تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
خلاصہ یہ کہ زمین و آسمان میں کسی فساد کا نہ ہونا اور پوری کائنات میں زبردست ترتیب اور ہم آہنگی کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مالک اور انھیں چلانے والا ایک ہی ہے۔ یہ دلیل بہت زبردست، نہایت ہی سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ ایک چھوٹے سے گھر کا نظام کبھی درست نہیں چل سکتا اگر اس کا ذمہ دار ایک نہ ہو اور نہ ایک مملکت میں دو فرماں روا رہ سکتے ہیں، تو اتنی بڑی کائنات کا نظام دو فرماں رواؤں کی صورت میں کیسے چل سکتا ہے؟ علمائے اسلام نے اس دلیل کی کئی طرح سے تشریح فرمائی ہے، میں ان میں سے صرف دو تشریحات نقل کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ اگر ہم دو معبود فرض کریں تو کسی چیز کو حرکت دینے یا ساکن رکھنے میں اگر دونوں میں اختلاف ہو جائے تو یہ ناممکن ہے کہ دونوں کا ارادہ پورا ہو جائے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ کسی کا ارادہ بھی پورا نہ ہو (کیونکہ پھر وہ قادر و مختار ہی کیا ہوئے؟) اگر صرف ایک کا ارادہ پورا ہو تو دوسرا عاجز ٹھہرا، جو کسی صورت معبود برحق نہیں ہو سکتا اور دونوں کے اختلاف کا ممکن ہونا اس کے واقع ہونے کے قائم مقام ہے۔ دوسری تشریح یہ ہے کہ عدم سے وجود میں آنے والا ہر جز ناممکن ہے کہ دو قدرتوں کے نتیجے میں پیدا ہو۔ جب وہ دونوں میں سے ایک کی قدرت سے وجود میں آیا، تو دوسرا زائد اور بے کار ٹھہرا، جس کا اس جز میں کوئی دخل نہیں۔ اسی طرح کائنات کے ہر جز اور ہر ذرے میں غور کرتے جائیں، نتیجہ صرف ایک قادر و مختار نکلے گا۔ [ابن عطیہ فی المحرّر الوجیز]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے ’ سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:91]، ’ اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے ‘۔
کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [15-الحجر:92-93]، ’ تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا ‘۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» ۱؎ [23-المؤمنون:88] ’ وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فالمشرك يَعْبُدُ المخلوق الذي لا ينفع ولا يضرُّ، ويدعُ الإخلاص لله الذي له الكمالُ كلُّه وبيده الأمرُ والنفعُ والضرُّ، وهذا من عدم توفيقه وسوء حظِّه وتوفُّر جهله وشدَّة ظلمِهِ؛ فإنَّه لا يصلحُ الوجود إلاَّ على إله واحدٍ؛ كما أنَّه لم يوجد إلا بربٍّ واحد، ولهذا قال: {لو كان فيهما}؛ أي: في السماواتِ والأرض، {آلهةٌ إلاَّ الله لفسدتا}: في ذاتهما، وفَسَدَ مَنْ فيهما من المخلوقات.
وبيانُ ذلك: أنَّ العالم العلويَّ والسفليَّ على ما يُرى في أكمل ما يكون من الصَّلاح والانتظام، الذي ما فيه خللٌ ولا عيبٌ ولا ممانعةٌ ولا معارضةٌ، فدلَّ ذلك على أن مدبِّره واحدٌ وربَّه واحدٌ وإلهه واحدٌ؛ فلو كان له مدبِّران وربَّان أو أكثر من ذلك؛ لاختلَّ نظامُه وتقوَّضت أركانُه؛ فإنهما يتمانعان ويتعارضان، وإذا أراد أحدُهما تدبير شيء وأراد الآخر عدمه؛ فإنَّه محالٌ وجود مرادهما معاً، ووجود مراد أحدِهِما دونَ الآخر يدلُّ على عَجْزِ الآخر وعدم اقتدارِهِ، واتفاقُهما على مرادٍ واحدٍ في جميع الأمور غيرُ ممكنٍ؛ فإذاً يتعيَّن أن القاهر الذي يوجدُ مرادُهُ وحدَه من غير ممانع ولا مدافع هو الله الواحد القهَّار، ولهذا ذكر الله دليل التمانع في قوله: {ما اتَّخَذَ اللهُ من ولدٍ وما كان معه من إلهٍ إذاً لَذَهَبَ كلُّ إلهٍ بما خَلَقَ ولَعَلا بعضُهم على بعض سبحانَ اللهِ عما يصفون}، ومنه على أحد التأويلين قوله تعالى: {قُل لو كانَ معه آلهةٌ كما يقولون إذاً لابْتَغَوا إلى ذي العرشِ سبيلاً. سبحانَهُ وتعالى عمَّا يقولونَ علوًّا كبيراً}؛ ولهذا قال هنا: {فسبحان الله}؛ أي: تنزَّه وتقدَّس عن كلِّ نقص لكماله وحده، {ربِّ العرشِ}: الذي هو سقف المخلوقات وأوسعها وأعظمها؛ فربوبيَّته ما دونَه من باب أولى، {عما يصِفونَ}؛ أي: الجاحدون الكافرون من اتِّخاذ الولد والصاحبة، وأن يكون له شريكٌ بوجهٍ من الوجوه.