ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 96

قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ یَبۡصُرُوۡا بِہٖ فَقَبَضۡتُ قَبۡضَۃً مِّنۡ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذۡتُہَا وَ کَذٰلِکَ سَوَّلَتۡ لِیۡ نَفۡسِیۡ ﴿۹۶﴾
اس نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی، سو میں نے رسول کے پائوں کے نشان سے ایک مٹھی اٹھالی، پھر میں نے وہ ڈال دی اور میرے دل نے اسی طرح کرنا میرے لیے خوش نما بنادیا۔ En
اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا
En
اس نے جواب دیا کہ مجھے وه چیز دکھائی دی جو انہیں دکھائی نہیں دی، تو میں نے فرستادہٴ الٰہی کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی اسے اس میں ڈال دیا اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بھلی بنا دی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 96){ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ …:} میں نے اس آیت کی تفسیر کے لیے بہت زیادہ تفاسیر کا مطالعہ کیا، کئی اہل علم سے بھی پوچھا، جو کچھ تفاسیر میں لکھا ہے میں وہ نقل کرتا ہوں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: { بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ } (میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی) یعنی میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، جب وہ فرعون کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تو { فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ } (سو میں نے رسول کے پاؤں کے نشان سے ایک مٹھی اٹھا لی) یعنی جبریل علیہ السلام کی گھوڑی کے پاؤں کے نشان سے۔ یہی بات بہت سے مفسرین یا زیادہ تر مفسرین کے ہاں مشہور ہے۔ (ابن کثیر) جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا، اکثر مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے، بلکہ بعض نے تو اس کے علاوہ کسی تفسیر کو سلف کی تفسیر سے انحراف قرار دیا ہے، یعنی سامری نے مٹی کی وہ مٹھی بچھڑے کے مجسمے میں ڈالی تو اس سے گائے کی آواز آنے لگی۔ مگر اس تفسیر کی قرآن، حدیث یا آیات کے سیاق میں کوئی دلیل نہیں۔ شروع سورت سے یہاں تک جبریل علیہ السلام کا کوئی ذکر نہیں کہ الف لام عہد کا مان کر جبریل علیہ السلام مراد لیے جائیں۔ نہ پورے قرآن میں جبریل علیہ السلام کے متعلق { الرَّسُوْلِ } (معرف باللام) آیا ہے کہ ان کا لقب مان لیا جائے۔ پھر گھوڑی کا تو دور دور تک کچھ پتا نہیں۔ بعض تابعین کے اقوال یہاں دلیل نہیں بن سکتے، کیونکہ نہ وہ موقع پر موجود تھے اور نہ انھوں نے بتایا کہ یہ تفسیر انھوں نے کہاں سے لی۔ اگر انھوں نے پہلی کسی کتاب سے لی ہے، جیسا کہ ظاہر ہے، تو ہم اس پر یقین نہیں کر سکتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق یا تکذیب دونوں سے منع فرمایا ہے۔ شک والی بات علم نہیں ہو سکتی اور نہ قرآن مجید (جس میں کوئی شک نہیں) کی تفسیر شک والی بات کے ساتھ کرنا علم تفسیر ہے۔ اس تفسیر سے پیدا ہونے والے سوالات، مثلاً تمام لوگوں میں سے سامری نے جبریل علیہ السلام کو کیسے پہچانا؟ اسے کیسے معلوم ہوا کہ اس مٹھی میں کیا کرشمہ ہے وغیرہ، سب کے جوابات کے لیے مزید کہانیاں درج کی گئی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں۔
کئی مفسرین نے ابومسلم اصفہانی (معتزلی) کی تفسیر اختیار کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مفسرین نے جو کچھ فرمایا قرآن میں اس کی صراحت نہیں ہے۔ چنانچہ اس کی اور توجیہ ہو سکتی ہے کہ { الرَّسُوْلِ } سے مراد موسیٰ علیہ السلام ہیں اور رسول کے پاؤں کے نشان سے ایک مٹھی پکڑنے سے مراد یہ ہے کہ میں نے ان کی سنت اور ان کے طریقے سے کچھ حصہ اخذ کیا۔ بعض اوقات آدمی کہتا ہے: {فَلَانٌ يَقْفُوْ أَثَرَ فُلَانٍ وَ يَقْتَصُّ أَثَرَهُ} فلاں شخص فلاں کے نشان قدم کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے نشان قدم کے پیچھے جاتا ہے۔ جب وہ اس کے طریقے پر چلتا ہو۔مطلب یہ ہو گا کہ موسیٰ علیہ السلام نے جب سامری کو ملامت کی اور اس سے قوم کو گمراہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا { بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ } یعنی مجھے معلوم ہو گیا کہ تم لوگ جس راہ پر ہو وہ حق نہیں تو { فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ ({وَقَدْ كُنْتُ}) } اس سے پہلے اے رسول! میں نے آپ کے دین اور طریقے کا کچھ حصہ اختیار کیا تھا، { فَنَبَذْتُهَا } پھر میں نے اس طریقے کو پھینک دیا اور اسے چھوڑ کر بچھڑے کی پرستش میرے نفس نے میرے لیے خوشنما بنا دی۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے اسے دنیا اور آخرت کے عذاب کی اطلاع دی اور اس نے رسول کو غائب کے صیغے سے اسی طرح ذکر کیا جیسے آدمی اپنے سردار سے گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ امیر صاحب اس بارے میں کیا فرماتے ہیں اور امیر صاحب کیا حکم دیتے ہیں؟ رہا اس کا موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا منکر ہونے کے باوجود انھیں رسول کہنا، تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے کفار کا قول ذکر فرمایا: «‏‏‏‏{وَ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ ‏‏‏‏ [الحجر: ۶] اور انھوں نے کہا اے وہ شخص جس پر یہ نصیحت نازل کی گئی ہے! بے شک تو تو دیوانہ ہے۔ حالانکہ وہ لوگ آپ پر نصیحت کا نزول تسلیم نہیں کرتے تھے۔ رازی لکھتے ہیں کہ ابومسلم نے جو ذکر کیا ہے وہ تحقیق کے زیادہ قریب ہے اور اس میں (پہلے) مفسرین کی مخالفت کے سوا کوئی خرابی نہیں۔ پھر رازی نے اس کی تائید میں کئی چیزیں ذکر کی ہیں۔ بہت سے بعد میں آنے والے مفسرین نے بھی یہ تفسیر اختیار کی ہے، مگر { بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ } کے بعد { فَقَبَضْتُ قَبْضَةً } کی تفسیر { وَقَدْ كُنْتُ قَبَضْتُ } کے ساتھ کرنا تکلف ہے، اسی طرح کسی کی پیروی کے لیے { يَقْفُوْ} اور {يَقْتَصُّ أَثَرَهُ } تو معروف ہے مگر اس مفہوم کے لیے { يَقْبِضُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِهِ } کے استعمال کی لغت عرب میں کوئی نظیر نہ ابومسلم نے پیش کی ہے، نہ رازی نے اور نہ بعد میں آنے والے کسی بزرگ نے۔ پہلی تفسیر پر ابومسلم کا اعتراض کہ اس کی قرآن میں تصریح نہیں اس تفسیر پر بھی وارد ہوتا ہے کہ اس کی تصریح بھی قرآن میں نہیں، محض کھینچ کھانچ کر یہ مطلب نکالا گیا ہے۔
ایک اردو مفسر نے یہ بات نکالی ہے کہ سامری ایک فتنہ پرداز شخص تھا۔ اس نے بچھڑا بنا کر اس میں کسی تدبیر سے بچھڑے کی سی آواز پیدا کر دی۔ پھر مزید جسارت یہ کی کہ خود موسیٰ علیہ السلام کے سامنے ایک پر فریب داستان گھڑ کر رکھ دی، اس نے دعویٰ کیا کہ مجھے وہ کچھ نظر آیا جو دوسروں کو نظر نہ آیا تھا اور ساتھ ہی یہ افسانہ بھی گھڑ دیا کہ رسول کے نقش قدم کی ایک مٹھی بھر مٹی سے یہ کرامت صادر ہوئی ہے۔ رسول سے مراد ممکن ہے جبریل ہی ہوں، یا اس نے رسول کا لفظ خود موسیٰ علیہ السلام کے لیے استعمال کیا تھا تو یہ اس کی ایک اور مکاری تھی، وہ اس طرح موسیٰ علیہ السلام کو ذہنی رشوت دینا چاہتا تھا۔ (ملخص) مگر ساری قوم کے سامنے اس کے جھوٹ پر موسیٰ علیہ السلام جیسے پر جلال پیغمبر کا ذہنی رشوت لے کر خاموش رہنا اور صرف اسے سزا سنانے پر اکتفا کرنا اور قوم کے سامنے اس کے جھوٹ اور فریب کو واضح نہ کرنا سمجھ میں نہیں آتا۔
ایک اور عقلی بزرگ نے { بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ } کی یہ توجیہ کی ہے کہ اس نے کہا کہ مجھے کشفی مشاہدہ ہوا جو صرف مجھی کو ہوا کہ جبریل علیہ السلام کے آتے ہی میں نے ان کے (یا ان کے گھوڑے کے) نقش قدم سے ایک مٹھی خاک اٹھالی ہے اور ایک بچھڑا بنا کر اس میں ڈال دی ہے، جس سے وہ بولنے لگا، مگر اب آپ کے ڈانٹنے سے معلوم ہوا کہ یہ محض میرے نفس کا دھوکا تھا۔ (ملخص) تعجب ہوتا ہے کہ یہ حضرات بات بناتے بناتے کہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دیکھنے کی تفسیر کشفی مشاہدہ قادیانی طرز تفسیر کے سوا کچھ نہیں۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام قوم کے سامنے اس فریب کا پردہ چاک نہ کریں؟ مجھے تو سلامتی اسی میں نظر آتی ہے کہ جس آیت کی تفصیل قرآن مجید کے الفاظ سے واضح نہ ہو اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہو، اہل کتاب کی کسی روایت پر یقین کرنے یا زبردستی کوئی مطلب نکالنے کے بجائے متشابہات میں سے سمجھ کر اس پر مجمل ایمان رکھا جائے اور اس کی تفصیل اللہ کے سپرد کر دی جائے، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «‏‏‏‏{هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖ وَ مَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَ مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ ‏‏‏‏ [آل عمران: ۷] وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ آخر ہم حروف مقطعات، اللہ تعالیٰ کی صفات، سد ذوالقرنین، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج اور قرآن مجید کی کتنی ہی باتوں کی تفصیل نہیں جانتے، مگر ہمارا ان پر ایمان ہے۔ سامری کے جواب کی تفصیل میں اگر ہمارا کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور ذکر فرما دیتا۔ سو ہمارا ایمان ہے کہ اگرچہ ہم تفصیل نہیں جانتے مگر جو ہمارے رب نے فرمایا وہ حق ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

96۔ 1 مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جبرائیل ؑ کے گھوڑے کو گزرتے ہوئے سامری نے دیکھا اور اس کے قدموں کے نیچے کی مٹی اس نے سنبھال رکھ لی، جس میں کچھ کرامات کے اثرات تھے۔ اس مٹی کی مٹھی اس نے پگھلے ہوئے زیورات یا بچھڑے میں ڈالی تو اس میں سے ایک قسم کی آواز نکلنی شروع ہوگئی جو ان کے فتنے کا باعث بن گئی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

96۔ سامری نے کہا: ”میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں کو نظر نہ آئی۔ چنانچہ میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھا لی [66]۔ پھر اسے (بچھڑے کے جسم میں) ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے ایسا ہی سمجھایا تھا“
[66] سامری سے سوال و جواب:۔
سیدنا موسیٰؑ اپنی قوم سے پھر اپنے بھائی ہارون سے مخاطب ہونے کے بعد اب سامری سے مخاطب ہوئے اور پوچھا: بتلاؤ سامری! یہ کیا معاملہ ہے؟ واضح رہے کہ قرآن نے یہاں خطب کا لفظ استعمال کیا ہے جو کسی ناگوار صورت حال کو دریافت کرنے کے لئے آتا ہے۔ نیز یہ سامری اگرچہ بظاہر سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لے آیا تھا۔ مگر وہ ایک منافق اور فتنہ پرداز اور ہوشیار انسان تھا جو کفر و شرک کو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھا۔ وہ سیدنا موسیٰؑ کی کھل کر مخالفت تو کر نہ سکتا تھا مگر اس تاک میں رہتا تھا کہ کوئی موقع ملے تو قوم کو پھر سے اپنے آبائی دین یعنی گؤ سالہ پرستی کی طرف لے جائے۔ سیدنا موسیٰؑ کی عدم موجودگی میں اسے ایسا موقع میسر آگیا تھا۔ سیدنا موسیٰؑ کے سوال پر کہنے لگا: بات یہ ہے کہ میں نے ایک ایسی چیز دیکھ لی تھی جسے دوسرے نہیں دیکھ سکتے تھے اور وہ یہ تھی کہ فرعون کی موت کے وقت جب جبریل آئے تھے تو میں نے ان کی آمد کو محسوس کر لیا تھا اور ان کے پاؤں کے نیچے سے مٹھی بھر مٹی اٹھا لی تھی۔ جب میں نے بچھڑے کی شکل بنائی تو اس میں یہ مٹی بھر دی تھی۔ یہ اسی مٹی کی کرامت تھی کہ جب بچھڑا تیار کیا گیا تو اس میں سے بچھڑے کی سی آواز بھی آنے لگی اور یہ سب کچھ میں نے اس لئے کیا کہ میں اس مٹی کی کچھ کرامت دیکھنا چاہتا تھا۔
سامری کے بیان کی حقیقت:۔
یہ تو تھا سامری کا وہ بیان جو اس نے موسیٰؑ کے سوال کے جواب میں دیا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس کا یہ بیان بھی فریب کاری پر مشتمل تھا۔ وہ صرف یہی نہیں چاہتا تھا کہ پھر سے بت پرستی اور گؤسالہ پرستی کو فروغ دے بلکہ حقیقتاً وہ موسیٰؑ کے مقابلہ میں خود لیڈر بننا چاہتا تھا۔ آدمی ہوشیار تھا۔ سیدنا ہارونؑ کو کمزور دیکھ کر اس نے اپنی ہشیاری سے اپنے لئے میدان ہموار کر لیا تھا۔ یعنی سامری کا اصل مقصد سیدنا موسیٰؑ کے مقابلہ میں اپنی لیڈری چمکانا تھا۔ اور اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ موسیٰؑ کی راہ اور اغراض و مقاصد سے اس کی راہ جدا گانہ ہو لہٰذا اس نے قوم کو اسی پرانی گؤسالہ پرستی کی راہ پر ڈال دیا جس سے وہ پہلے ہی مانوس تھے اور اس کے دلدادہ تھے۔ اس طرح وہ فی الواقع سیدنا موسیٰؑ کی عدم موجودگی میں قوم کا لیڈر بن گیا تھا۔ اور یہی بات سیدنا ہارونؑ کے بیان سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر سیدنا ہارونؑ اس شرک کو روکنے میں سختی سے کام لیتے تو قوم دو دھڑوں میں بٹ جاتی اور ان میں خانہ جنگی بپا ہو جاتی پھر حالات قابو سے باہر ہو جاتے۔ بعض علماء نے یہاں رسول سے مراد خود موسیٰؑ لئے ہیں۔ اس صورت میں یہ جواب سامری کی انتہائی مکاری پر دلالت کرتا ہے، کہ اس طرح اس نے سیدنا موسیٰؑ کی خوشامد کر کے انھیں بھی اپنے حق میں نرم کر لینے کی ایک کوشش کی تھی۔ قرآن کریم کے انداز سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ سامری کا یہ بیان سب اس کے اپنے مکر و فریب پر مشتمل تھا۔ رہی یہ بات کہ بچھڑے میں آواز کیسے پیدا ہو گئی تھی۔ تو یہ بات بھی چنداں مشکل نہ تھی۔ جب اس بچھڑے کے کھلے ہوئے منہ سے ہوا آر پار ہوتی تو اس سے بچھڑے کی سی آواز آنے لگتی تھی۔ جیسے باجا میں منہ سے پھونک مارنے سے مختلف قسم کی آوازیں نکلنے لگتی ہیں یا جیسے برقی گھنٹی کا سوچ دبانے سے اس سے مختلف قسم کی گھنٹیوں سے مختلف قسم کی اوازیں آتی ہیں۔ اور ان مختلف آوازوں کا تعلق باجے اور برقی گھنٹی کی اندرونی ساخت سے ہوتا ہے۔ اسی طرح سامری نے بچھڑے کے جسم کے اندر پترے اس ترتیب سے رکھ دیئے تھے کہ جب ہوا اس کے جسم سے آر پار گزرتی تو وہ آواز نکالنے لگتا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے کی محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ ایک روایت میں ہے، یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے، اس کی بستی کا نام سامرا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لیے جبرائیل علیہ السلام آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے کی تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام آئے اور موسیٰ علیہ السلام کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ لیا۔ اس نے جلدی سے ان کے گھوڑے کے سم تلے کی مٹی اٹھا لی۔ موسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام آسمان تک لے گئے، اللہ تعالیٰ نے تورات لکھی، موسیٰ علیہ السلام قلم کی تحریر کی آواز سن رہے تھے لیکن جب آپ کو اپنی قوم کی مصیبت معلوم ہوئی تو نیچے اتر آئے اور اس بچھڑے کو جلا دیا۔ لیکن اس اثر کی سند غریب ہے۔
اسی خاک کی چٹکی یا مٹھی کو اس نے بنی اسرائیل کے جمع کردہ زیوروں کے جلنے کے وقت ان میں ڈال دی۔ جو بصورت بچھڑا بن گئے اور چونکہ بیچ میں خلا تھا، وہاں سے ہوا گھستی تھی اور اس سے آواز نکلتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کے دل میں خیال گزرا تھا کہ میں ان کے گھوڑے کے ٹاپوں تلے کی مٹی اٹھا لوں، میں جو چاہوں گا، وہ اس مٹی کے ڈالنے سے بن جائے گا۔ اس کی انگلیاں اسی وقت سوکھ گئی تھیں۔
جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے پاس فرعونیوں کے زیورات رہ گئے اور فرعونی ہلاک ہو گئے اور یہ اب ان کو واپس نہیں ہو سکتے تو غمزدہ ہونے لگے۔ سامری نے کہا، دیکھو اس کی وجہ سے تم پر مصیبت نازل ہوئی ہے، اسے جمع کر کے آگ لگا دو۔ جب وہ جمع ہو گئے اور آگ سے پگھل گئے تو اس کے جی میں آئی کہ وہ خاک اس پر ڈال دے اور اسے بچھڑے کی شکل میں بنا لے چنانچہ یہی ہوا۔ اور اس نے کہہ دیا کہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا رب یہی ہے۔ یہی وہ جواب دے رہا ہے کہ میں نے اسے ڈال دیا اور میرے دل نے یہی ترکیب مجھے اچھی طرح سمجھا دی۔
کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا، تو نے نہ لینے کی چیز کو ہاتھ لگایا، تیری سزا دنیا میں یہی ہے کہ اب نہ تو تو کسی کو ہاتھ لگا سکے نہ کوئی اور تجھے ہاتھ لگا سکے۔ باقی سزا تیری قیامت کو ہو گی جس سے چھٹکارا محال ہے۔ ان کے بقایا اب تک یہی کہتے ہیں کہ نہ چھونا۔ اب تو اپنے معبود کا حشر بھی دیکھ لے جس کی عبادت پر اوندھا پڑا ہوا تھا کہ ہم اسے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں
چنانچہ وہ سونے کا بچھڑا اس طرح جل گیا جیسے خون اور گوشت والا بچھڑا جلے۔ پھر اس کی راکھ کو تیز ہوا میں دریا میں ذرہ ذرہ کر کے اڑا دیا۔ مروی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کی عورتوں کے زیور جہاں تک اس کے بس میں تھے لیے ان کا بچھڑا بنایا جسے موسیٰ علیہ السلام نے جلا دیا اور دریا میں اس کی خاک بہا دی۔ جس نے بھی اس کا پانی پیا، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا، اس سے سارے گئوسالہ پرست معلوم ہو گئے۔
اب انہوں نے توبہ کی اور موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ہماری توبہ کیسے قبول ہو گی؟ حکم ہوا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اس کا پورا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا معبود یہ نہیں۔ مستحق عبادت تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ باقی تمام جہان اس کا محتاج ہے اور اس کے ماتحت ہے۔ وہ ہرچیز کا عالم ہے، اس کے علم نے تمام مخلوق کا احاطہٰ کر رکھا ہے، ہرچیز کی گنتی اسے معلوم ہے۔
ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں، ہر پتے کا اور ہر دانے کا اسے علم ہے بلکہ اس کے پاس کی کتاب میں وہ لکھا ہوا موجود ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کو روزیاں وہی پہنچاتا ہے، سب کی جگہ اسے معلوم ہے، سب کچھ کھلی اور واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ علم الٰہی محیط کل اور سب کو حاوی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔