تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ:} اس سے پہلے شرک کے باطل ہونے کی دو عقلی دلیلیں بیان فرمائیں، ایک {” لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ “} اور دوسری {” لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ “}، اس آیت میں اس کی دو نقلی دلیلیں بیان فرمائیں اور کفار سے مطالبہ فرمایا کہ تم بھی اپنی کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش کرو۔ ظاہر ہے کفار کے پاس شرک کی کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی، ان کا سرمایہ محض وہم و گمان اور نفس کی خواہشیں ہیں (سورۂ نجم: ۲۳، ۲۸۔ یونس: ۶۶) یا آبا و اجداد کی تقلید (زخرف: ۲۱ تا ۲۴) اور دونوں میں سے کوئی بھی دلیل یا برہان نہیں ہے۔
➌ { هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ:} یہ توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کی دو نقلی دلیلیں ہیں۔ {” مَنْ مَّعِيَ“} (جو میرے ساتھ ہیں) سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مسلم مراد ہیں اور ان کے ذکر سے مراد قرآن کریم ہے جو اس امت کے لیے نصیحت ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }» [الأنبیاء: ۱۰] ”بلاشبہ یقینا ہم نے تمھاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمھارا ذکر (تمھاری نصیحت) ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟“ {” وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ “} (اور مجھ سے پہلے لوگوں کی نصیحت) سے مراد پہلی امتوں پر نازل ہونے والی کتابیں تورات، انجیل، زبور اور صحف ابراہیم وغیرہ ہیں۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن مجید اور پہلی کتابیں تمھاری دسترس میں ہیں، کسی میں شرک کی کوئی دلیل ہے تو دکھا دو۔ پہلے پچھلے تمام اہل علم کی شہادت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فرمایا: «{ شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ }» [آل عمران: ۱۸] ”اللہ نے اس بات کی شہادت دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب ہے، کمال حکمت والا ہے۔“ قرآن مجید میں کفار سے شرک کی نقلی دلیل پیش کرنے کا مطالبہ کئی آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۳) اور زخرف (۴۵)۔
➍ {بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ الْحَقَّ:} لفظ {” بَلْ “} کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے سامنے عقلی یا نقلی دلیلیں پیش کرکے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ قبول کر لیں گے، کیونکہ یہ جاہل ہیں اور انھیں حق کا علم ہی نہیں۔ {” وَالنَّاسُ أَعْدَاءٌ لِمَا جَهِلُوْا “} (لوگ جس چیز کا علم نہ رکھتے ہوں اس کے دشمن ہوتے ہیں)۔ {” اَكْثَرُهُمْ “} سے معلوم ہوا کہ وہ سب ایسے نہیں بلکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق جانتے ہیں مگر عناد کی وجہ سے تسلیم نہیں کرتے اور کچھ ایسے لوگوں کی طرف بھی اشارہ ہے جن کی طبیعتیں حق جان کر اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو چکی ہوتی ہیں، جیسے عمر بن خطاب اور ان جیسے دیگر اصحاب(رضی اللہ عنہم) تھے اور ایسے لوگوں کی امید پر ہی داعیان حق کا حوصلہ قائم رہتا ہے۔
➎ { فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ:} اس میں ان کے جہل کا سبب بیان فرمایا کہ وہ حق معلوم کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور نہ کسی دلیل پر غور کرتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ }» [یوسف: ۱۰۵] ”اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بے دھیان ہوتے ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرمان ہے آیت «وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:45] ’ تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لیے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں؟ ‘
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو ‘۔
پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بے کار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم رجع إلى تهجين حال المشركين، وأنَّهم اتَّخذوا من دونه آلهةً؛ فقُلْ لهم موبِّخاً ومقرِّعاً: {أم اتَّخذوا من دونِهِ آلهةً قل هاتوا برهانَكم}؛ أي: حجَّتكم ودليلكم على صحَّة ما ذهبتُم إليه، ولن يجدوا لذلك سبيلاً، بل قد قامتِ الأدلة القطعيَّة على بطلانِهِ، ولهذا قال: {هذا ذكرُ مَن معيَ وذِكْرُ من قبلي}؛ أي: قد اتَّفقت الكتب والشرائع على صحَّة ما قلتُ لكم من إبطال الشرك؛ فهذا كتابُ الله الذي فيه ذِكْرُ كلِّ شيء بأدلَّته العقليَّة والنقليَّة، وهذه الكتب السابقة كلُّها براهينُ وأدلَّة لما قلتُ. ولمَّا عُلم أنَّهم قامت عليهم الحجَّة والبرهانُ على بطلان ما ذهبوا إليه؛ عُلم أنَّه لا برهان لهم؛ لأنَّ البرهان القاطع يُجزَمُ أنَّه لا معارض له، وإلاَّ؛ لم يكن قطعيًّا، وإن وُجِدَ معارضات؛ فإنَّها شُبَهٌ لا تغني من الحقِّ شيئاً. وقوله: {بل أكثرهُم لا يعلمون الحقَّ}؛ أي: وإنَّما أقاموا على ما هم عليه تقليداً لأسلافهم؛ يجادِلون بغير علم ولا هدىً، وليس عدمُ علمهم الحقَّ لخفائِهِ وغموضِهِ، وإنَّما ذلك لإعراضهم عنه، وإلاَّ؛ فلو التفتوا إليه أدنى التفاتٍ؛ تبيَّن لهم الحقُّ من الباطل تبيُّناً واضحاً جليًّا، ولهذا قال: {فهم معرضونَ}.