ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 81

کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ لَا تَطۡغَوۡا فِیۡہِ فَیَحِلَّ عَلَیۡکُمۡ غَضَبِیۡ ۚ وَ مَنۡ یَّحۡلِلۡ عَلَیۡہِ غَضَبِیۡ فَقَدۡ ہَوٰی ﴿۸۱﴾
کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمھیں دی ہیں اور ان میں حد سے نہ بڑھو، ورنہ تم پر میرا غضب اترے گا اور جس پر میرا غضب اترا تو یقینا وہ ہلاک ہوگیا۔ En
(اور حکم دیا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ۔ اور اس میں حد سے نہ نکلنا۔ ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا۔ اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا
En
تم ہماری دی ہوئی پاکیزه روزی کھاؤ، اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو، ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا، اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وه یقیناً تباه ہوا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 81) ➊ { وَ لَا تَطْغَوْا فِيْهِ:} طغیانی کا معنی حد سے بڑھنا ہے۔ رزق میں حد سے تجاوز یہ ہے کہ دوسرے کا حق کھا جائے، ناشکری یا فضول خرچی کرنے لگے، نعمت پر اترانے لگے، رزق میں واجب حقوق ادا نہ کرے، اسے اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرنے لگے، یا جس جگہ یا جس وقت اسے جوڑ کر رکھنے سے منع کیا گیا ہے وہاں جوڑنے کے پیچھے پڑ جائے۔ غرض حکم یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اللہ کی حدود سے تجاوز اور نافرمانی کا ذریعہ مت بناؤ۔
➋ {فَقَدْ هَوٰى: هَوٰي يَهْوِيْ} (ض) اونچی جگہ سے گرنا۔ چونکہ ایسا گرنا جس کے بعد اٹھنا نہ ہو، ہلاک ہونے کی صورت ہی میں ہوتا ہے، اس لیے یہاں { هَوٰى } کا معنی ہلاک ہو گیا کرتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

81۔ 1 یعنی حلال اور جائز چیزوں کو چھوڑ کر حرام اور ناجائز چیزوں کی طرف تجاوز مت کرو، یا اللہ کی نعمتوں کا انکار کر کے یا کفر ان نعمت کا ارتکاب کر کے اور نافرمانی کر کے حد سے تجاوز نہ کرو، ان تمام مفہومات پر طغیان کا لفظ صادق آتا ہے اور بعض نے کہا کہ طغیان کا مفہوم ہے، ضرورت و حاجت سے زیادہ پرندے پکڑنا یعنی حاجت کے مطابق پرندے پکڑو اور اس سے تجاوز مت کرو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

81۔ (اور کہا کہ) ہم نے جو پاکیزہ چیزوں کا تمہیں رزق دیا ہے اس سے کھاؤ اور کھا کر سرکشی [57] نہ کرو۔ ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترا وہ گر کر ہی رہا۔
[57] میدان تیہہ میں بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات:۔
یہاں پھر کئی تفصیلات کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے، جو دوسرے مقامات پر موجود ہے۔ مثلاً اسی سفر میں بنی اسرائیل نے ایک مندر میں بعض لوگوں کو بت پوجتے دیکھا تو کہنے لگے۔ موسیٰ! ہمیں بھی اس طرح کا ایک الٰہ یعنی محسوس خدا کا مجسمہ بنا دو۔ جس پر موسیٰؑ نے انھیں ڈانٹ پلائی۔ پھر جب موسیٰؑ نے انھیں پھر ہجرت کا مقصد بتلایا کہ تمہیں اپنے آبائی وطن کو غیروں کے قبضہ سے آزاد کرانا اور خود وہاں آباد ہونا ہے تو کہنے لگے! موسیٰ! وہاں تو بڑے طاقتور اور جنگجو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ ہم ان سے جنگ نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم داخل ہو سکتے ہیں یا پھر تم اور تمہارا رب جا کر ان سے جنگ کرو۔ ہم میں اتنی ہمت نہیں۔ ان کی اس بزدلانہ حرکت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں سزا کے طور پر یہ حکم دیا کہ اب تم یہیں اسی میدان میں چالیس سال تک بھٹکتے پھرو۔ جس سے مقصد ان کی بزدلی کا علاج اور ان میں جرأت پیدا کرتا تھا۔ ایک تو جنگل کی زندگی ویسے ہی دلیر بنا دیتی ہے۔ دوسرے بڑے بوڑھے سب بزدل اتنے عرصہ میں مر کھپ جائیں گے اور جو نئی نسل پیدا ہو گی وہ غلامی کے بجائے آزادانہ فضا میں پرورش پائے گی وہ جرأت مند پیدا ہو گی۔ اس بیابان میں نہ رہنے کو مکان تھے اور نہ کوئی چیز کھانے کو ملتی یا پیدا ہوتی تھی نہ کہیں پانی کے چشمے یا گھاٹ تھے پھر یہ بنی اسرائیل بھی لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل تھے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کے ان مسائل کا حل ایسے معجزانہ انداز میں فرمایا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دھوپ کے وقت بادل سائبان کی طرح ان پر چھا جاتے مگر برستے نہیں تھے۔ اور رات کو غائب ہو جاتے۔ اسی میدان میں اللہ تعالیٰ نے ان کے کھانے کو من و سلویٰ نازل فرمایا اور پانی کے بارہ چشمے جاری کر دیئے۔ ان واقعات کی تفصیل سورۃ بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہ سب نعمتیں عطا کرنے کے بعد اللہ نے انھیں حکم دیا کہ اب نہ زیادتی کرنا اور نہ سرکشی۔ زیادتی یہ تھی کہ ذخیرہ اندوزی کر کے دوسرے لوگوں کو ان کے حق سے محروم نہ بنا دینا اور سرکشی نہ کرنے کا مطلب یہ تھا۔ کہ اللہ کی ان نعمتوں کے ملنے پر اس کا شکر ادا کرتے رہنا اور اس کے عبادت گزار اور فرمانبردار بندے بن کر رہنا اور اگر اب بھی تم نے سرکشی کا راستہ اختیار کیا تو یاد رکھو کہ پھر تم پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا جو تمہیں تباہ و برباد کر دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

احسانات کی یاد دہانی ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے، انہیں یاد دلا رہا ہے۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا۔ جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ» ‏‏‏‏ [2-البقرة:50]‏‏‏‏۔ ’ یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ ‘
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا، پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4680]‏‏‏‏
پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گئوسالہ پرستی شروع کر دی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ وغیرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لیے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آ جاتے تھے، یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ، اس میں حد سے نہ گزر جاؤ، حرام چیز یا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہو گیا۔
شغی بن مانع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گر پڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے، میں اس کی توبہ قبول فرماتا ہوں۔
دیکھو بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی، ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک، گناہ و معصیت پر کوئی ہو، پھر وہ اسے بخوف الٰہی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ ہاں دل میں ایمان ہو اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر، شکی نہ ہو، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کی روش پر ہو۔ اس میں ثواب جانتا ہو، یہاں پر «ثم» کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لیے آیا ہے۔ جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّالِحاتِ» ‏‏‏‏۔ ۱؎ [90-البلد:17]‏‏‏‏