ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 22

لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبۡحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۲۲﴾
اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔ سو پاک ہے اللہ جو عرش کا رب ہے، ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ En
اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے
En
اگر آسمان وزمین میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہوجاتے پس اللہ تعالیٰ عرش کا رب ہر اس وصف سے پاک ہے جو یہ مشرک بیان کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) {لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ …:} یعنی ان لوگوں نے تو زمین سے لے کر کئی معبود بنا رکھے ہیں، جب کہ زمین اور آسمان دونوں میں ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فرمایا: «{ وَ هُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ [الزخرف: ۸۴] اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہی کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ کیونکہ معبود برحق تو وہ ہے جو پوری قدرت اور مکمل اختیار رکھنے والا ہو اور کسی معاملے میں عاجز نہ ہو۔ اب اگر زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور بھی قادر و مختار ہوتے تو کائنات کا یہ سلسلہ کبھی کا درہم برہم ہو چکا ہوتا۔ کیونکہ ان سب کی ہمیشہ کشمکش رہتی اور کوئی چیز اپنی مرتب شکل میں نہ بن سکتی اور نہ چل سکتی، جیسا کہ فرمایا: «{ مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ [المؤمنون: ۹۱] نہ اللہ نے (اپنی) کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی اس کے ساتھ کوئی معبود تھا، اس وقت ضرور ہر معبود، جو کچھ اس نے پیدا کیا تھا، اسے لے کر چل دیتا اور یقینا ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کر دیتا۔ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح ان میں سے ہر ایک اپنی قوت و اختیار منوانے کے لیے پوری کائنات کا اختیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا اور عرش پر قبضے کی جدو جہد کرتا، نتیجہ پوری کائنات کی تباہی ہوتا، فرمایا: «{ قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا [بني إسرائیل: ۴۲] کہہ دے اگر اس کے ساتھ کچھ اور معبود ہوتے، جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو اس وقت وہ عرش والے کی طرف کوئی راستہ ضرور ڈھونڈتے۔
خلاصہ یہ کہ زمین و آسمان میں کسی فساد کا نہ ہونا اور پوری کائنات میں زبردست ترتیب اور ہم آہنگی کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مالک اور انھیں چلانے والا ایک ہی ہے۔ یہ دلیل بہت زبردست، نہایت ہی سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ ایک چھوٹے سے گھر کا نظام کبھی درست نہیں چل سکتا اگر اس کا ذمہ دار ایک نہ ہو اور نہ ایک مملکت میں دو فرماں روا رہ سکتے ہیں، تو اتنی بڑی کائنات کا نظام دو فرماں رواؤں کی صورت میں کیسے چل سکتا ہے؟ علمائے اسلام نے اس دلیل کی کئی طرح سے تشریح فرمائی ہے، میں ان میں سے صرف دو تشریحات نقل کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ اگر ہم دو معبود فرض کریں تو کسی چیز کو حرکت دینے یا ساکن رکھنے میں اگر دونوں میں اختلاف ہو جائے تو یہ ناممکن ہے کہ دونوں کا ارادہ پورا ہو جائے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ کسی کا ارادہ بھی پورا نہ ہو (کیونکہ پھر وہ قادر و مختار ہی کیا ہوئے؟) اگر صرف ایک کا ارادہ پورا ہو تو دوسرا عاجز ٹھہرا، جو کسی صورت معبود برحق نہیں ہو سکتا اور دونوں کے اختلاف کا ممکن ہونا اس کے واقع ہونے کے قائم مقام ہے۔ دوسری تشریح یہ ہے کہ عدم سے وجود میں آنے والا ہر جز ناممکن ہے کہ دو قدرتوں کے نتیجے میں پیدا ہو۔ جب وہ دونوں میں سے ایک کی قدرت سے وجود میں آیا، تو دوسرا زائد اور بے کار ٹھہرا، جس کا اس جز میں کوئی دخل نہیں۔ اسی طرح کائنات کے ہر جز اور ہر ذرے میں غور کرتے جائیں، نتیجہ صرف ایک قادر و مختار نکلے گا۔ [ابن عطیہ فی المحرّر الوجیز]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

22۔ 1 یعنی اگر واقع آسمان و زمین میں دو معبود ہوتے تو کائنات میں تصرف کرنے والی دو ہستیاں ہوتیں، دو کا ارادہ و شعور اور مرضی کار فرما ہوتی اور جب دو ہستیوں کا ارادہ اور فیصلہ کائنات میں چلتا تو یہ نظم کائنات اس طرح قائم رہ ہی نہیں سکتا تھا جو ابتدائے آفرینش سے، بغیر کسی ادنیٰ توقف کے قائم چلا آرہا ہے۔ کیونکہ دونوں کا ارادہ ایک دوسرے سے ٹکراتا۔ دونوں کی مرضی کا آپس میں تصادم ہوتا، دونوں کے اختیارات ایک دوسرے کے مخالف سمت میں استعمال ہوتے۔ جس کا نتیجہ ابتری اور فساد کی صورت میں رونما ہوتا اور اب تک ایسا نہیں ہوا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کائنات میں صرف ایک ہی ہستی ہے جس کا ارادہ ومشیت کار فرما ہے جو کچھ بھی ہوتا ہے صرف اور صرف اسی کے حکم پر ہوتا ہے اس کے دئیے ہوئے کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے وہ اپنی رحمت روک لے اس کو دینے والا کوئی نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہوتے تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم [18] ہو جاتا، لہذا جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں ان سے اللہ پاک ہے جو عرش کا مالک ہے۔
[18] اگر اللہ کے سوا اور بھی الٰہ ہوں تو کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے:۔
بڑی موٹی سی بات ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ ایک اقلیم کے دو فرمانروا نہیں ہو سکتے۔ حتیٰ کہ کوئی بھی ادارہ اس وقت تک چل ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کا کرتا دھرتا صرف ایک شخص نہ ہو۔ جبکہ ایک گھر تک کا بھی انتظام اس وقت تک چل نہیں سکتا جب تک کہ سربراہ ایک نہ ہو۔ اور اگر میاں بیوی میں بھی اقتدار کی جنگ ہو تو اس کا نظام بھی تباہ و برباد ہو جائے گا۔ پھر اس عظیم کارخانہ کائنات کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے سربراہ ایک سے زیادہ ہوں؟ چونکہ یہ ایسی عام مثال ہے جس سے ہر شخص کو سابقہ پڑتا ہے۔ لہٰذا اس کے مختلف پہلوؤں پر ہر شخص خود بھی غور کر سکتا ہے یہاں تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے۔ جاہل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ایک بادشاہ نے اپنے تحت بے شمار امیر وزیر رکھے ہوتے ہیں۔ جو تدبیر مملکت میں اس کی مدد کرتے ہیں اور وہ اس کے محکوم ہی ہوتے ہیں۔ اس کے برابر کی چوٹ نہیں ہوتے یہی صورت ہمارے معبودوں کی ہے۔ اللہ نے کچھ برگزیدہ ہستیوں کو کچھ اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ جو اس کے محکوم اور اس کے بندے ہی ہیں۔ تاہم اللہ نے انھیں بھی کچھ اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ اس دلیل میں سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی معرفت کو سمجھا ہی نہیں۔ بادشاہ ایک عاجز مخلوق ہے۔ وہ خود نہ ہر ایک کی فریاد سن سکتا ہے اور نہ سالمیت کا انتظام چلا سکتا ہے۔ اسے مددگاروں کی احتیاج ہے، ان کے بغیر اس کا کام چل ہی نہیں سکتا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ایسی تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔ اسے کسی طرح کے مددگاروں کی ضرورت نہیں۔ وہ ہر ایک کی فریاد خود سنتا ہے اور قبول کرتا ہے اور سارے نظام کائنات کو خود ہی چلا رہا ہے اور ان کاموں کے لئے اسے کسی کی۔ احتیاج نہیں ہے اور جو فرشتے مدبرات امر ہیں۔ انھیں بھی کچھ اختیارات تفویض نہیں کئے گئے بلکہ وہ اللہ ہی کے حکم کے پابند اور اس حکم کے سامنے مجبور و بے بس ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭
شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ’ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ ‘
پھر فرماتا ہے ’ سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:91]‏‏‏‏، ’ اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے ‘۔
یہاں فرمایا، ’ اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (‏‏‏‏یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے ‘۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔
کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [15-الحجر:92-93]‏‏‏‏، ’ تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا ‘۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» ۱؎ [23-المؤمنون:88]‏‏‏‏ ’ وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰ٘هٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُ٘لُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَ (المومنون:23؍91) ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔
﴿ قُ٘لْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْ٘عَرْشِ سَبِیْلًا۰۰سُبْحٰؔنَهٗ وَ تَ٘عٰ٘لٰ٘ى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًؔا (بنی اسرائیل:17؍42، 43) کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں۔ اسی لیے فرمایا: ﴿فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الْ٘عَرْشِ رب ہے عرش کا۔ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا یَصِفُوْنَ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فالمشرك يَعْبُدُ المخلوق الذي لا ينفع ولا يضرُّ، ويدعُ الإخلاص لله الذي له الكمالُ كلُّه وبيده الأمرُ والنفعُ والضرُّ، وهذا من عدم توفيقه وسوء حظِّه وتوفُّر جهله وشدَّة ظلمِهِ؛ فإنَّه لا يصلحُ الوجود إلاَّ على إله واحدٍ؛ كما أنَّه لم يوجد إلا بربٍّ واحد، ولهذا قال: {لو كان فيهما}؛ أي: في السماواتِ والأرض، {آلهةٌ إلاَّ الله لفسدتا}: في ذاتهما، وفَسَدَ مَنْ فيهما من المخلوقات.

وبيانُ ذلك: أنَّ العالم العلويَّ والسفليَّ على ما يُرى في أكمل ما يكون من الصَّلاح والانتظام، الذي ما فيه خللٌ ولا عيبٌ ولا ممانعةٌ ولا معارضةٌ، فدلَّ ذلك على أن مدبِّره واحدٌ وربَّه واحدٌ وإلهه واحدٌ؛ فلو كان له مدبِّران وربَّان أو أكثر من ذلك؛ لاختلَّ نظامُه وتقوَّضت أركانُه؛ فإنهما يتمانعان ويتعارضان، وإذا أراد أحدُهما تدبير شيء وأراد الآخر عدمه؛ فإنَّه محالٌ وجود مرادهما معاً، ووجود مراد أحدِهِما دونَ الآخر يدلُّ على عَجْزِ الآخر وعدم اقتدارِهِ، واتفاقُهما على مرادٍ واحدٍ في جميع الأمور غيرُ ممكنٍ؛ فإذاً يتعيَّن أن القاهر الذي يوجدُ مرادُهُ وحدَه من غير ممانع ولا مدافع هو الله الواحد القهَّار، ولهذا ذكر الله دليل التمانع في قوله: {ما اتَّخَذَ اللهُ من ولدٍ وما كان معه من إلهٍ إذاً لَذَهَبَ كلُّ إلهٍ بما خَلَقَ ولَعَلا بعضُهم على بعض سبحانَ اللهِ عما يصفون}، ومنه على أحد التأويلين قوله تعالى: {قُل لو كانَ معه آلهةٌ كما يقولون إذاً لابْتَغَوا إلى ذي العرشِ سبيلاً. سبحانَهُ وتعالى عمَّا يقولونَ علوًّا كبيراً}؛ ولهذا قال هنا: {فسبحان الله}؛ أي: تنزَّه وتقدَّس عن كلِّ نقص لكماله وحده، {ربِّ العرشِ}: الذي هو سقف المخلوقات وأوسعها وأعظمها؛ فربوبيَّته ما دونَه من باب أولى، {عما يصِفونَ}؛ أي: الجاحدون الكافرون من اتِّخاذ الولد والصاحبة، وأن يكون له شريكٌ بوجهٍ من الوجوه.