ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 85

قَالَ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَکَ مِنۡۢ بَعۡدِکَ وَ اَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ﴿۸۵﴾
فرمایا پھر بے شک ہم نے تو تیری قوم کو تیرے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور انھیں سامری نے گمراہ کر دیاہے۔ En
فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے
En
فرمایا! ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا اور انہیں سامری نے بہکا دیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 85) ➊ { قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ …:} یہ فاء تعلیل کے لیے ہے، یعنی تمھارا قوم کو چھوڑ کر چلے آنا اور مفسدوں کے لیے موقع فراہم کر دینا اس کا باعث بنا کہ تمھارے بعد ہم نے تمھاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انھیں گمراہ کر دیا۔ یہاں ایک بات یاد رہنی چاہیے کہ انھیں بچھڑا بنا کر سامری نے گمراہ کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی صراحت بھی فرما دی کہ انھیں سامری نے گمراہ کر دیا، مگر تمام اسباب کا خالق چونکہ اللہ تعالیٰ ہے اور تمام دل اس کے ہاتھ میں ہیں اس لیے آزمائش میں ڈالنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی۔
➋ {مِنْۢ بَعْدِكَ:} موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو تیس دنوں کے اعتکاف کا بتا کر گئے تھے، جسے اللہ تعالیٰ نے چالیس دنوں کے ساتھ مکمل فرمایا تو قوم اس سے بے خبر تھی، انھیں معلوم نہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کب آئیں گے؟ اس مدت سے فائدہ اٹھا کر سامری نے کیا جو کچھ کیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے{ بَعْدِكَ } سے پہلے { مِنْ} کا لفظ زیادہ فرمایا، جو بعض کے معنی میں ہے، یعنی تمھارے بعد کے عرصے میں سے کچھ عرصے میں سامری نے انھیں گمراہ کر دیا۔ (بقاعی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

85۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کے بعد سامری نامی شخص نے بنی اسرائیل کو بچھڑا پوجنے پر لگا دیا، جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے طور پر موسیٰ ؑ کو دی کہ سامری نے تیری قوم کو گمراہ کردیا ہے، فتنے میں ڈالنے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف باحیثیت خالق کے کی ہے، ورنہ اس گمراہی کا سبب تو سامری ہی تھا۔ جیسا کہ اضلھم السامری سے واضح ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

85۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ہم نے تیرے بعد تیری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور انھیں سامری [59] نے گمراہ کر دیا ہے“
[59] بنی اسرائیل کی گؤ سالہ پرستی اور لفظ سامری کی تحقیق:۔
جب کوہ طور پر عبادت میں مصروف تھے اور اس انتظار میں تھے کہ چالیس دن پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ کتاب ہدایت عطا فرمائیں تو اسی دوران آپ کی قوم نے آپ کے بعد پھر سے بچھڑے کی عبادت شروع کر دی۔ سامری نے ان کے لئے ایک بچھڑا تیار کیا اور یہ لوگ اس کی پوجا پاٹ میں لگ گئے۔ اس واقعہ کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کو وہیں کوہ طور پر دے دی۔ آپ کو اس طلاع سے اپنی قوم پر غصہ تو بہت آیا مگر وہاں کا قیام بھی انتہائی ضروری تھا۔ لہٰذا آپ نے اپنے نفس پر جبر کر کے معینہ مدت تک وہیں رکے رہے۔ لفظ السامری سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ اس شخص کا اصلی نام نہیں تھا۔ بلکہ کوئی خاص سامری شخص تھا۔ جیسا کہ پہلے تعریف کا ال موجود ہے۔ دوسرے آخر میں یائے نسبتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سامر یا تو اس کے وطن کا نام تھا یا پھر سامر یا سمر اس کے کسی جد امجد کا نام تھا۔ جیسا کہ عرب میں اس کا عام دستور ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔