تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ “} میں {”إِذَا“} فجائیہ یعنی اچانک کے معنی میں ہے اور{ ” هُوَ زَاهِقٌ “} جملہ اسمیہ ہے جو استمرار کے لیے ہے اور جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ باطل نہایت تیزی کے ساتھ مٹتا ہے اور اس کا مٹنا عارضی نہیں دائمی ہوتا ہے۔ (آلوسی)
➌ { وَ لَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ:} یعنی اگر تم یہ کہو گے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا یہ سلسلہ ایک کھیل بنایا ہے اور دوبارہ زندہ ہونا، حساب کتاب اور جنت و دوزخ سب فرضی قصے کہانیاں ہیں تو تمھارے اس بیان کا نتیجہ تمھاری بربادی کی صورت میں ظاہر ہو گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه تكفَّل بإحقاق الحقِّ وإبطال الباطل، وإنْ كان باطلٌ قيلَ وجُودِلَ به؛ فإنَّ الله يُنْزِلُ من الحقِّ والعلم والبيان ما يدمغُه فيضمحلُّ ويتبيَّن لكلِّ أحدٍ بطلانُه. {فإذا هو زاهقٌ}؛ أي: مضمحلٌ فانٍ. وهذا عامٌّ في جميع المسائل الدينيَّة، لا يورِدُ مبطلٌ شبهةً عقليَّة ولا نقليَّة في إحقاق باطل أو ردِّ حقٍّ؛ إلاَّ وفي أدلَّة الله من القواطع العقليَّة والنقليَّة ما يذهِبُ ذلك القول الباطل ويقمعُه؛ فإذا هو متبيِّن بطلانُه لكلِّ أحدٍ. وهذا يتبيَّن باستقراء المسائل مسألة مسألة؛ فإنَّك تجدُها كذلك. ثم قال: ولكم أيُّها الواصفون الله بما لا يَليقُ به من اتِّخاذ الولد والصاحبة ومن الأنداد والشُّركاء حظُّكم من ذلك ونصيبكم، الذي تدرِكون به الويل والنَّدامة والخُسران، ليس لكم مما قُلتم فائدةٌ، ولا يرجع عليكم بعائدة تؤمِّلونها، وتعملون لأجلها، وتسعَوْن في الوصول إليها؛ إلاَّ عكس مقصودكم، وهو الخيبة والحرمان.