بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَی الۡبَاطِلِ فَیَدۡمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ؕ وَ لَکُمُ الۡوَیۡلُ مِمَّا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾
بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس اچانک وہ مٹنے والا ہوتا ہے اور تمھارے لیے اس کی وجہ سے بربادی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔
En
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے
En
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وه اسی وقت نابود ہو جاتا ہے، تم جو باتیں بناتے ہو وه تمہاری لئے باعﺚ خرابی ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 18) ➊ {بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ …: ” قَذَفَ يَقْذِفُ“} (ض) کا معنی کسی چیز کو سختی کے ساتھ پھینک مارنا۔ {” فَيَدْمَغُهٗ “ ” دَمَغَ يَدْمَغُ “} (ف) کسی چیز کا دماغ کو توڑنا، یہاں تک کہ اس کی وہ جھلی پھٹ جائے جس کے پھٹنے سے روح نکل جاتی ہے۔ {”زَاهِقٌ “ ”زُهُوْقٌ“} کا معنی کسی چیز کا مکمل طور پر ختم ہو جانا ہے۔ یعنی ہم نے اس کائنات کو بے مقصد نہیں بنایا، بلکہ اس میں حق و باطل کا معرکہ جاری ہے اور اس کا نظام ہم نے اس طرح بنایا ہے کہ باطل نے جب بھی سر اٹھایا حق نے ضرب کاری لگا کر اسے نیست و نابود کر دیا۔ اسی طرح اب بھی بالآخر باطل فنا ہو جائے گا اور حق قائم و دائم رہے گا۔
➋ {” فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ “} میں {”إِذَا“} فجائیہ یعنی اچانک کے معنی میں ہے اور{ ” هُوَ زَاهِقٌ “} جملہ اسمیہ ہے جو استمرار کے لیے ہے اور جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ باطل نہایت تیزی کے ساتھ مٹتا ہے اور اس کا مٹنا عارضی نہیں دائمی ہوتا ہے۔ (آلوسی)
➌ { وَ لَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ:} یعنی اگر تم یہ کہو گے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا یہ سلسلہ ایک کھیل بنایا ہے اور دوبارہ زندہ ہونا، حساب کتاب اور جنت و دوزخ سب فرضی قصے کہانیاں ہیں تو تمھارے اس بیان کا نتیجہ تمھاری بربادی کی صورت میں ظاہر ہو گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
➋ {” فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ “} میں {”إِذَا“} فجائیہ یعنی اچانک کے معنی میں ہے اور{ ” هُوَ زَاهِقٌ “} جملہ اسمیہ ہے جو استمرار کے لیے ہے اور جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ باطل نہایت تیزی کے ساتھ مٹتا ہے اور اس کا مٹنا عارضی نہیں دائمی ہوتا ہے۔ (آلوسی)
➌ { وَ لَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ:} یعنی اگر تم یہ کہو گے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا یہ سلسلہ ایک کھیل بنایا ہے اور دوبارہ زندہ ہونا، حساب کتاب اور جنت و دوزخ سب فرضی قصے کہانیاں ہیں تو تمھارے اس بیان کا نتیجہ تمھاری بربادی کی صورت میں ظاہر ہو گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یعنی تخلیق کائنات کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ یہاں حق و باطل کی جو معرکہ آرائی اور خیرو شر کے درمیان جو تصادم ہے، اس میں ہم حق اور خیر کو غالب اور باطل اور شر کو مغلوب کریں چناچہ ہم حق کو باطل پر یا سچ کو جھوٹ پر یا خیر کو شر پر مارتے ہیں، جس سے باطل، جھوٹ اور شر کا بھیجہ نکل جاتا ہے اور چشم زدن میں وہ نابود ہوجاتا ہے۔ 18۔ 2 یعنی رب کی طرف سے تم جو بےسرو پا باتیں منسوب کرتے یا اس کی بابت باور کراتے ہو، (مثلاً یہ کائنات ایک کھیل ہے، ایک کھلنڈرے کا شوق فضول ہے وغیرہ) یہ تمہاری ہلاکت کا باعث ہے۔ کیونکہ اسے کھیل تماشہ سمجھنے کی وجہ سے تم حق سے گریز اور باطل کو اختیار کرنے میں کوئی تامل اور خوف محسوس نہیں کرتے، جس کا نتیجہ بالآخر تمہاری بربادی اور ہلاکت ہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ بلکہ ہم باطل [15] پر حق کی ضرب لگاتے ہیں تو حق باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے اور باطل شکست کھا کر بھاگ اٹھتا ہے اور تمہارے لئے ہلاکت ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بیان کرتے ہو۔
[15] تخلیق کائنات کا مقصد:۔
بلکہ تخلیق کائنات کا اصل مقصد یہ ہے کہ یہاں میدان کار زار گرم ہو۔ حق و باطل کا معرکہ جاری رہے۔ حق باطل پر حملہ آور ہو اور اس کا کچومر نکال کر بھاگنے پر مجبور کر دے۔ پھر جن لوگوں نے حق کا ساتھ دیا ہو۔ اللہ انھیں اپنے انعامات سے نوازے اور اہل باطل کو تباہ و برباد کر دے۔
باطل کی شکست کیسے؟ جبکہ بسا اوقات باطل ہی غالب نظر آتا ہے:۔
یہاں ایک اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ باطل قوتیں ہی غالب نظر آتی ہیں اور حق دبا رہتا ہے۔ انبیاء یا بعض دوسرے مصلحین آتے ہیں حق و باطل کا معرکہ ہوتا ہے اور حق غالب آجاتا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد پھر باطل سر نکال لیتا ہے اور حق دب جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حق کی راہ صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کی وحدانیت اور اس کائنات پر صرف اسی کا مکمل اقتدار و اختیار۔ جبکہ باطل کی راہیں لا تعداد ہیں۔ وہ اپنے روپ کو بدلتی رہتی ہیں اور اپنے الٰہ بھی۔ حق آتا ہے تو باطل کی راہوں کو مٹا دیتا ہے پھر باطل کسی نئے روپ میں از سر نو جنم لیتا ہے۔ کبھی الٰہ بتوں کو ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی شمس و قمر کو، کبھی ستاروں کو، کبھی فرشتوں کو، کبھی جنوں کو، کبھی انسانوں کو، کبھی ان کے آستانوں اور مزاروں کو اور کبھی شجر و حجر وغیرہ کو۔ تو یہ سب راہیں حق کے مقابلہ میں مغلوب ہی رہی ہیں اور اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ حضرت آدمؑ سے لے کر آج تک حق کی راہ ایک ہی رہی ہے اور موجود رہی ہے۔ آج بھی موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گی۔ توحید کے پرستار قیامت تک موجود رہیں گے۔ خواہ ان کی تعداد کتنی ہی تھوڑی ہو۔ جبکہ باطل کے تمام راستے ہمیشہ سے بگڑتے اور حق سے زک ہی اٹھاتے رہے ہیں۔ اور حق اکثر اوقات میں دبا رہنے کے باوجود بھی قائم اور برقرار رہتا ہے۔ گویا جن کو جو استقلال میسر ہے وہ باطل کو کبھی نصیب نہیں ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔