگوں کی بنائی ہوئی چھوٹی سی چھتیں بھی دیواروں یا ستونوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتیں اور پھر ان میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ان سے گرنے والی چیزیں کسی نہ کسی نقصان کا باعث بنتی ہیں، وہ جتنی دیر بھی رہیں آخر گر پڑتی ہیں۔ چور ان میں نقب لگا کر مال و متاع چرا کر لے جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین کے لیے ایسی چھت بنایا جو ستونوں کے بغیر قائم ہے۔ دیکھیے سورۂ رعد (۲) اور لقمان (۱۰) اور گرنے سے ہر طرح سے محفوظ ہے۔ دیکھیے سورۂ فاطر (۴۱) اور سورۂ حج (۶۵) اس سے کوئی نقصان دہ چیز نیچے آنے کے بجائے زندگی کو قائم رکھنے والی چیزیں، مثلاً سورج کی تیز روشنی (ضیا) اور حرارت، چاند اور ستاروں کا نور، رات دن کا آنا جانا، بادل، بارش، ہوائیں، فرشتے اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار نظر نہ آنے والی رحمتیں اترتی ہیں۔ پھر نقب تو بہت دور، راز چرانے کی کوشش کرنے والے شیاطین سے بھی شہاب ثاقب کے ذریعے سے اس کی حفاظت کا زبردست انتظام کیا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ حجر (۱۶ تا ۱۸) اور صافات (۶ تا ۱۰)۔
➋ { وَ هُمْ عَنْ اٰيٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ:} یعنی مشرک لوگ آسمان اور اس میں پائی جانے والی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے، مثلاً سورج، چاند، ستارے، رات، دن، بارش، بادل، بجلی، ہوائیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار چیزیں۔ کیونکہ اگر وہ عبرت کی نظر سے ان تمام چیزوں کو دیکھیں تو یقین کر لیں کہ ان کا بنانے والا موجود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 زمین کے لئے محفوظ چھت، جس طرح خیمے اور قبے کی چھت ہوتی ہے یا اس معنی میں محفوظ کہ ان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے، ورنہ آسمان زمین پر گرپڑیں تو زمین کا سارا نظام تہ وبالا ہوسکتا ہے۔ یا شیاطین سے محفوظ جیسے فرمایا (وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ) 45۔ الحجر:17)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا۔ پھر بھی یہ لوگ اللہ کی نشانیوں کی طرف توجہ [30] نہیں کرتے۔
[30] یعنی کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایسی بے شمار نشانیاں موجود ہیں جن میں غور کرنے سے باسانی انسان اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ان اشیاء کو پیدا کرنے والی اور ان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے والی ضرور کوئی نہ کوئی ہستی موجود ہے جو اتنی با اختیار، علیم اور مقتدر ہے کہ ان تمام اشیاء پر کنٹرول کر رہی ہے اور وہ ایک ہی ہو سکتی ہے اور یہ لوگ جو کسی نئی نشانی یا کسی نئے معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے اگر وہ توجہ دیتے تو پھر انھیں کسی معجزہ کے مطالبہ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا یعنی آسمان کو اس زمین کے لیے چھت بنایا جس پر تم رہ رہے ہو ﴿ مَّحْفُوْظًا یعنی گرنے سے محفوظ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا (فاطر:35؍41) بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں او زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو شیاطین کے سن گن لینے سے بھی محفوظ کر رکھا ہے۔
﴿ وَّهُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ یعنی وہ اس کی آیات سے غافل اور لہوولعب میں مبتلا ہیں۔ یہ آسمان کی تمام نشانیوں کے لیے عام ہے، مثلاً:اس کی بلندی، کشادگی، عظمت، اس کے حسین رنگ، حیرت انگیز مہارت سے اس کی مضبوطی وغیرہ، نیز اس میں بہت سی دیگر نشانیوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:ستارے، سیارے، روشن سورج اور چاند جو رات اور دن کے وجود کا باعث بنتے ہیں اور ہمیشہ سے اپنے افلاک میں تیر رہے ہیں۔ اسی طرح ستارے اپنے اپنے فلک میں رواں دواں ہیں۔
پس اس سبب سے بندوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں، مثلاً:گرمی سردی کا پیدا ہونا، موسموں کا تغیر و تبدل، جس سے بندے اپنی عبادات اور دیگر معاملات کا حساب رکھتے ہیں، رات کے وقت راحت اور سکون پاتے ہیں اور دن کے وقت اپنی معاش کے حصول کے لیے زمین میں پھیل جاتے ہیں۔ ان تمام امور کی تدبیر ایک دانا و بینا ہستی کر رہی ہے اور وہ نہایت توجہ سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک وقت مقرر اور حتمی مدت تک کے لیے بنایا ہے تاکہ اس دوران میں اپنے مصالح و منافع حاصل کر لیں اور فائدہ اٹھا لیں۔ اس کے بعد یہ سب کچھ زائل ہو کر مضمحل ہو جائے گا اور وہ ہستی اسے فنا کے گھاٹ اتار دے گی جو اسے وجود میں لائی ہے، وہ ہستی اس کون و مکاں کو ساکن کر دے گی جس نے اس کو متحرک کیا ہے۔
مکلفین اس گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جائیں گے جہاں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا آخرت کے دائمی گھر کے لیے کھیتی ہے، یہ سفر کی ایک منزل ہے، مستقل قیام کی جگہ نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وجَعَلْنا السماء سَقْفاً}: للأرض التي أنتم عليها {محفوظاً}: من السقوط؛ {إنَّ الله يمسِكُ السمواتِ والأرضَ أن تزولا}؛ محفوظاً أيضاً من استراق الشياطين للسمع. {وهُم عن آياتِها معرِضونَ}؛ أي: غافلون لاهون.

وهذا عامٌّ في جميع آيات السماء؛ من علوِّها، وسعتها، وعظمتها، ولونها الحسن، وإتقانها العجيب، وغير ذلك من المشاهَدِ، فيها من الكواكب الثوابت والسيَّارات، وشمسها وقمرها النيِّرات، المتولِّد عنهما الليل والنهار، وكونهما دائماً في فلكهما سابحيْن. وكذلك النجوم، فتقوم بسبب ذلك منافعُ العباد من الحرِّ والبرد والفصول، ويعرفون حسابَ عباداتهم ومعاملاتهم، ويستريحون في ليلهم ويهدؤون ويسكنون، وينتشرون في نهارهم ويسعَوْن في معايشهم؛ كل هذه الأمور إذا تدبَّرها اللبيب وأمعن فيها النظر؛ جزم جزماً لا شكَّ فيه أن الله جعلها مؤقَّتة في وقتٍ معلوم إلى أجل محتوم، يقضي العبادُ منها مآرِبَهم، وتقومُ بها منافِعُهم، وليستمتعوا وينتفعوا، ثم بعد هذا ستزول وتضمحلُّ ويفنيها الذي أوجدها ويُسكِّنُها الذي حركها، وينتقل المكلَّفون إلى دارٍ غير هذه الدار؛ يجدون فيها جزاء أعمالهم كاملاً موفراً، ويعلم أنَّ المقصود من هذه الدار أن تكون مزرعةً لدار القرار، وأنَّها منزلُ سفرٍ لا محلُّ إقامة.