ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 3

لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجۡوَی ٭ۖ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ ہَلۡ ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۚ اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَ اَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۳﴾
اس حال میں کہ ان کے دل غافل ہوتے ہیں۔ اور ان لوگوں نے خفیہ سرگوشی کی جنھوں نے ظلم کیا تھا، یہ تم جیسے ایک بشر کے سوا ہے کیا؟ تو کیا تم جادو کے پاس آتے ہو، حالانکہ تم دیکھ رہے ہو؟ En
ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے۔ تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو
En
ان کے دل بالکل غافل ہیں اور ان ﻇالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں کہ وه تم ہی جیسا انسان ہے، پھر کیا وجہ ہے جو تم آنکھوں دیکھتے جادو میں آجاتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ {لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى …: لَاهِيَةً لَهِيَ يَلْهٰي } (ع) یا { لَهَا يَلْهُوْ} (ن) سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے۔ { لَهْوٌ} وہ چیز ہے جو انسان کو اس کے ضروری اور اہم کاموں سے کسی اور کام میں مشغول کر دے۔ (راغب) جیسا کہ مادہ پرست لوگ آخرت کی فکر چھوڑ کر صرف دنیا کی طلب میں مشغول ہیں۔ آج کل کے علوم و فنون سائنس، آرٹ وغیرہ میں کوئی چیز ایسی نہیں جو آخرت کی یاد دلانے والی ہو، بلکہ یہ سب روشن خیالیاں دن بدن موت اور آخرت کی فکر سے دور لے جا رہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ روم (۶، ۷)۔
➋ { وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى:} یہاں نحو کا ایک مشہور سوال ہے کہ جب فاعل ظاہر ہو تو خواہ وہ واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، فعل واحد کے صیغے کے ساتھ آتا ہے۔ یہاں { الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا } فاعل ظاہر ہونے کے باوجود فعل جمع کے صیغے کے ساتھ کیوں آیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ { اَسَرُّوا } کا فاعل ضمیر جمع ہے اور { الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا } اس سے بدل ہے، یعنی کفار نے باہمی خفیہ مشورے سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رکھنے کے لیے خفیہ مشاورت کرکے طے کیا کہ لوگوں سے یہ کہو اور خفیہ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہ ان کی طے کردہ بات ہے تو وہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
➌ {هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ …:} یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے، بلکہ تمھاری طرح کا ایک انسان ہے، اب جو یہ معجزات دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا، ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور بشر نبی نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۴)، تغابن (۶)، قمر (۲۴)، مومنون (۳۳، ۳۴)، فرقان (۷) اور ابراہیم (۱۰) پہلے کفار و مشرکین کہتے تھے کہ بشر نبی نہیں ہو سکتا، آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی بشر نہیں ہو سکتا، بات ایک ہی ہے، «{ بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ [المؤمنون: ۸۱] بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آگے اس کا رد فرمایا۔ دوسرا طعن یہ تھا کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔ کفار کا یہ طعن بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ مدثر (۲۴) اور ذاریات (۵۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی نبی کا بشر ہونا ان کے لئے ناقابل قبول ہے پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ تو جادوگر ہے، تم اس کے جادو میں دیکھتے بھالتے کیوں پھنستے ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ ان کے دل تو اور باتوں میں منہمک ہیں اور یہ ظالم خفیہ مشورے کرتے ہیں کہ: ”کیا یہ تمہارے جیسا بشر [4] ہی نہیں، پھر تو دیکھتے بھالتے (اس کے) جادو میں کیوں پھنستے ہو؟“
[4] سردار قریش نے قرآن کے جادو سے بچنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کیں؟
قریش مکہ قرآن کی دعوت کے شدید مخالف تھے لیکن اس کے انداز بیان، فصاحت و بلاغت اور جادو کی سی تاثیر کے وہ خود بھی معترف تھے اور قرآن کو اسی لحاظ سے جادو کہتے تھے اور اس جادو کو روکنے کا طریقہ ابتداًء انہوں نے یہ اختیار کر لیا تھا کہ سب قریشی سرداروں نے مل کر یہ معاہدہ کیا کہ جہاں تک ہو سکے قرآن کے سننے اور پڑھنے پر پابندی لگا دی جائے۔ سننے پر پابندی تو انہوں نے اپنے آپ پر لگائی تھی مگر یہ قریشی سردار خود بھی اس پابندی کو نباہ نہ سکے اور خود بھی چوری چھپے قرآن سن لیتے تھے کیونکہ ان کے دل اور ان کے کام قرآن کی لذت سے محظوظ ہونا چاہتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ تین سردار رات کے وقت کعبہ کے گرد کھڑے ہو کر آپ کا قرآن سن رہے تھے۔ بعد میں یہ راز فاش ہو گیا تو ان میں سے ایک سردار نے ابو جہل سے پوچھا کہ ”جو قرآن تم نے سنا ہے اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟“ اس نے اس سوال کا صحیح جواب دینے کے بجائے رخ کو دوسرا طرف موڑ دیا اور کہا کہ ”ہم اور بنی عبد مناف سب باتوں میں ایک دوسرے کے ہم پلہ تھے، اب ہم ان کے نبی کو تسلیم کر کے ان کی اس برتری کو کیسے تسلیم کر سکتے ہیں“ [ابن هشام: ص 108]
ابو جہل کے اس جواب سے دو باتوں کا صاف طور پر پتا چلتا ہے۔ ایک یہ کہ سب قریشی سردار قرآن کی تاثیر سے متاثر تھے اور دوسری یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو تسلیم کرنے میں صرف یہ بات آڑے نہیں آرہی تھی کہ آپ بشر تھے بلکہ اس کی اور بھی کئی وجوہ تھیں۔ اور قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے پر پابندی ان لوگوں نے مسلمان پر لگا رکھی تھی۔ کیونکہ انھیں یہ خطرہ تھا کہ قرآن سن کر ان کی عورتیں اور ان کے بچے متاثر ہو جاتے ہیں اور یہ پابندی مسلمانوں پر ہجرت نبوی تک قائم رہی۔ علاوہ ازیں ایک تدبیر انہوں نے یہ اختیار کی تھی کہ جب کہیں قرآن پڑھا جا رہا ہو تو وہاں خوب شور و غل مچاؤ تاکہ قرآن کی آواز کسی کے کان میں پڑنے ہی نہ پائے۔ یہ تھے وہ طریقے جو انہوں نے اس جادو کے شر سے بچنے کے لئے اختیار کئے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔