ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 25

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۲۵﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔
اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) ➊ {وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ …:} پچھلی آیت میں { هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ } کہہ کر جو بات اختصار کے ساتھ کہی گئی تھی اب وہ واضح الفاظ میں تاکید کے ساتھ دہرائی گئی ہے اور جس بات کا حوالہ صرف چند کتابوں کے ساتھ خاص تھا اب تمام رسولوں کے ذکر کے ساتھ اسے عام کرکے بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے جو بھی رسول ہم نے بھیجا، خواہ اسے کتاب دی یا نہ دی، اسے یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، سو میری عبادت کرو۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۳۶) معلوم ہوا تمام رسول توحید الوہیت کی دعوت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے کہ عبادت صرف اللہ کی کرو اور اسی سے دعا اور فریاد کرو، کیونکہ توحید ربوبیت کے تو اکثر کفار بھی قائل تھے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو خالق، مالک اور رازق مانتے تھے، مگر پکارتے وقت غیر اللہ کو بھی پکارتے اور انھیں نفع نقصان کا مالک سمجھتے تھے، یا یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اپنی بات اللہ تعالیٰ سے منوا سکتے ہیں اور ہماری حاجتیں پوری کروا سکتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ یونس (۱۸) اور سورۂ زمر (۳)۔
➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر پہلے اپنی صفات کے تعدد کی بنا پر جمع متکلم کے ساتھ کیا ہے، مراد اپنی عظمت کا اظہار ہے، پھر جب توحید کا ذکر آیا تو اپنا ذکر واحد متکلم کے ساتھ فرمایا کہ { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ } اس میں { اَنَا } (میں) بھی واحد ہے اور { فَاعْبُدُوْنِ } (جو اصل میں { فَاعْبُدُوْنِيْ } تھا) کی یائے متکلم بھی واحد ہے، یہاں جمع کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا، تاکہ شبہ بھی پیدا نہ ہو کہ معبود ایک سے زیادہ ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25۔ 1 یعنی تمام پیغمبر بھی یہی توحید کا پیغام لے کر آئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف [21] یہی وحی کرتے رہے کہ ”میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہذا صرف میری ہی عبادت کرو“
[21] مشرکوں سے ایسی دلیل کے مطالبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود ہی یہ وضاحت فرما دی کہ میں نے تو جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتا رہا کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر ان منزل من اللہ کتابوں میں کوئی ایسی بات نکل بھی کیسے سکتی ہے جس میں شرک کے لئے جواز کی سند موجود ہو؟ اور اتفاق کی بات ہے کہ سابقہ الہامی کتب میں اگرچہ بہت سی تحریف ہو چکی ہے پھر بھی وہ توحید ہی کے دلائل مہیا کرتی ہیں ان میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی جس سے شرک کی تائید ہو سکے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حق سے غافل مشرک ٭٭
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے، ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کر رہے ہیں، اس میں سچے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر علیہ السلام پر اتری، اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔
فرمان ہے آیت «وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:45]‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لیے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں؟ ‘
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ۱؎ [16-النحل:36]‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو ‘۔
پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بے کار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔